ناول "سجیلا" - قسط نمبر 2: "ممتا کی ہجرت"
ناول "سجیلا" - قسط نمبر 2: "ممتا کی ہجرت" رحمت خان اپنے ڈیرے پر چارپائی پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔ حقے کا دھواں کمرے میں ادھر ادھر منڈلا رہا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے رحمت کے ذہن میں خیالات کا غبار تھا۔ وہ مسلسل یہی سوچ رہا تھا کہ صفیہ کو کیسے منائے۔ "آخر وہ کیوں نہیں سمجھتی؟" اس نے کروٹ بدلی۔ "یہ بچہ۔۔۔ یہ ادھورا وجود، ہمارے کسی کام کا نہیں۔ نہ یہ میرا نام روشن کرے گا، نہ بڑھاپے کا سہارا بنے گا۔ الٹا زمانے بھر کے طعنے میرے مقدر میں لکھ دے گا۔ صفیہ جذباتی ہو رہی ہے، آخر کو ماں ہے ناں! پر کب تک؟ دو چار دن روئے گی، بین کرے گی، پھر خود ہی چپ ہو جائے گی۔ وقت ہر زخم کو بھر دیتا ہے۔ ایک بار مائی بختو اسے لے جائے، پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ہم دوبارہ اپنی زندگی شروع کریں گے، اللہ ہمیں مکمل اولاد سے نوازے گا جو میرا سر فخر سے بلند کرے۔" رحمت خان نے بڑے اطمینان سے فیصلہ کر لیا تھا کہ اسے صفیہ کی محبت اور ممتا میں سے کسی ایک کو کچلنا ہی ہوگا، اور اس کے نزدیک ممتا کو کچلنا آسان تھا۔ وہ انا اور مردانہ ضد کے نشے میں یہ بھول گیا تھا کہ صفیہ وہی عورت تھی جو اس ...