ناول: سجیلا (قسط نمبر 37)

 ناول: سجیلا (قسط نمبر 37)

تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)

پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز

صبح کا اجالا ابھی پوری طرح پھیلا بھی نہیں تھا جب شاہ زیب کی گاڑی مختار صاحب کے گھر کے باہر آ کر رکی۔ دروازے پر گاڑی کی آواز سن کر مختار صاحب نے باہر جھانکاتو سامنے شاہ زیب سائیں کو کھڑا پایا۔ وہ بیک وقت حیران بھی ہوئے اور پریشان بھی کہ اس صبح سویرے حویلی کا چشم و چراغ اس غریب خانے پر کیسے آ نکلا۔ انہوں نے فوراً آگے بڑھ کر دروازہ کھولا اور احترام سے سلام کرتے ہوئے بولے: "سائیں خیر تو ہے؟ آپ اس صبح سویرے یہاں اس غریب خانے پر کیسے تشریف لائے ہیں؟"

شاہ زیب کے چہرے پر بے چینی کی لکیریں صاف دیکھی جا سکتی تھیں۔ اس نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا: "مختار بھائی! میں یہاں صفیہ خالہ اور سجیلا سے بات کرنے آیا ہوں، مجھے معلوم ہے کہ وہ یہیں کہیں ہیں۔"

مختار صاحب نے سر ہلاتے ہوئے اندر آنے کا اشارہ کیا اور انہیں بیٹھک میں بٹھا کر خود اندر والے کمرے میں گئے۔ انہوں نے اپنی بیوی کو جا کر بتایا کہ باہر شاہ زیب سائیں آئے ہیں اور صفیہ باجی سے ملنا چاہتے ہیں۔ یہ سن کر اندر بیٹھی صفیہ اور سجیلا کے دل دھک سے رہ گئے۔ صفیہ نے فوراً سجیلا کو تاکید کی کہ وہ کمرے کے اندر ہی رہے اور بالکل باہر نہ آئے، جبکہ خود اپنی چادر کو درست کرتے ہوئے باہر والے کمرے کی طرف قدم بڑھا دیے۔

جب صفیہ نے باہر قدم رکھا تو شاہ زیب جو مختار صاحب سے بات کرنے کے لیے کھڑا تھا، انہیں دیکھتے ہی احترام سے  صفیہ کو سلام کیا، جس کا جواب صفیہ نے بھرائی ہوئی آواز میں دیا۔ صفیہ نے بیٹھتے ہی شکوہ کناں لہجے میں کہا: "سائیں! آپ کو یہاں آنے کی کیا زحمت کرنے کی ضرورت پیش آئی؟ ابھی تو ہمیں حویلی چھوڑے کچھ ہی گھنٹے ہوئے ہیں، اور آپ یہاں تک چلے آئے ہیں۔ کیا آپ کو ہم پر کوئی شک ہے؟ خدا کے لیے ایسا الزام نہ لگائیں، ہم نے حویلی سے ایک تنکا تک نہیں چوری کیا۔ آپ چاہیں تو ہماری تلاشی لے سکتے ہیں، مگر ہمیں اس طرح رسوا نہ کریں!"

صفیہ کی یہ بات سن کر شاہ زیب کا دل کٹ کر رہ گیا۔ اس نے ہاتھ جوڑ کر تکلیف دہ لہجے میں کہا: "خالہ! آپ یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں؟ آپ مجھے کیوں شرمندہ کرتی ہیں؟ میں تو خود اماں سائیں کے برے رویے اور ان کی اس زہریلی سازش کی وجہ سے شدید پریشان ہوں۔ آپ کو اس طرح حویلی چھوڑ کر نہیں آنا چاہیے تھا!"

شاہ زیب نے غصے اور بے بسی سے مزید کہا: "آپ نے تو اماں سائیں کا کام اور بھی آسان کر دیا ہے۔ وہ تو یہی چاہتی تھیں! انہوں نے تو الماس کو بلا کر حویلی میں بٹھا لیا ہے اور اب وہ میری شادی اس سے کرانا چاہتی ہیں۔ لیکن خالہ! آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ   بابا سائیں کی زندگی میں ہی ان کی لالچی فطرت کی وجہ سے بابا سائیں نے انہیں حویلی کے اندر آنے تک سے منع کر رکھا تھا۔ اب ان کے اس دنیا سے جانے کے بعد اگر اماں سائیں کا دل نرم پڑ گیا اور انہوں نے انہیں اجازت دے دی، تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ میری زندگی میں الماس یا اس کے گھر والوں کی کوئی جگہ بن جائے گی!"

شاہ زیب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے صفیہ کی آنکھوں میں دیکھا اور اپنے دل کا سارا غبار نکال باہر کیا: "میرے دل میں کل بھی سجیلا تھی، اور آج بھی صرف سجیلا ہی ہے۔ آپ شاید نہیں جانتیں، لیکن میں بچپن سے صرف سجیلا کو ہی چاہتا آیا ہوں۔ آپ کو یاد ہوگا جب دوپہر کے وقت اماں سائیں گہری نیند سو جایا کرتی تھیں، تو میں چپکے سے پچھلے لان میں آ جاتا تھا اور سجیلا کو بلا کر گھنٹوں باتیں کیا کرتا تھا۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ اماں سائیں کو آپ سے اور سجیلا سے آخر کیا مسئلہ ہے۔ میں وہ سب سچی حقیقتیں جانتا ہوں جن کی وجہ سے آپ اور سجیلا ہمیشہ اس دنیا کے طعنوں سے ڈرتی آئی ہیں۔ سجیلا کی پیدائش کے وقت جو بھی طبی مسئلہ یا کمزوری تھی، وہ اب مکمل طور پر ٹھیک ہو چکی ہے، وہ میڈیکلی بالکل فٹ ہے! اب کسی کے پاس بھی انگلی اٹھانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔"

شاہ زیب کی یہ باتیں سن کر صفیہ کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے، مگر انہوں نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا: "سائیں! میں آپ کی عزت کرتی ہوں، آپ کے بابا سائیں پیر سائیں کے ہم پر احسانات ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا۔ لیکن سائیں! ہم مزید آپ پر یا اس حویلی پر بوجھ بن کر نہیں رہ سکتے۔ میں نہیں چاہتی کہ میری بیٹی کی ذات پر کوئی انگلی اٹھائے یا کوئی تماشا بنے۔ اسی ڈر سے ہم حویلی چھوڑ کر آ گئے ہیں تاکہ ہماری عزت اور نیک نامی پر کوئی حرف نہ آئے۔ ہم غریب لوگ ہیں، آپ جیسی حثیت اور رتبہ کہاں سے لائیں؟ اب میری بیٹی کو وہ خواب ہرگز نہ دکھائیں جن کی تعبیر اتنی خوفناک اور دردناک ہو۔ سجیلا اب خود کو سنبھال لے گی، وہ اپنی پڑھائی پر توجہ دے گی کیونکہ محبت تو بس چند دن کا فریب ہوتی ہے۔ ویسے بھی، میں تاج بی بی کے احسانات تلے دبی ہوئی ہوں؛ ان کا بہت احسان تھا کہ جب میں جوانی میں سجیلا کو لے کر اس حویلی میں آئی تھی تو انہوں نے میرا بہت خیال رکھا تھا۔ مگر نہ جانے اب انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ ہمیں اپنا دشمن سمجھ بیٹھی ہیں۔ میں ان سے کوئی مقابلہ یا جنگ نہیں چاہتی۔ آپ ہم پر رحم کیجیے، یہاں سے واپس چلے جائیے اور دوبارہ کبھی سجیلا سے ملنے کی کوشش مت کیجیے گا۔ آپ جہاں چاہیں شادی کریں، اب ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے... بس مجھے اور میری بیٹی کو مزید کسی نئی مشکل میں مت ڈالیے!"

یہ سب کہتے ہوئے صفیہ اٹھ کھڑیں اور تیزی سے دروازے کی طرف بڑھ کر باہر نکل گئیں۔ شاہ زیب ایک لمحے کے لیے سن ہو کر رہ گیا، اسے سمجھ ہی نہیں آئی کہ وہ کیا کہے۔ جب ہوش آیا تو وہ اٹھ کر پکارا: "خالہ رکیے! میری بات تو سنیں..." مگر تب تک صفیہ جا چکی تھیں۔

تھوڑی ہی دیر بعد مختار صاحب ہاتھ میں چائے کا کپ لے کر کمرے میں داخل ہوئے، مگر شاہ زیب نے وہ چائے کو ہاتھ تک نہ لگایا اور بوجھل قدموں سے باہر کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے قدموں میں ایک عجب سی تھکن اور دل میں خالی پن کا احساس تھا۔ اسے خالی ہاتھ واپس لوٹنے کا شدید صدمہ تھا، وہ تو سوچ کر آیا تھا کہ سجیلا اور صفیہ خالہ کو ساتھ لے کر ہی واپس لوٹے گا، مگر اب دل کی اداسی اور بڑھ گئی تھی۔

جیسے ہی شاہ زیب حویلی میں داخل ہوا، وہاں کا منظر ہی الگ تھا۔ ایک ملازم نے فوراً بھاگ کر تاج بی بی کو اطلاع دی، جو اپنے کمرے سے باہر نکل آئیں۔ انہوں نے شاہ زیب کا اترا ہوا اور بجھا ہوا چہرہ دیکھا تو وہ فوراََ سمجھ گئیں کہ وہ خالی ہاتھ ہی واپس لوٹا ہے۔ ان کے چہرے پر ایک حقارت آمیز مسکان پھیل گئی، وہ طنزیہ انداز میں بولیں: " اچھا ہوا جو ان کو اپنی اوقات کا کچھ تو اندازہ ہوا۔ کچھ دنوں کا خیال کیا کر لیا، دونوں اپنے آپ کو اس حویلی کی مالکن سمجھ بیٹھی تھیں۔ بھلا مخمل میں کہیں ٹاٹ کے پیوند بھی لگے ہیں! اس حویلی کی بہو کوئی خاندانی لڑکی ہوگی، کوئی لاوارث یا یتیم زادی نہیں جس کے باپ دادا کا کوئی اتہ پتہ ہی نہ ہو، اور نہ ہی کوئی نام و نسب ہو!"

تاج بی بی فخر اور غرور سے یہ کہتی ہوئی واپس اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ شاہ زیب جب اپنے کمرے کے پاس پہنچا تو وہاں کھڑی الماس اسے زہر لگ رہی اس نے اس کی طرف دیکھنے کی زحمت بھی گوارہ نہ کی اور منہ دوسری طرف پھیر کر اپنے کمرے کے اندر چلا گیا۔

ابھی اس نے کمرے میں قدم رکھ کر اپنی گھڑی اور گاڑی کی چابیاں ٹیبل پر رکھی ہی تھیں اور وہ پلٹا ہی تھا کہ اس نے اپنے پیچھے الماس کو موجود پایا۔ اس کا پارہ ایک دم ہائی ہو گیا، وہ غصے سے دہاڑ اٹھا: "آپ میرے کمرے میں میری اجازت کے بغیر کیسے گھس آئیں؟! آپ کے یہاں آنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا آپ کو اتنی بھی تمیز نہیں کہ حویلی میں کسی کے ذاتی کمرے میں آنے کے کچھ آداب ہوتے ہیں؟! ابھی اسی وقت میرے کمرے سے باہر نکل جائیں، اور آئندہ یہ حرکت کرنے کی حماقت مت کیجیے گا! میں اس طرح کی بے تکلفی ہرگز برداشت نہیں کرتا، اور آئندہ مجھ سے دور رہیے گا۔ جو خواب اور ارادے لے کر آپ یہاں آئی ہیں، جا کر اپنی پھوپھو صاحبہ کو بتا دیں کہ میں آپ سے ہرگز شادی نہیں کرنے والا! یہ بات اپنے پلے باندھ لیں۔ اب آپ خود باہر جائیں گی یا میں کسی ملازم کو بلا کر آپ کو دھکے دے کر باہر نکلواؤں؟!"

الماس اس شدید اور ناگوار ردعمل پر بوکھلا گئی۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ شاہ زیب اس کے ساتھ اس طرح کی ہتک آمیز زبان استعمال کرے گا۔ وہ غصے سے کانپتے ہوئے بولی: "تم... تم مجھ سے اس طرح بات کر رہے ہو؟!" پھر خود پر قابو پاتے ہوئے زہر خند لہجے میں کہتی ہوئی باہر نکلی: "ملازم کو آواز دینے کی ضرورت نہیں ہے، میں خود جارہی ہوں! آج تک میری اتنی بے عزتی کسی نے نہیں کی، میں بھی اس کی اکڑ نکال کر رہوں گی! اگر شاہ زیب میرا نہیں ہو سکتا، تو میں اسے کسی اور کا بھی نہیں ہونے دوں گی!" یہ دل ہی دل میں تپتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف مڑ گئی۔

ادھر تاج بی بی کے دماغ میں کچھ اور ہی کھچڑی پک رہی تھی۔ وہ چاہتی تھیں کہ شاہ زیب کو بلایا جائے، چنانچہ انہوں نے ایک ملازم کو حکم دیا کہ وہ جا کر شاہ زیب سائیں کو ان کے کمرے سے بلا لائے۔ ملازم ڈرتے ڈرتے شاہ زیب کے کمرے کے باہر گیا، دروازے پر ہلکا سا دستک دی اور بولا: "سائیں جی! بی بی صاحبہ نے آپ کو یاد کیا ہے، اندر آ جاؤں؟"

دروازے کے اندر سے شاہ زیب کی غصے میں ڈوبی ہوئی سخت آواز آئی: "ابھی میں آرام کر رہا ہوں، کوئی مجھے ہرگز پریشان نہ کرے! دوپہر کے بعد آنا، جو بھی کام ہو۔"

ملازم گھبراتا ہوا واپس آیا اور تاج بی بی کو سارا احوال سنا دیا۔ تاج بی بی نے طیش میں آ کر کہا: "اچھا جی! اب وہ ہمیں بتائے گا کہ کب آنا ہے؟ جانے دو اسے جتنا سوگ منانا ہے منا لے، آخر کار ہونا وہی ہے جو میں چاہوں گی!"

دوسری طرف جب صفیہ اندر کمرے میں آئیں تو سجیلا جو ماں کے چہرے پر پریشانی اور آنکھوں میں چھپی نمی کو دیکھ رہی تھی، فوراََ ان کے پاس چلی آئی۔ اس نے ماں کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا، انہیں کرسی پر بٹھایا اور محبت سے پانی کا گلاس آگے بڑھایا۔ سجیلا سے ماں کا یہ روپ دیکھا نہ گیا، وہ فوراََ آگے بڑھ کر اپنی ماں کے گلے لگ گئی۔ اس نے دل میں پکا ارادہ کر لیا کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ ہی رہے گی اور ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی جس سے اس کی ماں کو ذرا برابر بھی تکلیف ہو۔ اس کی دنیا میں اس کی ماں کے سوا اب کوئی اور واحد سحارا نہیں تھا۔ جو محبت وہ برسوں سے شاہ زیب کے ساتھ دل میں بسائے بیٹھی تھی، وہ جان چکی تھی کہ اب وہ محبت ایک طوفان بن چکی تھی اور شاہ زیب اب ایک ایسے تناور درخت کی طرح تھا جس کے سائے میں بھی اب ان کے لیے کوئی پناہ نہیں بچی تھی۔ اب اس کے لیے اپنی ماں کا سکون ہی سب ہے!

📝 کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026

اس ناول کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور اس کا متن، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کاپی کرنا، شیئر کرنا یا آڈیو/ویڈیو میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے۔

🌐 رابطہ اور معلومات:

ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com

آفیشل ویب سائٹ: https://ishratdigitalcreation.com/

آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)


Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23