ناول: سجیلا (قسط نمبر 38)
ناول: سجیلا (قسط نمبر 38)
تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز
دن کی شروعات ایک نئے عزم اور اجالے کے ساتھ ہوئی۔ مختار صاحب صبح سویرے ہی صفیہ اور سجیلا کے پرانے گھر پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے وہاں کا سارا کام انتہائی ذمہ داری اور محبت سے مکمل کروا دیا تھا۔ گھر کے جس حصے سے پینٹ اکھڑ رہا تھا وہاں اب تازہ اور خوبصورت پینٹ ہو چکا تھا، دروازوں اور کھڑکیوں کی رنگ و روغن کے بعد ہر چیز چمک رہی تھی، اور نیا فرنیچر بھی مناسب جگہ پر سجا دیا گیا تھا۔
مختار صاحب نے مسکراتے ہوئے صفیہ سے کہا: "صفیہ بہن! آپ کے کہنے کے مطابق میں نے تمام ضروری کام کروا دیے ہیں، اب گھر بالکل رہنے کے قابل ہو چکا ہے، آپ چل کر دیکھ لیں۔ میں نے اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوٹی، بس اب آپ بتائیں کہ اس بھائی کے لیے اور کیا حکم ہے؟"
صفیہ کی آنکھوں میں شکرگزاری کے آنسو امڈ آئے، ان کا گلا بھر آیا اور وہ رندھی ہوئی آواز میں بولیں: "بھائی! آپ کے یہ احسانات میں زندگی بھر نہیں چکاسکاپی۔ آپ نے اس کڑے وقت میں جو میرا ساتھ دیا ہے، وہ میں کبھی نہیں بھول سکتی۔"
مختار صاحب نے ان کی بات کاٹتے ہوئے شفقت سے کہا: "ارے صفیہ بہن! یہ کیسی باتیں کرتی ہیں؟ احسان کیسا، ہم تو پڑوسی بھی ہیں اور آپ کے اسکول کالج میں میرے بچے بھی تو پڑھتے رہے ہیں۔ آپ نے انہیں اتنی اچھی تعلیم و تربیت دی ہے، میں تو خود آپ کا "شکر گزار ہوں۔" پھر انہوں نے پیار سے سجیلا کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولے: "بیٹی! تمہارا یہ ماموں ابھی زندہ ہے، کبھی کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بے جھجھک بتانا۔"
تھوڑی دیر بعد مختار صاحب اپنا ہینڈ بیگ اٹھاتے ہوئے بولے، "اب میں اپنے کام پر جا رہا ہوں، آپ لوگ آرام سے ناشتہ کر لیں، پھر تسلی سے گھر جا کر دیکھ لینا۔"
مختار صاحب کی بیگم نے محبت بھرے لہجے میں کہا، "صفیہ بہن! بس تھوڑی دیر میں نسرین بھی آ جاتی ہے، پھر آپ اسے ساتھ لے کر جائیے گا، جو بھی صفائی کروانی ہو گی کروا کے گھر سیٹ کر لیجیے گا۔"
صفیہ نے آگے بڑھ کر انہیں گلے لگایا اور بولیں، "آپ نے ہمارا بہت ساتھ دیا ہے، آپ کا بہت بہت شکریہ۔"
یہ سن کر مختار صاحب کی اہلیہ نے پیار سے کہا، "یہ آپ کیسی غیروں جیسی باتیں کر رہی ہیں؟ آپ اور ہم ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں، اور پڑوسیوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ چلیں، پہلے آرام سے چائے پی لیں، پھر جا کر گھر دیکھ لیں۔"صفیہ نے مختار صاحب کی بیوی کو گلے لگایا اور دل سے دعائیں دیں۔ انہوں نے سوچا کہ اب اس گھر میں رہتے ہوئے پرانی یادوں کو تازہ کرنا ہے اور سجیلا کے ساتھ مل کر زندگی کے اس نئے سفر کو آگے بڑھانا ہے۔
جیسے ہی صفیہ اور سجیلا نے گھر کا پرانا تالا کھولا، سجیلا کے قدم خود بخود رک گئے۔ اس کے ذہن میں بچپن کے خوبصورت نقوش تازہ ہونے لگے؛ یہیں صحان میں اس کی نانی اسے بٹھا کر پڑھایا کرتی تھیں، اس کے ہنسنے اور بھاگنے کی آوازیں فضا میں گونجتی محسوس ہوئیں ۔ گھر کی مرمت اور پینٹ کے بعد ہر کونہ مہک رہا تھا، بس اب سامان کی ترتیب دینی تھی اور فرش کی ہلکی سی صفائی باقی تھی۔
اتنے میں نسرین بھی آ گئی اور اس نے اپنا کام شروع کر دیا۔ سجیلا بھی فوراً ماں کے ساتھ ہاتھ بٹانے لگی۔ سب سے پہلے نانی والا کمرہ سیٹ کیا گیا تاکہ وہاں نانی (یا صفیہ) آرام کر سکیں۔ اس کے بعد دونوں ماں بیٹیاں اپنے کمرے میں آئیں، جہاں بیڈ شیٹ بچھائی گئی اور وہ اپنے سوٹ کیس اور بیگز سے کپڑے نکال کر الماری میں سجانے لگیں۔ کپڑے رکھتے ہوئے اچانک سجیلا کے ہاتھ سے ایک لفافہ نیچے گرا۔ اس نے جھک کر جب وہ اٹھایا اور دیکھا تو اس کی سانسیں رک سی گئیں؛ یہ وہی لفافہ اور اس میں شاہ زیب کی وہ تصویر تھی جو اس نے اسے دی تھی۔
وہ وہیں زمین پر بیٹھ کر اس تصویر کو دیکھنے لگی اور پرانے زمانوں میں کھو گئی۔ ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ صفیہ کمرے میں داخل ہوئیں اور پوچھنے لگیں: "بیٹی! کپڑے رکھ لیے؟" سجیلا نے گھبرا کر فوری طور پر وہ لفافہ کپڑوں کے ڈھیر میں چھپا دیا اور ہڑبڑاتے ہوئے بولی: "جی اماں! بس ابھی رکھ رہی ہوں۔ اچھا اماں، آج کھانے کا کیا کرنا ہے؟"
صفیہ نے محبت سے مسکراتے ہوئے بتایا: "بیٹا! مختار بھائی کے گھر سے سب سامان تو آ ہی گیا ہے، ان کی بیوی کہہ کر گئی ہیں کہ کھانا وہیں سے آئے گا، آج تم لوگ کھانا مت پکانا۔ گھر کی سیٹنگ میں ویسے ہی تھکن ہو جائے گی، اس لیے دو تین دن کھانا وہیں سے آئے گا۔"
سجیلا بات سن رہی تھی لیکن اس کا دل اور دھیان کہیں اور ہی الجھا ہوا تھا. صفیہ نے غور سے دیکھا اور پوچھا: "کہاں گم ہو جاتی ہو بیٹا؟ کوئی پریشانی ہے کیا؟" سجیلا نے سنبھل کر خود کو نارمل ظاہر کیا اور بولی: "نہیں اماں! کوئی پریشانی نہیں ہے، بس ذرا تھکن سی لگ رہی ہے۔" پھر اس نے پوچھا کہ کیا نانی آرام کر رہی ہیں؟ صفیہ نے بتایا کہ ہاں، وہ لیٹ گئی ہیں، عمر کا تقاضا ہے زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتیں، دوپہر کو اٹھاؤں گی تاکہ کھانے کے ساتھ دوائی بھی وقت پر لے سکیں۔
اتنے میں باہر دروازے پر دستک ہوئی۔ صفیہ نے کہا: "دیکھتی ہوں، کون دروازہ بجا رہا ہے۔" انہوں نے باہر جا کر دروازہ کھولا تو سامنے شاہ زیب کا خاص ڈرائیور کھڑا تھا۔
صفیہ نے حیرت اور ناپسندیدگی سے پوچھا: "تم یہاں کیوں آئے ہو؟ کیا کام ہے؟" ڈرائیور نے ادب سے کہا: "سائیں صاحب نے مجھے بھیجا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ صفیہ باجی کے پاس جا کر پوچھو کہ انہیں کس چیز کی ضرورت ہے، اور یہ ایک لفافہ بھی ساتھ دیا ہے۔" اس نے ایک بھاری لفافہ صفیہ کی طرف بڑھایا۔
صفیہ نے سختی سے ہاتھ پیچھے ہٹا لیا اور بولیں: "یہ کیا ہے؟ اور اسے واپس لے جاؤ!" ڈرائیور بولა: "بجی! میں نہیں کھول سکتا، یہ آپ کی امانت ہے، سائیں صاحب نے بہت عزت اور اصرار سے بھیجا ہے۔"
صفیہ کا غصہ اور خودداری جاگ اٹھی۔ انہوں نے لفافہ واپس ڈرائیور کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا: "یہ جا کر اپنے سائیں کو واپس دے دو اور ہمارا شکریہ کہہ دینا۔ ہم کسی کی خیرات کے محتاج نہیں ہیں! میں خود محنت کر کے اپنی اور اپنی بیٹی کا پیٹ پال سکتی ہوں۔ شاہ زیب سائیں کی مہربانی کا شکریہ، اب تم جا سکتے ہو۔" ڈرائیور نے گھبرا کر کہا: "بجی! پلیز یہ رکھ لیں، بہت امید سے لائے ہیں۔" صفیہ نے صاف انکار کرتے ہوئے دربارہ کہا: "بھائی! میں یہ ہرگز نہیں رکھ سکتی، میری خودداری اور عزتِ نفس کا سوال ہے۔ ہم نے پہلے ہی بہت طعنے سہ لیے ہیں، اگر تاج بی بی کو پتہ چل گیا تو وہ نیا تماشا کھڑا کر دیں گی، میں مزید کوئی رسوائی نہیں چاہتی۔" یہ کہہ کر انہوں نے دروازہ بند کر دیا۔
جب وہ پلٹ کر اندر آئیں تو سجیلا نے بے تابی سے پوچھا: "اماں! کون تھا باہر؟" صفیہ نے تلخ لہجے میں بتایا: "اسی شاہ زیب سائیں کا ڈرائیور تھا... خیرات کے نام پر پیسے لے کر آیا تھا۔ میں نے منہ پر واپس لوٹا دیے ہیں۔ سجیلا! ہم غریب ضرور ہیں لیکن بے غیرت یا بھاری نہیں ہیں۔ میں نے اس برے وقت کے لیے کچھ پیسے جوڑ کر رکھے تھے، ہم انہی میں گزارہ کر لیں گے، میں ان کے احسانات کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں اٹھاؤں گی۔ ویسے بھی، تین دن بعد میں اپنا کالج دوبارہ جوائن کر رہی ہو، وہاں سے تمہیں بھی وظیفہ اور مجھے تنخواہ ملنے لگے گی، ہم باعزت طریقے سے گزارہ کر لیں گے۔"
سجیلا نے آگے بڑھ کر اپنی ماں کو مضبوطی سے گلے لگا لیا اور جذباتی ہو کر بولی: "اماں! آپ نے بالکل ٹھیک کیا، مجھے آپ پر فخر ہے۔ آپ اکیلی نہیں ہیں، میں بھی ٹیوشن پڑھانا شروع کر دوں گی تاکہ آپ کا ہاتھ بٹا سکوں۔"
صفیہ نے پیار سے اس کے ماتھے کو چوما اور بولیں: "نہیں میری بچی! تم صرف اپنی پڑھائی پر توجہ دو، میرے کچھ خواب ہیں جو میں نے تمہیں لے کر دیکھے ہیں، میں چاہتی ہوں کہ تم انہیں پورا کرو۔" صفیہ بیٹی کو لے کر اندر آئیں اور بیڈ پر بٹھاتے ہوئے بولیں: "تم آرام کرو، میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔"
دوسری طرف حویلی میں، تاج بی بی نے جب ڈرائیور کو باہر سے واپس آتے اور سیدھا شاہ زیب کے کمرے کی طرف جاتے دیکھا تو ان کا ماتھا ٹھنکا۔ وہ شکوک و شبہات میں گھر گئیں کہ آخر یہ لڑکا کس کے پاس گیا ہے؟ انہوں نے وہیں سے حکم دیا کہ اب اس حویلی سے ان کی اجازت کے بغیر کوئی قدم بھی باہر نہیں رکھے گا۔
ڈرائیور نے شاہ زیب کے کمرے میں جا کر سارا احوال سنا دیا کہ صفیہ باجی نے پیسے لینے سے صاف انکار کر دیا ہے اور وہ بہت خفا ہوئی ہیں۔ شاہ زیب نے خاموشی سے وہ لفافہ واپس اپنے دراز میں رکھا اور سرد آہ بھر کر باہر نکلا۔
تاج بی بی نے ڈرائیور کو گیٹ کی طرف سے نکلتا دیکھا تو فوراً آواز دے کر روک لیا اور سخت لہجے میں پوچھا: "رکو! کہاں گئے تھے تم، اور کس کے حکم پر؟" ڈرائیور نے گھبراتے ہوئے بتایا کہ شاہ زیب سائیں نے اسے کچھ ضروری کام سے بھیجا تھا۔ اتنے میں شاہ زیب بھی اپنے کمرے سے آواز سن کر باہر نکل آیا اور ڈرائیور کو اشارہ کر کے فوراً وہاں سے جانے کا کہہ دیا۔
وہ سیدھا تاج بی بی کے سامنے آیا اور غصے اور بے رخی سے بولا: "اماں سائیں! آپ عام ملازمین پر اس طرح کیوں گرج رہی ہیں اور ان سے میری جاسوسی کروانا کب بند کریں گی؟ آپ نفرت کی آگ میں اتنی آگے نکل آئی ہیں کہ آپ کو یہ بھی احساس نہیں رہا کہ آپ کیا کر رہی ہیں! آپ چاہیں جتنا زور لگا لیں اور کچھ بھی کہہ لیں، میں اس الماس کو ہرگز قبول نہیں کروں گا اور نہ ہی کبھی اس سے شادی کروں گا!"
تاج بی بی نے طیش میں آ کر کہا: "اپنے ہوش کے ناخن لو شاہ زیب اس لڑکی اسجیلا کے پیچھے دیوانہ بنا پھرتا ہے، وہ کبھی اس حویلی کی مالکن نہیں بنے گی! اور بات رہی الماس کی، تو وہ اس گھر کی بہو بننے کے لائق تم سے زیادہ بہتر جانتی ہے۔" شاہ زیب نے کڑک دار آواز میں کہا: "اماں سائیں! شاید آپ بھول رہی ہیں کہ بابا سائیں بھی ان لوگوں کو پسند نہیں کرتے تھے، اور رہی بات خاندانی ہونے کی، تو آپ کی ان منظورِ نظر الماس اور اس کے گھر والوں کے کالے کارنامے آپ سے چھپے نہیں ہیں! آستین کے سانپ کبھی اپنے نہیں ہوتے۔"
تاج بی بی غصے سے لال پیلی ہو گئیں: "اپنی حد میں رہو! کم از کم الماس خاندانی تو ہے، اس صفیہ اور سجیلا کا تو کوئی اتا پتا ہی نہیں ہے کہ ان کا نسب کیا ہے!" شاہ زیب نے نفرت سے سر جھٹکا اور بولა: "اماں! اب یہ فرسودہ باتیں چھوڑ دیں، زمانہ بدل چکا ہے، اپنی سوچ کو بدلیں! اب رشتے خاندانی ناموں سے نہیں بلکہ انسانیت اور خلوص کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔ میں اپنی زندگی میں کسی بھی مطلبی اور غلط انسان کو شامل نہیں کر سکتا، اور الماس کو تو ہرگز نہیں!"
تاج بی بی نے غصے سے دانت پیتے ہوئے کہا: "اچھا! اگر تمہیں الماس پسند نہیں ہے تو رفعت آپا کی بیٹی تانیہ کو دیکھ لو! وہ تو کسی کھاتے پیتے خاندان کی ہے، اکلوزی وارث ہے، کتنے مربوں کی مالکن ہے!" شاہ زیب نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا: "اماں سائیں! تانیہ ہو، الماس ہو یا دنیا کی کوئی بھی اور لڑکی... میں ان میں سے کسی کو بھی پسند نہیں کرتا! میں جسے دل دے چکا ہوں، فیصلہ کر چکا ہوں، آپ بس اس بات کو تسلیم کر لیں!"
مزید کچھ سنے بغیر، شاہ زیب پلٹا اور تیزی سے باہر کی طرف قدم بڑھا دیے۔ اس نے گارڈز کو مین گیٹ کھولنے کا حکم دیا، اس کا دل اب اور رکنے کو تیار نہیں تھا۔ اس نے پکا ارادہ کر لیا تھا کہ وہ اسی وقت صفیہ خالہ کے گھر جائے گا، سجیلا کا ہاتھ مانگے گا اور وہیں سب کے سامنے نکاح کی بات پکی کرے گا تاکہ کوئی بھی اس کی عزت پر انگلی نہ اٹھا سکے!
کیا شاہ زیب کا یہ اقدام کامیاب ہو پائے گا؟ کیا اس طوفان میں صفیہ اس نکاح کے لیے رضامند ہوں گی؟ اور کیا تاج بی بی کی کوئی نئی چال اس محبت کو نگل جائے گی؟ جاننے کے لیے پڑھتے رہیے ناول... "سجیلا"!
جملہ حقوق اور ڈس کلیمر
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 اس ناول کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور اس کا متن، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کاپی کرنا، شیئر کرنا یا آڈیو/ویڈیو میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے۔
ڈس کلیمر:
یہ کہانی مکمل طور پر ایک خیالی داستان ہے۔ اس ناول کے تمام کردار، مقامات اور حوادث مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ اگر اس میں کسی بھی شخص (زندہ یا مردہ) یا حقیقی واقعے سے کوئی مماثلت پائی جائے تو وہ محض ایک اتفاق ہوگی۔
🌐 رابطہ اور معلومات:
ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com
آفیشل ویب سائٹ:
آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)
Comments
Post a Comment