ناول: سجیلا (قسط نمبر 13)
ناول: سجیلا
قسط نمبر: 13طوفان کی آہٹ اور آخری معرکہتحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)
وادی کی طرف جانے والا راستہ ہمیشہ سے پرسکون اور خوبصورت رہا تھا، لیکن اس رات رحمت خان کے لیے یہ راستہ جہنم کے کسی تاریک دالان جیسا لگ رہا تھا۔ اس کی کار کی ہیڈ لائٹس پہاڑی راستے کے اندھیرے کو چیر رہی تھیں، بالکل اسی طرح جیسے اس کے ذہن میں اٹھنے والے انتقام کے خیالات اس کے رہے سہے سکون کو برباد کر رہے تھے۔ اس کے برابر والی سیٹ پر ایک سیاہ رنگ کا پستول رکھا تھا، جس کی دھاتی چمک پر جب بھی گاڑی کے ڈیش بورڈ کی مدہم روشنی پڑتی، رحمت خان کی انگلیوں میں ایک عجیب سی لرزش پیدا ہو جاتی۔ وہ بار بار اسٹیئرنگ پر اپنے ہاتھ مضبوط کرتا، لیکن اس کے اندر کا خوف اور اعصابی تناؤ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ وہ بالکل تنہا ہو چکا تھا۔ منڈی کی بادشاہت، وہ اثر و رسوخ، وہ دوست جو اس کے ایک اشارے پر صفیہ کی زندگی اجیرن کرنے کے لیے تیار رہتے تھے، آج ان سب نے اپنے فون بند کر لیے تھے۔ ہر ایک نے اسے ایک گرتا ہوا درخت سمجھ کر اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ لیکن رحمت خان کی انا، اس کا تکبر، اب بھی اسے یہ تسلیم کرنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا کہ وہ ہار چکا ہے۔ "میں اتنی آسانی سے سب کچھ ختم نہیں ہونے دوں گا،" وہ دانت پیستے ہوئے بڑبڑایا، "صفیہ! اگر تم نے مجھے سڑک پر لا کھڑا کیا ہے، تو میں تمہیں بھی اس وادی میں چین سے جینے نہیں دوں گا۔" اس کی آنکھوں میں لالی اتر آئی تھی اور اعصاب پر سوار خوف اب جنون کی شکل اختیار کر چکا تھا۔
دوسری طرف، شہر کی عدالتوں اور قانونی حلقوں میں رحمت خان کے گرد گھیرا اس حد تک تنگ ہو چکا تھا کہ اب اس کا بچ نکلنا نامکن نظر آ رہا تھا۔ وکیل شاہد الٰہی اپنے دفتر میں بیٹھے فائلوں کا معائنہ کر رہے تھے۔ حاجی سلیمان نے منڈی کے آڈٹ کے دوران جو دستاویزی ثبوت فراہم کیے تھے، انہوں نے رحمت خان کے تمام جھوٹے دعوؤں کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی تھیں۔ شاہد الٰہی نے صفیہ کو فون کر کے اس قانونی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ "صفیہ بی بی، مبارک ہو،" شاہد الٰہی کی آواز میں ایک اطمینان تھا، "حاجی سلیمان کی گواہی اور منڈی کے رجسٹروں سے ملنے والے ثبوتوں نے رحمت خان کے خلاف ہمارے کیس کو ناقابلِ شکست بنا دیا ہے۔ اب عدالت میں اس کے پاس صفائی کا کوئی موقع نہیں بچے گا۔ منڈی میں جو رنگے ہاتھوں وہ پکڑا گیا ہے، وہ اس کے جرائم کی آخری کڑی ثابت ہو رہا ہے۔ آپ بالکل بے فکر رہیں، قانون اب اس کا وہ انجام کرے گا جس کا وہ مستحق ہے۔" صفیہ نے فون ہینڈل کو مضبوطی سے تھامے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس کی آنکھوں سے تشکر کے آنسو بہہ نکلے۔ جس انصاف کے لیے وہ مہینوں سے دربدر ٹھوکریں کھا رہی تھی، جس کردار کشی کا سامنا اس نے تنہا کیا تھا، آج قانون اسی کے حق میں کھڑا تھا۔
گاؤں کا ماحول بھی اب صفیہ کے لیے یکسر بدل چکا تھا۔ پیر سائیں ذوالفقار کے جمعہ کے خطبے نے جیسے لوگوں کے ضمیر جھنجھوڑ کر رکھ دیے تھے۔ جو لوگ کل تک صفیہ کو دیکھ کر راستے بدل لیتے تھے یا سرگوشیاں کرتے تھے، آج وہ اس کے سامنے آتے ہی شرمندگی سے نظریں جھکا لیتے۔ پیر سائیں نے اپنے مریدوں کو حکم دیا تھا کہ صفیہ بی بی کو گاؤں کے سب سے محفوظ اور معزز حصے میں ایک مستقل رہائش فراہم کی جائے، تاکہ اسے کسی کے رحم و کرم پر نہ رہنا پڑے۔ نئے گھر کی صفائی اور انتظامات شروع ہو چکے تھے، اور گاؤں کی کئی خواتین خود بڑھ کر صفیہ کی مدد کر رہی تھیں۔ صفیہ کو اب برسوں بعد اپنے اردگرد ایک حقیقی تحفظ اور عزت کا احساس ہو رہا تھا۔ اسکول سے گھر آتے ہوئے اب اس کے قدموں میں وہ جھجک نہیں تھی، بلکہ ایک باوقار استقلال تھا۔ لیکن اس سکون کے پیچھے صفیہ کا دل اندر ہی اندر ایک انجانے خوف سے لرز رہا تھا۔ یہ طوفان سے پہلے کا وہ سکون تھا جو انسان کو چوکنا کر دیتا ہے۔ وہ جانتی تھی کہ رحمت خان جیسے انسان اتنی آسانی سے اپنی شکست تسلیم نہیں کرتے، اور اس کی خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔
شام کے سائے گہرے ہونے لگے، تو صفیہ کے کچے مکان میں زندگی کے رنگ کچھ مختلف نظر آنے لگے۔ سجیلا اب بڑی ہو رہی تھی؛ وہ اب بستر پر لیٹی رہنے والی معصوم بچی نہیں تھی، بلکہ دیواروں اور چیزوں کو سہارے سے پکڑ پکڑ کر اپنے ننھے قدموں پر چلنا سیکھ رہی تھی۔ اس کے اکھڑتے اور سنبھلتے قدم صفیہ کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی بن چکے تھے۔ اس دوران خالا کوثر اس کے پاس اکثر آتی رہتی تھیں، ان کا پیار اور اپنائیت صفیہ کے لیے بہت بڑا سہارا تھی۔ کبھی کبھی اسکول میں خدیجہ سے بھی ملاقات ہو جاتی تھی، جو صفیہ کے دکھ سکھ میں اس کے ساتھ کھڑی رہتی۔ خالا کوثر تو دل سے چاہتی تھیں کہ صفیہ اور معصوم سجیلا اب ان کے ساتھ ان کے اپنے گھر ہی میں رہیں، تاکہ رحمت خان کے کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔ لیکن صفیہ، جو ہمالیہ جیسی مضبوط شخصیت کی مالک تھی، اپنی خودداری پر آنچ نہیں آنے دینا چاہتی تھی۔ وہ کسی پر بوجھ بننے کے بجائے، اپنی محنت اور وقار کے ساتھ اکیلے ہی اپنی بچی کی بہترین پرورش کرنا چاہتی تھی، اور اس کا یہی استقلال اس کا زیور تھا۔
رات کا اندھیرا جب پوری وادی پر چھا گیا، تو رحمت خان کی کار خاموشی سے گاؤں کی حدود میں داخل ہوئی۔ کسی کی نظروں میں آئے بغیر، وادی میں داخل ہوتے ہوئے رحمت خان نے احتیاطاً اپنے منہ کو رومال سے اچھی طرح ڈھک لیا تھا تاکہ اندھیرے میں بھی کوئی اسے پہچان نہ سکے۔ اس کے ذہن کی اسکرین پر خالا کوثر کے گھر کا راستہ بالکل صاف اور یاد تھا۔ وہ یہ سمجھ کر یہاں آیا تھا کہ صفیہ اور سجیلا یہیں ہوں گی، کیونکہ اسے اس بات کا بالکل علم نہیں تھا کہ پیر سائیں نے ان دونوں کو پہلے ہی ایک دوسری محفوظ جگہ پر منتقل کر دیا ہے۔ اس نے گلی کے موڑ پر، گھر سے کچھ فاصلے پر اندھیرے میں گاڑی روکی اور چپکے سے اترا۔ وہ دبے قدموں دیوار کے قریب پہنچا اور اس نے اندر گھسنے کے لیے دیوار پھلانگ لی۔ لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ حق کے محافظ کبھی سوتے نہیں ہیں۔ پیر سائیں کے مرید، جو علاقے کی نگرانی پر مامور تھے، ان میں سے ایک مرید نے اندھیرے میں اس مشکوک سائے کو دیوار پھلانگتے ہوئے دیکھ لیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر فوراً خالا کوثر کے گھر کی جانب بھاگا۔
ابھی وہ مرید گھر کے بالکل قریب پہنچے ہی تھے کہ انہوں نے پوری طاقت سے خالا کوثر کے گھر کا بیرونی دروازہ بجایا اور زور زور سے آوازیں لگانے لگے۔ باہر اچانک مریدوں کے پہنچنے اور شور کی آواز سن کر رحمت خان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ خوف اور گھبراہٹ کے عالم میں اپنی پستول کو کپڑوں میں چھپائے ہوئے، اسے مجبوراً خالا کوثر کے صحن کے ایک اندھیرے کونے میں چھپنا پڑا۔ وہ اب بھی اس حقیقت سے بالکل بے خبر تھا کہ یہاں نہ صفیہ موجود ہے اور نہ ہی سجیلا۔ باہر کا شور سن کر خالا کوثر نے گھبرا کر دروازہ کھولا، تو سامنے پیر سائیں کے مرید کھڑے تھے۔ مرید نے جلدی سے کہا، "خالا جی! کوئی دیوار پھلانگ کر آپ کے گھر کے اندر آیا ہے، ہمیں تلاشی لینی ہے، آپ لوگوں کی جان کو خطرہ ہے!"
(جاری ہے)
کاپی رائٹ اور ڈسکلیمر
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں ©
2026 ناول: سجیلا (قسط نمبر 13)
تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز
Comments
Post a Comment