ناول: سجیلا (قسط نمبر 6)

 



ناول: سجیلا (قسط نمبر 6)

(عشرت خانم) | تحریر: ذوقِ عشاء

پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز

"امتحان کی گھڑی، محافظوں کا حصار"

خدیجہ کے الفاظ صفیہ کے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اترے تھے۔ صحن میں جیسے وقت کی رفتار یکسر تھم گئی تھی۔ ہوا کا جھونکا جو ابھی چند لمحے پہلے رنگ برنگے دوپٹے اوڑھے بچیوں کی ہنسی اور تختیوں کی

 آوازوں کو اپنے ساتھ اڑا کر لے جا رہا تھا، اب جیسے ساکت ہو چکا تھا۔ سجیلا کا گرا ہوا جھنجھنا مٹی کے کچے فرش پر اب بھی ہلکا سا لرز رہا تھا، بالکل اسی طرح جیسے صفیہ کا اندرون خوف کی نامعلوم لہروں سے کانپ رہا تھا۔ اس کا سانس سینے میں اڑ کر رہ گیا تھا، آنکھیں پتھرا سی گئی تھیں اور نظریں صحن کے اس پرانے لکڑی کے دروازے پر جم گئی تھیں، جہاں سے اب کسی بھی وقت اس کا ماضی ایک خوفناک عفریت بن کر داخل ہو سکتا تھا اور اس کے سکون کے اس چھوٹے سے جزیرے کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر سکتا تھا۔

خالہ کوثر نے صورتحال کی سنگینی کو سیکنڈوں میں بھانپ لیا۔ ان کے چہرے پر خوف اور حیرت کی ایک ہلکی سی لہر ضرور ابھری، لیکن اگلے ہی لمحے ان کی عمر بھر کی سمجھداری، پختگی اور حالات سے لڑنے کی مضبوطی ان کی بوجھل آنکھوں میں لوٹ آئی۔ وہ جانتی تھیں کہ اگر اس وقت وہ بھی کمزور پڑ گئیں تو صفیہ کا بچنا نامکن ہو جائے گا۔ انہوں نے تیز قدموں سے آگے بڑھ کر صفیہ کے منجمد اور کپکپاتے ہوئے کندھوں کو جھنجھوڑا، جیسے اسے کسی بھیانک خواب سے بیدار کر رہی ہوں۔

"صفیہ! ہوش میں آؤ بیٹی! یہ رونے، گھبرانے یا اپنے حواس کھونے کا وقت نہیں ہے۔ اگر تم ہمت ہار گئی تو سجیلا کا کیا ہوگا؟" خالہ کوثر نے دھیمی مگر انتہائی کاٹ دار اور پرعزم آواز میں کہا، جس نے صفیہ کے اندر جیسے ایک نئی روح پھونک دی۔ پھر وہ فوراً خدیجہ کی طرف مڑیں جو خود دیوار سے لگی ہانپ رہی تھی، "خدیجہ! جلدی کرو، دوڑ کر جاؤ اور بیرونی دروازے کی لکڑی کی بھاری کنڈی لگا دو۔ اور تم صفیہ کو لے کر اندر والے تاریک کمرے میں چلی جاؤ۔ سجیلا کو کسی چادر میں لپیٹ کر چھپا لو۔ جب تک میں اس صحن میں زندہ کھڑی ہوں، کوئی مائی کا لال اس گھر کی دہلیز پار نہیں کر سکتا۔"

صفیہ نے جیسے نیند میں چلتے ہوئے لرزتے ہاتھوں سے سجیلا کو چٹائی سے اٹھایا اور اسے اپنے سینے سے ایسے بھینچ لیا جیسے کوئی کمزور پرندہ تیز طوفان اور گرج چمک کو دیکھ کر اپنے معصوم بچے کو اپنے پروں کے حفاظتی حصار میں چھپا لیتا ہے۔ سجیلا نے ماں کی گرفت کی سختی کو محسوس کر کے ایک ہلکی سی سسکی لی، لیکن صفیہ نے جلدی سے اپنے دوپٹے کا پلو اس کے منہ پر رکھ دیا۔ خدیجہ نے کمال ہوشیاری سے آگے بڑھ کر صحن کے بیرونی دروازے کی لکڑی کی بھاری کنڈی گرا دی، جس کے گرنے کی بھاری آواز صحن میں گونج اٹھی، اور پھر وہ صفیہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندرونی کمرے کی طرف لے بھاگی۔

ابھی وہ کمرے کے اندھیرے میں پہنچ کر دیوار کے پیچھے چٹائی پر بیٹھی ہی تھیں کہ باہر گلی میں کئی بھاری قدموں کی آہٹ اور زینب مائی کی تیز، اونچی اور زہریلی آواز سنائی دینے لگی، "ارے بھائی! آ جاؤ آ جاؤ، بس یہی گھر ہے کوثر کا! شہر سے آئی وہ لڑکی صفیہ اور اس کا وہ عجیب الخلقت، جادو ٹونے جیسا بچہ یہیں رہتے ہیں۔ میں نے خود اپنی ان آنکھوں سے دیکھا ہے۔"

اگلے ہی سینڈ دروازے پر ایک زور دار اور بے رحم دستک ہوئی۔ لکڑی کا پرانا اور بوسیدہ کواڑ اس شدید ضرب سے چرمرا اٹھا، جیسے وہ ان اجنبیوں کے ارادوں کی سختی کو برداشت نہ کر پا رہا ہو۔

خالہ کوثر نے اپنے سر پر موجود بڑے سوتی دوپٹے کو اچھی طرح درست کیا، اپنے بوڑھے چہرے پر ایک مصنوعی، سرد اور پراعتماد مسکراہٹ سجائی اور دھیمے مگر مضبوط قدموں سے چلتی ہوئی دروازے کے قریب پہنچیں۔ انہوں نے کنڈی کھولی اور کواڑ کو پورا کھولنے کے بجائے آدھا کھول کر اس میں خود کھڑی ہو گئیں، تاکہ اندر کا کوئی منظر باہر سے دکھائی نہ دے۔ سامنے دو تندرست اور اجنبی مرد کھڑے تھے، جن کے چہروں پر شہر کی بے حسی، روکھا پن اور آنکھوں میں ایک شکاری جیسی تفتیشی چمک تھی۔ ان کے بالکل پیچھے زینب مائی گردن اچکا اچکا کر اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اندر جھانکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔

"جی، کون ہیں آپ لوگ؟ اور دن دیہاڑے اس طرح ایک شریف اور بیوہ عورت کے گھر کا دروازہ پیٹنے کی جرات کیسے ہوئی آپ کی؟" خالہ کوثر نے اپنے لہجے کو اتنا رعب دار اور بھاری بنایا کہ سامنے کھڑے مرد ایک لمحے کے لیے چونک گئے۔ ان کے لہجے میں کسی چور کا خوف نہیں تھا، بلکہ ایک معزز اور غیور دیہاتی خاندان کی غیرت اور جلال جھلک رہا تھا۔

ان میں سے ایک اجنبی نے، جس کے میلے ہاتھ میں ایک مڑا تڑا کاغذ تھا، آگے بڑھ کر روکھے لہجے میں کہا، "مائی جی! غصہ کرنے کی ضرورت نہیں، ہم شہر سے آئے ہیں اور اپنا فرض پورا کر رہے ہیں۔ ہمیں رحمت خان نامی بندے نے بھیجا ہے اور یہ اس کی بھاگی ہوئی بیوی صفیہ اور اس کی بیٹی کا پورا حلیہ اس کاغذ پر لکھا ہوا ہے۔ ہمیں پکا معلوم ہوا ہے کہ وہ اسی گاؤں میں اور اسی گھر میں چھپی ہوئی ہے۔ آپ شرافت سے اسے ہمارے حوالے کر دیں، اسی میں آپ کی بھلائی ہے، ورنہ ہمیں پولیس کو بلانا پڑے گا اور پھر بات پورے گاؤں میں تماشا بن جائے گی۔"

کمرے کے اندر کے گھپ اندھیرے میں، صفیہ نے جیسے ہی اپنے کانوں میں رحمت خان کا نام سنا، اس کی آنکھیں خوف سے مچھلی کی طرح پھیل گئیں۔ اس کا دل اتنی زور سے دھڑکا کہ اسے لگا اس کی پسلیاں ٹوٹ جائیں گی۔ پچھتاوے کی آڑ میں رحمت خان کی انا نے آخر کار اسے ڈھونڈنے کے لیے شہر کے پیشہ ور مخبروں کو اس کے پیچھے لگا ہی دیا تھا۔ وہ سجیلا کے ننھے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اپنے رونے اور سسکیوں کی آواز کو دبا رہی تھی، جبکہ خدیجہ کھڑکی کی ایک چھوٹی سی درز سے باہر کا منظر دیکھ رہی تھی، اس کا اپنا پورا جسم پسینے سے تر ہو چکا تھا۔

باہر، خالہ کوثر کے چہرے پر ایک پل کے لیے بھی لغزش یا پریشانی کا کوئی تاثر ابھر کر غائب نہ ہو سکا۔ انہوں نے ایک انتہائی طنزیہ اور گہری مسکراہٹ کے ساتھ پہلے زینب مائی کو دیکھا، جس کے چہرے پر ذلت کا رنگ ابھرنے لگا تھا، اور پھر وہ ان مردوں سے مخاطب ہوئیں، "رحمت خان؟ صفیہ؟ اور بھاگی ہوئی لڑکی؟ بھائی! لگتا ہے اس دوپہر کی تیز گرمی نے اس زینب مائی کے دماغ پر اثر کر دیا ہے یا پھر آپ لوگ شہر کا راستہ بھول کر کسی غلط ڈیرے پر آ گئے ہیں۔ اس پورے گھر میں، بلکہ اس پورے محلے میں صفیہ نام کی کوئی عورت نہیں ریتی اور نہ ہی یہاں کوئی ایسا بچہ ہے۔"

"جھوٹ مت بولو کوثر! خدا سے ڈرو!" زینب مائی نے فوراً بیچ میں اپنی زبان چلائی اور مخبروں کو اکساتے ہوئے بولی، "میں نے خود اسی صحن میں اس لڑکی کی گود میں اس منحوس بچے کو دیکھا ہے جس کے ہاتھ پاؤں عجیب سے ہیں۔ پورا گاؤں گواہ ہے کہ تمہارے ہاں پچھلے چند ہفتوں سے شہر سے مہمان آئے ہوئے ہیں۔ اب سچ چھپانے سے نہیں چھپے گا!"

خالہ کوثر نے اپنی بوجھل مگر غضب ناک آنکھوں سے زینب مائی کو ایسے گھورا کہ وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ انہوں نے انتہائی سرد لہجے میں کہا، "مہمان آئے تھے زینب، رہے اور اپنی مرضی سے چلے بھی گئے۔ وہ میری دور کی بھانجی تھی جو اپنے شوہر کے ساتھ یہاں پہاڑوں کی ٹھنڈی ہوا بدلنے اور چند دن آرام کرنے آئی تھی۔ اس کا شوہر دو دن پہلے ہی اسے اپنے ساتھ واپس شہر لے جا چکا ہے۔ اگر تم شہر کے بابوؤں کو مجھ پر یقین نہیں آتا، تو جا کر منڈی کے اڈے والے خان سے پوچھ لو، اسی کی بڑی گاڑی میں وہ لوگ سامان لوڈ کر کے گئے ہیں۔"

خالہ کوثر کا لہجہ اتنا سچا، پراعتماد اور مضبوط تھا کہ دونوں مخبر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ ان کا شک اب کمزور پڑنے لگا تھا۔ خالہ کوثر نے اپنی بات کو مزید وزن دینے اور انہیں خوفزدہ کرنے کے لیے اپنے لہجے کو مزید سخت کیا، "اور رہی بات تمہاری پولیس کی، تو جاؤ، شوق سے بلاؤ۔ اس گاؤں کے نمبردار اور پیر سائیں ہمارے بزرگ اور سرپرست ہیں۔ جب وہ یہاں آئیں گے تو تم شہر کے تماشائیوں کو بغیر اجازت ایک معزز اور تنہا بیوہ کے گھر میں گھسنے، دنگا فساد کرنے اور جھوٹے الزام لگانے کی وہ عبرت ناک سزا دیں گے کہ تم لوگ زندگی بھر اس پہاڑی گاؤں کا راستہ بھول جاؤ گے۔ بولو، بلاؤں نمبردار کو؟"

نمبردار اور پیر سائیں کا نام سن کر مخبروں کے چہرے کے تاثرات یکسر بدل گئے۔ دیہاتوں میں مقامی اثر و رسوخ، برادری اور پیروں کے سامنے شہر کے نجی کارندے اور مخبر اکثر بے بس ہو جاتے تھے اور انہیں اپنی جان بچانا مشکل ہو جاتی تھی۔ انہوں نے جلدی سے اس کاغذ کو فولڈ کر کے جیب میں ڈالا اور غصے سے زینب مائی کو دیکھا جو اب خود گھبرا رہی تھی، "مائی! تم نے انعام کے لالچ میں ہمارا وقت اور پیسہ برباد کیا۔ یہاں کوئی نہیں ہے، چلو یہاں سے۔"

"مگر۔۔۔ مگر میں نے خود دیکھا تھا۔۔۔ وہ لڑکی یہیں تھی۔۔۔" زینب مائی ہکلا کر رہ گئی، لیکن خالہ کوثر کی جلال بھری اور کاٹ دار نظروں نے اسے مزید بولنے کی ہمت نہ دی۔ دونوں مخبر بڑبڑاتے اور غصے میں پیر پٹختے ہوئے واپس منڈی کی طرف مڑ گئے اور ان کے پیچھے زینب مائی بھی کھسیانی اور ذلیل ہو کر بھاگ کھڑی ہوئی۔

جب گلی میں مکمل طور پر سناٹا چھا گیا اور ان کے قدموں کی آوازیں دور ہو گئیں، تو خالہ کوثر نے ایک لمبا اور گہرا سانس لیا، دروازہ بند کیا اور لکڑی کی بھاری کنڈی دوبارہ گرا دی۔ جیسے ہی وہ صحن کی طرف مڑیں، ان کے اپنے بوڑھے پیروں سے جیسے جان ہی نکل گئی۔ ان کا پورا جسم کانپنے لگا اور وہ نڈھال ہو کر وہیں مٹی کے فرش پر بچھی چٹائی پر بیٹھ گئیں اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ لیا جو تیزی سے دھڑک رہا تھا۔

صفیہ اور خدیجہ اندرونی کمرے سے باہر کی طرف دوڑیں۔ صفیہ نے سجیلا کو خدیجہ کی گود میں دیا اور خود خالہ کوثر کے قدموں میں بیٹھ گئی، اس کا زرد چہرہ آنسوؤں کے سیلاب سے تر تھا۔ "خالہ! میری محسن خالہ! آج تو آپ نے اپنی عقل اور جرات سے مجھے اور میری بچی کو اس جہنم میں جانے سے بچا لیا، لیکن رحمت خان اتنی آسانی سے باز نہیں آئے گا۔ وہ دوبارہ اپنے لوگ بھیجے گا، وہ خود آئے گا! میں اپنی سجیلا کو لے کر کہاں جاؤں؟ کس زمین میں چھپ جاؤں؟"

خالہ کوثر نے صفیہ کا روتا ہوا سر اپنے بوڑھے ہاتھوں سے اٹھایا، اس کے آنسو پونچھے اور اس کی خوفزدہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بڑی مضبوطی سے بولیں، "صفیہ بیٹی! میری بات کان کھول کر سن لو۔ وہ اب اتنی جلدی اس طرف رخ نہیں کرے گا، کیونکہ اسے اپنے آدمیوں سے یہی رپورٹ ملے گی کہ تم یہاں نہیں ہو اور کہیں اور جا چکی ہو، جس سے اس کا دھیان بٹ جائے گا۔ لیکن صفیہ، یہ واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ تمہیں اب اور زیادہ مضبوط ہونا ہوگا۔ علم اور اخلاق کو اپنی طاقت بناؤ تاکہ اگلی بار پورا گاؤں تمہارے آگے ایک لوہے کی دیوار بن کر کھڑا ہو جائے۔"

دوسری طرف، شہر کی اناج منڈی میں حالات اب یکسر بدل چکے تھے۔ رحمت خان کی محنت، غیر معمولی ایمانداری اور رات دن کا حساب کتاب صاف رکھنے کی عادت سے خوش ہو کر منڈی کے مالک حاجی سلیمان صاحب نے اس پر اپنے اعتماد کی مہر لگا دی تھی۔ حاجی صاحب نے رحمت خان کی کارکردگی سے متاثر ہو کر اسے منڈی کے تمام مزدوروں اور گوداموں کا "ہیڈ" (انچارج) بنا دیا تھا۔ اس نئی ترقّی نے رحمت خان کی زندگی میں آسائشوں کا ایک نیا دروازہ کھول دیا تھا۔

حاجی صاحب نے اسے منشی خانے کے پیچھے بنے اس چھوٹے، حبس زدہ اور تنگ ایک کمرے کے کوارٹر سے نکال دیا، اور منڈی کے قریب ہی ایک اچھے، وسیع اور پکے بنے ہوئے مکان میں شفٹ کر دیا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ہیڈ بننے کے بعد اس کے آرام کا خیال رکھتے ہوئے حاجی صاحب نے اسے ایک ذاتی ملازم بھی فراہم کر دیا تھا۔ یہ ملازم رحمت خان کے گھر کے تمام کام سنبھالتا تھا؛ اس کے لیے وقت پر گرم اور لذیذ کھانا بنانا، گھر کی مکمل صفائی ستھرائی کرنا اور اس کے کپڑے دھونے اور استری کرنے کے سارے کام وہ ملازم اکیلے ہی کر دیا کرتا تھا۔

اب رحمت خان کو گھر بیٹھے بٹھائے ہر چیز تیار ملنے لگی تھی۔ جو زندگی وہ پچھلے کئی ہفتوں سے ہوٹلوں کا گندا کھانا کھا کر اور تنہائی کے عذاب میں گزار رہا تھا، وہ اب مکمل طور پر بدل چکی تھی۔ لیکن جیسے ہی اس کے مادی حالات سدھرے اور اسے گھر میں ہر طرح کا آرام اور سکون ملنے لگا، تو اس کے ذہن میں وہ پرانی فکر دوبارہ بیدار ہو گئی جو پچھلے کچھ عرصے سے اسے اندر ہی اندر ستا رہی تھی۔ وہ صفیہ کی صفائی اور گھر کو سلیقے سے رکھنے کی عادت تھی، جس کی کمی اسے اب اس بڑے گھر میں اور زیادہ کھلنے لگی تھی۔ اب جبکہ اس کے پاس پیسہ بھی تھا اور وقت بھی، تو صفیہ کو ڈھونڈنے کا خیال اس کے دماغ پر دوبارہ حاوی ہو گیا۔ پچھتاوے اور اپنی مردانہ انا کے زیرِ اثر اس نے صفیہ اور اس ادھورے بچے کا سراغ لگانے کا پکا فیصلہ کر لیا۔

اس نے شہر میں ایک ایسی نجی ایجنسی (ادارے) سے رابطہ کیا جو گمشدہ لوگوں اور مفرور عورتوں کا سراغ لگانے کا کام خفیہ طور پر کرتی تھی۔ اس ادارے کے مینیجر نے جب رحمت خان کی منڈی کے ہیڈ کی حیثیت دیکھی، تو اسے اپنی خدمات کا یقین دلایا۔

"خان صاحب! آپ بالکل فکر نہ کریں۔ ہمارے پاس ایسے تربیت یافتہ اور پکے مخبر موجود ہیں جو زمین کے نیچے سے بھی انسان کو ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ آپ کی بیوی اور بچہ جہاں کہیں بھی چھپے ہوں، ہمارے آدمی انہیں ڈھونڈ لائیں گے۔ آپ بس اس کاغذ پر ان دونوں کا پورا حلیہ، عمر اور کوئی بھی نشانی لکھوا دیں، باقی کام ہم پر چھوڑ دیں۔" ادارے کے سربراہ نے اسے مکمل یقین دہانی کرائی۔

رحمت خان نے وہیں بیٹھ کر ایک کاغذ پر صفیہ کا حلیہ اور سجیلا کے جسمانی نقص اور مختلف ساخت کی پوری تفصیل لکھوا دی۔ یہی وہ کاغذ تھا جو اس کے مخبر لے کر اس پہاڑی گاؤں تک پہنچے تھے، جہاں خالہ کوثر نے کمال ہوشیاری سے ان کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔

شام کے سائے اب منڈی میں گہرے ہو رہے تھے جب رحمت خان اپنے نئے اور پرآسائش گھر کے دالان میں بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ فون کی دکان سے اس کے ملازم نے آ کر بتایا کہ شہر کی اس ایجنسی کے مخبر کی کال آئی ہے۔ رحمت خان نے جلدی سے جا کر ریسیور اٹھایا۔ جب مخبر نے ہچکچاتے ہوئے بتایا کہ صفیہ اس پہاڑی گاؤں میں آئی تو تھی مگر اب وہ اپنے شوہر (مخبر کی غلط فہمی پر مبنی الفاظ) کے ساتھ کسی نامعلوم شہر کی طرف جا چکی ہے، تو رحمت خان کے پاؤں تلے سے جیسے زمین نکل گئی۔ اس کے ہاتھ سے فون کا ریسیور چھوٹ کر نیچے گر گیا۔

"شوہر؟ کسی اور کے ساتھ؟" رحمت خان کے دماغ میں جیسے ایک ساتھ کئی دھماکے ہوئے ہوں۔ اس کی مردانہ انا، روایتی سوچ اور شک کی زہریلی لہروں نے پچھتاوے کی رہی سہی کسر کو بھی ختم کر دیا۔ اس کا چہرہ غصے اور حسد سے بدصورت اور سرخ ہو گیا۔ "نہیں! وہ ایسا نہیں کر سکتی۔ وہ صرف میری بیوی ہے اور وہ بچہ۔۔۔ وہ میری غیرت پر ایک مٹ نہنے والا داغ ہے۔ میں اس منحوس وجود، اس سجیلا کو کسی اور کے نام کے ساتھ جینے نہیں دوں گا اور نہ صفیہ کو کسی اور کے حصار میں دیکھ سکتا ہوں۔ اگر صفیہ اس گاؤں میں نہیں ہے، تو میں خود نکلوں گا۔ میں ہر اس شہر، ہر اس قصبے اور ہر اس کچے مکان کو چھان ماروں گا جہاں صفیہ کے ہونے کا ذرا سا بھی امکان ہے۔" پچھتاوا اب ایک ہولناک جنون، ضد اور اندھے غصے کی شکل اختیار کر چکا تھا۔

اگلے چند دن پہاڑی گاؤں میں ایک عجیب سی خاموشی کے ساتھ گزرے۔ صفیہ نے اس واقعے کے بعد اپنے خوف کو اپنے اندر گہرائی میں دفن کر دیا تھا اور اس کی جگہ ایک فولادی عزم نے لے لی تھی۔ اب وہ بچیوں کو اور زیادہ لگن اور محبت سے پڑھاتی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ معصوم ذہن ہی کل کو اس کا اور سجیلا کا مستقبل بدل سکتے ہیں۔

شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور پہاڑوں کے پیچھے چھپتا ہوا سورج افق پر گہری لال شفق چھوڑ رہا تھا، جو بالکل صفیہ کے اندر سلگتی ہوئی مامتا کی پاکیزہ آگ جیسی تھی۔ وہ سجیلا کو گود میں لیے کچی چھت پر کھڑی تھی۔ سجیلا اب اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے لگی تھی، وہ ماں کے چہرے کو دیکھ کر اپنی مخصوص باریک اور مدہم آواز میں کھلکھلا کر ہنسی، اس بات سے بالکل بے خبر کہ اس کا اپنا سگا باپ اس کے وجود کو مٹانے اور اس کی ماں کو قید کرنے کے لیے شہر کے اندھەروں سے نکلنے والا ہے۔

صفیہ نے سجیلا کے ماتھے کو چوما، آسمان کی طرف دیکھا اور اپنے دوپٹے کا پلو پھیلا دیا۔ "یا رب! تو نے مجھے علم کی ڈھال دی ہے، اب مجھے اس معاشرے سے لڑنے کے لیے حوصلے کی تلوار بھی دے۔ میں اس معصوم وجود کے لیے ہر طوفان سے لڑ جاؤں گی، چاہے وہ طوفان اس کا اپنا باپ ہی کیوں نہ ہو۔"

آزمائش کا پہلا دور گزر چکا تھا، لیکن صفیہ اور سجیلا کی زندگی میں آنے والا اگلا طوفان اس سے کہیں زیادہ بڑا، ہولناک اور فیصلہ کن ہونے والا تھا، جہاں اس کی مامتا کا آخری امتحان ہونا تھا۔

(جاری ہے)

📝 کاپی رائٹ اور ڈسکلیمر

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026

ناول: سجیلا (قسط نمبر 6)

تحریر: ذوقِ عشاء (عشرت خانم)

پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز

آفیشل ویب سائٹ لنک: https://ishratdigitalcreation.com/

قانونی تنبیہ: اس ناول کے تمام کردار، پلاٹ، مکالمے اور تحریر مکمل طور پر مصنفہ کی تخلیق ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی اجازت کے بغیر اس کہانی، اس کے کسی حصے یا اقتباس کو کسی دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم، یوٹیوب، بلاگ، یا ویب سائٹ پر کاپی کرنا، آڈیو/ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کرنا یا کسی بھی شکل میں چوری کر کے اپنے نام سے شیئر کرنا سخت قانونی جرم ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23