ناول: سجیلا (قسط نمبر 19)

 



ناول: سجیلا (قسط نمبر 19)

 عنوان: بند دروازے اور باہر کی دنیا کا بلاوا 

تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)

 پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز


وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا اور خالا کوثر کے چھوٹے سے گھر میں علم کی شمع اب پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہو چکی تھی۔ صفیہ اور خالا کوثر کی مشترکہ محنت رنگ لا رہی تھی۔ سجیلا اب نہ صرف اردو اور انگریزی کے بنیادی حروف کو پہچاننے لگی تھی بلکہ گنتی کے اصول بھی اس کے چھوٹے سے ذہن میں نقش ہونے لگے تھے۔

صبح کے وقت جب صفیہ اسکول چلی جاتی، تو خالا کوثر کا آنگن ایک چھوٹی سی درسگاہ بن جاتا۔ سجیلا چار پائی پر چار زانو بیٹھی، اپنے ننھے ہاتھوں سے تختی پر چاک پھیرتی۔ اس کی تیز ذہانت کو دیکھ کر اکثر خالا کوثر دنگ رہ جاتیں۔ جو بات عام بچوں کو سمجھنے میں کئی دن لگ جاتے، سجیلا اسے ایک ہی بار میں ایسے ذپ کر لیتی جیسے اس کا ذہن کسی کھلے ہوئے سمندر کی طرح ہو۔

لیکن اس روشن اور پرسکون ماحول کے باہر، دنیا کے رنگ کچھ اور ہی داستان سنا رہے تھے۔

مائی ہاجرہ کو پیر سائیں کی طرف سے سخت تنبیہ مل چکی تھی، اس لیے وہ کھل کر تو سامنے نہیں آ سکتی تھی، لیکن اس کے اندر کا حسد اور جلن روز بروز بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ اکثر حویلی کے پچھواڑے بیٹھ کر سوچتی کہ آخر صفیہ اور خالا کوثر اس بچی کو دنیا کی نظروں سے چھپا کر کیوں رکھنا چاہتی ہیں۔ اس کے نزدیک اس پردے کے پیچھے ضرور کوئی بہت بڑا راز چھپا تھا، جسے وہ کسی بھی قیمت پر بے نقاب کرنا چاہتی تھی۔ ہاجرہ کی یہ چغلی اور تجسس اب گاؤں کی دوسری چند عورتوں تک بھی پہنچنے لگا تھا، جو بظاہر تو پیر سائیں کے خوف سے خاموش تھیں، لیکن ان کے دلوں میں بھی اس بند گھر کے اندر کیا چل رہا ہے، یہ جاننے کی شدید خواہش پیدا ہو چکی تھی۔

ادھر گھر کے اندر، سجیلا کی عمر کے تقاضے اب اس کی معصومیت کو چیلنج کرنے لگے تھے۔

دوپہر کا وقت تھا، جب اسکول کی چھٹی ہوئی تو گلی سے گزرتے ہوئے بچوں کی ہنسی، کھیلنے کی آوازیں اور ان کے قدموں کی چاپ بند لکڑی کے دروازے کے آر پار گونجنے لگی۔ ہر روز کی طرح اس بار بھی سجیلا کا ہاتھ رک گیا۔ اس نے اپنی تختی وہیں رکھی، اور دوڑ کر دروازے کے پاس چلی گئی۔ اس نے اپنا چھوٹا سا کان لکڑی کے پرانے دروازے کے ساتھ لگایا، جیسے وہ باہر کی دنیا کی دھڑکن کو سننا چاہتی ہو۔

خالا کوثر نے جب اسے یوں دروازے کے پاس کھڑے دیکھا، تو ان کا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ انہوں نے فوراً آگے بڑھ کر پیار سے سجیلا کا ہاتھ پکڑا اور اسے اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا۔

"میری جان! میری بچی! یہاں کیوں کھڑی ہو؟ آؤ، ہم زبانی گنتی دہراتے ہیں،" خالا کوثر نے مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا، لیکن ان کی آواز میں ایک ہلکا سا لرزہ موجود تھا۔

سجیلا نے اپنی بڑی بڑی، معصوم اور گہری آنکھوں سے خالا کوثر کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک ایسی اداسی اور ضد تھی جو اس کی عمر سے کہیں زیادہ بڑی محسوس ہوتی تھی۔

"نانی! یہ بچے روز اسکول سے یوں ہنستے کھیلتے کیوں جاتے ہیں؟" سجیلا نے معصومیت سے پوچھا۔ "ان کے پاس کھلونے بھی ہوتے ہیں، وہ ایک دوسرے کے ساتھ دوڑتے بھی ہیں۔ میں کیوں نہیں جا سکتی باہر گلی میں؟ کیا میں اچھی نہیں ہوں؟ کیا اس لیے مجھے اس گھر سے باہر نہیں جانے دیا جاتا؟"

سجیلا کے ان سوالات نے خالا کوثر کا دل چیر کر رکھ دیا۔ وہ جو ہمیشہ ہر مشکل کا جواب رکھتی تھیں، آج اس معصوم بچی کے سامنے بالکل بے بس تھیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے، لیکن انہوں نے بڑی مشکل سے انہیں اپنے پلکوں کے قید خانے میں روکے رکھا۔

انہوں نے سجیلا کے گالوں کو اپنے کھردنے اور شفقت بھرے ہاتھوں میں تھاما اور دھیمے مگر رندھے ہوئے لہجے میں بولیں، "نہیں میری بچی! ایسی بات بالکل نہیں ہے۔ تم اس دنیا کی سب سے پیاری اور اچھی بچی ہو! بات صرف اتنی ہے کہ۔۔۔ کہ باہر کی دنیا ابھی آپ کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ وہاں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر سوال اٹھاتے ہیں، اور نانی نہیں چاہتی کہ میری سجیلا کو کوئی تکلیف پہنچے۔"

سجیلا نے نا سمجھی سے اپنا سر ہلایا۔ اس کے دل میں باہر کی کھلی فضا، نیلے آسمان اور دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے کی تڑپ دن بہ دن بڑھتی جا رہی تھی۔ بند دروازے کی یہ چاردیواری اب اس کے لیے ایک سنہری قید خانے کی طرح بنتی جارہی تھی، جس کے اندر علم کے چراغ تو جل رہے تھے، مگر باہر کی زندگی کا سورج دیکھنے سے وہ محروم تھی۔

شام کو جب صفیہ اسکول سے تھکی ہاری واپس لوٹی، تو خالا کوثر نے اسے اکیلے میں بلا کر دن بھر کا سارا قصہ سنایا۔ صفیہ کا چہرہ فق ہو گیا۔ اس نے خوف زدہ نظروں سے بند لکڑی کے دروازے کو دیکھا اور پھر بیٹی کے کمرے کی طرف قدم بڑھائے، جہاں سجیلا اکیلی بیٹھی مٹی پر انگلیاں پھیر رہی تھی۔

رات کی خاموشی میں، جب لالٹین کی مدہم روشنی میں صفیہ اور خالا کوثر بیٹھی تھیں، تو دونوں کے درمیان ایک سنجیدہ گفتگو شروع ہوئی۔

"صفیہ بیٹی! اب حالات بدل رہے ہیں،" خالا کوثر نے فکر مند لہجے میں کہا۔ "سجیلا اب بڑی ہو رہی ہے، اس کا ذہن کھل رہا ہے، اور وہ سوال کرنے لگی ہے۔ ہم کب تک اسے اس طرح بند کمرے میں قید رکھ سکیں گے؟ گاؤں کے لوگ پہلے ہی باتیں بنا رہے ہیں، اور اگر سجیلا کی یہ ضد بڑھ گئی تو اسے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔"

صفیہ کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا۔ "اماں! میں کیا کروں؟ آپریٹنگ کے اخراجات، معاشرے کا ڈر، اور اوپر سے پیر سائیں کے خاندان کی نظریں... اگر باہر کی دنیا کو سجیلا کی حقیقت کا پتہ چل گیا، تو یہ لوگ اس معصوم کو جینے نہیں دیں گے۔ آپ جانتی ہیں نا کہ لوگ ایسی باتوں کو کس طرح لیتے ہیں؟"

"جانتی ہوں بیٹی، اچھی طرح جانتی ہوں،" خالا کوثر نے صفیہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے دلاسہ دیا، لیکن ان کے اپنے دل میں بھی ایک انوکھا خوف اور اندیشہ بسا ہوا تھا کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ چھپی ہوئی سچائی زیادہ دیر تک اندھیرے میں نہیں رہ سکتی۔

دوسری طرف، حویلی کے ایک کونے میں مائی ہاجرہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی، اس چھوٹے سے گھر کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں لالٹین جل رہی تھی۔ اس کے شیطانی ذہن میں ایک نیا طوفان مچل رہا تھا۔ اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، وہ اس گھر کا اندرونی راز معلوم کر کے رہے گی، خواہ اس کے لیے اسے کوئی بھی خطرہ کیوں نہ مول لینا پڑے۔

وقت کے اس نازک موڑ پر، جہاں ایک طرف معصوم سجیلا کا تجسس اور ارمان مچل رہے تھے، وہیں دوسری طرف دشمنوں کی نظریں اس گھر کے گرد گھیرا تنگ کرتی جا رہی تھیں۔ یہ طوفان اب پھٹنے ہی والا تھا!

(جاری ہے)

📝 کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر: 

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 

اس ناول "سجیلا" کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور تحریر، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس یا سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ 

ڈسکلیمر (دستبرداری): 

یہ ناول مکمل طور پر ایک افسانوی اور تخیلاتی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے اپنے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا وفات یافتہ)، خاندان یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ ہوگا اور اس کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی سماجی گروہ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔

 📩 ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com 

💻 آفیشل ویب سائٹ: www.ishratdigitalcreation.com 

📚 آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23