ناول: سجیلا قسط نمبر: 11
ناول: سجیلا
قسط نمبر: 11
انتقام کی آگ اور سازشوں کا جال
تحریر: ذوقِ عشاء (عشرت خانم)
منڈی کا شور و غل، ٹرکوں کے ہارن، مزدوروں کی چیخ و پکار، آڑھتیوں کی بلند آوازیں اور بوریوں کے گرنے کی دھمک اب رحمت خان کو اپنی کامیابی کا گیت معلوم ہوتی تھی۔ لیکن اس کے دل کے کسی تاریک گوشے میں صفیہ کے خلاف نفرت کی آگ اس شدت سے بھڑک رہی تھی کہ اسے اپنی ہی آڑھت کی ہوا گرم محسوس ہونے لگی تھی۔ حاجی سلیمان کی وہ نصیحت، جو انہوں نے بڑے تحمل سے کی تھی، رحمت خان کے لیے نصیحت نہیں، بلکہ اس کی مردانہ انا پر ایک اور کاری ضرب تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے براہِ راست صفیہ یا پیر سائیں کے مریدوں سے ٹکر لی، تو وہ نہ صرف اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے گا بلکہ قانونی شکنجے میں آ کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی جا سکتا ہے۔ اسے اب ایک ایسی چال چلنی تھی جس میں وہ خود پردے کے پیچھے محفوظ رہے اور صفیہ کی زندگی اس کے لیے جہنم بن جائے۔ وہ ہر لمحہ سوچتا کہ کس طرح وہ اس عورت کو اپنی مرضی پر جھکانے پر مجبور کرے۔
دوسری طرف، وادی کی پرسکون فضا میں صفیہ اپنی آٹھ ماہ کی بیٹی سجیلا کو گود میں اٹھائے پیر سائیں کے آستانے سے ملحقہ گھر میں ایک نئی زندگی کی شروعات کر رہی تھی۔ سجیلا، جو اپنی معصومیت اور کم عمری کے باعث ابھی دنیا کے دکھوں اور سازشوں سے بالکل ناواقف تھی، صفیہ کی واحد سہارا اور جینے کی وجہ تھی۔ سجیلا کی چھوٹی چھوٹی مسکراہٹیں صفیہ کے زخموں پر مرہم کا کام کرتی تھیں۔ صفیہ کا ہر دن سجیلا کی دیکھ بھال، اسے دودھ پلانے، اس کے کپڑے بدلنے اور اسے رحمت خان کے سیاہ سایہ سے دور رکھنے کی تگ و دو میں گزرتا تھا۔ سجیلا کے پاس کھیلنے کے لیے کوئی مہنگے کھلونے نہ تھے، بس صفیہ کا دوپٹہ اور آستانے کے صحن میں اڑتے ہوئے پرندے ہی اس کا کل اثاثہ تھے۔ صفیہ کو اب بھی رحمت خان کا ڈر تھا، لیکن وکیل شاہد الٰہی کے قانونی نوٹس نے اسے کچھ حد تک تحفظ کا ایک جھوٹا سہی مگر سکون کا احساس دیا تھا۔ وہ اکثر رات کو اٹھ کر دروازے کی کنڈی چیک کرتی، جیسے اسے ڈر ہو کہ رحمت خان کسی بھی وقت دیوار پھلانگ کر اندر آ جائے گا۔
صفیہ کی سہولت کے لیے پیر سائیں نے ایک نیک خاتون کو سجیلا کی دیکھ بھال کے لیے مامور کر دیا تھا۔ جب صفیہ اسکول میں پڑھانے جاتی، تو وہ خاتون سجیلا کے پاس آ جاتی۔ وہ بڑی محبت اور ذمہ داری سے سجیلا کو سنبھالتیں، اسے بہلائیں، اور اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتیں۔ صفیہ جب اسکول سے واپس آتی، تو وہ خاتون اطمینان سے سجیلا کو صفیہ کے حوالے کرتیں اور پھر اپنے گھر چلی جاتیں۔ یہ انتظام صفیہ کے لیے بہت بڑی نعمت تھا، جس سے اسے اپنی ملازمت پر توجہ دینے کا موقع مل رہا تھا۔ اسکول میں بچے صفیہ کے پڑھانے کے انداز کو بہت پسند کرتے تھے، اور صفیہ اپنی پوری کوشش کرتی تھی کہ وہ اپنی تمام تر پریشانیاں اسکول کے گیٹ کے باہر ہی چھوڑ کر آئے اور کلاس روم میں بچوں کو علم کی روشنی بانٹے۔
ادھر شہر میں، رحمت خان نے اپنی فطری مکاری کو بروئے کار لاتے ہوئے منڈی کے ایک ایسے شخص سے رابطہ کیا جو سستی شہرت اور پیسوں کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا۔ رحمت خان نے اس شخص کو ایک کونے میں لے جا کر کان میں کچھ سرگوشیاں کیں۔ "وہ عورت، صفیہ، اب اپنی ماں کے گھر میں چھپی بیٹھی ہے،" رحمت خان نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ اس کی آنکھوں میں وحشت تھی۔ "مجھے ہر روز کی خبر چاہیے۔ وہ کہاں جاتی ہے، کس سے ملتی ہے، اور اس منحوس بچے کی حالت کیا ہے۔" رحمت خان کا ماننا تھا کہ وہ منحوس بچہ ہی ان تمام پریشانیوں کی جڑ ہے جو اس کی زندگی میں آئی ہیں۔ اس کے ذہن میں ایک انتہائی شیطانی منصوبہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ سجیلا صفیہ کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اگر وہ صفیہ کی ساکھ پر حرف لائے یا اسے گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کرے، تو وہ صفیہ کو ذہنی طور پر توڑ سکتا ہے۔ اس نے منصوبہ بنایا کہ وہ سوشل میڈیا اور مقامی رابطوں کے ذریعے ایسی افواہیں پھیلائے گا کہ گاؤں کے لوگ صفیہ کی کردار کشی کرنے لگیں اور اسے گھر سے نکلنا محال ہو جائے۔ وہ چاہتا تھا کہ لوگ صفیہ کو دیکھ کر تھو تھو کریں اور اسے گاؤں بدر کرنے کا مطالبہ کریں۔
اگلے چند دن صفیہ کے لیے بہت بھاری گزرے۔ گاؤں میں اچانک کچھ لوگوں نے عجیب و غریب باتیں کرنا شروع کر دیں۔ صفیہ، جو اپنی آٹھ ماہ کی بیٹی کی پرورش اور صحت کے مسائل میں الجھی ہوئی تھی، اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ سب رحمت خان کی سازش ہے۔ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے فضا میں زہر گھول دیا گیا ہو۔ دکانوں پر لوگ اسے مشکوک نظروں سے دیکھتے، اور جب وہ بازار سے گزرتی تو عورتیں سرگوشیاں کر کے اس کا مذاق اڑاتیں۔ یہ سب دیکھ کر صفیہ کا دل خون کے آنسو روتا۔ وہ اکثر تنہائی میں بیٹھ کر اللہ کے حضور گڑگڑا کر روتی اور اپنے اور اپنی بیٹی کے لیے انصاف مانگتی۔ اس نے کئی بار سوچا کہ وہ گھر چھوڑ کر کہیں دور چلی جائے، لیکن پھر سجیلا کا معصوم چہرہ دیکھ کر اس کے ارادے بدل جاتے۔ وہ سجیلا کو ایک باوقار مستقبل دینا چاہتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر وہ آج ہمت ہار گئی تو رحمت خان کامیاب ہو جائے گا، اور وہ اسے کسی قیمت پر جیتتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی۔
پیر سائیں ذوالفقار کو جب اس بات کی خبر ہوئی، تو انہوں نے وکیل شاہد الٰہی کو دوبارہ طلب کیا۔ آستانے کی پرسکون فضا میں پیر سائیں نے وکیل کو اپنی جگہ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ "رحمت خان باز نہیں آئے گا،" پیر سائیں نے اپنی تسبیح کے دانوں کو روکتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔ "اب وقت آ گیا ہے کہ اسے قانونی طور پر ایسا سبق سکھایا جائے کہ وہ دوبارہ صفیہ کا نام بھی اپنی زبان پر نہ لائے۔" وکیل شاہد الٰہی نے پیر سائیں کو یقین دلایا کہ وہ عدالت میں مزید شواہد پیش کریں گے اور رحمت خان کے خلاف سخت کارروائی کروانے کی کوشش کریں گے۔ پیر سائیں کے الفاظ نے صفیہ کو ایک نیا حوصلہ دیا۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ اکیلی نہیں ہے، بلکہ سچائی کی طاقت اس کے ساتھ ہے۔
رحمت خان کو ایک نامعلوم خط ملا۔ اس پر لکھا تھا: "تمہاری ہر حرکت پر ہماری نظر ہے۔ منڈی کا سچ حاجی سلیمان کے سامنے آنے والا ہے۔ تمہارا کھیل ختم ہونے والا ہے۔" رحمت خان کا رنگ فق ہو گیا۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اسے لگا جیسے کوئی اس کے ارد گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا، جہاں اسے اپنی بربادی کے سائے نظر آ رہے تھے۔ منڈی کے اس تاریک ماحول میں وہ تنہا رہ گیا تھا، اپنی ہی بونے ہوئے سازشوں کے جال میں پھنس کر۔ وہ شدت سے محسوس کرنے لگا تھا کہ اب اس کی یہ مکاری مزید دن نہیں چل پائے گی۔ لیکن اس کے دل میں انتقام کی آگ اب بھی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی، بلکہ وہ کچھ نیا اور خطرناک سوچنے لگا تھا۔
(جاری ہے)
کاپی رائٹ اور ڈسکلیمر
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 ناول:
سجیلا (قسط نمبر 11)
تحریر: ذوقِ عشاء (عشرت خانم)
پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز
https://www.ishratdigitalcreation2026.com/
https://ishratdigitalcreation.com/#novels
Comments
Post a Comment