ناول: سجیلا (قسط نمبر21)
ناول: سجیلا (قسط نمبر 21)
ہاجرہ کا نیا جال اور سجیلا کا پہلا امتحان
تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)
پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز
صبح کی ہلکی دھوپ جب گاؤں کے پرانے درودیوار پر پڑی تو فضا میں ایک عجیب سا توازن محسوس ہو رہا تھا۔ کل تک جو لوگ مائی ہاجرہ کی باتوں میں آ کر صفیہ اور سجیلا کے خلاف طرح طرح کی زبانیں چلا رہے تھے، اب اسکول کے پہلے دن کے خوشگوار تجربے کے بعد ان کے تیور بدلے ہوئے تھے۔ عورتیں آپس میں چہ مگوئیاں کر رہی تھیں کہ صفیہ پر خواہ مخواہ الزام لگایا گیا تھا۔ بچی کتنی پرسکون اور معصوم ہے، اور اسکول جانے کے بعد اس کے چہرے کی رونق دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔
لیکن اس بدلے ہوئے ماحول اور لوگوں کے نرم پڑتے رویے سے مائی ہاجرہ کے سینے میں جلن کی آگ اور زیادہ بھڑک اٹھی تھی۔ وہ جو یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ اس کی بنائی ہوئی جھوٹی کہانیاں پورے گاؤں میں پتھر پر لکیر بن جائیں گی، اس کی اپنی ساکھ اب خطرے میں پڑ چکی تھی۔ گاؤں کے چوبارے پر اور کنویں کے پاس اب اس کی پیٹھ پیچھے باتیں ہونے لگی تھیں کہ ہاجرہ بلاوجہ دوسروں کے گھروں میں آگ لگاتی ہے۔
یہی شکست کا احساس اور غصہ ہاجرہ کو چین نہیں بیٹھنے دے رہا تھا۔ اس کے شیطانی ذہن نے جو منصوبہ پچھلی رات سوچا تھا، اب وہ اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے تیزی سے قدم اٹھانے لگی تھی۔ صبح کا سورج ابھی زیادہ بلند نہیں ہوا تھا کہ ہاجرہ نے اپنی چادر سنبھالی اور سیدھا حویلی کے بڑے حجرے کی طرف روانہ ہو گئی۔ اس کا مقصد صرف ایک تھا—کسی نہ کسی طرح اسکول کے اندر داخل ہونے کی اجازت حاصل کرنا۔
حویلی کے دیوان خانے میں اس وقت پیر سائیں اپنے مصاحبوں کے ساتھ موجود تھے اور کچھ ضروری کاغذی کارروائی نپٹا رہے تھے۔ ہاجرہ نے جب ڈیوٹی پر مامور چوکیدار کے ذریعے اندر آنے کی اجازت مانگی تو پہلے تو اسے دروازے پر ہی روک دیا گیا، مگر اس کی پرانی رسائی اور چاپلوسی کے بل بوتے پر آخر کار وہ پیر سائیں کے سامنے پیش ہونے میں کامیاب ہو گئی۔
پیر سائیں نے اپنی مسند سے سر اٹھا کر اسے دیکھا تو ভ্রূ سکڑ گئے۔ ان کے لہجے میں سرد مہری تھی، "ہاجرہ! تم اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو؟ گاؤں میں تمہاری پھیلائی ہوئی باتوں کا قصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا، اور تم پھر سے کسی نئے فتنے کی تیاری میں یہاں آ گئی ہو؟"
مائی ہاجرہ نے فوراً مکارانہ عاجزی کا ناٹک کرتے ہوئے ہاتھ جوڑ لیے اور جھک کر بولی, "توبہ کریں سائیں! آپ یہ کیا فرما رہے ہیں؟ میں تو صرف حویلی اور اس گاؤں کی بہتری چاہتی ہوں۔ آپ نے اس صفیہ کی بچی کو اسکول تو بھیج دیا ہے، یہ آپ کا بڑا پن ہے، لیکن حضور... آپ جانتے ہی ہیں کہ چھوٹے بچے کتنے نادان ہوتے ہیں اور اسکول میں ان کی دیکھ بھال کے لیے کس قدر محنت اور مستقل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہاں استاد اکیلی صفیہ ہے، وہ پڑھائے گی یا بچوں کو سنبھالے گی؟ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اسکول میں صفائی اور چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے مجھے مقرر کر دیا جائے تاکہ میں خود وہاں رہ کر تمام نظم و نسق سنبھال لوں اور سائیں کی عزت پر بھی کوئی آنچ نہ آئے۔"
پیر سائیں نے گہری نظروں سے ہاجرہ کے چہرے کو دیکھا۔ وہ اس کی مکاری سے اچھی طرح واقف تھے، مگر دوسری طرف وہ اس بات کو بھی تسلیم کرتے تھے کہ اسکول کے انتظامات میں کسی بڑے اور تجربہ کار انسان کی موجودگی سے نظم و نسق بہتر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد سرد لہجے میں کہا، "ٹھیک ہے ہاجرہ! اگر تمہارا مقصد واقعی بچوں کی دیکھ بھال اور اسکول کا انتظام سنبھالنا ہے، تو جاؤ، تمہیں عارضی طور پر وہاں کام کی اجازت دی جاتی ہے۔ لیکن یاد رکھنا! اگر وہاں تمہاری کسی بھی حرکت کی وجہ سے کوئی نیا تماشا کھڑا ہوا یا تم نے بلاوجہ کسی کو تنگ کیا، تو اس حویلی کے دروازے تمہارے لیے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے۔"
پیر سائیں کی یہ اجازت سن کر ہاجرہ کے اندر چھپا شیطان خوشی سے ناچ اٹھا۔ اس کی مکار آنکھوں میں ایک خطرناک چمک ابھر آئی۔ اسے وہ راستہ مل چکا تھا جس کی وہ تلاش میں تھی۔ اب وہ صفیہ کے بالکل قریب جا سکتی تھی، سجیلا کو روز دیکھ سکتی تھی، اور اس کے ہر قدم پر نظر رکھ کر اس راز کو بے نقاب کر سکتی تھی جسے یہ پورا گھرانے چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔
دوسری طرف، اسکول کے اندر صفیہ اپنے روزمرہ کے معمول میں مصروف تھی۔ صبح کا پہلا گھنٹہ بہت اچھے طریقے سے گزرا۔ سجیلا نے اپنی تختی پر چھوٹے چھوٹے دائرے بنائے اور صفیہ کی بتائی ہوئی نظم کو بڑے پیار سے دہرایا۔ بچوں کے ہنسنے بولنے کی آوازوں سے کمرہِ جماعت گونج رہا تھا اور صفیہ کے دل میں ایک سکون سا اترنے لگا تھا کہ شاید اب حالات سدھر رہے ہیں۔
مگر یہ سکون زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ وقفے کے فوراً بعد جب اسکول کا گیٹ کھلا اور باہر سے قدموں کی آہٹ سنائی دی، تو صفیہ نے دیکھا کہ مائی ہاجرہ سر پر چادر اوڑھے، منہ بنائے ہوئے اسکول کے احاطے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک جھاڑو اور صفائی کا سامان تھا، اور اس کے چہرے پر ایک ایسی مکروہ مسکان تھی جسے دیکھتے ہی صفیہ کا دل زور سے دھڑک اٹھا۔ صفیہ کا خون کھول اٹھا؛ وہ سمجھ گئی کہ یہ عورت کسی بڑی سازش کے تحت یہاں گھس آئی ہے اور اب وہ سجیلا کو ایک پل کے لیے بھی سکون سے نہیں جینے دے گی۔
خدیجہ بھی، جو قریب ہی دوسرے کمرے میں بچوں کو کچھ سکھا رہی تھی، ہاجرہ کو اندر آتے دیکھ کر دنگ رہ گئی۔ اس نے فوراً اپنا کام چھوڑا اور تیزی سے صفیہ کے پاس چلی آئی۔
"صفیہ! یہ عورت یہاں کیا کر رہی ہے؟ اسے تو حویلی کے باہر ہونا چاہیے تھا، اب یہ اسکول کے اندر کیسے آ گئی؟" خدیجہ کی آواز میں شدید گھبراہٹ اور غصہ تھا۔
صفیہ نے اپنی خفا نگاہیں ہاجرہ پر ٹکاتے ہوئے دھیمی مگر پختہ آواز میں کہا، "مجھے نہیں معلوم یہ کس کی اجازت سے آئی ہے، لیکن اس کی نیت میں کھوٹ صاف دکھائی دے رہا ہے۔ یہ عورت سجیلا کو نقصان پہنچانے یا اس کے بارے میں کوئی نئی بات ڈھونڈنے کے لیے آئی ہے۔ ہمیں اب پہلے سے کہیں زیادہ ہوشیار رہنا ہوگا۔"
ادھر ہاجرہ نے اپنی چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے تو کمروں کے باہر صفائی کا بہانہ بنایا، لیکن اس کی اصل نگاہیں بار بار صفیہ کی میز اور اس کے بالکل قریب بیٹھی معصوم سجیلا پر ٹک رہی تھیں۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ آج وہ کسی نہ کسی طرح اس بچی کے قریب پہنچے گی، اس سے باتیں کرے گی، اور وہ تمام حقائق باہر نکال لے گی جو یہ لوگ اتنی احتیاط سے چھپا رہے ہیں۔
جیسے ہی دوپہر کا وقت ہوا اور بچوں کو تھوڑی دیر کے لیے باہر سایہ دار درخت کے نیچے بٹھایا گیا، صفیہ نے سجیلا کو اپنے ساتھ رکھا اور خدیجہ کے ساتھ مل کر اس بات کا پورا بندوبست کیا کہ ہاجرہ نامی بلا اس معصوم کے پاس بھی نہ پھٹک سکے۔ لیکن ہاجرہ بھی ہار ماننے والی نہیں تھی۔ وہ مکر و فریب کا جال بنتی ہوئی آہستہ آہستہ اس طرف بڑھنے لگی جہاں سجیلا بیٹھی کھیل رہی تھی۔
ہاجرہ نے اپنے چہرے پر ایک مصنوعی اور مکارانہ مسکان سجائی، ہاتھ میں مٹھائی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اور رنگ برنگی مٹی کا کھلونا لیا، اور سجیلا کی طرف بڑھ گئی۔ اس نے میٹھے اور درپردہ زہریلے لہجے میں کہا، "ارے میری پیاری گڑیا! ادھر دیکھو، تمہاری 'خالا' ہاجرہ تمہارے لیے کیا لائی ہے؟ تم اتنی پیاری ہو، تم باہر کیوں نہیں آتیں، ان بند دروازوں اور پابندیوں میں کیوں رہتی ہو؟ مجھے بتاؤ تمہاری اصلی ماں کون ہے اور تم یہاں اس گھر میں کیا کر رہی ہو؟"
سجیلا، جو ایک معصوم اور نادان بچی تھی، اس فریب کو سمجھنے سے قاصر تھی، لیکن اس نے جب ہاجرہ کی گھورتی ہوئی اور خوفناک آنکھوں کو دیکھا تو وہ ڈر کر پیچھے ہٹ گئی اور صفیہ کے دامن میں چھپ گئی۔
عین اسی وقت صفیہ اور خدیجہ وہاں پہنچ گئیں۔ صفیہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو چکا تھا۔ اس نے تیزی سے آگے بڑھ کر سجیلا کو اپنے بانہوں میں چھپایا اور ہاجرہ کو سخت اور کٹیلے لہجے میں مخاطب کیا: "خبردار جو تم اس معصوم کے قریب بھی آئیں! تمہاری اوقات سب کو معلوم ہے، اور تمہاری یہ گھٹیا چالیں یہاں نہیں چلنے والی۔ فوراً یہاں سے دفع ہو جاؤ ورنہ میں پیر سائیں کو تمہاری اس حرکت کی ایک ایک بات بتا دوں گی!"
ہاجرہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ صفیہ اتنی بنے گی اور اس کے سامنے اس طرح چٹان بن کر کھڑی ہو جائے گی۔ وہ اپنے غصے کو دباتی ہوئی، زہریلی مسکان کے ساتھ پیچھے ہٹ گئی، مگر جاتے جاتے اس نے ایسی خطرناک نظروں سے دیکھا جس سے صاف ظاہر تھا کہ یہ صرف شروعات تھی اور وہ اس جنگ کو کسی بھی قیمت پر جیتنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔
اس دن کے بعد سے اسکول کا ماحول ایک طرح کے میدانِ جنگ میں بدل چکا تھا۔ صفیہ، خالا کوثر اور خدیجہ نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ سجیلا کی حفاظت میں ذرا برابر بھی غفلت نہیں برتیں گے۔ ادھر گھر میں خالا کوثر کی دعاؤں کا سلسلہ اور راتوں کو اٹھ کر ربِ ذوالجلال کے حضور گریہ و زاری کرنے کا عمل اور زیادہ تیز ہو گیا تھا۔ وہ جانتی تھیں کہ یہ زمینی طاقتیں اور مکروہ سازشیں صرف اس وقت تک نقصان پہنچا سکتی ہیں جب تک اوپر والے کا خاص حصار ان کے ساتھ نہ ہو۔
دوسری طرف، گاؤں میں ہاجرہ کی ان حرکات کی وجہ سے اب لوگوں کی ہمدردی مکمل طور پر صفیہ اور اس معصوم بچی کے ساتھ ہو چکی تھی۔ گاؤں کے کئی معزز افراد نے پیر سائیں تک یہ بات پہنچانی شروع کر دی تھی کہ ہاجرہ کو اسکول میں رکھنا اس ادارے کی ساکھ اور بچوں کے ماحول کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔
وقت کاپہیہ تیزی سے گھوم رہا تھا اور آنے والے دن ایک بہت بڑے فیصلے کا اشارہ دے رہے تھے۔ کیا ہاجرہ کی یہ مکروہ سازش کامیاب ہو گی؟ کیا سجیلا کا راز ہمیشہ کے لیے دفن رہ پائے گا یا کوئی طوفان سب کچھ تہس نہس کر دے گا؟ یہ آنے والا وقت ہی بتانے والا تھا!
(جاری ہے)
کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر
📝 جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 اس ناول "سجیلا" کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور تحریر، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس یا سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
⚠️ ڈسکلیمر (دستبرداری): یہ ناول مکمل طور پر ایک افسانوی اور تخیلاتی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے اپنے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا وفات یافتہ)، خاندان یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ ہوگا اور اس کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی سماجی گروہ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔
🌐 رابطہ اور معلومات: * ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com
آفیشل ویب سائٹ:
www.ishratdigitalcreation.com آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)
Comments
Post a Comment