ناول: سجیلا (قسط نمبر20)


     

ناول: سجیلا (قسط نمبر 20)

عنوان: حویلی کا بلاوا اور نئی شروعات

تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)

پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز

صبح کی پہلی کرن جب گاؤں کی فضا میں پھیلی تو خوف اور اندیشوں کے بادل جو پچھلی رات سے چھائے ہوئے تھے، کچھ ہلکے ہوتے دکھائی دیے۔ مگر اس سکون کے پیچھے ایک ایسا انہونی اور حیرت انگیز موڑ چھپا تھا، جس کا تصور نہ تو صفیہ نے کیا تھا اور نہ ہی خالا کوثر نے۔

صبح کا سورج ابھی پوری طرح افق پر چمک بھی نہیں پایا تھا کہ حویلی کا ایک ملازم ہانپتا ہوا خالا کوثر کے گھر کے دروازے پر آ پہنچا۔ اس نے دروازے پر دستک دی تو صفیہ کا دل ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بھول گیا۔ اسے لگا کہ شاید مائی ہاجرہ کی رات کی سازش رنگ لے آئی ہے اور اب کوئی نئی آفت آنے والی ہے۔ کانپتے ہاتھوں سے جب صفیہ نے دروازہ کھولا تو ملازم نے سنجیدہ مگر باادب لہجے میں کہا، "صفیہ بی بی! پیر سائیں نے آپ کو، خالا کوثر کو اور ساتھ میں چھوٹی بچی سجیلا کو فوراً حویلی طلب کیا ہے۔ سائیں صاحب آپ سے کچھ ضروری بات کرنا چاہتے ہیں۔"

یہ سن کر صفیہ اور خالا کوثر دونوں ایک دوسرے کو حیرت اور پریشانی سے دیکھنے لگیں۔ حویلی کا بلاوا! وہ بھی اتنی صبح صبح؟ ان کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے سر اٹھانے لگے۔ خالا کوثر نے دل ہی دل میں آیتِ کریمہ کا ورد شروع کر دیا، جبکہ صفیہ کا چہرہ خوف کے مارے زرد پڑ گیا۔ لیکن حکم عدولی کی کوئی گنجائش نہیں تھی، اس لیے دل پر پتھر رکھ کر دونوں نے سجیلا کو تیار کیا اور حویلی کی طرف روانہ ہو گئیں۔

حویلی کے بڑے دیوان خانے میں پیر سائیں مسند پر براجمان تھے۔ ان کے چہرے پر ایک رعب دار سنجیدگی تھی، جبکہ پاس ہی مائی ہاجرہ بھی سر جھکائے کھڑی تھی، جس کی آنکھوں میں ایک مکارانہ چمک تھی۔ صفیہ اور خالا کوثر جب سجیلا کا ہاتھ پکڑے اندر داخل ہوئیں تو پیر سائیں نے گہری نظروں سے اس معصوم بچی کو دیکھا۔

کچھ لمحے خاموشی رہی، اور پھر پیر سائیں نے دھیمی مگر بھاری آواز میں وہ بات کہی جس کی کسی کو توقع نہیں تھی: "صفیہ! تم دونوں اتنے عرصے سے اس بچی کو گھر میں بند کیوں رکھا ہے؟ گاؤں میں طرح طرح کی باتیں ہو رہی ہیں، لیکن حقیقت اپنی جگہ ہے۔ بچی اب بڑی ہو رہی ہے، اس کا ذہن کھل رہا ہے، اور اس عمر میں بچوں کو قید رکھنا ٹھیک نہیں۔ میں نے سوچا ہے کہ اس بچی کا داخلہ گاؤں کے اسکول میں کروا دیا جائے تاکہ یہ بھی دوسرے بچوں کی طرح پڑھ لکھ سکے اور کھیل کود کی فضا میں سانس لے سکے۔ خدیجہ بھی وہیں ہوتی ہے، وہ اس پر نظر رکھے گی۔"

پیر سائیں کے یہ الفاظ سن کر صفیہ اور خالا کوثر دنگ رہ گئیں۔ ان دونوں کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں۔ وہ جو ہر وقت یہ ڈرتی تھیں کہ کہیں پیر سائیں یا حویلی کے لوگ سجیلا کی حقیقت جان کر قہر نہ ڈھائیں، یہاں تو معاملہ بالکل الٹ ہو چکا تھا! پیر سائیں خود اس بچی کو اسکول بھیجنے اور عام بچوں کی طرح جینے کا کہہ رہے تھے۔ صفیہ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس کرم پر خوش ہو یا اس کے پیچھے چھپے کسی نئے مقصد سے ڈرے۔ خالا کوثر نے سنبھل کر پیر سائیں کا شکریہ ادا کیا اور سجیلا کا ہاتھ پکڑے واپس اپنے گھر لوٹ آئیں۔

گھر پہنچ کر صفیہ اور خالا کوثر نے آپس میں طویل مشورہ کیا۔ حالات کا رخ بدل چکا تھا، اس لیے انہوں نے طے کیا کہ سجیلا کو اسکول ضرور بھیجا جائے گا، لیکن اس کی حفاظت اور رازداری میں ذرا برابر بھی غفلت نہیں برتی جائے گی۔

اگلی صبح، جب اسکول کا وقت ہوا تو سجیلا کے چہرے پر ایک عجیب سی خوشی اور چمک تھی۔ وہ جو ہمیشہ بند دروازے کے سوراخ سے باہر کی دنیا کو ترسی ہوئی نظروں سے دیکھتی تھی، آج وہ خود یونیفورم پہنے صفیہ کے ساتھ اسکول کے دروازے پر کھڑی تھی۔

اسکول کے کمرہِ جماعت میں داخل ہوتے ہی سجیلا کی بڑی بڑی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ رنگ برنگی کتابیں، تختیاں، اور دوسرے بچوں کی ہنسی قہقہے—اس کے لیے یہ سب کسی خواب جیسا تھا۔ صفیہ نے اسے اپنی بالکل سامنے والی میز پر بٹھایا اور خود پڑھانے میں مصروف ہو گئی۔ صفیہ کی پوری توجہ اس بات پر تھی کہ سجیلا کسی بھی لمحے تنہا نہ محسوس کرے اور وہ پوری یکسوئی سے پڑھے۔

درمیان میں جب وقفہ  ہوا تو بچے دوڑتے ہوئے باہر صحن میں کھیلنے کے لیے نکل گئے۔ سجیلا کا بھی دل للچایا کہ وہ بھی باقی بچوں کے ساتھ جا کر کھیلے۔ جیسے ہی صفیہ کا دھیان ذرا سا درس و تدبیر میں بٹا، سجیلا نظر بچا کر اپنی جگہ سے اٹھی اور دروازے کی طرف قدم بڑھا دیے۔ وہ باہر کھلے میدان میں دوسرے بچوں کو دوڑتا دیکھ کر مسکرانے لگی اور ایک طرف بڑھ ہی رہی تھی کہ اچانک صفیہ کی نظر اس پر پڑ گئی۔ صفیہ کا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ اس نے فوراً پیار سے سجیلا کا ہاتھ پکڑا اور نرمی سے اسے واپس کلاس میں لے آئی۔

"میری جان! باہر دھوپ بہت ہے، اور ابھی آپ کو تھکن ہو جائے گی۔ آؤ، میں آپ کو یہیں مزے مزے کی چیز کھواتی ہوں،" صفیہ نے پیار سے بہلا کر اسے اپنے پاس بٹھا لیا۔ صفیہ جانتی تھی کہ سجیلا کو اسکول لانا جتنا ضروری تھا، اتنی ہی احتیاط یہ بھی تھی کہ کوئی نادان یا بدگمان انسان اس معصوم کے قریب آ کر اس کے ذہن میں کوئی غلط بات نہ ڈال سکے۔خدیجہ بھی اپنی جگہ پر مستعد تھی اور وقتاً فوقتاً کلاس کے باہر چکر لگا کر حالات پر نظر رکھے ہوئے تھی۔

ادھر اسکول میں سجیلا کے آنے اور عام بچوں کی طرح ہنستے کھیلتے رہنے سے وہ تمام جھوٹی باتیں اور افواہیں جو مائی ہاجرہ نے گاؤں میں پھیلا رکھی تھیں، ایک ایک کر کے دم توڑنے لگیں۔ جو عورتیں کل تک دروازے بند دیکھ کر طرح طرح کی گھناؤنی کہانیاں گھڑتی تھیں، اب وہ خود ایک دوسرے سے کہنے لگی تھیں: "دیکھا تم نے؟ صفیہ کی وہ بچی کتنی پیاری اور معصوم ہے! بالکل ہمارے اپنے بچوں جیسی ہے۔ ہاجرہ نے جانے کیوں بلاوجہ اتنی جھوٹی باتیں پھیلائی تھیں اور ماحول خراب کیا تھا۔ ہمیں تو اس بچی میں کوئی بھی عیب یا الگ بات نظر نہیں آئی۔ صفیہ بیچاری شاید کسی ذاتی مجبوری کے تحت اسے باہر نہیں لاتی ہوگی، مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ جو منہ میں آئے بکواس کی جائے!"

جب یہ باتیں مائی ہاجرہ کے کانوں تک پہنچیں تو اس کا منہ دیکھنے کے لائق رہ گیا۔ وہ جو یہ سمجھتی تھی کہ وہ صفیہ اور خالا کوثر کو جھکا دے گی اور ان کے پردے کو سر عام تار تار کر دے گی، اس کی تمام چالیں الٹی پڑ چکی تھیں۔ گاؤں بھر میں اس کی جھوٹی بیانی کا پردہ فاش ہو چکا تھا اور اب لوگ الٹا اسی کو طعنے دے رہے تھے۔ ہاجرہ غصے سے جل بھن گئی، مگر وہ اتنی آسانی سے ہار ماننے والی نہیں تھی۔

مائی ہاجرہ کے دل میں وہ پرانا شیطانی اور مکار خیال پھر سے سر اٹھانے لگا۔ وہ جانتی تھی کہ چاہے گاؤں والے اب سچی بات مان چکے ہیں، لیکن اس کے اپنے دل میں جو شک اور خوف بسا ہوا تھا، وہ کم نہیں ہوا تھا۔ وہ اب بھی یہ جاننا چاہتی تھی کہ آخر صفیہ، خدیجہ اور خالا کوثر کی آنکھوں میں وہ کون سا چھپا ہوا ڈر ہے، وہ کون سا راز ہے جو وہ اس بچی کے حوالے سے اس دنیا سے چھپانا چاہتی ہیں۔ وہ ہر قیمت پر سجیلا کی اصل حقیقت تک پہنچنا چاہتی تھی۔

ہاجرہ سوچنے لگی کہ اب دور بیٹھ کر تماشا دیکھنے سے کام نہیں چلے گا۔ اسے اسکول کے اندر جانے کا کوئی نہ کوئی راستہ بنانا ہی ہوگا۔ اس کے شیطانی ذہن میں ایک اور خطرناک منصوبہ مچل اٹھا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ پیر سائیں کے پاس جا کر یہ درخواست کی جائے کہ اسکول میں بچوں کی دیکھ بھال اور صفائی کے لیے کسی بڑی عمر کی عورت یا 'ایا'  کی ضرورت ہے، اور وہ خود اس کام کے لیے بالکل تیار ہے۔ اس طرح وہ حویلی کی فارغ زندگی سے نکل کر اسکول کے اندر باقاعدگی سے آ جا سکے گی، بچوں کے ساتھ اٹھ بیٹھ سکے گی، اور سجیلا کے بالکل قریب رہ کر اس کے ہر راز کو جان سکے گی۔

اس مکارانہ اور چلاک سوچ کو اپنے دل میں لیے، مائی ہاجرہ ایک بار پھر پیر سائیں کے حجرے کی طرف اپنے مکرے ہوئے قدم بڑھانے لگی۔ اسے یہ لگ رہا تھا کہ اس بار اس کی چال ضرور کامیاب ہوگی، مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وقت اب بدل رہا ہے اور حق کی حفاظت کرنے والے اس اندھیرے طوفان کے سامنے چٹان بن کر کھڑے ہیں۔

دوسری طرف، اسکول کا یہ خوبصورت دن جب تمام ہوا اور شام کا وقت آیا، تو گھر پہنچ کر خالا کوثر نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر خود کو جائے نماز پر بچھا دیا۔ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا رکھے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔ وہ دل و جان سے اپنے پروردگار کے حضور دعا کر رہی تھیں: "اے میرے مالک! اے کل کائنات کے رب! تو ہی جانتا ہے کہ ہم کس آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ اس معصوم سجیلا پر اپنا خاص کرم فرما۔ اس کے اسکول جانے کے فیصلے کو ہمارے حق میں بہتر بنا اور اس کے اس راز کی ایسی پردہ پوشی فرما کہ کوئی مکار یا ظالم اس تک نہ پہنچ سکے۔ ہمارے قدموں کو ڈگمگانے نہ دے اور اس بچی کے معصوم خوابوں کو ہمیشہ محفوظ رکھ!"

خالا کوثر کی یہ دعائیں اور ان کی سچی تڑپ اس چھوٹے سے گھر کے در و دیوار کو ایک انوکھے حصار میں جکڑے ہوئے تھیں۔ صفیہ بھی اپنے فرائض سے فارغ ہو کر سجیلا کے پاس بیٹھی تھی، جو آج اسکول کی کہانیاں سناتے سناتے تھک کر سو چکی تھی۔ باہر کی دنیا میں ہاجرہ اپنی سازشوں کے نئے جال بن رہی تھی، لیکن اندر اس گھر میں سچی دعاؤں اور پختہ ارادوں کا ایک ایسا مضبوط قلعہ بن چکا تھا جسے توڑنا اتنی آسانی سے کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ آنے والے دن ایک بہت بڑے امتحان کا پتہ دے رہے تھے، اور اب دیکھنا یہ تھا کہ سازشیں جیتتی ہیں یا سچائی کا یہ پاکیزہ پردہ برقرار رہتا ہے!

(جاری ہے)

📝 کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر: جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026

اس ناول "سجیلا" کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور تحریر، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس یا سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ڈسکلیمر (دستبرداری): یہ ناول مکمل طور پر ایک افسانوی اور تخیلاتی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے اپنے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا وفات یافتہ)، خاندان یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ ہوگا اور اس کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی سماجی گروہ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔

  • ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com

  • آفیشل ویب سائٹ: www.ishratdigitalcreation.com

  • آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23