ناول: سجیلا (قسط نمبر 5)

 

                                    

ناول: سجیلا (قسط نمبر 5)

(عشرت خانم) | تحریر: ذوقِ عشاء

پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز

شک کا دائرہ، مامتا کی نئی جنگ"


زینب مائی کے چبتے ہوئے سوال نے صحن کی فضا کو یکسر منجمد کر دیا تھا۔ صفیہ کا کانپتا ہوا ہاتھ سجیلا کے ماتھے پر رک گیا، اور اس کا زرد پڑتا چہرہ دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ہو۔ مائی بختو کے وہ زہریلے الفاظ، رحمت خان کا وہ نوزائیدہ بچے کو پھینکنے کا ارادہ، اور شہر کی اس کالی عمارت کا خوفناک ماحول ایک بار پھر اس کے سامنے مجسم ہو کر کھڑا ہو گیا تھا۔ وہ جس سچ کو ان اونچے پہاڑوں اور کچے مٹی کے مکانوں کے پیچھے چھپانے آئی تھی، وہ سچ اب ایک سوالیہ نشان بن کر اس کے سامنے کھڑا تھا۔

دالان میں کھڑی خالہ کوثر نے جب صفیہ کی خاموشی اور اس کے چہرے پر پھیلتی ہوائیاں دیکھیں، تو وہ صورتحال کی نزاکت کو فوراً بھانپ گئیں۔ انہوں نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا چائے کا برتن ایک طرف رکھا اور تیز قدموں سے صحن میں آئیں۔ ان کے چہرے پر ایک جاندار اور تسلی بخش مسکراہٹ تھی، جس نے صفیہ کے ڈوبتے ہوئے دل کو ایک سہارا دیا۔

"ارے زینب! تم بھی ناں، بس ہر بات میں کیڑے نکالنے بیٹھ جاتی ہو۔" خالہ کوثر نے بڑے دھیمے اور پراعتماد لہجے میں بات سنبھالتے ہوئے کہا۔ "شہر کی تپش اور بسوں کے اس لمبے سفر نے بچی کو تھوڑا نڈھال کر دیا ہے، اسی لیے بیچاری کی آواز اور رنگت میں تھوڑا فرق لگتا ہے۔ اور رہی بات بناوٹ کی، تو بچے اپنے خاندان پر جاتے ہیں۔ صفیہ کے نانا کے ہاتھ پاؤں بھی ایسے ہی لمبے اور چوڑے ہوا کرتے تھے۔ تم ان باتوں کو چھوڑو، یہ لو اپنی بیٹی کی پڑھائی کا قاعدہ اور چائے پی کر جاؤ۔"

زینب مائی نے شک بھری نظروں سے ایک بار پھر سجیلا کو دیکھا، جو صفیہ کی گود میں کسمسا رہی تھی۔ اگرچہ خالہ کوثر کی بات نے اس کے سوال کا فوری رخ موڑ دیا تھا، لیکن اس کے متجسس اور شکی مزاج دل کو پوری طرح اطمینان نہیں ہوا تھا۔ اس نے پیسے اپنے دوپٹے کے پلو میں باندھے، قاعدہ ہاتھ میں لیا اور بڑبڑاتی ہوئی صحن سے باہر نکل گئی، "چلو، اب تم کہتی ہو تو مان لیتی ہوں کوثر۔۔۔ پر بچہ کچھ الگ ضرور ہے!"

زینب کے جاتے ہی صفیہ کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ اس کی آنکھوں سے انسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا اور وہ سجیلا کو اپنے سینے سے بھیچ کر رونے لگی۔ "خالہ! یہ سچ کب تک چھپے گا؟" اس نے سسکیوں کے درمیان کہا۔ "آج تو آپ نے بات سنبھال لی، لیکن جب سجیلا بڑی ہوگی، جب یہ بولے گی، جب اس کی چال ڈھال سب کے سامنے آئے گی، تو میں اس زمانے کو کیا جواب دوں گی؟ یہ گاؤں معصوم ضرور ہے خالہ، لیکن یہاں کے لوگوں کی زبانیں شہر کے لوگوں سے کم دھار دار نہیں ہیں۔"

خالہ کوثر نے صفیہ کو اپنے گلے سے لگایا اور اس کے آنسو پونچھتے ہوئے بڑی مضبوطی سے بولیں، "صفیہ بیٹی! ڈرنا چھوڑ دو۔ تم ایک گناہ گار ماں نہیں ہو، بلکہ ایک محافظ ہو۔ اگر تم ہی اس طرح ہمت ہار جاؤ گی، تو سجیلا کو زمانے کی ٹھوکروں سے کون بچائے گا؟ خدا نے تمہیں علم کی طاقت دی ہے، اسے اپنی ڈھال بناؤ۔ جب تک سجیلا بڑی ہوگی، تب تک تم اس گاؤں کے دلوں میں اپنے اخلاق سے وہ جگہ بنا چکی ہوگی کہ کوئی اس پر انگلی اٹھانے سے پہلے سو بار سوچے گا۔"

دوسری طرف، شہر کی اناج منڈی میں رات کا اندھیرا گہرا ہو چکا تھا۔ منڈی کی چہل پہل اب تھم چکی تھی اور ہر طرف ایک گہرا سکوت طاری تھا۔ منشی خانے کے پیچھے بنے چھوٹے سے پکے کوارٹر میں، رحمت خان لالٹین کی مدہم روشنی میں حساب کتاب کا رجسٹر کھولے بیٹھا تھا، لیکن اس کی نظریں لکیروں پر جمنے کے بجائے ماضی کے جھروکوں میں بھٹک رہی تھیں۔

حاجی سلیمان نے اس کی محنت اور ایمانداری دیکھ کر گودام کی چابیاں اس کے حوالے کر دی تھیں، اور منڈی کے دوسرے مزدور بھی اب رحمت خان کو عزت کی نظر سے دیکھنے لگے تھے۔ لیکن اس سب کے باوجود، رحمت خان کا اندرونی وجود ایک عجیب سی خالی جگہ کا سامنا کر رہا تھا۔ وہ جتنا اپنی مردانہ انا کو تسکین دینے کی کوشش کرتا، صفیہ کی یاد کا خنجر اتنی ہی گہرائی سے اس کے دل میں اتر جاتا۔

"آخر وہ کہاں جا سکتی ہے؟" رحمت خان نے قلم ایک طرف رکھتے ہوئے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ پچھلے چند ہفتوں میں اس نے اپنے طور پر ہر اس جگہ کا پتا لگوا لیا تھا جہاں صفیہ کے جانے کا کوئی امکان ہو سکتا تھا، لیکن ہر طرف سے ناکامی ہی اس کا مقدر بنی تھی۔ "نہ وہ اپنے میکے گئی، نہ کسی رشتے دار کے ہاں۔ کیا وہ اس ادھورے بچے کو لے کر سڑکوں پر رل رہی ہوگی؟ کیا اسے کھانے کو کچھ مل رہا ہوگا؟"

پچھتاوے کی ایک تیز لہر نے اس کے سینے کو جلا کر رکھ دیا۔ اسے صفیہ کا وہ آخری چہرہ یاد آیا، جب اس کی آنکھوں میں التجا اور مامتا کا درد ایک ساتھ جھلک رہا تھا۔ "میں نے بہت بڑی غلطی کر دی،" اس نے بڑبڑاتے ہوئے دیوار کی طرف دیکھا۔ "اگر میں غصہ نہ کرتا، اگر میں صفیہ کو محبت سے سمجھاتا، تو شاید وہ سجیلا کو کسی ڈیرے یا یتیم خانے چھوڑنے پر راضی ہو جاتی۔ کم از کم صفیہ تو میرے گھر کی رونق بنی رہتی۔ باہر کا یہ ہوٹلوں کا گندا کھانا اور یہ تنہائی۔۔۔ یہ میری سزا بن چکی ہے۔"

اس کی روایتی اور خود غرض سوچ نے ایک بار پھر سر اٹھایا۔ وہ اب بھی سجیلا کو ایک "منحوس وجود" اور اپنی غیرت پر ایک داغ ہی سمجھتا تھا، لیکن صفیہ کے بغیر اس کی زندگی ادھوری ہو چکی تھی۔ اس نے دل میں پکا ارادہ کر لیا تھا کہ جیسے ہی حاجی سلیمان سے اسے پہلی تنخواہ اور کچھ بونس ملے گا، وہ ایک بار پھر شہر جائے گا اور اس بار وہ پولیس یا کسی نجی مخبر کی مدد سے صفیہ کا سراغ لگا کر ہی دم لے گا۔ "میں تمہیں ڈھونڈ نکالوں گا صفیہ۔۔۔ تمہیں واپس آنا ہوگا، صرف میرے لیے!" اس نے دانت بھیچتے ہوئے سوچا۔

اگلی صبح، پہاڑی گاؤں میں دھوپ کی سنہری لکیریں مٹی کے کچے صحن کو منور کر رہی تھیں۔ صفیہ نے رات کا خوف اپنے اندر دفن کر کے ایک نیا عزم اوڑھ لیا تھا رنگ برنگے دوپٹوں میں ملبوس چھوٹی بچیاں اپنے قاعدے اور تختیاں سنبھالے صحن میں آ چکی تھیں۔ صفیہ اب انہیں نہ صرف قرآن پاک کی تعلیم دے رہی تھی، بلکہ بنیادی ریاضی اور اردو کی لکھائی بھی سکھا رہی تھی۔ خدیجہ بھی کڑھائی کے فریم سنبھالے لڑکیوں کو ہنر سکھانے میں مصروف تھی۔

صفیہ نے محسوس کیا کہ تعلیم ایک ایسا نور ہے جو انسانوں کے ذہنوں کے اندھیرے دور کر سکتا ہے۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ اس گاؤں کی نئی نسل کے ذہنوں کو بدلنے میں کامیاب ہو گئی، تو کل کو یہی بچے سجیلا کے لیے ایک ڈھال بنیں گے۔ وہ ہر بچے پر خصوصی توجہ دیتی، ان کی تربیت کرتی، اور انہیں انسانوں کے احترام کا درس دیتی۔

دوپہر کے وقت، جب بچے جا چکے تھے، صفیہ نے سجیلا کو چٹائی پر لیٹایا۔ سجیلا اب اپنے اردگرد کی آوازوں پر ردعمل دینے لگی تھی۔ جب صفیہ اس کے سامنے تالی بجاتی، تو سجیلا کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں چمک اٹھتیں اور وہ اپنی مخصوص باریک آواز میں ہنستی۔ صفیہ نے اس کے چھوٹے اور مختلف ساخت کے ہاتھوں کو چوما۔ "لوگ تمہیں جو بھی کہیں میری جان، لیکن تم میری دنیا ہو۔ میں تمہیں اس معاشرے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑوں گی۔ میں تمہیں پڑھاؤں گی، تمہیں ایک ایسا انسان بناؤں گی کہ یہ دنیا تمہارے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہو جائے۔"

ابھی صفیہ انھی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک صحن کا لکڑی کا دروازہ زور سے کھلا۔ خدیجہ ہانپتی کانپتی اندر داخل ہوئی، اس کے چہرے پر خوف اور گھبراہٹ کے گہرے آثار تھے۔

"صفیہ! خالہ کوثر!" خدیجہ نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔ "جلدی باہر آؤ۔۔۔ منڈی والے چوک پر شہر سے کچھ اجنبی لوگ آئے ہیں۔ وہ کسی مفرور عورت اور اس کے بچے کا پتا پوچھ رہے ہیں، اور ان کے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے جس پر کچھ لکھا ہوا ہے۔ زینب مائی انہیں ہمارے گھر کا راستہ بتا رہی ہے!"

یہ سننا تھا کہ صفیہ کے ہاتھ سے سجیلا کا جھنجھنا زمین پر گر گیا اور اس کا دل حلق میں آ گیا۔ کیا رحمت خان نے اس کا پتا لگا لیا تھا؟ کیا اس کا ماضی ان اونچے پہاڑوں کو پار کر کے یہاں بھی پہنچ چکا تھا؟ آزمائش کا نیا افق اب ایک ہولناک طوفان کی شکل اختیار کر رہا تھا۔

(جاری ہے)

📝 کاپی رائٹ اور ڈسکلیمر

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026

ناول: سجیلا (قسط نمبر 5)
تحریر: ذوقِ عشاء (عشرت خانم)
پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز
آفیشل ویب ناول لنک: https://ishratdigitalcreation.com/

قانونی تنبیہ: اس ناول کے تمام کردار، پلاٹ، مکالمے اور تحریر مکمل طور پر مصنفہ کی تخلیق ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی اجازت کے بغیر اس کہانی، اس کے کسی حصے یا اقتباس کو کسی دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم، یوٹیوب، بلاگ، یا ویب سائٹ پر کاپی کرنا، آڈیو/ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کرنا یا کسی بھی شکل میں چوری کر کے اپنے نام سے شیئر کرنا سخت قانونی جرم ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23