ناول: سجیلا (قسط نمبر 16)
ناول: سجیلا
(قسط نمبر 16)
آزادی کی دھوپ اور علم کی روشنی
تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) ---
آج کی صبح کچھ الگ ہی تھی۔ فضا میں پھیلی خنکی میں ایک انوکھی تازگی اور میں ایک بھینی بھینی خوشبو رچی ہوئی تھی جو روح کو سرشار کر رہی تھی۔ صفیہ جب بیدار ہوئی تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے برسوں سے اس کے وجود کو جکڑے ہوئے وہ بھاری لوہے کے بوجھل کڑے، وہ زنجیریں، ایک ہی جھٹکے میں ٹوٹ کر گر گئی ہوں۔ وہ زنجیریں اس کے ماضی کی تلخ یادوں کی تھیں، وہ خوف جو اسے ہر لمحہ گھیرے رکھتا تھا، اب ہمیشہ کے لیے کہیں پیچھے چھوٹ چکا تھا۔ وہ اب آزاد تھی—اپنے فیصلوں میں، اپنی سانسوں میں اور اپنی ممتا کے تقدس میں۔ سورج کی پہلی سنہری کرنیں جب کچے صحن پر پڑیں تو صفیہ نے ہاتھ اٹھا کر اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ یہ نیا دن اس کے لیے نئی زندگی کا پیامبر بن کر آیا تھا، ایک ایسی زندگی جہاں اس کے سر پر کسی ظالم کا سایہ نہیں تھا۔
آج کا دن پورے گاؤں کے لیے بھی ایک حیرت کا باعث تھا، کیونکہ آج پیر سائیں ذوالفقار نے اپنی حویلی میں ایک بڑی دعوت کا اہتمام کر رکھا تھا۔ اس خاص دعوت میں خالا کوثر، خدیجہ اور خاص طور پر صفیہ کو مدعو کیا گیا تھا تاکہ گاؤں والوں پر یہ واضح ہو سکے کہ صفیہ اب بے سہارا نہیں ہے۔ پیر سائیں نے صفیہ کو صرف پناہ نہیں دی تھی، بلکہ اسے اپنی بیٹی کا درجہ دیا تھا اور وہ صفیہ کے تحفظ اور عزت کے لیے جو کچھ بھی کر رہے تھے، وہ سب کے سامنے عیاں تھا۔
ابھی دوپہر کی دھوپ چمکی ہی تھی کہ پیر سائیں کی سیاہ، چمکتی ہوئی گاڑی خالا کوثر کے کچے گھر کے سامنے آ کر رک گئی۔ جب پیر سائیں کے مسلح محافظوں نے انتہائی احترام کے ساتھ گاڑی کا دروازہ کھولا اور صفیہ، خالا کوثر اور خدیجہ کو بٹھایا، تو ارد گرد کے گھروں سے جھانکتی آنکھیں دنگ رہ گئیں۔ گاؤں کے لوگوں کی نگاہوں میں حیرت، رشک اور حسرت کا ایک عجیب ملا جلا طوفان تھا۔
گاڑی کو کچے راستے پر دھول اڑاتے جاتے دیکھ کر گاؤں کی کچھ عورتیں، جو اپنے گھروں سے نکل کر کھیتوں کی طرف کام کے لیے جا رہی تھیں، وہیں رک گئیں اور چہ مگوئیاں کرنے لگیں۔
"ہائے ری قسمت! ذرا دیکھو تو سہی اس صفیہ کی تقدیر۔" ایک عورت نے اپنے سر کا پلو ٹھیک کرتے ہوئے حسرت سے کہا۔ "کل تک سارا گاؤں اس پر باتیں بنا رہا تھا، کوئی طعنے دے رہا تھا تو کوئی ترس کھا رہا تھا۔ اور آج دیکھو! پیر سائیں کی سرپرستی میں آتے ہی اس کے کیسے بھاگ جاگے ہیں۔ قسمت کی بات ہے ورنہ بیٹیاں تو ہماری بھی جوان بیٹھی ہیں، کوئی مڑ کر پانی کا نہیں پوچھتا۔ اوپر سے لوگ پیر سائیں کے غصے سے ویسے ہی تھر تھر کانپتے ہیں۔"
دوسری عورت نے کندھے پر رکھی چادر کو سنبھالا اور دھیمی آواز میں بولی، "قریب آ کر تو دیکھو، صفیہ کوئی عام عورت تو نہیں ہے۔ اس کی بہادری دیکھو، اپنے شوہر کے سامنے ڈٹ گئی اور عدالت سے خلع لے کر ہی دم لیا۔ اور اب سن رہی ہوں کہ پیر سائیں نے اپنی چلتی ہوئی طاقت کے بل بوتے پر اسے گاؤں کے سرکاری اسکول میں استانی کی نوکری پر بھی لگوا دیا ہے۔ اب وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوگی۔"
"ارے آہستہ بول! تیری زبان تجھے کسی مصیبت میں نہ ڈال دے۔" پہلی عورت نے گھبرا کر دائیں بائیں دیکھا۔ "پیر سائیں کے مرید ہر وقت ادھر ادھر گھومتے رہتے ہیں، کسی نے سن لیا تو خیر نہیں ہوگی۔ چل، اب جلدی کر، فضل کے کھیتوں میں کٹائی کا کام شروع ہونے والا ہے، دیر ہو گئی تو چوہدری دہاڑی کاٹ لے گا۔" دونوں عورتیں تیز قدم اٹھاتی ہوئی کھیتوں کی طرف بڑھ گئیں، لیکن ان کے ذہنوں پر صفیہ کی اس نئی پروقار حیثیت کا رعب طاری تھا۔
جب گاڑی حویلی کے عظیم الشان دروازے سے اندر داخل ہوئی تو صفیہ اور خالا کوثر کا استقبال انتہائی شاندار اور معزز طریقے سے کیا گیا۔ حویلی کے ملازمین اور خواتین نے آگے بڑھ کر انہیں خوش آمدید کہا اور سیدھا اندرونی مہمان خانے لے گئیں۔ پیر سائیں کی حویلی میں پردے اور حیا کا بہت سخت اور مثالی انتظام تھا۔ خواتین کا حصہ بالکل الگ اور محفوظ تھا، جہاں کسی بھی غیر مرد یا بیرونی بندے کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع تھا۔
خالا کوثر جب بھی حویلی کی بچیوں کو قرآن پڑھانے آتی تھیں، تب بھی انہیں بہت عزت دی جاتی تھی، لیکن آج صفیہ کے لیے جو احترام اور پروٹوکول تھا، وہ دیکھ کر صفیہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اسے لگا کہ اس کی پامال شدہ عزتِ نفس کو رب نے دوبارہ اس حویلی کے در و دیوار سے لوٹا دیا ہے۔
دوپہر کے پرتکلف اور لذیذ کھانے کے بعد، جب سب خواتین چائے پی رہی تھیں، تو ایک ملازمہ نے آ کر انتہائی ادب سے اطلاع دی، "بی بی جی! پیر سائیں اندر تشریف لا رہے ہیں۔"
یہ حویلی کا پُرانا اصول تھا کہ گھر کے اندر داخل ہونے سے پہلے بھی خواتین کو باقاعدہ مطلع کیا جاتا تھا۔ ملازمہ کی بات سنتے ہی تمام خواتین نے مستعدی سے اپنے دوپٹے سروں پر اچھی طرح درست کیے، چہرے کا پردہ سنبھالا اور احتراماً ایک طرف باادب ہو کر بیٹھ گئیں۔
پیر سائیں نے اندرونی دروازے پر دستک دی، اور پھر نیچی نگاہوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے۔ ان کے چہرے کا جلال اور ان کی سفید داڑھی ان کی شخصیت کو مزید معتبر بنا رہی تھی۔
انہوں نے نرم اور گونجدار آواز میں سلام کیا اور صفیہ کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے خالا کوثر کی طرف دیکھا۔ "کیسی ہیں آپ، کوثر بہن؟ صحت کیسی ہے آپ کی؟"
خالا کوثر نے احترام سے سر جھکایا اور بولیں، "پیر سائیں! اللہ کا بے انتہا شکر ہے اور آپ کا بھی بہت بہت احسان ہے۔ آپ نے صفیہ بیٹی کو جو عزت دی، جو تحفظ فراہم کیا اور آج جو ہماری عزت افزائی کی ہے، اس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔"
پیر سائیں ذوالفقار کے چہرے پر ایک دھیمی اور پروقار مسکراہٹ ابھر آئی۔ انہوں نے نفی میں سر ہلایا اور بڑے مخلصانہ انداز میں کہا، "کوثر بہن! یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ احسان تو ہم پر آپ کے خاندان کا ہے۔ ہمارے بزرگوں سے لے کر اب تک، آپ کا خاندان ہماری حویلی کی نسلوں کو قرآنِ پاک سکھانے اور علمِ دین کی روشنی دینے کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ دین کا جو علم آپ ہمارے بچوں کے سینوں میں منتقل کرتی ہیں، ہم اس کا قرض تو ساری زندگی نہیں چکا سکتے۔ اور جہاں تک صفیہ بیٹی کی بات ہے، تو علم کی دولت ہی وہ واحد نور ہے جو معاشرے کی جہالت کے اندھیروں کو دور کرتی ہے۔ صفیہ اب صرف ایک مظلوم عورت نہیں، بلکہ اس گاؤں کی بیٹیوں کی معمار بنے گی جب وہ اسکول میں بچوں کو پڑھائے گی۔"
پیر سائیں کے ان سنہری اور وزنی الفاظ نے صفیہ کے دل میں ایک نیا عزم اور حوصلہ پیدا کر دیا تھا، اور وہ اب اپنے نئے سفر کے لیے بالکل تیار تھی۔
حویلی سے واپسی کا سفر خاموشی مگر دل میں ایک طمانیت لیے ہوئے کٹ گیا۔ جب صفیہ اور خالا کوثر اپنے کچے گھر کی دہلیز پر پہنچیں، تو سورج غروب ہو رہا تھا اور شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ صفیہ نے سجیلا کو گود میں لیا اور اس کی معصوم پیشانی پر پیار کیا۔ لیکن گھر کے اندر داخل ہوتے ہی فضا میں ایک خاموش سا تناؤ محسوس ہو رہا تھا، جس کی وجہ مائی ہاجرہ تھی۔
مائی ہاجرہ، جسے پیر سائیں نے خاص طور پر سجیلا کی دیکھ بھال اور مدد کے لیے مقرر کیا تھا، کچن کے برتن سمیٹ کر صحن میں آئی اور خالا کوثر کے قریب بیٹھ گئی۔ اس کے چہرے پر تجسس اور الجھن کے ملے جلے تاثرات واضح تھے۔
"خالا کوثر! ایک بات تو بتائیں۔" ہاجرہ نے دھیمی اور رازدانہ آواز میں پوچھا۔ "یہ ننھی سجیلا دیکھنے میں تو ماشاء اللہ اتنی معصوم اور پیاری گڑیا جیسی ہے، لیکن اس کی آواز اتنی عجیب اور الگ کیوں ہے؟ جب وہ بولتی ہے تو آواز میں وہ تیکھا پن نہیں ہوتا جو اس عمر کی بچیوں کا ہوتا ہے۔ اور ایک بات اور۔۔۔" ہاجرہ نے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے صفیہ کے کمرے کی طرف دیکھا اور کہا، "آج جب میں اسے نہلانے کے لیے لے جانے لگی، تو صفیہ باجی نے مجھے سخت لہجے میں روک دیا۔ کہنے لگیں کہ میں اسے ہاتھ نہ لگاؤں، وہ خود اسے نہلائیں گی۔ ایسی کیا بات ہے خالا، جو صفیہ باجی مجھے اس کے کپڑے تک بدلنے نہیں دیتیں؟ آخر مجھ سے کیا پردہ ہے؟"
ہاجرہ کے ان سوالوں نے خالا کوثر کے دل کی دھڑکن تیز کر دی۔ ان کا تجربہ کار ذہن فوراً سجیلا کی اس دردناک حقیقت کی طرف گیا جسے وہ دنیا سے چھپائے ہوئے تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ صفیہ ہاجرہ کو سجیلا کے قریب کیوں نہیں جانے دیتی۔ صفیہ کا یہ خوف بلاوجہ نہیں تھا۔ سجیلا ایک مکمل لڑکی نہیں تھی۔ وہ ایک ایسی معصوم جان تھی جو نہ تو مکمل طور پر لڑکی تھی اور نہ ہی لڑکا۔۔۔ وہ ایک متبادل جنس (انٹرسیکس / مخنث) کے روپ میں پیدا ہوئی تھی۔
اسی گہرے دکھ اور دنیا کے سفاک رویوں کے خوف کی وجہ سے ہی تو صفیہ اپنے سسرال اور اس جاہل معاشرے کی نظروں سے بچنے کے لیے سجیلا کو لے کر اس دور دراز گاؤں میں آ بسی تھی۔ لیکن خالا کوثر کے دل میں ایک بڑا دھچکا لگا کہ آخر یہ بات کب تک اور کیسے چھپائی جا سکتی ہے؟
آج تو صرف ہاجرہ نے شک کے دائرے میں سوال پوچھا ہے، لیکن کل کو اگر اسے حقیقت کا علم ہو گیا، تو یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پورے گاؤں کی عورتوں میں پھیل جائے گی۔ لوگ تو تماشہ بنانے کے لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ اگر یہ راز کھلا، تو وہی لوگ جو آج صفیہ کی تقدیر پر رشک کر رہے ہیں، کل اس کی معصوم بچی کا مذاق اڑائیں گے اور صفیہ کو جینے نہیں دیں گے۔ اس کی عزت مٹی میں مل جائے گی۔
خالا کوثر نے لمحوں میں اپنے ذہن میں ایک پکا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے سوچا کہ صفیہ کے اسکول جانے کے بعد، وہ ہاجرہ کو سجیلا کی دیکھ بھال سے بالکل دور رکھیں گی۔ وہ ہاجرہ سے گھر کے دوسرے کام کاج، جیسے جھاڑو پونچھا، برتن اور کڑھائی کا کام کروائیں گی، جبکہ سجیلا کی دیکھ بھال، اسے نہلانا، کپڑے پہنانا اور اس کے ساتھ وقت گزارنا وہ خود سنبھالیں گی تاکہ راز ہمیشہ راز ہی رہے۔
اپنے چہرے کے تاثرات کو چھپاتے ہوئے، خالا کوثر نے ایک مصنوعی مسکراہٹ سجائی اور ہاجرہ سے بولیں، "ہاجرہ بی بی! تم تو جانتی ہو کہ صفیہ نے اپنی زندگی میں کتنے دکھ جھیلے ہیں۔ سجیلا اس کی اکلوتی امید ہے۔ مائیں اپنے بچوں کے معاملے میں تھوڑی ضدی اور حساس ہو ہی جاتی ہیں، وہ کسی دوسرے کو اپنے بچے کی دیکھ بھال کا کریڈٹ نہیں دینا چاہتیں۔ تم دل پر مت لو۔ تم ایسا کرو، کچن کا کام سمیٹ لو اور کل سے صفیہ کے اسکول جانے کے بعد مجھے صحن کی صفائی اور کڑھائی کے کام میں مدد دیا کرنا۔ سجیلا کو میں خود سنبھال لیا کروں گی تاکہ صفیہ بھی بے فکر رہے۔"
ہاجرہ نے اثبات میں سر ہلایا اور کچن کی طرف چلی گئی۔ خالا کوثر نے ایک گہرا ٹھنڈا سانس لیا، سجیلا کو گود میں اٹھایا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں، جہاں دیواروں پر اب اندھیرا پھیل رہا تھا، لیکن ان کا دل صفیہ اور سجیلا کی حفاظت کی نئی فکر سے بوجھل ہو چکا تھا۔
(جاری ہے)
📝 کاپی رائٹ اور ڈسکلیمر:
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 ناول: سجیلا (قسط نمبر 16)تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز https://ishratdigitalcreation.com/#novels
https://ishratdigitalcreation.com/#novels
Comments
Post a Comment