ناول: سجیلا (قسط نمبر 18)

 

ناول: سجیلا

(قسط نمبر 18)
عنوان: اعتبار کی حویلی اور گھر کا مکتب
تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)
پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز

حویلی کے بڑے صحن میں شام کا سورج دھیرے دھیرے ڈھل رہا تھا۔ پیر سائیں ذوالفقار اپنے مخصوص دبدبے کے ساتھ دالان میں بچھی مسند پر بیٹھے تسبیح کے دانوں کو گردان رہے تھے۔ ماحول میں ایک بوجھل سی خاموشی تھی، جسے مائی ہاجرہ کی تیزی سے آتی ہوئی چپلوں کی آواز نے توڑ دیا۔

مائی ہاجرہ کے چہرے پر الجھن، غصہ اور تجسس کا ایک عجیب ملا جلا تاثر تھا۔ وہ تیز قدم اٹھاتی ہوئی پیر سائیں کی مسند کے قریب آئی اور بنا کچھ سوچے سمجھے بول اٹھی، "پیر سائیں! میں تو آپ کے حکم پر اس گھر میں ان دونوں عورتوں کا سہارا بننے گئی تھی، لیکن۔۔۔ لیکن وہاں تو کچھ اور ہی چل رہا ہے۔"

پیر سائیں ذوالفقار نے تسبیح پڑھتے ہاتھ کو روکا۔ ان کی پروقار آنکھوں نے مائی ہاجرہ کے اضطراب کا جائزہ لیا اور دھیمے مگر بارعب لہجے میں پوچھا، "کیا ہوا ہاجرہ؟ خالا کوثر اور صفیہ کی خیریت تو ہے؟ تم اس وقت حویلی واپس کیوں آ گئی ہو؟"

ہاجرہ نے آس پاس دیکھا، جیسے وہ کوئی بہت بڑا راز فاش کرنے جا رہی ہو۔ وہ تھوڑا آگے جھکی اور سرگوشی نما آواز میں بولی، "پیر سائیں! خیریت کیسی؟ خالا کوثر نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے۔ اور سچ پوچھیں تو وہاں دال میں کچھ کالا نہیں، بلکہ پوری دال ہی کالی ہے! صفیہ کی وہ بچی۔۔۔ وہ ننھی سجیلا، وہ عام بچوں جیسی بالکل نہیں ہے پیر سائیں! اس کے بولنے کا انداز، اس کی آواز اور اس کے گرد کا ماحول بہت عجیب ہے۔ خالا کوثر اور صفیہ دنیا سے کوئی بہت بڑا راز چھپا رہی ہیں اور جب میں نے اس بچی کے قریب جانے کی کوشش کی تو انہوں نے مجھے سختی سے روک دیا اور آج گھر سے ہی رخصت کر دیا۔"

مائی ہاجرہ کے ان الفاظ کا پورا ہونا ہی تھا کہ پیر سائیں ذوالفقار کا چہرہ شدید غصے سے سرخ ہو گیا۔ ان کے ماتھے پر بل پڑ گئے اور ان کی رعب دار آواز پورے دالان میں گونج اٹھی، "بس کرو ہاجرہ!"

پیر سائیں اپنی مسند سے اٹھے۔ ان کا غصہ دیکھ کر مائی ہاجرہ کا رنگ فق ہو گیا اور وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔

"تمہیں وہاں کس کام کے لیے بھیجا گیا تھا ہاجرہ؟" پیر سائیں کی آواز میں اتنی سختی تھی کہ صحن میں موجود دیگر ملازمین بھی سہم گئے۔ "ہم نے تمہیں صفیہ اور اس کی معصوم بچی کا خیرخواہ بنا کر بھیجا تھا، ان کا مددگار بنا کر بھیجا تھا! تمہیں ان کی جاسوسی کرنے یا ان کی زندگیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے کے لیے نہیں بھیجا تھا!"

ہاجرہ نے کپکپاتے ہوئے ہاتھ جوڑے، "پیر سائیں، میں تو بس۔۔۔"

"ہماری بات ابھی ختم نہیں ہوئی!" پیر سائیں نے سخت لہجے میں اس کی بات کاٹی۔ "صفیہ اور سجیلا اب ہماری ذمے داری ہیں۔ صفیہ ایک باعزت استانی بن کر گاؤں کا مستقبل سنوار رہی ہے، اور خالا کوثر ہماری محترم ہیں۔ اگر انہوں نے تمہیں عزت سے واپس بھیج دیا ہے تو ہم ان کے اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ ان کا گھر، ان کے فیصلے! تم کون ہوتی ہو ان پر شک کرنے والی؟"

پیر سائیں ذوالفقار کا انداز اتنا اٹل تھا کہ ہاجرہ کے پاس اب صفائی دینے کی کوئی گنجائش نہیں بچی تھی۔

"اب تم چپ چاپ اپنے گھر جاؤ۔" پیر سائیں نے رخ موڑتے ہوئے سرد لہجے میں کہا، "اور جب تک حویلی میں تمہاری ضرورت نہ ہو، یہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔"

مائی ہاجرہ ذلت اور خوف کے احساس سے کانپتی ہوئی جیسے ہی مڑ کر جانے لگی، پیر سائیں کی گرجدار آواز نے اسے وہیں روکا، "ایک بات کان کھول کر سن لو ہاجرہ!"

ہاجرہ جھٹکے سے مڑی اور گردن جھکا لی۔

پیر سائیں نے انگلی اٹھا کر اسے تنبیہ کی، "اگر تمہاری زبان سے اس گاؤں یا گلی محلے میں صفیہ، سجیلا یا خالا کوثر کے بارے میں کوئی ایک منفی لفظ بھی نکلا، تو یاد رکھنا پیر سائیں ذوالفقار کا عتاب تمہارا منتظر ہوگا! اپنی زبان کو لگام رکھنا، اسی میں تمہاری عافیت ہے۔"

مائی ہاجرہ کے دل میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اس نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا اور کپکپاتی آواز میں کہا، "جی سائیں۔۔۔ بالکل سائیں۔۔۔ جیسے آپ کا حکم!" وہ تیزی سے قدم اٹھاتی حویلی کی دہلیز پار کر گئی، لیکن اس کے دل میں خالا کوثر اور صفیہ کے لیے حسد اور بدلے کی آگ اب بھی ہلکی ہلکی سلگ رہی تھی۔

دوسری طرف، خالا کوثر کا چھوٹا سا گھر اب ایک پرسکون مکتب کا منظر پیش کر رہا تھا۔ مائی ہاجرہ کے جانے کے بعد گھر کا بڑا لکڑی کا دروازہ اندر سے بند تھا، اور اس چاردیواری کے اندر ایک نیا، پرعزم سفر شروع ہو چکا تھا۔

صبح کے وقت جب صفیہ اسکول چلی جاتی، تو خالا کوثر گھر کے تمام کام نمٹانے کے بعد سجیلا کو لے کر کچے صحن میں بیٹھ جاتیں۔ انہوں نے بازار سے لایا ہوا رنگ برنگا قاعدہ نکالا۔

سجیلا کی معصوم، چمکتی ہوئی آنکھیں قاعدے کی تصویروں کو بڑے غور سے دیکھتیں۔ خالا کوثر نے بڑی محبت سے سجیلا کو گود میں بٹھایا اور اردو کے بنیادی الفاظ سکھانے شروع کیے۔ "الف سے انار۔۔۔ ب سے بستہ۔۔۔" سجیلا اپنے چھوٹے چھوٹے ہونٹوں سے خالا کوثر کے الفاظ کو دہراتی۔ اس کی آواز میں ایک عجیب سا رس اور معصومیت تھی جو خالا کوثر کے دل کو ٹھنڈک پہنچاتی۔

صرف اردو ہی نہیں، خالا کوثر نے سجیلا کو انگریزی کے اے بی سی  کی پہچان اور ریاضی کے بنیادی اعداد بھی سکھانے شروع کر دیے تھے۔ وہ صحن کی مٹی پر لکڑی کی چھوٹی سی چھڑی سے "1، 2، 3" لکھتیں اور سجیلا سے ان پر انگلی رکھوا کر گنتی کرواتیں۔ سجیلا اتنی ذوق و شوق سے پڑھتی کہ خالا کوثر کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ جاتے۔

دوپہر کو جب صفیہ تھکی ہاری اسکول سے لوٹتی، تو سجیلا بھاگ کر اپنی ماں سے لپٹ جاتی اور خالا کا سکھایا ہوا سبق سنا کر صفیہ کی دن بھر کی تھکن پل بھر میں مٹا دیتی۔

رات کے وقت، جب لالٹین کی مدہم روشنی کمرے کو منور کرتی، تو صفیہ کی ڈیوٹی شروع ہوتی۔ صفیہ ایک ہمدرد استانی اور شفقت بھری ماں کا روپ دھار لیتی۔ وہ سجیلا کو اپنے سامنے بٹھاتی، اس کے چھوٹے سے معصوم ہاتھ میں پنسل پکڑاتی اور بڑی نرمی سے اس کی انگلیوں کو سمیٹ کر پنسل کی گرفت مضبوط کرنا سکھاتی۔

"ایسے نہیں سجیلا بیٹی۔۔۔ پنسل کو یہاں سے ہلکے سے پکڑتے ہیں۔" صفیہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کاپی پر لکیریں کھینچنا سکھاتی۔ سجیلا جب کاپی پر ٹیڑھی میڑھی لکیریں بناتی تو صفیہ اور خالا کوثر دونوں مسکرا دیتیں۔

لیکن اس پرسکون تعلیمی سفر کے بیچ، ایک نایا اور اندیشہ ناک طوفان جنم لے رہا تھا۔

روزانہ دوپہر کو جب اسکول کی چھٹی کا وقت ہوتا، تو گلی سے گزرتے بچوں کا شور اور ان کے ہنسنے، بھاگنے کی آوازیں بند دروازے کے اندر تک آتیں۔ ان آوازوں کو سنتے ہی سجیلا کا دھیان قاعدے سے ہٹ جاتا، وہ ایک دم چونک جاتی اور اس کی معصوم آنکھوں میں ایک انوکھا تجسس جاگ اٹھتا۔ وہ بھاگ کر خالا کوثر کے پاس جاتی اور ان کی گود میں اپنا ننھا سا سر رکھ کر پوچھتی، "نانی! یہ کیسی آوازیں ہیں؟ یہ کون بول رہا ہے؟"

خالا کوثر کا دل دھک سے رہ جاتا۔ وہ بڑے پیار سے سجیلا کے گالوں کو تھپتھپاتیں اور دھیمے لہجے میں کہتیں، "یہ بچے ہیں بیٹی۔۔۔ اسکول سے چھٹی ہوئی ہے تو شور کرتے ہوئے اپنے گھروں کو جا رہے ہیں۔"

سجیلا کے چہرے پر الجھن اور ضدی معصومیت کی ایک لہر دوڑ جاتی۔ وہ بند لکڑی کے دروازے کی طرف دیکھتی اور حسرت سے کہتی، "نانی! میں کیوں نہیں جاتی باہر؟ مجھے بھی باہر جانا ہے، مجھے بھی دیکھنا ہے کہ وہ بچے کیسے کھیلتے ہیں۔"

روزانہ اسکول کی چھٹی کے وقت جب باہر سے بچوں کے قہقہے اور شور کی آوازیں آتیں، تو سجیلا کے اندر کا شور بھی بڑھنے لگتا۔ اس کی معصوم خواہشیں اب اس بند گھر کی چاردیواری سے ٹکرانے لگی تھیں۔ صفیہ اور خالا کوثر نے سجیلا کو دنیا کی ظالم نظروں سے بچانے کے لیے دروازے پر زنجیر تو چڑھا دی تھی، لیکن بچپن کی ضد اور تجسس کو زنجیروں میں جکڑنا ان کے بس میں نہیں تھا۔

خالا کوثر سجیلا کو سینے سے لگا لیتیں، لیکن ان کا تجربہ کار ذہن سمجھ رہا تھا کہ سجیلا کے ان بظاہر معصوم سوالات کے پیچھے ان کے لیے ایک نیا، پرامتحان اور کٹھن چیلنج شروع ہو چکا تھا۔

(جاری ہے)

📝 کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر:

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 اس ناول "سجیلا" کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور تحریر، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس یا سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ڈسکلیمر (دستبرداری): یہ ناول مکمل طور پر ایک افسانوی اور تخیلاتی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے اپنے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا وفات یافتہ)، خاندان یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ ہوگا اور اس کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی سماجی گروہ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔

📩 ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com

💻 آفیشل ویب سائٹ: www.ishratdigitalcreation.com

📚 آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23