ناول: سجیلا (قسط نمبر 22)


ناول: سجیلا (قسط نمبر 22)

طوفان سے پہلے کی خاموشی اور ہاجرہ کی نئی چال

تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)

پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز

رات کا پہلا پہر تھا اور حویلی کے عقب میں واقع خالا کوثر کے چھوٹے سے کمرے میں روشنی کا ایک ہی مدہم دیا ٹمٹما رہا تھا۔ باہر کچی سڑک پر آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، جن کے ساتھ رات کے سنٹے میں سنسناتی ہوا کی سائیں سائیں بھی شامل تھی۔ کمرے کے اندر کا ماحول باہر کے مقابلے میں بالکل مختلف تھا؛ یہاں ایک عجیب سی پرسوز خاموشی تھی جس پر دعا اور توکل کی چادر تنی ہوئی تھی۔

خالا کوثر جائے نماز پر بیٹھی تھیں، ان کے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے اور آنکھوں سے آنسووں کی جھڑی لگی ہوئی تھی جو ان کے جھریوں زدہ چہرے پر لکیریں کھینچ رہی تھیں۔ وہ مسلسل اس معصوم بچی یعنی سجیلا کی سلامتی اور اس گھرانے کی عزت کے لیے ربِ ذوالجلال کے حضور گریہ و زاری کر رہی تھیں۔ صفیہ پاس ہی چارپائی کے ایک کونے پر بیٹھی تھی، اس کی آنکھیں بھی جاگنے اور رونے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھیں۔ سجیلا گہری اور پرسکون نیند سو رہی تھی، اس کا معصوم چہرہ چاند کی روشنی میں اور بھی زیادہ معصوم لگ رہا تھا، جیسے اسے دنیا کی کسی بھی تلخی یا سازش کی کوئی خبر ہی نہ ہو۔

صفیہ نے دھیمی اور بھاری آواز میں کہا، "خالا! میرا دل اندر سے بہت گھبرا رہا ہے۔ جب سے اس مائی ہاجرہ کو اسکول کے اندر آتے دیکھا ہے، مجھے ایک پل کے لیے بھی چین نہیں آ رہا۔ وہ عورت کسی ناگن کی طرح ہے جو موقع ملتے ہی ڈسنے سے باز نہیں آئے گی۔ پیر سائیں نے اسے عارضی اجازت تو دے دی ہے، لیکن کون جانے وہ کب ہمارے خلاف کوئی زہر گھول دے۔"

خالا کوثر نے اپنے ہاتھ چہرے پر پھیرے، لمبی سانس لی اور اپنے دل کو تسلی دیتے ہوئے کہا، "بیٹی صفیہ! گھبراہٹ شیطان کا ہتھیار ہوتی ہے۔ جو لوگ حق پر ہوتے ہیں اور کسی کا برا نہیں چاہتے، اللہ تعالیٰ خود ان کی ڈھال بن جاتا ہے۔ مائی ہاجرہ کا کام صرف فتنہ پھیلانا ہے، لیکن یاد رکھو، مکر و فریب کی بنیادیں کبھی مضبوط نہیں ہوتیں۔ اس کا اپنا غصہ اور جلن ہی اس کے لیے گہرا گڑھا کھود رہا ہے۔ تو بس اپنے رب پر بھروسہ رکھ اور سجیلا کی حفاظت پر دھیان دے۔"

ادھر دوسری طرف، گاؤں کے دوسرے کونے میں مائی ہاجرہ کا گھر اس وقت کسی بھٹی کی طرح گرم تھا۔ ہاجرہ غصے سے پاگل ہو رہی تھی۔ اس کے سامنے اس کا چھوٹا بیٹا بیٹھا تھا، جو ماں کی اس طوفانی کیفیت کو دیکھ کر سہما ہوا تھا۔ ہاجرہ نے اپنے ہاتھ کی انگلی میز پر مارتے ہوئے دانت کچکچائے، "دیکھ لیا تم نے؟ اس صفیہ کی اتنی مجال کہ اس نے مجھے اسکول کے بچوں کے سامنے ذلیل کیا! اور وہ پیر سائیں بھی جانے اس چھوٹی سی بچی اور اس عورت کے پیچھے کیوں ایسے پاگل ہیں کہ ہر بات پر میری ہی سرزنش کرتے ہیں۔ لیکن ہاجرہ کا نام بھی ہاجرہ ہے... وہ اتنی آسانی سے ہار نہیں مانے گی۔ اگر دروازے سے نکالے جانے کا خوف ہوتا، تو میں ہاجرہ نہ کہلاتی!"

اس کے ذہن میں ایک خطرناک اور گھناؤنی سازش جنم لے رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اب وہ صفیہ کے سامنے کھلے عام کوئی بات نہیں کر سکتی، کیونکہ خدیجہ اور صفیہ دونوں اس پر عقاب کی طرح نظر رکھے ہوئے تھیں۔ اس لیے اسے کوئی ایسا راستہ نکالنا ہوگا جو پردے کے پیچھے سے وار کرے اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہو۔

اگلی صبح، سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی اسکول کا ماحول معمول کے مطابق شروع ہوا۔ بچے اپنے بستے اٹھائے ہنستے کھیلتے اسکول کے احاطے میں داخل ہو رہے تھے۔ صفیہ آج صبح سے ہی کچھ زیادہ ہی چوکنا تھی۔ اس نے خدیجہ کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ سجیلا کو ایک لمحے کے لیے بھی اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، اور وقفے کے دوران بھی وہ خود اس کے پاس موجود رہے گی۔

پہلے دو گھنٹے بہت اچھے گزرے۔ سجیلا نے اپنی تختی پر بہت پیارے اکھروں میں نام لکھا اور صفیہ نے مسکرا کر اس کی حوصلہ افزائی کی۔ مگر جیسے ہی دوپہر کا وقفہ ہوا اور بچے میدان میں کھیلنے کے لیے باہر گئے، مائی ہاجرہ نے اپنی چال چلنے کا موقع ڈھونڈ لیا۔ وہ صفائی کے بہانے آہستہ آہستہ اس کمرے کے قریب پہنچی جہاں سجیلا کا بستہ اور پانی کی بوتل رکھی ہوئی تھی۔

ہاجرہ نے چاروں طرف دیکھا؛ کوئی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ اس نے موقع غنیمت جانتے ہوئے تیزی سے جیب سے ایک چھوٹی سی کاغذ کی پڑیا نکالی۔ اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکان پھیل گئی تھی۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ اسکول کے ماحول میں کوئی ایسی افواہ یا چیز پھیلا دی جائے جس سے سجیلا پر کوئی الزام آ جائے یا صفیہ کی نااہلی ثابت ہو جائے، تاکہ پیر سائیں خود اپنے ہاتھوں سے اس بچی کو اسکول اور حویلی سے باہر نکال دیں۔

مگر ہاجرہ کی یہ بدقسمتی تھی کہ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ قدرت کے اپنے فیصلے کچھ اور ہی ہوتے ہیں۔ عین اسی لمحے، خدیجہ، جو پانی لینے کے لیے کچن کی طرف جا رہی تھی، اس نے ہاجرہ کو مشکوک انداز میں صفیہ کی میز کے گرد منڈلاتے ہوئے دیکھ لیا۔ خدیجہ کا خون کھول اٹھا۔ اس نے ایک لمحے کی بھی دی تاخیر کیے بغیر زور سے پکارا، "خبردار ہاجرہ! وہیں رک جاؤ جہاں کھڑی ہو!"

خدیجہ کی اس گرج دار آواز پر ہاجرہ کے ہاتھ سے وہ کاغذی پڑیا چھوٹ کر زمین پر گر گئی۔ ہاجرہ کے چہرے کا رنگ کاٹو تو لہو نہیں، وہ بری طرح بوکھلا گئی۔ صفیہ بھی دوڑتی ہوئی وہاں آ پہنچی اور اس نے زمین پر پڑی ہوئی اس مشکوک پڑیا کو دیکھا، جس میں کچھ زہریلا یا نقصان دہ مادہ ہو سکتا تھا۔

صفیہ کی آنکھوں میں غصے کی آگ بھڑک اٹھی۔ اس نے سخت اور دوٹوک لہجے میں کہا، "تم یہاں کیا کر رہی ہو اور تمہارے ہاتھ میں یہ کیا تھا؟ آج میں خاموش نہیں رہوں گی! تم نے اسکول کے اندر آ کر جو گند پھیلانے کی کوشش کی ہے، اس کی شکایت میں سیدھا پیر سائیں سے کروں گی!"

ہاجرہ نے اپنی بوکھلاہٹ کو چھپانے کے لیے فوراً جھوٹی ہنسی ہنسی اور نقلی چادر درست کرتے ہوئے اکڑ کر بولی، "ارے صفیہ بی بی! تم خواہ مخواہ طوفان کھڑا کر رہی ہو! میں تو صرف یہاں صفائی کر رہی تھی اور یہ کوئی عام سی دوا یا گھریلو ٹوٹکا تھا جو... جو میں اپنے درد کے لیے لائی تھی۔ تم لوگوں کو تو بس مجھ پر الزام لگانے کا بہانہ چاہیے!"

خدیجہ نے طنزیہ انداز میں زمین سے وہ پڑیا اٹھائی اور کہا، "ہاں ہاں، ہمیں تو جیسے کوئی اور کام ہی نہیں! تم چاہتی کیا ہو آخر؟ اس معصوم بچی کے پیچھے کیوں ہاتھ دھو کر پڑ گئی ہو؟ تمہاری یہ چالیں اب یہاں نہیں چلیں گی!"

شور سن کر اسکول کے باہر کچھ دیہاتی بھی جمع ہونا شروع ہو گئے، اور جب انہوں نے ہاجرہ کی ان مکروہ حرکات کے بارے میں سنا تو ان کے چہروں پر بھی حقارت کے تاثرات ابھر آئے۔ گاؤں کے لوگوں کا کہنا تھا کہ ہاجرہ اب واقعی حد سے بڑھ رہی ہے اور اسے اسکول سے باہر نکال دینا ہی سب کے لیے بہتر ہے۔

جب یہ خبر اڑتے اڑتے حویلی کے دیوان خانے تک پہنچی اور پیر سائیں کے کانوں میں یہ بات پڑی کہ ہاجرہ نے اپنی حرکتوں سے باز نہ آ کر ایک بار پھر اسکول کا سکون غارت کرنے کی کوشش کی ہے، تو پیر سائیں کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔ انہوں نے فوراً اپنے خاص کارندے کو بھیجا اور ہاجرہ کو اسی وقت اسکول سے باہر نکال دینے کا سخت ترین حکم صادر کر دیا۔

جب کارندے نے آ کر پیر سائیں کا یہ فیصلہ سنایا، تو مائی ہاجرہ کی عزت کا جنازہ سرِعام نکل چکا تھا۔ وہ وہاں کھڑے لوگوں کے طعنے سنتی ہوئی، اپنے ہاتھ میں جھاڑو پکڑے، شرمندگی اور شدید غصے کے مارے سر جھکائے اسکول کے احاطے سے باہر نکلنے پر مجبور ہو گئی۔ اس کی آنکھوں میں انتقام کی آگ اب اور بھی زیادہ بھڑک رہی تھی، اور اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ اس ذلت کا بدلہ ضرور لے گی۔

ادھر اسکول کے اندر، جب ہاجرہ کو ہمیشہ کے لیے نکال دیا گیا، تو صفیہ، خدیجہ اور خالا کوثر نے سکھ کا سانس لیا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ایک بہت بڑا بوجھ ان کے سینے سے اتر گیا ہو۔ سجیلا نے بھی جب دیکھا کہ اب وہ ڈرانے والی عورت چلی گئی ہے، تو اس کے معصوم چہرے پر ایک خوبصورت مسکان واپس آ گئی اور وہ دوبارہ اپنے کھلونوں اور پڑھائی میں مشغول ہو گئی۔

مگر کہانی کا یہ موڑ صرف ایک وقفہ تھا۔ طوفان ابھی ٹلا نہیں تھا، بلکہ وہ تو کسی بڑی آندھی کی تیاری کر رہا تھا جو آنے والے دنوں میں سب کچھ بدلنے والی تھی۔

(جاری ہے)

کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر 📝 جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 اس ناول "سجیلا" کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور تحریر، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس یا سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

⚠️ ڈسکلیمر (دستبرداری): یہ ناول مکمل طور پر ایک افسانوی اور تخیلاتی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے اپنے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا وفات یافتہ)، خاندان یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ ہوگا اور اس کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی سماجی گروہ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔

🌐 رابطہ اور معلومات: * ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com

  • آفیشل ویب سائٹ: www.ishratdigitalcreation.com

  • آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23