ناول: سجیلا قسط نمبر: 14


ناول: سجیلا

قسط نمبر: 14
سچ کا سورج اور اندھیرے کا زوال
تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)


خالا کوثر کے گھر کا دروازہ جیسے ہی کھلا، باہر کھڑے پیر سائیں کے مریدوں کی آوازوں نے رات کے سکون کو درہم برہم کر دیا۔ "خالا جی! کوئی دیوار پھلانگ کر آپ کے گھر کے اندر آیا ہے، ہمیں تلاشی لینی ہے، آپ لوگوں کی جان کو خطرہ ہے!" مرید کے ان الفاظ نے خالا کوثر کے دل کو دہلا کر رکھ دیا۔ ان کا ہاتھ دروازے کی چوکھٹ پر کانپنے لگا، لیکن وہ ایک بہادر اور سمجھدار خاتون تھیں۔ انہوں نے فوراً خود کو سنبھالا اور مریدوں کو اندر آنے کا راستہ دیا۔ "آ جاؤ بیٹا! تلاشی لو، گھر میں اس وقت کوئی مرد نہیں ہے۔" مرید لالٹینوں اور لاٹھیوں کے ساتھ صحن میں داخل ہوئے۔ صحن کی مٹیالی زمین پر ابھی ابھی جمنے والی اوس پر بوٹوں کے کھردرے نشانات بالکل واضح تھے، جو سیدھے صحن کے کونے میں بنے ہوئے پرانے لکڑی کے اسٹور روم کی طرف جا رہے تھے۔ مریدوں نے ایک دوسرے کو اشارہ کیا اور دبے قدموں اس اندھیرے کونے کی طرف بڑھنے لگے جہاں لکڑی کے بوسیدہ تختے اور کباڑ جمع تھا۔

رحمت خان، جو خود کو منڈی کا بے تاج بادشاہ سمجھتا تھا، اس وقت اس چھوٹے سے گھٹن زدہ اسٹور روم میں مکڑی کے جالوں اور مٹی کے درمیان چھپا ہوا تھا۔ اس کا سانس پھول رہا تھا اور پیشانی پر ٹھنڈا پسینہ امڈ آیا تھا۔ اس نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے کپڑوں میں چھپی پستول پر گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کی انگلیاں اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں۔ جو انسان دوسروں کی زندگیوں کے فیصلے بندوق کی نوک پر کرتا تھا، آج خود موت اور رسوائی کے خوف سے کانپ رہا تھا۔ باہر مریدوں کے بوٹوں کی چاپ اور ان کی سرگوشیاں اس کے کانوں میں ہتھوڑوں کی طرح لگ رہی تھیں۔ جیسے ہی ایک مرید نے آگے بڑھ کر اسٹور روم کا کچا دروازہ ایک جھٹکے سے کھولا، اندر لٹکی لالٹین کی پیلی روشنی سیدھی رحمت خان کے بھیانک اور خوفزدہ چہرے پر پڑی۔ "یہاں ہے! یہ رہا چور!" مرید کی آواز صحن میں گونجی۔

رحمت خان نے گھبراہٹ میں پستول تاننے کی کوشش کی، لیکن اس سے پہلے کہ وہ ٹرگر دبا پاتا، ایک کڑیل مرید نے اپنی بھاری لاٹھی پوری طاقت سے اس کے ہاتھ پر ماری۔ پستول ایک دھماکے دار آواز کے ساتھ فرش پر گر گئی اور رحمت خان درد کی ایک شدید چیخ مار کر گھٹنوں کے بل زمین پر آ گرا۔ مریدوں نے اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے صحن کے بیچ و بیچ لا کھڑا کیا۔ خالا کوثر نے جیسے ہی اس کے چہرے سے رومال ہٹایا، ان کی آنکھیں حیرت اور غصے سے پھیل گئیں۔ "رحمت خان! تم؟" خالا کوثر کی آواز میں نفرت اور کراہت کا طوفان تھا۔ "اتنی گر گئی تمہاری غیرت کہ رات کے اندھیرے میں چوروں کی طرح عورتوں کے گھروں میں گھسنے لگے؟" رحمت خان نے غصے سے انہیں گھورا، لیکن اس وقت اس کی زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ مریدوں نے اسے رسیوں سے جکڑ لیا۔ پیر سائیں کے مریدوں کے سردار نے کہا، "اس غلیظ انسان کو ابھی اسی وقت پیر سائیں کے آستانے پر لے چلو۔ آج اس کے تمام گناہوں کا فیصلہ اسی دربار میں ہوگا۔"

اگلی صبح جب وادی پر سورج طلوع ہوا، تو یہ صبح عام صبحوں جیسی نہیں تھی۔ پورے گاؤں میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی کہ منڈی کا بدنامِ زمانہ رحمت خان رات کے اندھیرے میں صفیہ اور سجیلا کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے خالا کوثر کے گھر گھسا تھا اور رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ لوگ جوق در جوق پیر سائیں کے آستانے کی طرف دوڑ رہے تھے۔ آستانے کا وسیع صحن مریدوں اور دیہاتیوں سے کچھا کچھ بھر چکا تھا۔ پیر سائیں ذوالفقار اپنی اونچی گدی پر پورے وقار کے ساتھ براجمان تھے۔ ان کے چہرے کا جلال آج دیکھنے کے لائق تھا۔ رحمت خان کو زنجیروں میں جکڑ کر آستانے کے
مرکز میں لایا گیا۔ اس کا تکبر اب مٹی میں مل چکا تھا، سر جھکا ہوا تھا اور کپڑے مٹی سے اٹے ہوئے تھے۔

پیر سائیں نے اپنی گہری اور بارعب آواز میں مجمع سے مخاطب ہو کر کہا، "میرے مریدوں اور وادی کے رہنے والو! اللہ رب العزت نے آج سچ اور جھوٹ کا فیصلہ ہمارے سامنے کر دیا ہے۔ یہ شخص، جو خود کو معزز کہتا تھا، رات کے اندھیرے میں ایک معصوم بچی اور ایک پاکدامن عورت کی جان لینے نکلا تھا۔ لیکن یاد رکھو، جس کا محافظ خود خدا ہو، اسے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔"

اسی دوران شہر سے وکیل شاہد الٰہی اور حاجی سلیمان بھی عدالت کے اہلکاروں اور پولیس فورس کے ساتھ آستانے پہنچ گئے۔ حاجی سلیمان نے آگے بڑھ کر انتہائی رنجیدہ اور غصیلے لہجے میں مجمع کے سامنے کہا، "رحمت خان! ابھی تمہیں میرے پاس کام کرتے ہوئے ایک سال بھی نہیں ہوا تھا، میں نے تم پر ترس کھایا، تمہیں ایک شریف انسان سمجھ کر اپنے ہاں عزت دی، ملازم رکھا، لیکن تم نے مجھ سے اپنی بیوی اور معصوم بچی کے بارے میں مسلسل جھوٹ بولا۔ تم نے میرے ساتھ بھی اتنا بڑا دھوکا کیا! اب میرے دل میں تمہارے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔" یہ کہتے ہوئے انہوں نے پولیس کے سامنے فائلیں رکھیں اور کہا، "یہ رہے وہ سارے ثبوت اور کاغذات جو منڈی کے حساب کتاب میں اس نے غبن اور چوری کر کے جمع کیے تھے۔" پیر سائیں نے ان کاغذات کو غور سے دیکھا اور پھر وکیل شاہد الٰہی کی طرف بڑھا دیا۔

ساتھ ہی ایس ایچ او نے آگے بڑھ کر کڑک دار آواز میں کہا، "یہ شخص رات کے اندھیرے میں اکیلی عورتوں کو ہراساں کرنے اور قتل کے ارادے سے گھر میں گھسا ہے، اور اس کے پاس سے آلہِ قتل (پستول) بھی برآمد ہوا ہے۔ ہم اسے اس سنگین جرم میں گرفتار کرتے ہیں، ہتھکڑی لگاؤ اسے اور لے چلو یہاں سے!" پولیس کے جوانوں نے جیسے ہی رحمت خان کو ہتھکڑی لگائی، پورے مجمع نے صفیہ کے حق میں نعرے بلند کیے۔ وہ لوگ جو کل تک صفیہ کے خلاف سرگوشیاں کرتے تھے، آج رحمت خان کی اس ذلت پر تھوک رہے تھے۔

ایس ایچ او نے حاجی سلیمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، "بہت شکریہ آپ کے تعاون کا، سلیمان صاحب۔" پیر سائیں نے بھی ان کی اس حق گوئی کو سراہا، تو حاجی سلیمان نے آگے بڑھ کر پیر سائیں سے ہاتھ ملایا اور پورے عزم سے کہا، "پیر سائیں! صفیہ بیٹی کے ساتھ اب کوئی ناانصافی نہیں ہوگی۔ اس کی عزت اور بچی اب بالکل محفوظ ہیں۔ میں خود عدالت میں جا کر اس کے حق میں گواہی دوں گا تاکہ اسے جلد سے جلد اس ظالم سے خلع مل جائے۔ اب مجھے اجازت دیں۔" یہ کہہ کر حاجی سلیمان وہاں سے رخصت ہو گئے۔

دوسری طرف، پولیس کی وین میں بیٹھے رحمت خان کے ذہن میں ماضی کی فلم چل رہی تھی۔ اسے یاد آ رہا تھا کہ کس طرح اس نے بار بار صفیہ کی عزت کا تماشہ بنانے کی کوشش کی تھی، لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی صفیہ اور سجیلا غیبی مدد سے بچ گئیں اور وہ خود عبرت کا نشان بن گیا۔ وین کی لوہے کی جالی سے باہر دیکھتے ہوئے وہ اکیلا کڑھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ آخر کیوں وہ ایک بار باہر چلا گیا؟ کاش وہ باہر نہ جاتا اور صفیہ اس کا انتظار کرتی، تو آج وہ اس بند گلی میں نہ پہنچتا۔ اس نے حسرت اور ذلت بھری نظروں سے اس وادی کو دیکھا، جہاں اب اس کے لیے صرف رسوائی اور لعنت بچی تھی۔

(جاری ہے)

کاپی رائٹ اور ڈسکلیمر:
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026
ناول: سجیلا (قسط نمبر 14)
 تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)

پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز https://ishratdigitalcreation.com/#novels

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23