ناول: سجیلا (قسط نمبر 8)
ناول: سجیلا (قسط نمبر 8)
تحریر: عشرت خانم | قلمی نام: ذوقِ عشاء
"تحفظ کا حصار، انتقام کی نئی آگ"
رحمت خان کے بھاری اور غضب ناک قدموں کی دھمک جب گلی کے موڑ پر دم توڑ گئی، تو خالہ کوثر کے صحن میں جیسے ایک طویل حبس کے بعد ہوا کا پہلا ٹھنڈا جھونکا چلا۔ صفیہ کچے فرش پر بیٹھی، سجیلا کو اپنے وجود کا حصہ بنائے بری طرح کانپ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے گرنے والے گرم آنسو سجیلا کے معصوم گالوں کو بھگو رہے تھے، لیکن ان آنسوؤں میں اب خوف کی وہ پرانی لرزش نہیں تھی، بلکہ ایک ماں کے زخمی دل کا غبار تھا جو اب آہستہ آہستہ ایک فولادی عزم میں بدل رہا تھا۔
نمبردار چوہدری اصغر نے اپنی بھاری شیشم کی لاٹھی کو زمین پر ٹکا کر ایک گہرا سانس لیا اور اپنے بندوق بردار محافظوں کو باہر گلی میں کڑی نظر رکھنے کا اشارہ کیا۔ ان کا رعب دار اور بزرگ چہرہ، جس پر سفید گھنی داڑھی اور زندگی کے تجربات کی گہری لکیریں واضع تھیں، اس وقت صفیہ کے لیے کسی ناقابلِ تسخیر دیوار سے کم نہیں تھا۔
نمبردار آگے بڑھے اور خالہ کوثر کے سر پر اپنا شفقت بھرا ہاتھ رکھتے ہوئے دھیمی مگر پروقار آواز میں بولے، "کوثر آپا! آپ نے چوہدری اصغر کو اتنا بیگانہ سمجھ لیا کہ اتنی بڑی مصیبت آئی اور آپ نے حویلی اطلّاع تک نہ بھجوائی؟ اگر یہ خدیجہ بیٹی وقت پر دوڑتی ہوئی نہ پہنچتی، تو شہر کے اس گنوار نے تو آج اس مقدس دہلیز کی حرمت مٹی میں ملا دی ہوتی۔"
خالہ کوثر نے اپنے لرزتے ہاتھوں سے چادر کے پلو کو درست کیا، ان کی بوڑھی آنکھوں میں تشکر کے موتی چمک اٹھے۔ "چوہدری صاحب! آپ کی مصروفیت کا پتہ تھا، اور پھر پیر سائیں کے آستانے کا نام ہی ہمارے لیے سب سے بڑا حصار تھا۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ میری ذات یا اس مظلوم بچی کی وجہ سے گاؤں کا امن خراب ہو یا آپ کو کوئی زحمت اٹھانی پڑے۔"
"آپا! آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں؟" نمبردار کا لہجہ عقیدت اور احترام سے لبریز ہو گیا۔ "اس پورے علاقے کے بڑے بوڑھے اور جوان جانتے ہیں کہ ہماری حویلی کے بچوں کو، اور خود مجھے میری سگی ماں کے بعد اگر کسی نے قرآن کی روشنی سے منور کیا، تو وہ آپ کی مرشد زادی ماں تھیں۔ یہ سعادت اور یہ خلقِ خدا کی خدمت کا سلسلہ آپ کی ماں سے ہوتا ہوا آج آپ تک پہنچا ہے۔ اسی دہلیز سے اس صفیہ بیٹی نے قرآن پاک سیکھا، خدیجہ کے ساتھ مل کر پرائمری کی کتابیں پڑھیں۔ ہم آپ کی اس خلوصِ نیت اور نسلوں کی خدمت کا احسان مرتے دم تک کیسے بھول سکتے ہیں؟"
نمبردار نے مڑ کر صحن کے کچے فرش پر بیٹھی صفیہ کو دیکھا، جو سجیلا کو کلیجے سے لگائے اب کچھ سنبھل چکی تھی۔ نمبردار کی آواز میں ایک شفیق باپ جیسی ممتا ابھر آئی، "صفیہ بیٹی! میری طرف دیکھو۔ اور اپنے دل سے ہر قسم کا وہم اور ڈر نکال دو۔ یہ چوہدری اصغر کا تم سے سچا وعدہ ہے کہ جب تک اس علاقے کے نمبردار اور پیر سائیں ذوالفقار کی حیات ہے، شہر کا کوئی رحمت خان تو کیا، زمانے کا کوئی بڑے سے بڑا افسر بھی تمہاری طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ تم اور یہ معصوم بچہ اب ہماری پناہ میں ہو، ہماری عزت اور ہمارا مان ہو۔"
اسی وقت بیرونی لکڑی کے ٹوٹے ہوئے دروازے پر گاؤں کی کچھ اور عورتیں جمع ہو رہی تھیں، جن کے سب سے آگے زینب مائی چادر کے پلو کو منہ میں دبائے، خوف اور شرمندگی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ اندر جھانک رہی تھی۔ چوہدری اصغر کی تیز نظر جیسے ہی اس پر پڑی، ان کی ابرو تن گئیں اور جلال ان کے چہرے پر عود کر آیا۔ وہ لمبے اور رعب دار قدم بھرتے ہوئے بیرونی دہلیز کی طرف بڑھے۔
"زینب مائی!" نمبردار کی گرجدار آواز نے گلی میں موجود سب لوگوں کے طبق روشن کر دیے۔ زینب مائی کا رنگ پیلا پڑ گیا اور وہ وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھنے لگی۔ "میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ شہر کے اس خونخوار بھیڑیے کو اس غریب اور شریف گھر کا راستہ کس نے دکھایا ہے! انعام کے چند پیسوں اور لالچ کی خاطر تم نے اس گاؤں کی بیٹی کا سودا کرنا چاہا؟ کان کھول کر سن لو! اگر آج کے بعد تم نے اس گھر کے خلاف کوئی بھی سازش کی، یا صفیہ اور اس کی بچی کے بارے میں کوئی غلیظ زبان درازی کی، تو پنچایت کا فیصلہ بعد میں آئے گا، میں تمہیں اور تمہارے پورے کنبے کو اسی وقت اس گاؤں کی حدود سے ہمیشہ کے لیے بے دخل کر دوں گا۔"
زینب مائی نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور روہانسی ہو کر بولی، "توبہ ہے نمبردار صاحب! میری کیا مجال۔۔۔ مجھے تو اس شہر کے خان صاحب نے اپنی باتوں میں ورغلایا تھا۔ میں آئندہ کبھی اس گلی کا رخ بھی نہیں کروں گی۔" وہ سہم کر الٹے قدموں بھاگ کھڑی ہوئی اور تماشائی بنے باقی محلے دار بھی چوہدری صاحب کے جلال کو دیکھتے ہوئے دھیرے دھیرے وہاں سے چھٹ گئے۔
چوہدری اصغر دوبارہ صحن میں آئے اور صفیہ کے پاس بیٹھ کر شفقت سے بولے، "صفیہ بیٹی، پیر سائیں ذوالفقار نے تمہاری ہمت اور علم کی لگن کو دیکھ کر ایک خاص اور بڑا فیصلہ کیا ہے۔ گاؤں کا جو سرکاری پرائمری اسکول ہے، وہاں بچیوں کے لیے کوئی مستقل اور پڑھی لکھی استانی نہیں ہے۔ پیر سائیں کی شفقّت ہے کہ انہوں نے تمہارا نام اس نوکری کے لیے آگے بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ تم کل سے وہاں باقاعدہ کلاسیں لینا شروع کرو۔ ہم خود حکومت کے بالا افسران سے بات کر کے تمہاری مستقل تنخواہ کا بندوبست کروائیں گے، تاکہ تم اپنی اور سجیلا کی زندگی اپنے دم پر جیو، اور کسی پر معاشی بوجھ نہ بنو۔"
یہ سن کر صفیہ کا دل جیسے عقیدت اور شکر گزاری کے سمندر میں ڈوب گیا۔ وہ، خالہ کوثر اور خدیجہ ہاتھ اٹھا کر پیر سائیں ذوالفقار اور نمبردار کی اس بے لوث شفقّت پر رو پڑیں۔ صفیہ نے سجیلا کے چہرے کو دیکھا اور اس کے ذہن میں آیا کہ علم کی جس شمع کو وہ اس چھوٹے سے کچے صحن میں جلا رہی تھی، اب خدا نے اسے پورے گاؤں کی بچیوں کے لیے روشنی کا ذریعہ بنا دیا تھا۔
"اور ہاں،" نمبردار نے جاتے ہوئے اپنے دو بااعتماد بندوق بردار محافظوں کو وہیں روکا۔ "آج سے پیر سائیں کے حکم پر، اس گھر کے باہر چوبیس گھنٹے پہرے داروں کا بندوبست رہے گا۔ ان بے آسرا عورتوں کی حفاظت اب ہماری غیرت کا سوال ہے۔" چوہدری اصغر تسلی دے کر رخصت ہو گئے، اور صحن کے ٹوٹے ہوئے لکڑی کے دروازے کو درست کرنے کے لیے حویلی کے کاریگر پہنچ گئے۔
جب چوہدری صاحب چلے گئے، تو خالہ کوثر نے صفیہ کو گلے سے لگا لیا۔ خدیجہ نے مسکراتے ہوئے سجیلا کو گود میں لیا اور بولی، "صفیہ آپا! دیکھا آپ نے؟ اللہ کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔ اب آپ ایک سرکاری اسکول کی استانی ہو!" صفیہ نے نم آنکھوں سے مسکرا کر خدا کا شکر ادا کیا۔ رات کا اندھیرا جب پہاڑی وادی پر چھایا، تو گھر کے باہر لالٹین لیے پہرے دار کھڑے تھے، جس نے ان تینوں عورتوں کے دلوں کو ایک عجیب سا تحفظ بخش دیا تھا۔ لیکن سسپنس اور خطرے کی پوشیدہ لہریں ابھی تھمی نہیں تھیں۔
دوسری طرف، گاؤں کے بس اڈے پر کھڑا رحمت خان غصے اور ذلت کے احساس سے پاگل ہو رہا تھا۔ اس کی مردانہ انا پر نمبردار کی لاٹھی اور محافظوں کی بندوقوں نے وہ گہرا زخم لگایا تھا جس کی کسک اس کے پورے وجود میں زہر بن کر پھیل رہی تھی۔ وہ بس میں بیٹھ تو گیا، مگر اس کا دماغ شہر کی منڈی کی طرف نہیں، بلکہ انتقام کی ایک نئی، قانونی اور خوفناک سازش کی طرف چل رہا تھا۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور مٹھیاں بھینچی ہوئی تھیں۔
"نمبردار اور پیر سائیں۔۔۔" رحمت خان نے دانت پیستے ہوئے بس کی کھڑکی سے باہر گھور کر اپنے بیگ کو سختی سے بھینچا۔ "تم لوگ قانون اور برادری کے زور پر اس عورت کو کب تک میرے غصے سے بچاؤ گے؟ صفیہ نے مجھے سب کے سامنے جھوٹا ثابت کیا، میری نسل کے اس ادھورے وجود، اس سجیلا کو علم کا نور دینے چلی ہے؟ میں اس نور کو ہمیشہ کے لیے ایسے اندھیرے میں بدل دوں گا کہ وہ روشنی کی ایک ایک کرن کو ترسیں گے۔"
شہر پہنچتے ہی رحمت خان اپنے گھر یا منڈی نہیں گیا، بلکہ اس نے رات کے پچھلے پہر شہر کے ایک انتہائی مکار، بدنامِ زمانہ وکیل اور نجی ایجنسی کے اس مخبر سے رابطہ کیا جس نے اسے پہلے ادھوری معلومات دی تھیں۔ وہ اب جانتا تھا کہ وہ دیہات میں جا کر طاقت کے بل بوتے پر نمبردار اور پیر سائیں کی بندوقوں سے نہیں لڑ سکتا، اس لیے اب اسے صفیہ پر کوئی ایسا وار کرنا تھا جو سیدھا اس کی مامتا کے جگر کو پار کرے اور اسے قانون کے شکنجے میں جکڑ دے۔
وکیل نے اپنے دفتر کی مدہم روشنی میں رحمت خان کی پوری بات بہت غور سے سنی، کچھ کاغذات کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور اپنے موٹے چشمے کو ناک پر ٹکاتے ہوئے ایک شیطانی اور زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ بولا، "خان صاحب! اگر وہ لڑکی اس پہاڑی گاؤں کے سرکاری اسکول میں استانی لگ رہی ہے، تو یہ تو ہمارے لیے سب سے بہترین اور سنہرا موقع ہے۔ ایک ایسی عورت، جو اپنے شوہر کے گھر سے بغیر طلاق یا خلع کے بھاگی ہوئی ہو، جس کا عدالتی ریکارڈ نہ ہو، اور جس کے بچے کو پورا معاشرہ جادو ٹونے اور شدید جسمانی و ذہنی معذوری کا شکار کہتا ہو، وہ سرکاری اسکول میں معصوم بچوں کو کیا خاک سکھائے گی؟"
وکیل نے ایک کالا فاؤنٹین پین اٹھایا اور میز پر ضرب لگاتے ہوئے کہا، "ہم عدالت میں اس کے کردار پر، اس کے مفرور ہونے پر اور اس کے بچے کی معذوری پر ایسا کیس بنائیں گے کہ حکومت اسے اس نوکری کے لیے نااہل قرار دے کر فوراً نکال دے گی۔ ساتھ ہی، ہم عدالت سے رجوع کریں گے کہ سجیلا ایک 'انفٹ' اور 'مجنون' بچہ ہے، جس کی ماں کا اپنا ذہنی توازن درست نہیں ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن اور باپ کے حقِ حضانت کے نام پر عدالت اس بچے کو صفیہ سے چھین کر قانونی طور پر آپ کے حوالے کر دے گی۔"
یہ سن کر رحمت خان کے چہرے پر ایک وحشیانہ اور خونی چمک ابھر آئی۔ "ہاں! یہی تو میں چاہتا ہوں وکیل صاحب! میں اس منحوس بچے کو صفیہ کی گود سے چھین کر کسی ایسے سرکاری یتیم خانے یا اندھیرے کونے میں پھینک دوں گا جہاں وہ سسک سسک کر مرے، اور صفیہ عدالتوں کے چکر کاٹ کاٹ کر اور اپنی ممتا کو تڑپتا دیکھ کر میری بربادی کا تماشہ دیکھے۔ وہ مجھ سے طلاق مانگے گی، مگر میں اسے تاحیات اس نام نہاد نکاح کے قید خانے میں رکھوں گا!"
پہاڑی گاؤں میں اگلی صبح صفیہ کے لیے زندگی کا ایک نیا، پرامید اور سنہرا سویرا لے کر آئی تھی۔ وہ سفید سادہ سوتی چادر اوڑھے، ہاتھ میں خالہ کوثر کا دیا ہوا پرانا قاعدہ اور کچھ نئی کتابیں لیے، خدیجہ کے ساتھ پرائمری اسکول کی طرف بڑے باوقار طریقے سے بڑھ رہی تھی۔ گاؤں کے لوگ، جو کل تک اسے ایک اکیلی اور مجبور عورت سمجھتے تھے، اب اسے عزت اور احترام کی نظر سے دیکھ رہے تھے، اور اسکول کے کچے صحن میں معصوم بچیاں اپنی اس نئی استانی کے استقبال کے لیے قطاروں میں کھڑی تالیاں بجا رہی تھیں۔
صفیہ نے جیسے ہی اسکول کی پہلی دہلیز پر اپنا قدم رکھا، تو اس کا دل فخر اور عزم سے لبریز تھا، اس کی آنکھوں میں سجیلا کے روشن مستقبل کے خواب تھے، مگر وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھی کہ شہر کی بڑی عدالتوں اور رحمت خان کے شیطانی دماغ میں اس کی اس نئی پرواز کو اڑنے سے پہلے ہی کاٹنے کے لیے قانون کا ایک ایسا ہولناک اور زہریلا جال تیار کیا جا رہا تھا، جس کا سامنا کرنے کے لیے اسے اب محض ایک عام ماں نہیں، بلکہ قانون، وکیلوں اور اس جاہل معاشرے کی سب سے بڑی جنگجو بننا تھا!
(جاری ہے)
📝 کاپی رائٹ اور ڈسکلیمر
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026
ناول: سجیلا (قسط نمبر 8)
تحریر: ذوقِ عشاء (عشرت خانم)
پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز
آفیشل ویب سائٹ لنک: ishratdigitalcreation.com
قانونی تنبیہ: اس ناول کے تمام کردار، پلاٹ، مکالمے اور تحریر مکمل طور پر مصنفہ کی تخلیق ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی اجازت کے بغیر اس کہانی، اس کے کسی حصے یا اقتباس کو کسی دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم، یوٹیوب، بلاگ، یا ویب سائٹ پر کاپی کرنا، آڈیو/ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کرنا یا کسی بھی شکل میں چوری کر کے اپنے نام سے شیئر کرنا سخت قانونی جرم ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
Comments
Post a Comment