ناول: سجیلا (قسط نمبر 7)



 ناول: سجیلا (قسط نمبر 7)


تحریر: (عشرت خانم) | ذوقِ عشاء

"عزم کی فصیل، جنون کا سفر"

پہاڑی گاؤں کی صبح ہمیشہ کی طرح اونی دھند کی چادر اوڑھے نمودار ہوئی تھی، لیکن صفیہ کے لیے اب ہر صبح ایک نئی جنگ کا پیش خیمہ بن چکی تھی۔ صحن میں بچیوں کی الٹ پلٹ ہوتی تختیاں اور قائدے اب صرف ایک مدرسہ نہیں، بلکہ صفیہ کی روح کا حفاظتی قلعہ بن چکے تھے۔ وہ جانتی تھی کہ مخبروں کے جانے کے بعد عارضی سکون تو مل گیا ہے، لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں تھا۔

خالہ کوثر صحن کے ایک کونے میں بیٹھی مٹی کے چولہے پر چائے کی کیتلی چڑھائے دھیمی آنچ کو گھور رہی تھیں۔ ان کے چہرے کی جھریاں پچھلی رات کی بے خوابی کی گواہی دے رہی تھیں۔ انہوں نے صفیہ کو دیکھا، جو سجیلا کو گود میں لیے بچیوں کو الف، ب پڑھا رہی تھی، مگر اس کی نظریں بار بار صحن کے اسی پرانے لکڑی کے دروازے کی طرف اٹھ جاتی تھیں جہاں دو دن پہلے موت دستک دے کر گئی تھی۔

"صفیہ بیٹی، ذرا ادھر آنا،" خالہ کوثر نے بچیوں کے جانے کے بعد صفیہ کو پکارا۔

صفیہ سجیلا کو چٹائی پر خدیجہ کے پاس چھوڑ کر خالہ کے پاس آ بیٹھی۔ خالہ کوثر نے اس کے ٹھنڈے ہاتھوں کو اپنے بوڑھے گرم ہاتھوں میں لیا اور بولیں، "مخبر واپس تو چلے گئے ہیں، لیکن زینب مائی کی زہریلی زبان کو تالا لگانا مشکل ہے۔ وہ پورے گاؤں میں یہ اڑاتی پھر رہی ہے کہ میں نے جھوٹ بولا ہے۔ ہمیں اب پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔"

صفیہ نے گہرا سانس لیا، اس کی آنکھوں میں اب خوف کی جگہ ایک عجیب سی چمک تھی، "خالہ! میں اب نہیں ڈروں گی۔ رحمت خان نے میری ممتا کو للکارا ہے۔ وہ سجیلا کو منحوس کہتا ہے نا؟ میں اسی بچی کو علم کی طاقت سے اس قابل بناؤں گی کہ یہ پورا معاشرہ اس کے سامنے سر جھکائے گا۔"

اسی وقت خدیجہ بھی وہاں آ گئی، اس کے چہرے پر تشویش تھی، "صفیہ آپ کی ہمت اپنی جگہ، لیکن شہر کی ایجنسیاں اور مخبر اتنی جلدی پیچھا نہیں چھوڑتے۔ ہمیں کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ اگر وہ دوبارہ آئیں تو پورے گاؤں کا رخ ہی بدل جائے۔"

خالہ کوثر نے اثبات میں سر ہلایا، "خدیجہ سچ کہہ رہی ہے۔ کل میں خود پیر سائیں کے آستانے پر جاؤں گی۔ ان کی حویلی کا نام ہی اس گاؤں میں سب سے بڑا حصار ہے۔ اگر ان کا سایہ ہمارے سر پر رہا، تو رحمت خان تو کیا، شہر کا کوئی بڑا افسر بھی اس دہلیز پر پاؤں نہیں رکھ سکے گا۔"

دوسری طرف، شہر کی اناج منڈی کا ماحول رحمت خان کے لیے جتنا پرآسائش تھا، اس کا اندرون اتنا ہی پگھلتے ہوئے جوالا مکھی کی طرح سلگ رہا تھا۔ حاجی سلیمان صاحب کا دیا ہوا نیا پکا مکان، نوکر چاکر اور گرم کھانا بھی اس کے دماغ کے کتے کو شانت نہیں کر پا رہے تھے۔ مخبر کی اس بات نے کہ "صفیہ کسی دوسرے شوہر کے ساتھ جا چکی ہے" اس کی مردانہ غیرت اور روایتی انا پر وہ کاری ضرب لگائی تھی جس نے اسے پاگل کر دیا تھا۔

رات کے اندھیرے میں وہ اپنے وسیع کمرے میں چکر کاٹ رہا تھا۔ ملازم نے دودھ کا گلاس میز پر رکھا تو رحمت خان نے غصے سے اسے جھڑک دیا، "جاؤ یہاں سے! مجھے اکیلا چھوڑ دو۔"

جب ملازم کمرے سے باہر نکل گیا، تو رحمت خان نے آئینے کے سامنے جا کر اپنے آپ کو دیکھا۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور چہرے پر شک کی بھیانک لکیریں واضع تھیں۔ "کیسے؟ وہ کسی اور کی کیسے ہو سکتی ہے؟ وہ عورت صرف میری تھی، اور وہ ادھورا بچہ۔۔۔ وہ جادو ٹونا۔۔۔ وہ میری نسل کا داغ کسی اور کی حویلی کی زینت بنے، یہ میں جیتے جی نہیں ہونے دوں گا۔ صفیہ نے میری انا کو مٹی میں ملایا ہے، اب میں اسے اس مٹی کی دھول چاٹنے پر مجبور کروں گا۔"

اس کا پچھتاوا اب پوری طرح ایک خونی جنون میں بدل چکا تھا۔ اس نے الماری سے اپنے کپڑے نکالے اور ایک چھوٹے بیگ میں ڈالے۔ اس نے منڈی کے مالک حاجی سلیمان سے کچھ دنوں کی رخصت لینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ اب نجی ایجنسی کے مخبروں کے بھروسے پر نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ اس کی انا کا تقاضا تھا کہ وہ خود اس پہاڑی گاؤں جائے، زینب مائی سے ملے اور اس سچائی کا سراغ لگائے کہ صفیہ آخر کس کے ساتھ اور کہاں بھاگی ہے۔

شام ڈھلے جب وہ بس کے اڈے کی طرف نکل رہا تھا، تو شہر کی کالی سڑکیں اس کے اندھے ارادوں کی طرح تاریک تھیں۔ اس کے دماغ میں صرف ایک ہی لہر تھی: صفیہ کو ڈھونڈنا اور سجیلا کے وجود کو ہمیشہ کے لیے مٹا دینا۔

اگلے دو دن گاؤں میں بظاہر پرسکون گزرے، لیکن یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔ صفیہ نے اب اپنی زندگی کا ایک نیا رخ متعین کر لیا تھا وہ نہ صرف بچیوں کو پڑھاتی بلکہ خود بھی رات کو لالٹین کی مدہم روشنی میں خالہ کوثر کی پرانی کتابوں کا مطالعہ کرتی۔ سجیلا اس کے پاس لیٹی اپنے ننھے، مڑے ہوئے ہاتھوں کو ہوا میں ہلاتی اور ماں کو دیکھ کر مسکراتی۔ صفیہ کا دل اس مسکراہٹ کو دیکھ کر موم ہو جاتا، مگر اگلی ہی سیکنڈ وہ ایک آہنی چٹان بن جاتی۔

تیسرے دن کی دوپہر کو، جب سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، گاؤں کے کچے راستے پر ایک اجنبی دھول اڑاتا ہوا داخل ہوا۔ یہ رحمت خان تھا چادر کو سر پر لپیٹے، آنکھوں میں شکاری کی چمک لیے وہ سیدھا منڈی کے اڈے پر اترا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر منڈی والے خان سے بات کرنے کے بجائے، گلیوں کا چکر کاٹنے لگا جہاں اسے زینب مائی کا گھر تلاش کرنا تھا۔

زینب مائی جو مخبروں کے جانے کے بعد سے کھسیانی ہو کر اپنے گھر بیٹھی تھی اور انعام کا لالچ نہ ملنے پر جل بھن رہی تھی، اپنے صحن میں برتن دھو رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔

اس نے کواڑ کھولا تو سامنے ایک رعب دار، پکے ہوئے چہرے اور غصیلی آنکھوں والا شہر کا بابو کھڑا تھا۔

"تم ہی زینب مائی ہو؟" رحمت خان نے بھاری اور کھرکھری آواز میں پوچھا۔

زینب مائی نے ڈرتے اور سنبھرتے ہوئے کہا، "جی۔۔۔ جی میں ہی ہوں، آپ کون؟"

"میں رحمت خان ہوں، صفیہ کا شوہر!" رحمت خان نے جب اپنا تعارف کروایا تو زینب مائی کے چہرے پر جیسے ہزاروں بلب روشن ہو گئے۔ اس کی مرجاتی ہوئی امیدیں دوبارہ زندہ ہو گئیں۔

"اوہ۔۔۔ تو آپ ہیں خان صاحب! ہائے میں صدقے جاؤں، ان مخبروں نے تو میری بات کا یقین ہی نہیں کیا اور وہ بوڑھی کوثر اتنی مکار نکلی کہ پیر سائیں اور نمبردار کا نام لے کر انہیں بھگا دیا،" زینب مائی نے فوراً زہر اگلنا شروع کیا، "وہ لڑکی صفیہ اور اس کا وہ جادو ٹونے جیسا بچہ اسی کوثر کے گھر میں چھپے بیٹھے ہیں۔ کہیں نہیں گئے وہ! وہ بوڑھی کوثر جھوٹ بول رہی تھی کہ وہ کسی اور کے ساتھ چلے گئے ہیں۔"

یہ سننا تھا کہ رحمت خان کے کانوں میں جیسے سائیں سائیں ہونے لگی۔ "کیا؟ وہ وہیں ہے؟ وہ کسی اور کے ساتھ نہیں گئی؟" اس کی مردانہ انا کو جیسے ایک عجیب سا سکون ملا، لیکن ساتھ ہی صفیہ کے جھوٹ اور خالہ کوثر کی چالاکی پر اس کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔

"ہاں خان صاحب! وہ وہیں اندرونی کمرے میں چھپی بیٹھی ہے۔ اگر آپ ابھی جائیں تو اسے رنگے ہاتھوں پکڑ سکتے ہیں،" زینب مائی نے اسے اکسایا۔

رحمت خان نے اپنی چادر کو کندھے پر مضبوطی سے جمایا، اس کی مٹھیاں بھینچ گئیں اور وہ لمبے قدم بھرتا ہوا خالہ کوثر کے گھر کی طرف چل پڑا، جبکہ زینب مائی تماشا دیکھنے کے لیے اس کے پیچھے پیچھے لپکی۔

خالہ کوثر کے صحن میں اس وقت ایک عجیب سا سکون تھا۔ بچیاں جا چکی تھیں اور صفیہ سجیلا کو گود میں لیے اسے لوری سنا رہی تھی کہ اچانک بیرونی لکڑی کے دروازے پر کوئی دستک نہیں ہوئی، بلکہ ایک زور دار لات پڑی۔

"دھڑام!"

پرانی لکڑی کا کواڑ اس شدید جھٹکے کو برداشت نہ کر سکا اور کنڈی سمیت اندر کی طرف گر گیا۔ صحن میں موجود صفیہ، خدیجہ اور خالہ کوثر خوف اور حیرت سے اچھل پڑیں۔

دھول کے غبار میں سے جو وجود سامنے ابھرا، اسے دیکھ کر صفیہ کے ہاتھ سے سجیلا کا جھنجھنا ایک بار پھر مٹی پر گر گیا۔ اس کا سانس حلق میں اٹک گیا، آنکھیں پھٹ گئیں اور پورے جسم سے جیسے خون نچوڑ لیا گیا ہو۔

سامنے رحمت خان کھڑا تھا اس کا سگا شوہر، اس کی زندگی کا سب سے بڑا جلاد۔

"تو۔۔۔ تو یہاں چھپی بیٹھی ہے، میری غیرت پر داغ لگا کر!" رحمت خان کی آواز پورے صحن میں گرجی جیسے بادل کڑکا ہو۔

خالہ کوثر پختگی اور جرات کی مورت بن کر فوراً صفیہ کے آگے کھڑی ہو گئیں، "کون ہو تم؟ اور ایک شریف عورت کے گھر میں اس طرح گھسنے کی جرات کیسے ہوئی؟"

"بڑھیا! پیچھے ہٹ،" رحمت خان نے غصے سے چنگھاڑتے ہوئے کہا، "میں رحمت خان ہوں، اس کا شوہر! اور میں یہاں اپنی بھاگی ہوئی بیوی اور اس منحوس وجود کا حساب کرنے آیا ہوں۔"

صفیہ نے سجیلا کو اپنے سینے سے اس طرح بھینچ لیا کہ بچی درد سے رونے لگی۔ رحمت خان کی نظر جیسے ہی سجیلا کے مڑے ہوئے ننھے ہاتھوں اور روتے ہوئے چہرے پر پڑی، اس کی آنکھوں میں نفرت کی آگ اور تیز ہو گئی۔

"دیکھو رحمت خان! یہ خدا کی دی ہوئی امانت ہے، اسے منحوس مت کہو،" صفیہ نے روتے ہوئے مگر دھیمے لہجے میں پہلی بار اس کے سامنے بولنے کی ہمت کی، "میں تمہارے گھر سے بھاگی نہیں تھی، تم نے مجھے نکالا تھا۔ اب میرا تم سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔"

"رشتہ کیسے نہیں ہے؟" رحمت خان نے آگے بڑھ کر صفیہ کا بازو پکڑنے کی کوشش کی، "تو میری بیوی ہے اور یہ داغ میری غیرت پر ہے۔ میں اس ادھورے وجود کو زندہ نہیں چھوڑوں گا جو دنیا میں میرا نام بدنام کرے۔"

"بردارم! پیچھے ہٹو!" اچانک بیرونی دروازے سے ایک اور بھاری اور رعب دار آواز آئی۔

سب نے مڑ کر دیکھا تو دروازے پر گاؤں کے نمبردار اور ان کے ساتھ دو بندوق بردار محافظ کھڑے تھے، جنہیں خدیجہ نے کمال ہوشیاری سے پچھلی گلی سے جا کر فوراً بلا لیا تھا۔

نمبردار کو دیکھ کر رحمت خان کے قدم وہیں رک گئے۔ دیہات میں نمبردار اور برادری کا جلال شہر کے کسی بھی ہیڈ منشی سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔

"خان صاحب! یہ شہر نہیں ہے جہاں تم عورتوں پر ہاتھ اٹھاؤ،" نمبردار نے اپنی لاٹھی کو زمین پر مارتے ہوئے کہا، "یہ خالہ کوثر کا گھر ہے اور یہ لڑکی پیر سائیں کے آستانے کی پناہ میں ہے۔ اگر تم نے یہاں کوئی دنگا فساد کیا، تو تمہاری لاش بھی شہر واپس نہیں جائے گی۔ شرافت سے باہر نکل جاؤ!"

رحمت خان نے دیکھا کہ حالات اس کے حق میں نہیں ہیں۔ نمبردار کے محافظوں کی بندوقیں اس کی طرف تنی ہوئی تھیں اور پورے محلے کے لوگ اب زینب مائی کے پیچھے جمع ہو رہے تھے۔ اس نے صفیہ کو ایک آخری غضب ناک اور خونی نظر سے دیکھا۔

"میں جا رہا ہوں نمبردار صاحب! لیکن یاد رکھنا صفیہ۔۔۔ یہ رحمت خان کی انا کی جنگ ہے۔ تو اس پہاڑی گاؤں کے حصار میں کب تک چھپے گی؟ میں دوبارہ آؤں گا، اور اس دن یہ لوہے کی دیواریں بھی تجھے میرے غصے سے نہیں بچا پائیں گی،" رحمت خان نے زہریلے لہجے میں دھمکی دی اور پیر پٹختا ہوا باہر نکل گیا۔ زینب مائی بھی لوگوں کے ڈر سے گلی میں غائب ہو گئی۔

جب سب چلے گئے، تو صفیہ صحن کے کچے فرش پر بیٹھ گئی، اس کے آنسو سجیلا کے گالوں پر گر رہے تھے۔ لیکن اس بار اس کی سسکیوں میں کمزوری نہیں تھی، بلکہ ایک فولادی عزم کی گونج تھی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا، جہاں شام کے گہرے سائے چھا رہے تھے اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بولی:

"رحمت خان! تم نے میری مامتا کا پہلا طوفان دیکھا ہے، اب تم اس مامتا کی عدالت دیکھو گے۔ میں سجیلا کو تمہاری انا کی قربان گاہ پر کبھی قربان نہیں ہونے دوں گی۔"

آزمائش کا دوسرا دور ختم ہو چکا تھا، لیکن صفیہ جانتی تھی کہ اگلا معرکہ اس سے کہیں زیادہ ہولناک اور فیصلہ کن ہوگا، جہاں اسے اور سجیلا کو اپنی بقا کی آخری جنگ خود لڑنی تھی۔

(جاری ہے)

کاپی رائٹ اور ڈسکلیمر

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026

ناول: سجیلا (قسط نمبر 7)

تحریر: ذوقِ عشاء (عشرت خانم)

پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز

آفیشل ویب سائٹ لنک: ishratdigitalcreation.com

قانونی تنبیہ: اس ناول کے تمام کردار، پلاٹ، مکالمے اور تحریر مکمل طور پر مصنفہ کی تخلیق ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی اجازت کے بغیر اس کہانی، اس کے کسی حصے یا اقتباس کو کسی دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم، یوٹیوب، بلاگ، یا ویب سائٹ پر کاپی کرنا، آڈیو/ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کرنا یا کسی بھی شکل میں چوری کر کے اپنے نام سے شیئر کرنا سخت قانونی جرم ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23