Posts

ناول: سجیلا (قسط نمبر 22)

Image
ناول: سجیلا (قسط نمبر 22) طوفان سے پہلے کی خاموشی اور ہاجرہ کی نئی چال تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز رات کا پہلا پہر تھا اور حویلی کے عقب میں واقع خالا کوثر کے چھوٹے سے کمرے میں روشنی کا ایک ہی مدہم دیا ٹمٹما رہا تھا۔ باہر کچی سڑک پر آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، جن کے ساتھ رات کے سنٹے میں سنسناتی ہوا کی سائیں سائیں بھی شامل تھی۔ کمرے کے اندر کا ماحول باہر کے مقابلے میں بالکل مختلف تھا؛ یہاں ایک عجیب سی پرسوز خاموشی تھی جس پر دعا اور توکل کی چادر تنی ہوئی تھی۔ خالا کوثر جائے نماز پر بیٹھی تھیں، ان کے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے اور آنکھوں سے آنسووں کی جھڑی لگی ہوئی تھی جو ان کے جھریوں زدہ چہرے پر لکیریں کھینچ رہی تھیں۔ وہ مسلسل اس معصوم بچی یعنی سجیلا کی سلامتی اور اس گھرانے کی عزت کے لیے ربِ ذوالجلال کے حضور گریہ و زاری کر رہی تھیں۔ صفیہ پاس ہی چارپائی کے ایک کونے پر بیٹھی تھی، اس کی آنکھیں بھی جاگنے اور رونے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھیں۔ سجیلا گہری اور پرسکون نیند سو رہی تھی، اس کا معصوم چہرہ چاند کی روشنی میں اور بھی زیادہ معصوم لگ رہا تھا، جی...

ناول: سجیلا (قسط نمبر21)

Image
  ناول: سجیلا (قسط نمبر 21) ہ اجرہ کا نیا جال اور سجیلا کا پہلا امتحان تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز صبح کی ہلکی دھوپ جب گاؤں کے پرانے درودیوار پر پڑی تو فضا میں ایک عجیب سا توازن محسوس ہو رہا تھا۔ کل تک جو لوگ مائی ہاجرہ کی باتوں میں آ کر صفیہ اور سجیلا کے خلاف طرح طرح کی زبانیں چلا رہے تھے، اب اسکول کے پہلے دن کے خوشگوار تجربے کے بعد ان کے تیور بدلے ہوئے تھے۔ عورتیں آپس میں چہ مگوئیاں کر رہی تھیں کہ صفیہ پر خواہ مخواہ الزام لگایا گیا تھا۔ بچی کتنی پرسکون اور معصوم ہے، اور اسکول جانے کے بعد اس کے چہرے کی رونق دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ لیکن اس بدلے ہوئے ماحول اور لوگوں کے نرم پڑتے رویے سے مائی ہاجرہ کے سینے میں جلن کی آگ اور زیادہ بھڑک اٹھی تھی۔ وہ جو یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ اس کی بنائی ہوئی جھوٹی کہانیاں پورے گاؤں میں پتھر پر لکیر بن جائیں گی، اس کی اپنی ساکھ اب خطرے میں پڑ چکی تھی۔ گاؤں کے چوبارے پر اور کنویں کے پاس اب اس کی پیٹھ پیچھے باتیں ہونے لگی تھیں کہ ہاجرہ بلاوجہ دوسروں کے گھروں میں آگ لگاتی ہے۔ یہی شکست کا احساس اور غصہ ہاجرہ کو چین نہیں بیٹھنے ...

ناول: سجیلا (قسط نمبر20)

Image
      ناول: سجیلا (قسط نمبر 20) عنوان: حویلی کا بلاوا اور نئی شروعات تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز صبح کی پہلی کرن جب گاؤں کی فضا میں پھیلی تو خوف اور اندیشوں کے بادل جو پچھلی رات سے چھائے ہوئے تھے، کچھ ہلکے ہوتے دکھائی دیے۔ مگر اس سکون کے پیچھے ایک ایسا انہونی اور حیرت انگیز موڑ چھپا تھا، جس کا تصور نہ تو صفیہ نے کیا تھا اور نہ ہی خالا کوثر نے۔ صبح کا سورج ابھی پوری طرح افق پر چمک بھی نہیں پایا تھا کہ حویلی کا ایک ملازم ہانپتا ہوا خالا کوثر کے گھر کے دروازے پر آ پہنچا۔ اس نے دروازے پر دستک دی تو صفیہ کا دل ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بھول گیا۔ اسے لگا کہ شاید مائی ہاجرہ کی رات کی سازش رنگ لے آئی ہے اور اب کوئی نئی آفت آنے والی ہے۔ کانپتے ہاتھوں سے جب صفیہ نے دروازہ کھولا تو ملازم نے سنجیدہ مگر باادب لہجے میں کہا، "صفیہ بی بی! پیر سائیں نے آپ کو، خالا کوثر کو اور ساتھ میں چھوٹی بچی سجیلا کو فوراً حویلی طلب کیا ہے۔ سائیں صاحب آپ سے کچھ ضروری بات کرنا چاہتے ہیں۔" یہ سن کر صفیہ اور خالا کوثر دونوں ایک دوسرے کو حیرت اور پریشانی سے دیکھنے لگیں۔ حویلی ک...

ناول: سجیلا (قسط نمبر 19)

Image
  ناول: سجیلا (قسط نمبر 19)  عنوان: بند دروازے اور باہر کی دنیا کا بلاوا  تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)  پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا اور خالا کوثر کے چھوٹے سے گھر میں علم کی شمع اب پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہو چکی تھی۔ صفیہ اور خالا کوثر کی مشترکہ محنت رنگ لا رہی تھی۔ سجیلا اب نہ صرف اردو اور انگریزی کے بنیادی حروف کو پہچاننے لگی تھی بلکہ گنتی کے اصول بھی اس کے چھوٹے سے ذہن میں نقش ہونے لگے تھے۔ صبح کے وقت جب صفیہ اسکول چلی جاتی، تو خالا کوثر کا آنگن ایک چھوٹی سی درسگاہ بن جاتا۔ سجیلا چار پائی پر چار زانو بیٹھی، اپنے ننھے ہاتھوں سے تختی پر چاک پھیرتی۔ اس کی تیز ذہانت کو دیکھ کر اکثر خالا کوثر دنگ رہ جاتیں۔ جو بات عام بچوں کو سمجھنے میں کئی دن لگ جاتے، سجیلا اسے ایک ہی بار میں ایسے ذپ کر لیتی جیسے اس کا ذہن کسی کھلے ہوئے سمندر کی طرح ہو۔ لیکن اس روشن اور پرسکون ماحول کے باہر، دنیا کے رنگ کچھ اور ہی داستان سنا رہے تھے۔ مائی ہاجرہ کو پیر سائیں کی طرف سے سخت تنبیہ مل چکی تھی، اس لیے وہ کھل کر تو سامنے نہیں آ سکتی تھی، لیکن اس کے اندر کا ...

ناول: سجیلا (قسط نمبر 18)

Image
  ناول: سجیلا (قسط نمبر 18) عنوان: اعتبار کی حویلی اور گھر کا مکتب تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز حویلی کے بڑے صحن میں شام کا سورج دھیرے دھیرے ڈھل رہا تھا۔ پیر سائیں ذوالفقار اپنے مخصوص دبدبے کے ساتھ دالان میں بچھی مسند پر بیٹھے تسبیح کے دانوں کو گردان رہے تھے۔ ماحول میں ایک بوجھل سی خاموشی تھی، جسے مائی ہاجرہ کی تیزی سے آتی ہوئی چپلوں کی آواز نے توڑ دیا۔ مائی ہاجرہ کے چہرے پر الجھن، غصہ اور تجسس کا ایک عجیب ملا جلا تاثر تھا۔ وہ تیز قدم اٹھاتی ہوئی پیر سائیں کی مسند کے قریب آئی اور بنا کچھ سوچے سمجھے بول اٹھی، "پیر سائیں! میں تو آپ کے حکم پر اس گھر میں ان دونوں عورتوں کا سہارا بننے گئی تھی، لیکن۔۔۔ لیکن وہاں تو کچھ اور ہی چل رہا ہے۔" پیر سائیں ذوالفقار نے تسبیح پڑھتے ہاتھ کو روکا۔ ان کی پروقار آنکھوں نے مائی ہاجرہ کے اضطراب کا جائزہ لیا اور دھیمے مگر بارعب لہجے میں پوچھا، "کیا ہوا ہاجرہ؟ خالا کوثر اور صفیہ کی خیریت تو ہے؟ تم اس وقت حویلی واپس کیوں آ گئی ہو؟" ہاجرہ نے آس پاس دیکھا، جیسے وہ کوئی بہت بڑا راز فاش کرنے جا رہی ہو۔ وہ تھوڑا آگے...

ناول: سجیلا (قسط نمبر 17)

Image
ناول: سجیلا (قسط نمبر 17) عنوان: علم کا سفر اور آزمائش کی دستک تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)  پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز --- رات کے سائے جیسے جیسے گہرے ہو رہے تھے، خالا کوثر کے دل کا بوجھ بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ صحن میں لیمپ کی مدہم روشنی میں وہ جائے نماز پر بیٹھی دیر تک سجدے میں روتی رہیں۔ مائی ہاجرہ کے سوالات کوئی عام سوال نہیں تھے، بلکہ وہ اس طوفان کا پیش خیمہ تھے جو کسی بھی وقت ان کی چھوٹی سی پرسکون دنیا کو تہس نہس کر سکتا تھا۔ دوسری طرف صفیہ اپنے کمرے میں سجیلا کو سینے سے لگائے گہری نیند سو رہی تھی، اس کے چہرے پر ایک طویل عرصے کے بعد ایک دھیمی سی مسکراہٹ تھی—اسکول جانے کی خوشی، اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا خواب۔ خالا کوثر نے اس کے معصوم چہرے کو دیکھ کر اپنے آنسو پونچھے اور دل میں عہد کیا کہ وہ اس ممتا کے مان کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیں گی۔ اگلی صبح زندگی کا ایک نیا باب لے کر طلوع ہوئی۔ صفیہ نے سفید سوتی جوڑا پہنا، سر پر خاکی رنگ کی بڑی چادر اوڑھی، اور آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ آج اس کی آنکھوں میں وہ پرانا خوف نہیں تھا، بلکہ ایک استانی کا وقار اور سنجیدگی تھی۔ جب وہ کمرے سے باہر آئی تو ...

ناول: سجیلا (قسط نمبر 16)

Image
ناول: سجیلا (قسط نمبر 16)  آزادی کی دھوپ اور علم کی روشنی   تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) --- آج کی صبح کچھ الگ ہی تھی۔ فضا میں پھیلی خنکی میں ایک انوکھی تازگی اور  میں ایک بھینی بھینی خوشبو رچی ہوئی تھی جو روح کو سرشار کر رہی تھی۔ صفیہ جب بیدار ہوئی تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے برسوں سے اس کے وجود کو جکڑے ہوئے وہ بھاری لوہے کے بوجھل کڑے، وہ زنجیریں، ایک ہی جھٹکے میں ٹوٹ کر گر گئی ہوں۔ وہ زنجیریں اس کے ماضی کی تلخ یادوں کی تھیں، وہ خوف جو اسے ہر لمحہ گھیرے رکھتا تھا، اب ہمیشہ کے لیے کہیں پیچھے چھوٹ چکا تھا۔ وہ اب آزاد تھی—اپنے فیصلوں میں، اپنی سانسوں میں اور اپنی ممتا کے تقدس میں۔ سورج کی پہلی سنہری کرنیں جب کچے صحن پر پڑیں تو صفیہ نے ہاتھ اٹھا کر اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ یہ نیا دن اس کے لیے نئی زندگی کا پیامبر بن کر آیا تھا، ایک ایسی زندگی جہاں اس کے سر پر کسی ظالم کا سایہ نہیں تھا۔ آج کا دن پورے گاؤں کے لیے بھی ایک حیرت کا باعث تھا، کیونکہ آج پیر سائیں ذوالفقار نے اپنی حویلی میں ایک بڑی دعوت کا اہتمام کر رکھا تھا۔ اس خاص دعوت میں خالا کوثر، خدیجہ اور خاص طور پر صفیہ کو مدعو...