ناول: سجیلا قسط نمبر: 12
ناول: سجیلا
قسط نمبر: 12
سازش کا بومرنگ اور صفیہ کا استقلال
رحمت خان کو ملنے والا وہ نامعلوم خط دراصل اس کی اعصابی شکست کا نقطہ آغاز تھا۔ وہ خط جس نے اس کے ہاتھوں میں لرزش پیدا کر دی تھی، کسی قانونی ادارے کی طرف سے نہیں، بلکہ منڈی کے ہی ایک ایسے پرانے ملازم کی طرف سے تھا جو برسوں سے رحمت خان کی بدمعاشیوں اور حساب میں ہیرا پھیری کا گواہ تھا۔ رحمت خان، جو خود کو بہت ہوشیار سمجھتا تھا، یہ بھول گیا تھا کہ جو شخص دوسروں کے لیے گڑھے کھودتا ہے، ایک نہ ایک دن خود بھی اسی کا شکار ہوتا ہے۔ اس رات اس کی نیندیں اڑ گئیں۔ وہ کمرے میں کبھی ادھر ٹہلتا تو کبھی کھڑکی کے پاس جا کر باہر اندھیرے میں گھورتا۔ اسے ہر سایہ وکیل شاہد الٰہی یا پولیس کا مخبر لگتا تھا۔ اس کا خوف اس کی مکاری سے کہیں زیادہ بڑھ گیا تھا، لیکن اس خوف کے سائے میں اس نے ایک اور خطرناک فیصلہ کر لیا—وہ اب صفیہ پر حملہ نہیں کرے گا، بلکہ وہ اسے معاشرتی طور پر زندہ درگور کر دے گا۔
دوسری طرف، صفیہ کی زندگی میں ایک عجیب سی تبدیلی آ رہی تھی۔ گاؤں کے لوگوں کی طرف سے ہونے والی کردار کشی اور سرگوشیاں اب آہستہ آہستہ مدہم پڑ رہی تھیں۔ پیر سائیں ذوالفقار نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس کی رحمت خان کو توقع نہیں تھی۔ پیر سائیں نے جمعہ کے خطبے کے بعد، بغیر صفیہ کا نام لیے، معاشرے میں پھیلائی جانے والی جھوٹی افواہوں اور عورتوں کی عزت پر کیچڑ اچھالنے والوں کے خلاف ایک سخت تنبیہ کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو کوئی بھی بلا تحقیق کسی باکردار عورت پر تہمت لگائے گا، اسے نہ صرف اللہ کے ہاں جوابدہ ہونا پڑے گا بلکہ معاشرے میں بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔ پیر سائیں کے اس جلال نے گاؤں کے بہت سے خود ساختہ ٹھیکیداروں کی زبانوں پر تالے لگا دیے۔ صفیہ، جو اسکول سے گھر لوٹتے ہوئے سر جھکا کر چلتی تھی، اب اس نے سر اٹھا کر چلنا شروع کر دیا تھا۔ سجیلا کے لیے اس کی محبت، اس کی محنت اور اس کا استقلال اس کے لیے ڈھال بن چکا تھا۔
اسکول کا ماحول صفیہ کے لیے سکون کا جزیرہ تھا۔ اس کے شاگرد اسے اپنی ماں جیسی عزت دیتے تھے۔ ایک دن اسکول میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں گاؤں کی معزز خواتین کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ صفیہ نے اپنی کلاس کے بچوں سے ایک ڈرامہ پیش کروایا جس کا موضوع "صبر اور انصاف" تھا۔ اس ڈرامے کی کہانی میں ایک ایسی عورت کا ذکر تھا جو تنہا ہونے کے باوجود اپنی بیٹی کے لیے پہاڑ جیسی مشکلات کا سامنا کرتی ہے اور آخر کار جیت اسی کی ہوتی ہے۔ تقریب کے دوران صفیہ کی آنکھوں میں نمی تھی، لیکن وہ نمی دکھ کی نہیں، بلکہ ایک ایسی اطمینان کی تھی جو اسے اپنے کام سے مل رہی تھی۔ جب پروگرام ختم ہوا، تو بہت سی ایسی خواتین جو پہلے صفیہ پر شک کرتی تھیں، ان کی آنکھیں بھی کھل گئیں۔ وہ صفیہ کے پاس آئیں، اس سے معافی مانگی اور اس کی بیٹی سجیلا کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ صفیہ کا دل بھر آیا۔ اسے احساس ہوا کہ رحمت خان کی سازشیں اس کے حوصلوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہیں۔
ادھر شہر کی منڈی میں، رحمت خان کے لیے مصیبتیں بڑھتی جا رہی تھیں۔ حاجی سلیمان نے منڈی کے حساب کتاب کی باقاعدہ آڈٹ کروانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ رحمت خان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر آڈٹ شروع ہوا، تو اس کے کچھ عرصہ پہلے کیے گئے مالیاتی خرد برد اور حسابات میں ہیرا پھیری کا کچا چٹھا کھل جائے گا۔ وہ گھبرا گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ آڈٹ اس کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ اس نے آخری چال کے طور پر منڈی کے رجسٹروں میں ہیر پھیر کرنے کا ارادہ کیا۔ وہ رات کے سناٹے میں دفتر میں گھسا تاکہ اہم دستاویزات کو جلا سکے یا بدل سکے۔ جیسے ہی وہ فائلیں الماری سے نکالنے لگا، اسے دروازے پر کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ وہ ڈر کر پیچھے مڑا، تو دیکھا کہ دفتر کا دروازہ کھلا ہے اور سامنے حاجی سلیمان کھڑے تھے۔
"تم یہاں کیا کر رہے ہو، رحمت؟" حاجی سلیمان کی آواز میں گرج تھی۔ رحمت خان کے ہاتھ سے فائل گر گئی۔ اس کی زبان لڑکھڑا گئی۔ وہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ حاجی سلیمان نے اسے وہیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ یہ اس کی بربادی کا لمحہ تھا۔ حاجی صاحب نے اسے ملازمت سے معطل کر دیا اور قانونی کارروائی شروع کرنے کی دھمکی دی۔ رحمت خان، جو کل تک منڈی کا بادشاہ بنا پھرتا تھا، آج ایک مجرم کی طرح باہر نکالا گیا۔ اس کے پاس نہ اب وہ اقتدار رہا، نہ وہ پیسے، اور نہ ہی وہ سازشی نیٹ ورک جو وہ صفیہ کے خلاف استعمال کر رہا تھا۔
گاؤں میں، صفیہ کو یہ خبر ملی تو اسے خوشی تو ہوئی، لیکن ایک انجانا خوف بھی تھا۔ وہ جانتی تھی کہ رحمت خان اب ایک زخمی سانپ کی طرح ہے جو آخری بار ڈسنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ لیکن اب وہ اکیلی نہیں تھی۔ پیر سائیں کی سرپرستی، وکیل شاہد الٰہی کا ساتھ، اور سب سے بڑھ کر اللہ پر اس کا کامل بھروسہ اسے طاقت دے رہا تھا۔ اس نے سجیلا کو گود میں لیا اور کھڑکی سے باہر آسمان کو دیکھا۔ وادی کی فضا صاف تھی اور ستارے چمک رہے تھے۔ "سجیلا، بیٹا،" اس نے نرمی سے بیٹی کے گالوں کو چوما، "تمہاری ماں نے تمہارے لیے بہت سی مشکلات کا سامنا کیا ہے، لیکن اب ہم مزید نہیں ڈریں گے۔ تمہارا مستقبل روشن ہوگا، اور تمہارا باپ اب ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔"
رحمت خان اب بالکل تنہا تھا۔ اس نے اپنے پرانے دوستوں اور منڈی کے ساتھیوں کو فون کیے، لیکن سب نے اس سے منہ موڑ لیا۔ وہ ایک ایسے موڑ پر کھڑا تھا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔ اسے اپنی غلطیوں کا احساس ہو رہا تھا، لیکن اس کے دل کی سیاہی اتنی زیادہ تھی کہ وہ توبہ کے بجائے مزید گہری سازشوں میں گم ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ وہ آخری بار وادی جائے گا، صفیہ کو مجبور کرے گا کہ وہ اس کے خلاف کیس واپس لے لے۔ اس نے اپنی جیب سے پستول نکالا اور اسے چیک کیا۔ اس کی آنکھوں میں انتقام کی آخری چنگاری تھی۔
صفیہ کا گھر، جو کچھ دن پہلے تک ڈر اور خوف کا مرکز تھا، اب وہاں ایک نئی امید کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔ پیر سائیں نے فیصلہ کیا کہ وہ آئندہ ہفتے صفیہ کے لیے ایک مستقل رہائش کا انتظام کریں گے تاکہ اسے بار بار گھر بدلنے یا ڈر کے سائے میں رہنے کی ضرورت نہ پڑے۔ وکیل شاہد الٰہی نے بھی عدالت میں کیس کو ایک مضبوط موڑ دیا تھا۔ رحمت خان کے خلاف شواہد کی ایک لمبی فہرست تیار ہو چکی تھی۔ رحمت خان کو اب یہ سمجھ آ گیا تھا کہ اس کا کھیل واقعی ختم ہونے والا ہے، لیکن اس کی انا اسے شکست تسلیم کرنے سے روک رہی تھی۔ وہ وادی کی طرف روانہ ہوا، اس کے ذہن میں صرف ایک ہی سوچ تھی—اگر وہ نہیں، تو صفیہ بھی سکون سے نہیں رہ سکتی۔ سازش کا یہ جال اب اسی کے گلے کا پھندا بن چکا تھا، لیکن وہ اس پھندے کو توڑنے کی کوشش میں خود کو مزید الجھا رہا تھا۔
(جاری ہے)
کاپی رائٹ اور ڈسکلیمر
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں ©
Comments
Post a Comment