ناول: سجیلا (قسط نمبر 17)


ناول: سجیلا
(قسط نمبر 17)
عنوان: علم کا سفر اور آزمائش کی دستک
تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)
 پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز ---

رات کے سائے جیسے جیسے گہرے ہو رہے تھے، خالا کوثر کے دل کا بوجھ بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ صحن میں لیمپ کی مدہم روشنی میں وہ جائے نماز پر بیٹھی دیر تک سجدے میں روتی رہیں۔ مائی ہاجرہ کے سوالات کوئی عام سوال نہیں تھے، بلکہ وہ اس طوفان کا پیش خیمہ تھے جو کسی بھی وقت ان کی چھوٹی سی پرسکون دنیا کو تہس نہس کر سکتا تھا۔ دوسری طرف صفیہ اپنے کمرے میں سجیلا کو سینے سے لگائے گہری نیند سو رہی تھی، اس کے چہرے پر ایک طویل عرصے کے بعد ایک دھیمی سی مسکراہٹ تھی—اسکول جانے کی خوشی، اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا خواب۔ خالا کوثر نے اس کے معصوم چہرے کو دیکھ کر اپنے آنسو پونچھے اور دل میں عہد کیا کہ وہ اس ممتا کے مان کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیں گی۔

اگلی صبح زندگی کا ایک نیا باب لے کر طلوع ہوئی۔ صفیہ نے سفید سوتی جوڑا پہنا، سر پر خاکی رنگ کی بڑی چادر اوڑھی، اور آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ آج اس کی آنکھوں میں وہ پرانا خوف نہیں تھا، بلکہ ایک استانی کا وقار اور سنجیدگی تھی۔

جب وہ کمرے سے باہر آئی تو خالا کوثر نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور دہی کا چمچ اس کے منہ میں ڈالا۔ "اللہ تمہیں سرخرو کرے بیٹی، آج سے تم صرف اپنی نہیں، بلکہ اس گاؤں کی تقدیر بدلنے جا رہی ہو۔"

صفیہ کی آنکھیں بھر آئیں، اس نے خالا کے ہاتھ چومے اور پھر چارپائی پر سوئی ہوئی سجیلا پر ایک آخری نظر ڈالی۔ خالا کوثر نے صفیہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا، "تم بے فکر ہو کر جاؤ صفیہ، سجیلا کی ذمہ داری اب میری ہے۔ جب تک میں زندہ ہوں، کوئی اس کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔"

صفیہ جب گھر کی دہلیز پار کر کے گلی میں نکلی، تو مائی ہاجرہ صحن میں جھاڑو لگا رہی تھی۔ اس نے صفیہ کو جاتے ہوئے بڑے غور سے دیکھا، اس کی نظروں میں اب بھی وہی پرانا تجسس ناچ رہا تھا۔ صفیہ کے جاتے ہی ہاجرہ نے جھاڑو ایک طرف رکھا اور خالا کوثر کے کمرے کی طرف قدم بڑھائے، جہاں ننھی سجیلا اب جاگ چکی تھی اور بستر پر بیٹھی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے کھیل رہی تھی۔

"خالا کوثر! لائیے، صفیہ باجی تو چلی گئیں، اب میں سجیلا کو نہلا دھلا کر نئے کپڑے پہنا دیتی ہوں، آپ کڑھائی کا کام سنبھال لیں۔" ہاجرہ نے جان بوجھ کر سجیلا کے قریب جانے کا بہانہ ڈھونڈا۔

خالا کوثر، جو پہلے ہی چوکنا تھیں، انہوں نے فوراً سجیلا کو اپنی گود میں سمیٹ لیا اور ہاجرہ کو ایک سخت مگر سنجیدہ نظر سے دیکھا۔ "ہاجرہ بی بی! میں نے کل رات ہی تمہیں کہہ دیا تھا نا کہ سجیلا کا سارا کام میں خود کروں گی۔ تم ایسا کرو، پہلے کچے صحن پر لیپ کر لو اور پھر کچن میں دوپہر کے کھانے کے لیے دال چن لو۔ سجیلا کو اب میری عادت ہو چکی ہے، یہ کسی دوسرے کے ہاتھ میں روتی ہے۔"

ہاجرہ کے چہرے پر ایک ناگواری کا سایا لہرایا۔ اس نے بات تو مان لی، لیکن اس کا شک اب یقین میں بدلنے لگا تھا۔ "کچھ تو ایسا ضرور ہے جسے یہ دونوں مائیں دنیا سے چھپا رہی ہیں۔ آخر ایک معصوم بچی کو نہلانے سے مجھے کیوں روکا جاتا ہے؟" اس نے دل میں سوچا اور بڑبڑاتی ہوئی کچن کی طرف چلی گئی۔ خالا کوثر نے راحت کی سانس لی، لیکن وہ جانتی تھیں کہ ہاجرہ پر نظر رکھنا اب ان کے لیے سب سے بڑا امتحان بن چکا تھا۔

دوسری طرف، صفیہ جب گاؤں کے سرکاری اسکول پہنچی تو منظر دیدنی تھا۔ پیر سائیں ذوالفقار کی ہدایت پر اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور دیگر عملے نے صفیہ کا شاندار استقبال کیا۔ گاؤں کا یہ اسکول کچی پکی دیواروں پر مشتمل تھا، جہاں غریب کسانوں اور ہاریوں کی بچیاں ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھتی تھیں۔ صفیہ جب اپنی کلاس میں داخل ہوئی، تو چھوٹی چھوٹی بچیوں نے کھڑے ہو کر یک زبان ہو کر کہا، "السلام علیکم باجی جی!"

ان معصوم بچیوں کی آواز صفیہ کے دل کے تاروں کو چھو گئی۔ اس نے مسکرا کر انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ بلیک بورڈ پر چاک سے اپنا نام لکھتے وقت صفیہ کے ہاتھ ہلکے سے کانپے، لیکن جیسے ہی اس نے مڑ کر ان بچیوں کی آنکھوں میں علم کی پیاس دیکھی، اس کا حوصلہ ہمالیہ سے بھی اونچا ہو گیا۔ اس نے پہلے ہی دن بچیوں کو اتنی محبت اور آسان طریقے سے پڑھایا کہ وہ سب صفیہ کی گرویدہ ہو گئیں اور اسکول کا پہلا دن صفیہ کی زندگی کا سب سے پروقار اور پرسکون دن ثابت ہوا۔

دوپہر کو جب اسکول کی چھٹی ہوئی، تو صفیہ کے دل میں ایک عجیب سی جلدی تھی—سجیلا سے ملنے کی تڑپ۔ وہ تیز قدم اٹھاتی ہوئی گھر کی طرف لوٹ رہی تھی کہ گلی کے موڑ پر اسے وہی دو عورتیں ملیں جو کل چہ مگوئیاں کر رہی تھیں۔

"لو جی! استانی صاحبہ تشریف لے آئیں۔" ایک نے طنز اور حسرت کے ملے جلے لہجے میں کہا۔

صفیہ نے ان کی بات کو نظر انداز کرنا چاہا، لیکن دوسری عورت نے آگے بڑھ کر اس کا راستہ روکا اور بناوٹی ہمدردی سے بولی، "صفیہ بی بی! اللہ نے تمہیں اتنی عزت دی، پیر سائیں کا سایہ ملا، نوکری ملی۔۔۔ لیکن سچی بات بتاؤ، رحمت خان جیسے ظالم کے چنگل سے چھوٹ کر تمہیں کیسا لگ رہا ہے؟ اور سنا ہے تمہاری وہ بچی۔۔۔ سجیلا، وہ اب کیسی ہے؟ مائی ہاجرہ تو کہہ رہی تھی کہ وہ بولتی بڑی الگ آواز میں ہے۔"

عورت کے منہ سے سجیلا کا نام سنتے ہی صفیہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس کا چہرہ زرد پڑ گیا اور دل کی دھڑکنیں بے قابو ہونے لگیں۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کا وہ خوف، جسے وہ دفن کر آئی تھی، دوبارہ اس کے سامنے کھڑا ہو گیا ہے۔

اس نے بڑی مشکل سے اپنے لہجے کو مضبوط کیا اور بولیں، "میری بچی بالکل ٹھیک ہے، اور اللہ کا شکر ہے کہ میں اب ایک آزاد زندگی جی رہی ہوں۔ مجھے دیر ہو رہی ہے، خالا میرا انتظار کر رہی ہوں گی۔" صفیہ تقریباً بھاگتی ہوئی وہاں سے نکل گئی، لیکن ان عورتوں کے جملے اس کے کانوں میں سیسے کی طرح پگھل رہے تھے۔ "مائی ہاجرہ کہہ رہی تھی۔۔۔" اس کا مطلب تھا کہ ہاجرہ نے گھر کی باتیں باہر پھیلانا شروع کر دی تھیں۔

صفیہ جب گھر داخل ہوئی تو وہ بری طرح ہانپ رہی تھی اور اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ خالا کوثر نے اسے اس حالت میں دیکھا تو تڑپ اٹھیں۔ "کیا ہوا صفیہ؟ اسکول میں کسی نے کچھ کہا کیا؟"

صفیہ نے سجیلا کو، جو خالا کی گود میں تھی، جھپٹ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور روتے ہوئے بولی، "خالا! سب ختم ہو جائے گا۔ وہ ہاجرہ۔۔۔ وہ باہر لوگوں میں سجیلا کے بارے میں باتیں کر رہی ہے۔ گلی کی عورتیں مجھ سے سجیلا کی آواز اور اس کے بارے میں سوال پوچھ رہی تھیں۔ خالا! اگر میرا یہ راز کھل گیا، تو یہ جاہل معاشرہ میری معصوم بچی کو جینے نہیں دے گا۔ وہ اسے تماشہ بنا دیں گے!"

خالا کوثر نے فوراً صفیہ کے منہ پر ہاتھ رکھا اور اسے کمرے کے اندر لے گئیں۔ ان کا تجربہ کار ذہن بھانپ گیا کہ اب پانی سر سے گزرنے والا ہے، اور اگر مائی ہاجرہ اس گھر میں مزید رہی تو راز کبھی نہ کبھی ضرور کھل جائے گا۔ انہوں نے صفیہ کے آنسو پونچھے اور مضبوط لہجے میں کہا، "حوصلہ رکھو صفیہ! جب تک میں زندہ ہوں، میں سجیلا پر کوئی آنچ نہیں آنے دوں گی۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم سجیلا کو اس ظالم دنیا کی نظروں سے دور، اس گھر کی چاردیواری کے اندر ہی رکھیں گے۔ ہم اسے کبھی باہر گلیوں میں تماشہ بننے کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔ اس کی تعلیم، اس کی تربیت، سب کچھ تم اور میں مل کر اسی گھر کے اندر کریں گے۔ یہ اسکول نہیں جائے گی، بلکہ ہم اس گھر کو ہی اس کا اسکول بنائیں گے۔"

صفیہ نے حیرت اور امید سے خالا کو دیکھا، جبکہ خالا کوثر کے چہرے پر ایک پکا عزم تھا۔

خالا کوثر اسی وقت کمرے سے باہر صحن میں آئیں، جہاں مائی ہاجرہ کچن کے برتن سمیٹ رہی تھی۔ خالا کوثر نے اپنے لہجے کو انتہائی پرسکون اور سنجیدہ بناتے ہوئے کہا، "ہاجرہ بی بی! اب تم برتن رکھ دو اور میری بات غور سے سنو۔"

ہاجرہ نے چونک کر خالا کو دیکھا۔

خالا کوثر نے کہا، "کل سے تمہیں یہاں کام پر آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب سے گھر کا سارا کام کاج میں خود سنبھالوں گی۔ ویسے بھی ہم تین جانوں کا کام ہی کتنا ہوتا ہے؟ صفیہ اب اسکول چلی جاتی ہے، پیچھے میں اکیلی ہوتی ہوں، تو کام کرتے ہوئے میرا وقت بھی اچھا گزر جائے گا۔ پیر سائیں نے تمہاری ڈیوٹی یہاں لگائی تھی، اس لیے میں پیر سائیں سے خود بات کر لوں گی اور انہیں سب سمجھا دوں گی۔ تم اب آرام سے واپس حویلی چلی جاؤ۔"

مائی ہاجرہ یہ سن کر بالکل دنگ رہ گئی۔ اس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا، "لیکن خالا۔۔۔ پیر سائیں نے تو مجھے بچی کی دیکھ بھال کے لیے۔۔۔"

"میں نے کہہ دیا نا ہاجرہ کہ میں پیر سائیں سے خود بات کر لوں گی، تم فکر مت کرو۔" خالا کوثر نے فیصلے کن انداز میں بات کاٹ دی۔ ہاجرہ نے خالا کے چہرے کا سخت اور اٹل رخ دیکھا تو خاموش ہو گئی، اپنا دوپٹہ سنبھالا اور الجھن و تجسس کا ایک گہرا سایا چہرے پر لیے گھر کی دہلیز پار کر گئی۔

ہاجرہ کے جاتے ہی خالا کوثر نے گھر کا بڑا لکڑی کا دروازہ اندر سے بند کر دیا اور زنجیر چڑھا دی۔ صفیہ سجیلا کو گود میں لیے کمرے کے دروازے پر کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی۔

خالا کوثر صفیہ کے قریب آئیں، سجیلا کے معصوم چہرے کو چوما اور بولیں، "آج سے سجیلا کی دنیا یہ گھر ہے صفیہ۔ ہم اسے اس چاردیواری میں اتنی محبت، اتنی تعلیم اور اتنا بڑا انسان بنائیں گے کہ اسے باہر کی دنیا کی ضرورت ہی نہ رہے۔ یہ راز اب اس گھر کی دیواروں کے اندر ہی جوان ہوگا اور یہیں محفوظ رہے گا۔"

شام کے سائے گہرے ہو چکے تھے، گھر کا دروازہ بند تھا، لیکن صفیہ اور خالا کوثر کے دلوں میں سجیلا کو دنیا کی نظروں سے چھپا کر ایک عظیم انسان بنانے کا ایک نیا اور پرعزم سفر شروع ہو چکا تھا۔

(جاری ہے)


جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 > اس ناول "سجیلا" کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور تحریر، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس یا سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ڈسکلیمر (دستبرداری): > یہ ناول مکمل طور پر ایک افسانوی اور تخیلاتی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے اپنے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا وفات یافتہ)، خاندان یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ ہوگا اور اس کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی سماجی گروہ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔
📩 ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com
💻 آفیشل ویب سائٹ: www.ishratdigitalcreation.com
📚 آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)

🌐 رابطہ اور آفیشل لنکس (Contact & Official Links)

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23