ناول: سجیلا (قسط نمبر 15)
ناول: سجیلا
(قسط نمبر 15)
عنوان: انصاف کی دہلیز اور مامتا کی جیت
تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)
خالا کوثر کے گھر کے صحن میں آج ایک عجیب سا سکون تھا، وہ گھبراہٹ اور خوف جو پچھلی کئی راتوں سے دیواروں سے چمٹا ہوا تھا، اب ہوا کے جھونکوں کے ساتھ رخصت ہو چکا تھا۔ صفیہ نے آج کئی مہینوں بعد اطمینان کی نیند لی تھی۔ جب وہ صبح بیدار ہوئی تو سورج کی پہلی کرنیں کھڑکی سے چھن کر فرش پر ایک سنہری جال بن رہی تھیں۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کی زندگی کا سیاہ باب اب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔ رحمت خان کی گرفتاری نے اسے وہ ذہنی تحفظ فراہم کر دیا تھا جس کی وہ برسوں سے تمنا کر رہی تھی۔
شہر کی سیشن عدالت میں آج گہما گہمی عروج پر تھی۔ وکیل شاہد الٰہی نے بڑی مہارت سے کیس تیار کیا تھا۔ کمرہ عدالت میں جب رحمت خان کو لایا گیا، تو اس کے چہرے پر وہ پرانا تکبر نام کو بھی نہ تھا۔ زنجیروں کی جھنکار اس کے ہر قدم کے ساتھ اس کی ذلت کا اعلان کر رہی تھی۔ کٹہرے میں کھڑے ہو کر اس نے ایک بار صفیہ کی طرف دیکھا، جو دور ایک بنچ پر خالا کوثر کے ساتھ بیٹھی تھی۔ صفیہ کا سر آج جھکا ہوا نہیں تھا، بلکہ اس کی آنکھوں میں ایک خاموش وقار تھا جو حق سچ کی فتح کی گواہی دے رہا تھا۔
وکیل شاہد الٰہی نے عدالت کے سامنے وہ پستول پیش کیا جو رحمت خان کے پاس سے برآمد ہوا تھا۔ "جنابِ عالی! یہ محض ایک ہتھیار نہیں ہے، بلکہ اس ملزم کے بھیانک ارادوں کا ثبوت ہے۔ فارنزک رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اس پستول پر موجود انگلیوں کے نشانات براہِ راست رحمت خان کے ہیں۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ چوری کی نیت سے نہیں، بلکہ قتل کے ارادے سے صفیہ بیٹی کے گھر میں داخل ہوا تھا۔" شاہد الٰہی کی گونجدار آواز نے عدالت میں سناٹا طاری کر دیا۔ رحمت خان کے پاس اب مکرنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ گواہوں کے بیانات، آلہِ قتل کی برآمدگی اور حاجی سلیمان کی منڈی کے غبن سے متعلق گواہی نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔
جج صاحب نے تمام شواہد کو بغور دیکھنے کے بعد اپنا قلم اٹھایا اور فیصلہ سنانا شروع کیا۔ "عدالت تمام ثبوتوں اور بیانات کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ملزم رحمت خان نہ صرف غبن اور دھوکہ دہی کا مرتکب ہوا ہے، بلکہ اس نے ایک اکیلی عورت اور معصوم بچی کی جان لینے کی مجرمانہ کوشش بھی کی ہے۔ لہٰذا، عدالت اسے مجموعی طور پر 15 سال قیدِ بامشقت کی سزا سناتی ہے۔" فیصلہ سنتے ہی رحمت خان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ 15 سال کی طویل قید! اس کے ذہن میں وہ اندھیری کوٹھری گھوم گئی جہاں اب اسے اپنی زندگی کے بہترین سال مشقت کرتے ہوئے گزارنے تھے۔ پولیس کے جوانوں نے اسے بازو سے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے باہر لے جانے لگے۔ صفیہ نے ایک گہرا سانس لیا، اس کے دل سے ایک بوجھ اتر گیا تھا۔
عدالتی کارروائی کے بعد زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آنے لگی، لیکن صفیہ کے لیے سب سے بڑی خوشی ابھی باقی تھی۔ سجیلا، جو اب ایک سال سے زائد کی ہو چکی تھی، اپنی مخصوص دنیا میں رہتی تھی۔ صفیہ نے اس پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر دی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ سجیلا دیگر بچوں جیسی نہیں ہے، اس کی ذہنی اور جسمانی ساخت میں وہ مکمل پن نہیں تھا جو عام بچوں میں ہوتا ہے، لیکن صفیہ کے لیے وہ کائنات کا سب سے خوبصورت تحفہ تھی۔
ایک دوپہر، جب دھوپ صحن میں پھیلی ہوئی تھی، صفیہ سجیلا کو گود میں لیے بیٹھی اسے لوریاں سنا رہی تھی۔ اچانک سجیلا نے صفیہ کے دوپٹے کو اپنے چھوٹے ہاتھوں سے پکڑا اور اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہا، "ما۔۔۔ماں!"
صفیہ کا دل دھڑکنا بھول گیا۔ اسے لگا جیسے کائنات کی تمام موسیقی ان دو لفظوں میں سمٹ آئی ہے۔ سجیلا کی آواز عام بچوں کی طرح تیز اور تیکھی نہیں تھی، بلکہ اس میں ایک عجیب سی دھیمی اور مدھم سی گونج تھی، جیسے دور کہیں کوئی ساز بج رہا ہو۔ پاس بیٹھی مائی ہاجرہ، جسے پیر سائیں نے سجیلا کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کیا تھا، بھی حیرت زدہ رہ گئی۔ "بی بی! اس بچی کی آواز تو بالکل الگ ہے۔ میں نے آج تک ایسی آواز نہیں سنی، کتنی میٹھی اور درد بھری ہے یہ پکار۔"
خالا کوثر، جو کچن سے باہر آ رہی تھیں، نے یہ منظر دیکھا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہوں نے فوراً سجیلا کو صفیہ کی گود سے لے کر سینے سے لگا لیا۔ وہ جانتی تھیں کہ سجیلا کی یہ "مختلف" آواز اور اس کا لہجہ لوگوں میں چہ مگوئیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ گاؤں کے لوگ اکثر ایسی چیزوں کو کسی سحر یا انوکھی بات سے منسوب کر دیتے ہیں۔ خالا کوثر نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ وہ سجیلا کی حفاظت کی ذمہ داری خود لیں گی۔ انہوں نے صفیہ سے کہا، "صفیہ! میری جان، اب تجھے سکون ملا ہے تو اسے قائم رکھنا۔ سجیلا کی دیکھ بھال اب میں کروں گی۔ اس کی آواز اور اس کے انداز کو ہم اپنی حد تک رکھیں گے تاکہ کوئی حاسد یا فضول گو انسان اس معصوم پر زبان نہ اٹھا سکے۔"
کچھ ہی دنوں بعد، پیر سائیں ذوالفقار نے وکیل شاہد الٰہی کو بلا کر خلع کے کیس کے بارے میں دریافت کیا۔ شاہد الٰہی نے بتایا، "پیر سائیں! خلع کے لیے صفیہ بی بی کو ایک بار فیملی کورٹ میں پیش ہونا پڑے گا۔ قانون کا تقاضا ہے کہ جج صاحبہ ایک بار دونوں فریقین کا موقف سنیں اور صلح کی آخری کوشش کریں، اس کے بعد ہی فیصلہ سنایا جاتا ہے۔" پیر سائیں نے صفیہ کو آمادہ کیا اور ایک بار پھر شہر کی عدالت کی طرف سفر شروع ہوا۔
فیملی کورٹ کا ماحول سیشن کورٹ سے مختلف تھا۔ یہاں جذبات اور ٹوٹے ہوئے رشتوں کی کہانیاں بکھری ہوئی تھیں۔ صفیہ جب عدالت کے کمرے میں داخل ہوئی تو رحمت خان پہلے سے وہاں موجود تھا۔ اسے جیل کے کپڑوں میں دیکھ کر صفیہ کو ذرا بھی ترس نہ آیا۔ رحمت خان نے جب صفیہ کو دیکھا، تو وہ دنگ رہ گیا۔ یہ وہ صفیہ نہیں تھی جو اس کے سامنے ہاتھ جوڑتی تھی یا خوف سے کانپتی تھی۔ اس کے سامنے ایک پراعتماد، باوقار اور خوبصورت عورت کھڑی تھی جس کی آنکھوں میں اب اس کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔
جج صاحبہ نے سوال کیا، "صفیہ بی بی! کیا آپ کسی بھی قیمت پر اس شخص کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں؟" صفیہ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے، صاف اور دو ٹوک لہجے میں کہا، "جناب! جو شخص میری اور میری بچی کی جان لینے نکلا ہو، اس کے ساتھ زندگی گزارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مجھے اس سے صرف آزادی چاہیے، ہمیشہ کے لیے۔"
رحمت خان یہ سن کر کڑھنے لگا۔ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس نے کتنی جلد بازی کی۔ اگر وہ صفیہ کی قدر کرتا، اگر وہ حرص اور لالچ میں اندھا نہ ہوتا، تو آج یہ باوقار عورت اس کے گھر کی زینت ہوتی۔ اسے وہ وقت یاد آیا جب وہ صفیہ کو حقارت سے دیکھتا تھا، اور آج وہ خود ایک قیدی تھا جبکہ صفیہ ایک آزاد اور معتبر زندگی کی طرف بڑھ رہی تھی۔
عدالت نے صفیہ کے حق میں خلع کا فیصلہ سنا دیا۔ جیسے ہی دستخط ہوئے، صفیہ کو محسوس ہوا جیسے اس کی روح پر لگے تمام زخم ایک پل میں بھر گئے ہیں۔ وہ اب کسی کی "ملکیت" نہیں تھی، وہ صرف اپنی اور سجیلا کی تھی۔
عدالت سے باہر نکلتے ہوئے رحمت خان نے ایک آخری نظر صفیہ پر ڈالی۔ وہ مشقت والی قید کاٹنے کے لیے جیل کی وین کی طرف جا رہا تھا، اور صفیہ پیر سائیں اور خالا کوثر کے ساتھ روشنی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ رحمت خان کو اب سمجھ آ رہا تھا کہ اس نے کیا کھو دیا ہے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب وہ برسوں تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑے گا، جبکہ صفیہ اور سجیلا اس وادی کی ٹھنڈی ہواؤں میں سکھ کا سانس لیں گے۔
صفیہ نے گاڑی میں بیٹھتے ہی آسمان کی طرف دیکھا، جہاں پرندے آزاد اڑ رہے تھے۔ اسے لگا جیسے وہ بھی ان پرندوں کی طرح آج پہلی بار سچی اڑان بھرنے کے لیے تیار ہے۔ اب اس کی منزل سجیلا تھی، اس کی تعلیم، اس کی پرورش اور اس کا مستقبل۔ سجیلا کی وہ دھیمی سی آواز "ماں" اس کے کانوں میں اب بھی گونج رہی تھی، جیسے اسے بتا رہی ہو کہ اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
(جاری ہے)
کاپی رائٹ اور ڈسکلیمر: جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026
ناول: سجیلا (قسط نمبر 15)
تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)
پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز
Comments
Post a Comment