ناول: سجیلا قسط نمبر: 10

 

ناول:

 سجیلا
قسط نمبر:
10

تحریر: ذوقِ عشاء (عشرت خانم)

عنوان: عدالت کا نوٹس اور منڈی کا سچ

پہاڑی وادی کی پرسکون فضا سے دور، شہر کی غلہ منڈی میں زندگی کی رفتار ہمیشہ کی طرح تیز، شور شرابے سے بھرپور اور گرد آلود تھی۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں انسانی جذبات اور احساسات کے بجائے صرف نفع اور نقصان کے سودے ہوتے تھے۔ پیر سائیں ذوالفقار کے آستانے سے نکل کر، شہر کے نامور وکیل شاہد الٰہی اسی منڈی کی حدود میں داخل ہوئے تھے۔ ان کے پاس صفیہ کے دستخط اور انگوٹھے کے نشانات والے خلع کے قانونی کاغذات کی ایک کاپی موجود تھی، جو رحمت خان کے ظلم کے خاتمے کا پہلا باقاعدہ اعلان تھی۔

شاہد الٰہی اپنے پیشے کے پکے اور اصول پسند انسان تھے۔ وہ منڈی کی تنگ اور مصروف گلیوں میں گاڑی سے اتر کر پیدل ہی آگے بڑھے۔ ہر طرف مزدور بوریاں اٹھائے ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے، اور آڑھتی اپنی گدیوں پر بیٹھے حساب کتاب میں مصروف تھے۔ شاہد الٰہی نے ایک دکان کے باہر کھڑے بوڑھے مزدور کو روکا اور سنجیدگی سے پوچھا، "بھائی! یہاں رحمت خان نام کا کوئی آدمی کام کرتا ہے؟ مجھے اس سے ملنا ہے۔"

مزدور نے اپنے کندھے پر لدی بوری کو درست کیا، شاہد الٰہی کے کوٹ اور سلجھے ہوئے انداز کو دیکھا اور ادب سے بولا، "بابو جی! رحمت خان تو یہاں حاجی سلیمان صاحب کی آڑھت پر نیا منشی لگا ہے۔ وہ سامنے جو بڑی نیلی عمارت ہے نا، وہی حاجی صاحب کا بڑا دفتر ہے۔ آپ وہاں چلے جائیے، رحمت خان وہیں مل جائے گا۔"

وکیل شاہد الٰہی نے اس کا شکریہ ادا کیا اور نیلی عمارت کی طرف بڑھ گئے۔ جیسے ہی وہ دفتر کے اندر داخل ہوئے، وہاں کا ماحول منڈی کے باہر کے شور سے بالکل مختلف تھا۔ اندر ائیر کنڈیشنر کی دھیمی آواز تھی اور ایک بڑی لکڑی کی میز کے پیچھے سفید براق لباس اور سر پر نماز کی ٹوپی سجائے ایک بزرگ تشریف فرما تھے، جن کے چہرے سے شرافت اور دین داری ٹپک رہی تھی۔ یہی منڈی کے سب سے بڑے اور معزز تاجر، حاجی سلیمان تھے۔

شاہد الٰہی نے آگے بڑھ کر السلام علیکم کہا۔ حاجی سلیمان نے مسکرا کر سلام کا جواب دیا اور انہیں سامنے رکھی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ "جی فرمائیے وکیل صاحب! میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ منڈی کے اس ماحول میں کسی قانون دان کا آنا کچھ حیران کن ہے۔"

شاہد الٰہی نے اپنی عینک درست کی اور براہِ راست مدعے پر آئے۔ "حاجی صاحب! میں یہاں کسی تجارتی معاملے کے لیے نہیں، بلکہ آپ کی آڑھت پر کام کرنے والے ایک ملازم، رحمت خان کے سلسلے میں آیا ہوں۔ میں اس کے نام ایک قانونی نوٹس لے کر آیا ہوں۔"

حاجی سلیمان کے ابرو حیرت سے تن گئے۔ "رحمت خان؟ وہ تو میرا نیا منشی ہے۔ لیکن آپ قانون کے آدمی ہو کر اس سے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ اس نے ایسا کیا کر دیا ہے؟"

وکیل شاہد الٰہی نے گہرا سانس لیا اور اپنے بیگ سے صفیہ کے دستخط شدہ کاغذات نکال کر میز پر رکھ دیے۔ "حاجی صاحب! میں پیر سائیں ذوالفقار کے حکم پر یہاں آیا ہوں۔ رحمت خان نام کا یہ شخص ایک درندہ صفت انسان ہے، جو اپنی معصوم بیوی صفیہ اور اپنی بیٹی سجیلا پر ناقابلِ برداشت ظلم ڈھاتا رہا ہے۔ وہ نہ صرف ان پر تشدد کرتا تھا، بلکہ انہیں نان و نفقہ سے محروم کر کے گھر سے بے دخل کر چکا ہے۔ اب وہ مظلوم ماں بیٹی پیر سائیں کی شفقت اور پناہ کے سائے میں ہیں، اور صفیہ بہن اب رحمت خان جیسے جانور نما انسان کے ساتھ ایک پل بھی نہیں رہنا چاہتیں۔ وہ اس سے خلع لے رہی ہیں۔"

حاجی سلیمان خاموشی سے وکیل کی بات سن رہے تھے، لیکن ان کے چہرے پر صدمے کے تاثرات واضح تھے۔ شاہد الٰہی نے کاغذات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا، "اس فائل میں صفیہ بہن کا اپنی ہی لکھائی میں لکھا ہوا حلفیہ بیان بھی موجود ہے، اور یہ نیچے ان کے اپنے دستخط اور انگوٹھے کے نشانات ہیں۔ پیر سائیں نے مجھ سے خصوصی طور پر کہا تھا کہ یہ دستاویزی ثبوت میں خود یہاں تک پہنچاؤں۔ میں یہ کیس عدالت میں باقاعدہ فائل کر چکا ہوں، اور اب میں صفیہ بہن کا قانونی وکیل ہوں۔"

شاہد الٰہی نے حاجی سلیمان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا، "پیر سائیں کو معلوم ہوا تھا کہ رحمت خان کچھ دن پہلے دوبارہ صفیہ بہن کو دھمکیاں دینے اور انہیں نقصان پہنچانے کے ارادے سے گاؤں آیا تھا۔ حاجی صاحب! آپ ایک خدا ترس اور معزز انسان لگتے ہیں، اسی لیے میں یہ کاغذات آپ کے حوالے کر رہا ہوں۔ آپ یہ رحمت خان کو دے دیجیے گا اور اسے میری طرف سے اور پیر سائیں کے آستانے کی طرف سے صاف صاف بتا دیجیے گا کہ اگر وہ دوبارہ صفیہ یا اس کے بچے کو نقصان پہنچانے کی نیت سے گاؤں کے آس پاس بھی نظر آیا، تو اس بار پیر سائیں کے مرید اس کی جان لے لیں گے۔ پچھلی بار تو اسے صرف انسانی ہمدردی اور مائی زینب کی سفارش پر زندہ چھوڑ دیا گیا تھا، لیکن اب قانون اور آستانہ دونوں اس کے خلاف کھڑے ہیں۔"

وکیل شاہد الٰہی اپنی بات مکمل کر کے اٹھے، حاجی سلیمان سے ہاتھ ملایا اور دفتر سے باہر نکل گئے۔

پیچھے بیٹھ کر حاجی سلیمان جیسےسکتہ میں آ گئے تھے۔ وہ ان کاغذات کو دیکھ رہے تھے اور ان کا دماغ سن ہو رہا تھا۔ وہ رحمت خان کو اب تک ایک شریف، مجبور اور محنتی انسان سمجھ رہے تھے جو روزگار کی تلاش میں یہاں آیا تھا۔ انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ رحمت خان کا ماضی اتنا بھیانک اور تاریک ہو سکتا ہے۔ حاجی سلیمان کو اندر ہی اندر شدید غصہ آ رہا تھا کہ ایک ظالم شخص ان کے زیرِ سایہ کام کر رہا تھا۔ لیکن دوسری طرف، ایک کاروباری حقیقت بھی ان کے سامنے تھی۔ رحمت خان گزشتہ چند ہفتوں سے منڈی کا کام بہت اچھے اور ایمانداری سے سنبھال رہا تھا۔ اس نے ابھی تک حساب کتاب میں ایک روپے کی بھی بے ایمانی نہیں کی تھی، اور تمام مزدور اور چھوٹے ملازم بھی اس کے رعب کے نیچے صحیح طریقے سے کام کر رہے تھے۔ منڈی کے اس سیزن میں اتنی جلدی کوئی دوسرا تجربہ کار منشی ملنا ناممکن حد تک مشکل تھا۔

حاجی سلیمان نے گہرا سانس لیا اور سوچا، "اگر میں نے اس وقت رحمت خان پر سختی کی یا اسے نوکری سے نکالا، تو وہ طیش میں آ کر کوئی بڑا ہنگامہ کھڑا کر سکتا ہے اور میرا کاروبار بھی متاثر ہوگا۔ مجھے اس وقت سختی کے بجائے حکمتِ عملی اور پیار سے کام لینا ہوگا تاکہ وہ خلع کے اس کیس میں کوئی نیا تماشہ کھڑا نہ کرے اور خاموشی سے اس عورت کو آزاد کر دے۔"

یہ سوچ کر حاجی سلیمان نے میز سے کاغذات اٹھائے اور اپنے کپڑے درست کرتے ہوئے گودام کی طرف چل دیے، جہاں نیا غلہ اتارا جا رہا تھا اور بوریاں ترتیب سے رکھی جا رہی تھیں۔

گودام کے بڑے ہال میں رحمت خان مزدوروں پر نظر رکھے کھڑا تھا اور اونچی آواز میں ہدایات دے رہا تھا۔ جیسے ہی اس نے حاجی سلیمان کو اپنی طرف آتے دیکھا، اس کے چہرے پر چاپلوسی اور احترام کی مسکراہٹ ابھر آئی۔ وہ فوراً آگے بڑھا اور بولا، "حاجی صاحب! آپ نے کیوں زحمت کی؟ اس تپتی دھوپ میں یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی، مجھے بس ایک بلاوا بھیج دیا ہوتا، میں خود حاضر ہو جاتا۔"

حاجی سلیمان نے اس کی چاپلوسی پر کوئی خاص ردِعمل نہیں دیا، بلکہ ان کا لہجہ انتہائی ٹھنڈا اور سنجیدہ تھا۔ انہوں نے کاغذات کا لفافہ رحمت خان کی طرف بڑھایا اور بولے، "رحمت خان! میں یہاں ایک امانت تم تک پہنچانے آیا ہوں، اور ساتھ ہی کچھ ضروری باتیں سمجھانے بھی۔ اگر تم میرا مان رکھو اور میری بات سنو، تو کیا میں کچھ بولوں؟"

رحمت خان نے حیرت سے حاجی صاحب کے ہاتھ میں تھمے کاغذات کو دیکھا۔ حاجی صاحب کا سنجیدہ لہجہ دیکھ کر اس کا دل اندر سے دھک سے رہ گیا۔ اس نے فورا نظربازی کرتے ہوئے کہا، "حاجی صاحب! آپ کیوں شرمندہ کرتے ہیں؟ آپ کا تو مجھ پر بہت بڑا احسان ہے کہ آپ نے مجھے اس منڈی میں پناہ دی اور روزگار دیا۔ آپ حکم کیجیے، آپ کی بات میرے سر آنکھوں پر۔"

حاجی سلیمان نے لفافہ اس کے ہاتھ میں دیا اور کہا، "تو پھر ذرا ان کاغذات کو پڑھو۔ ابھی کچھ دیر پہلے شہر کا ایک بڑا وکیل شاہد الٰہی یہاں آیا تھا، وہ تمہیں ہی ڈھونڈ رہا تھا۔ رحمت خان! تم نے مجھے کبھی نہیں بتایا تھا کہ شہر سے دور گاؤں میں تمہاری ایک بیوی اور ایک بچی بھی ہے؟ اور تم نے یہ بھی نہیں بتایا کہ تم کچھ دن پہلے اسی گاؤں میں گئے تھے اور وہاں جا کر تم نے کوئی بڑا ہنگامہ کھڑا کیا تھا؟ یہ تمام تفصیلات وہ وکیل مجھے بتا کر گیا ہے۔"

حاجی سلیمان نے رحمت خان کے چہرے پر بدلتے ہوئے رنگوں کو دیکھا اور انتہائی دھیمے مگر مضبوط لہجے میں کہا، "میری بات بالکل ٹھنڈے دماغ سے سنو رحمت خان۔ تم کسی بھی عورت کو زبردستی اپنے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ وہ تمہاری بیوی ہے، اگر وہ اب تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، تو زبردستی کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ وکیل صاف کہہ کر گیا ہے کہ اب اس گاؤں کے آس پاس بھی نظر مت آنا۔ قانون اب اس عورت کے ساتھ ہے اور اس کے پیچھے پیر سائیں کا آستانہ کھڑا ہے۔ میری مانو تو اسے چھوڑ دو، اس خلع کے کیس میں کوئی ہنگامہ مت کرو۔ خدا نے چاہا تو تمہیں کوئی اور لڑکی مل جائے گی، تم اس سے نکاح کر کے دوبارہ سے اپنا گھر بسا لینا۔"

رحمت خان نے جیسے ہی خلع  کے کاغذات پر صفیہ کے دستخط دیکھے، اس کے اندر غصے کی ایک تیز لہر دوڑ گئی۔ اس کی آنکھیں خونخوار ہو گئیں، مٹھیاں بھینچ گئیں اور چہرے کی رگیں تن گئیں۔ صفیہ کی یہ جرات کہ وہ پیر سائیں کی پشت پناہی میں آ کر اسے عدالت کا نوٹس بھیجے؟ یہ بات اس کی مردانہ انا پر ایک کاری ضرب تھی۔ لیکن حاجی سلیمان کے سامنے کھڑے ہونے کی وجہ سے وہ اپنے غصے کو شدید ضبط کے ساتھ قابو میں رکھے ہوئے تھا۔

وہ چبا چبا کر بولا، "حاجی صاحب! آپ حقیقت نہیں جانتے۔ میری بیوی صفیہ نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔ وہ بچہ۔۔۔ وہ سجیلا، وہ ایک منحوس بچہ ہے! میں صفیہ سے محبت کرتا تھا اور آج بھی کرتا ہوں۔ لیکن صفیہ اس ادھورے، بیمار اور اپاہج بچے کے ساتھ جینا چاہتی ہے۔ میرا بس اتنا ہی قصور تھا نا کہ میں نے صفیہ سے کہا تھا کہ اس منحوس بچے کو ہم کسی یتیم خانے یا کسی اور کو دے دیتے ہیں، اللہ ہمیں دوبارہ تندرست اولاد دے دے گا۔ لیکن وہ میری بات ماننے کے بجائے ضد پر اڑ گئی اور گھر سے بھاگ گئی۔ میں تو در بدر اسے ڈھونڈتا ہوا یہاں پہنچا تھا۔ حاجی صاحب! میں کیوں چھوڑ دوں اسے؟ میں صفیہ کو کبھی طلاق نہیں دوں گا، نہ ہی میں اسے کسی اور کے سائے میں جینے دوں گا!"

رحمت خان کی بات کاٹتے ہوئے حاجی سلیمان نے اپنا ہاتھ فضا میں اٹھایا اور سخت لہجے میں کہا، "رحمت خان! اس وقت جوش سے نہیں، ہوش سے کام لو۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش ہرگز مت کرنا۔ میں ایک شریف تاجر ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ میری آڑھت پر کام کرنے والے کسی بندے کی وجہ سے یہاں کوئی مجھ پر یا میری دکان پر انگلی اٹھائے۔ اب یہاں اس منڈی میں تمہاری ایک عزت بن گئی ہے، لوگ تمہیں منشی جی کہتے ہیں۔ اس عزت کو مٹی میں مت ملاؤ۔ ٹھنڈے دماغ سے سوچنا اس بارے میں، ورنہ انجام بہت برا ہوگا۔"

حاجی سلیمان یہ کہہ کر مڑے اور واپس اپنے دفتر کی طرف چل دیے، لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی نصیحت رحمت خان کے دل میں لگی آگ کو بجھا نہیں سکی تھی، بلکہ اس آگ میں مزید تیل ڈال چکی تھی۔

رحمت خان نے گودام کے اندھیرے کونے میں کھڑے ہو کر صفیہ کے دستخط والے کاغذات کو دیکھا۔ اس کا چہرہ غصے سے مسخ ہو چکا تھا۔ اس نے دانت پیستے ہوئے اپنے آپ سے کہا، "صفیہ! تو نے پیر سائیں اور وکیل کے پیچھے چھپ کر مجھ پر وار کیا ہے نا؟ اب دیکھنا، رحمت خان اس کا کیا بدلہ لیتا ہے۔ تو اسکول میں پڑھائے گی اور میں یہاں بیٹھ کر تیری بربادی کا نیا کھیل لکھوں گا!"

(جاری ہے)

کاپی رائٹ اور ڈسکلیمر

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026

ناول: سجیلا (قسط نمبر 10)

تحریر: ذوقِ عشاء (عشرت خانم)

پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز

آفیشل ویب سائٹ لنک: ishratdigitalcreation.com

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23