Posts

ناول: سجیلا (قسط نمبر 36)

Image
ناول: سجیلا (قسط نمبر 36) تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز  شاہ زیب غصے میں بپھرا ہوا اپنے کمرے میں آ گیا، جہاں اس کا دل کسی طوفان کی طرح دھڑک رہا تھا۔ وہ کمرے میں ٹہلتے  ہوئے آنے والے وقت کے لائحہ عمل پر سوچ بچار کرنے لگا۔ اس نے اپنے دل میں پکا ارادہ کر لیا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں الماس کو کسی صورت بھی داخل نہیں ہونے دے گا۔ اس کے ذہن کے پردے پر ماضی کی وہ خوبصورت اور معصوم یادیں ابھرنے لگیں جو اس نے سجیلا کے ساتھ اس حویلی کے پچھلے حصے میں چھپ کر گزاری تھیں۔ جب سجیلا بچپن میں اس حویلی میں آئی تھی، تو وہ دونوں لان کے پچھلے حصے میں سب سے چھپ کر کھیلا کرتے تھے۔ سجیلا اپنی ماں صفیہ سے چھپ کر آتی تھی اور شاہ زیب اپنی بڑی ماں تاج بی بی سے چھپ کر آتا تھا، جہاں دونوں گھنٹوں باتیں کیا کرتے تھے۔ یہ بات کبھی دونوں نے اپنے گھر کے بڑوں کے کانوں میں نہیں پڑنے دی تھی۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب شاہ زیب کو پڑھنے کے لیے باہر شہر بھیج دیا گیا تھا، تو جانے سے پہلے سجیلا کی آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو شاہ زیب نے یہ کہہ کر صاف کیا تھا کہ "میں جلدی واپس آؤں گا اور سب ٹھیک ہو جائے...

ناول: سجیلا (قسط نمبر 35)

Image
  ناول: سجیلا (قسط نمبر 35) تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی حویلی کے بڑے صحن میں چہل پہل شروع ہو چکی تھی، مگر اس ظاہری سکون کے پیچھے سازشوں کا ایک طوفان منہ کھولے کھڑا تھا۔ رات کی تاریکی میں جو بیج تنویر اور تاج بی بی کے درمیان بویا گیا تھا، وہ اب صبح ہوتے ہی پھل دینے کے لیے تیار تھا۔ تنویر رات کے خوف کو پیچھے چھوڑ کر صبح سویرے ہی سیدھا بڑی بیگم یعنی تاج بی بی کے خاص محل نما کمرے کے باہر دستک دے رہا تھا۔ "آ جاؤ اندر!" تاج بی بی کی رعب دار اور بھاری آواز سن کر تنویر نے دروازہ کھولا اور لرزتے ہوئے قدموں اندر داخل ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ بڑی بیگم کا غصہ کیسا ہے، خصوصاً جب معاملہ صفیہ اور سجیلا کی طرف داری کا ہو۔ تاج بی بی اپنے تخت پوش پر بیٹھی تھیں، ہاتھ میں چاندی کے برتن سے چائے کا کپ تھامے ہوئے انہوں نے سرد نگاہوں سے تنویر کو دیکھا اور بولیں: "ہاں بھئی تنویر! رات کو جو کام تمہیں سونپا تھا، اس کا کیا بنا؟ کان لگا کر کیا سنا تم نے ان دونوں ماں بیٹی کے کمرے کے باہر؟ کوئی نئی کھچڑی پک رہی ہے یا پھر وہ شہزادہ شاہ زیب ان کی حمای...

ناول: سجیلا (قسط نمبر 34)

Image
ناول: سجیلا (قسط نمبر 34) تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز رات کے اس پہر، صفیہ کے اس چھوٹے سے کمرے میں فضا کسی قدر بوجھل ضرور تھی مگر اب اس میں خوف کے بجائے ایک عجیب سا اطمینان اور سچائی کی روشنی اتر آئی تھی۔ شاہ زیب سجیلا کے بستر کے پاس کرسی کھینچ کر بیٹھا تھا اور انتہائی محبت، شفقت اور پختہ یقین کے ساتھ اسے دلاسہ دے رہا تھا۔ اس کے لہجے میں وہ تمام خلوص امڈ آیا تھا جو برسوں کی بے اعتباری کے بعد کسی اپنے کے لیے دل سے نکلتا ہے۔ "سجیلا!... اب جتنا تم نے سہہ لیا، جتنی تکلیفیں اس ظالم دنیا اور اپنوں کے طعنے تم نے خاموشی سے برداشت کر لیے، اب اور نہیں۔ بس! اب یہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔" شاہ زیب نے سجیلا کے چہرے پر پڑتی ہوئی ناتواں نظروں کو دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا، اور میز پر رکھی ہوئی تمام رپورٹس اور دستاویزات کی طرف اشارہ کیا، "ان تمام رپورٹس اور کاغذات کو سنبھال کر اپنے پاس رکھو۔ یہ صرف کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہیں، یہ تمہاری بے گناہی اور پاکدامنی کے سب سے بڑے اور ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔ اب دنیا کی کوئی طاقت تمہیں جھوٹا یا گناہ گار ثابت نہیں کر  سکتی صفیہ بھی ...

ناول: سجیلا (قسط نمبر 33)

Image
ناول: سجیلا (قسط نمبر 33) تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز کمرے کی گھمبیر خاموشی میں سجیلا کی آواز کسی گہرے کنویں سے ابھرتی ہوئی سرگوشی کی طرح محسوس ہو رہی تھی۔ اس کے ہر ایک لفظ میں برسوں کا درد، ستم رسیدہ حالات کی گرد اور وہ اَن کہی کہانیاں چھپی تھیں جنہیں سننے کے لیے شاہ زیب کا دل مدت سے بیتاب تھا۔ اس چھوٹے سے کمرے کی فضا اتنی بوجھل ہو چکی تھی کہ سانس لینا بھی محال معلوم ہوتا تھا۔ باہر رات کی سیاہی گہری ہوتی جا رہی تھی، مگر اس وقت اس کمرے کے اندر جو طوفان برپا تھا، اس کے سامنے باہر کا ہر اندھیرا ہیچ تھا۔ "آپ... آپ کیا جانیں شاہ زیب!" سجیلا کی پلکیں ایک بار پھر بھیگ گئیں، مگر اس بار ان آنسوؤں میں کوئی کمزوری یا شکست خوردگی نہیں تھی، بلکہ ایک عجیب سا عزم، تپش اور سچائی کا پرتو جھلک رہا تھا۔ "آپ کی اس عالی شان حویلی کے باہر کی دنیا اتنی پرسکون یا اصولوں پر مبنی نہیں ہے جتنی یہاں سے دکھائی دیتی ہے۔ یہاں تو رشتوں کے نام پر دھوکے اور اعتبار کے نام پر خون کے سودے کیے جاتے ہیں۔ جس سجیلا کو آپ ایک پناہ گزین، ایک احسان تلے دبی ہوئی لاچار اور بے بس لڑکی سم...

ناول: سجیلا (قسط نمبر 32)

Image
  ناول: سجیلا (قسط نمبر 32)  تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز صبح کی ہلکی اور سنہری دھوپ جب ہسپتال کے پرائیویٹ روم کی کھڑکی سے اندر جھانکنے لگی، تو نرس نے آ کر سجیلا کی ڈرپس ختم کیں اور اس کی طبیعت کا جائزہ لیا۔ سب کچھ بالکل ٹھیک اور تسلی بخش تھا۔ ڈاکٹر کے آنے اور فائنل چیک اپ کے بعد سجیلا کو ہسپتال سے ڈسچارج کرنے کی باقاعدہ اجازت مل چکی تھی۔ صفیہ کے دل سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر چکا تھا؛ وہ جانتی تھی کہ یہ صرف ایک جسمانی شفا کا سفر نہیں تھا، بلکہ اس کی بیٹی کی عزت، اس کی اصل شناخت اور اس کی طویل جنگ کی شاندار فتح تھی۔ ڈسچارج کے تمام کاغذی مراحل طے کرنے کے بعد صفیہ نے ایک آرام دہ گاڑی کا بندوبست کیا اور سجیلا کو لے کر حویلی کی طرف روانہ ہو گئی۔ راستے بھر سجیلا خاموش بیٹھی کھڑکی سے باہر بدلتے ہوئے مناظر کو دیکھتی رہی۔ اس کے اندر ایک عجیب سا سکون اور ہلکا پن تھا، جیسے سالوں کی کوئی غلاظت اور زنجیریں اب ٹوٹ چکی ہوں۔ جب گاڑی حویلی کے دروازے پر رکی، تو صفیہ نے نہایت احتیاط اور محبت سے سجیلا کا ہاتھ تھام کر اسے سہارا دیا اور اندر کمرے میں لے جا کر بستر پر آرام س...

ناول: سجیلا (قسط نمبر 31)

Image
  ناول: سجیلا (قسط نمبر 31) تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز لان کے کھلے آسمان کے نیچے اکیلی کھڑی سجیلا کا سانس اندر کا اندر ہی گھٹ کر رہ گیا تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اگر شاہ زیب کو اس کے ماضی کی حقیقت کا پتہ چل گیا، تو اس کا اگلا ردعمل کیا ہوگا؟ وہ ان ہی الجھنوں میں گھری تھی کہ اتنے میں اندر سے بڑی بیگم کا بلاوا آ گیا۔ شاہ زیب نے معذرت کرتے ہوئے سجیلا سے کہا کہ وہ اس ادھوری بات پر بعد میں تفصیلی گفتگو کرے گا اور تیزی سے اندر کی طرف لپک گیا۔ اندر پہنچ کر جب شاہ زیب نے اپنی ماں سے ملاقات کی، تو بڑی بیگم نے سنجیدہ اور متبرک لہجے میں کہا، "بیٹا! منشی جی آئے ہیں اور ساتھ کچھ زمیندار بھی ہیں جو پانی کے مسئلے پر بہت پریشان ہیں۔ تم ان سے ملو اور فوراً زمینوں کی طرف جاؤ تاکہ اس مسئلے کا کوئی پرامن حل نکل سکے۔ اور میری ایک نصیحت یاد رکھنا، غصے میں کوئی غلط الفاظ یا غلط قدم مت اٹھانا۔ تمہارے بابا سائیں ہر معاملے کو بڑی دانشمندی اور سکون سے نبٹاتے تھے۔ جاؤ، میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔" ماں کی بات پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے شاہ زیب نے اپنے کمرے میں آ ک...

ناول: سجیلا (قسط نمبر 30)

Image
ناول: سجیلا (قسط نمبر 30)  تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)  پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز رات کے اسپوت اور گہرے سنّاٹے میں حویلی کا پورا ماحول کسی خوفناک آسیب کی طرح خاموش تھا۔ کمرے کے مدھم اجالے میں سجیلا گہری نیند میں سو رہی تھی، مگر اس کا چہرہ کسی شدید ذہنی کشمکش اور بے چینی کی غمازی کر رہا تھا۔ خواب کی دنیا میں اس کا دل کسی ان جانے خوف سے کانپ رہا تھا کہ اچانک فضا میں ایک گونجتی ہوئی، سرد اور طنزیہ آواز ابھری، جو سیدھا اس کے دل پر اثر انداز ہو رہی تھی: "کب تک بچو گے آخر؟ جس دن شائروز کو تمہارے ماضی کا پتہ لگا، وہ تمہیں اپنے دل سے بھی نکال باہر کرے گا اور ساتھ ہی اس حویلی کے دروازے بھی تم پر ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے!" سجیلا اس خوفناک تصور سے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ اس کا پورا جسم پسینے میں ڈوبا ہوا تھا اور سانسیں سینے میں اٹک گئی تھیں۔ اس نے ڈرتے ہوئے ہانپتے ہوئے کہا، "نہیں... نہیں! ایسے نہیں ہو سکتا، یہ سچ نہیں ہو سکتا!" اس کی آنکھیں خوف کے مارے کھلی کی کھلی رہ چکی تھیں۔ اس نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا، مگر کمرے میں اس کے سوا کوئی نہیں تھا۔ کچی نیت اور کپکپاتے ہاتھوں ...