ناول: سجیلا (قسط نمبر 23

 

ناول: سجیلا (قسط نمبر 23

تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)

پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز

صبح کی پہلی کرن جب حویلی کے پرانے روشن دانوں سے ہوتی ہوئی صحن میں اتری، تو فضا میں ایک عجیب سا سکون اور ٹھنڈک رچی ہوئی تھی۔ رات بھر کی گہری تھکن کے بعد اب سورج کی یہ روشنی امید اور نئے عزم کا پیغام لے کر آئی تھی۔ اسکول کے برآمدے میں پرندوں کی چہچہاہٹ گونج رہی تھی، اور ہوا میں اسکول کے بچوں کی معصوم ہنسی کا رس گھلا ہوا تھا۔ پچھلے چند روز سے جو تناؤ اور خوف کا بوجھ اسکول اور حویلی کے مکینوں کے سینوں پر دبا ہوا تھا، آج وہ بوجھ بادلوں کی طرح چھٹ چکا تھا۔

خالا کوثر ہمیشہ کی طرح صبح سویرے اپنی جائے نماز پر بیٹھی تھیں، مگر آج ان کے ہاتھ اٹھتے ہی شکرانے کی کیفیت سے نم ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ ربِ ذوالجلال کے حضور پھیلائے ہوئے تھے اور دل ہی دل میں اس عظیم ذات کا لاکھ لاکھ شکر ادا کر رہی تھیں جس نے اندھیروں میں چراغ جلائے رکھا اور ظالم کی چالوں کو اسی کے گلے کا ہار بنا دیا۔ صفیہ، جو کچن میں چائے کی کیتلی چڑھا رہی تھی، اس کے چہرے پر بھی ایک طمانیت اور سکون جھلک رہا تھا۔ اس کی نظریں بار بار اس کونے کی طرف اٹھ جاتی تھیں جہاں سجیلا اپنے چھوٹے سے میز پر تختی رکھے چاک سے پیارے پیارے حرف تراش رہی تھی۔

سجیلا کا چہرہ آج دمک رہا تھا۔ اس معصوم بچی کو شاید اس بات کا پورا احساس بھی نہیں تھا کہ اس کے اردگرد کتنی بڑی بڑی آندھیاں چل رہی تھیں اور کس طرح سازشوں کے جال بُنے جا رہے تھے۔ اسے تو بس اس بات کا اطمینان تھا کہ وہ عورت، جس کی ڈراونی آنکھیں اور غصے سے بھرا چہرہ اس کے دل میں خوف بٹھا دیتا تھا، اب ہمیشہ کے لیے اسکول اور حویلی کے احاطے سے جا چکی تھی۔ بچی کی یہ بے فکری اور ہنستی مسکراتی ادائیں دیکھ کر خدیجہ کے دل کو بھی ٹھنڈک مل رہی تھی۔ خدیجہ نے آگے بڑھ کر پیار سے سجیلا کے سر پر ہاتھ پھیرا اور محبت بھرے لہجے میں کہا، "میری گڑیا! آج تو تمہاری لکھائی اتنی پیاری لگ رہی ہے جیسے بادلوں پر چاند نے اتر کر کوئی نقشہ کھینچ دیا ہو۔ ایسے ہی دل لگا کر پڑھو، پھر دیکھنا تم کتنی بڑی اور قابل انسان بنتی ہو۔"

سجیلا نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں اٹھا کر خدیجہ کو دیکھا اور کھلکھلا کر ہنس دی، "خدیجہ آپی! اب مجھے وہ ڈر بالکل نہیں لگتا۔ اب تو دل کرتا ہے کہ سارا دن یہیں بیٹھی رہوں اور خوب سارا پڑھوں۔"

دوسری طرف، حویلی کے دیوان خانے میں پیر سائیں کا چہرہ بھی کافی حد تک صاف اور پرسکون تھا۔ انہوں نے اپنے مصاحب کو بلا کر سختی سے ہدایت جاری کر دی تھی کہ مائی ہاجرہ کا اب اسکول یا حویلی کے اردگرد نظر آنا بھی جرم تصور کیا جائے گا۔ اس واقعے کے بعد گاؤں کے معززین اور عام لوگوں کی زبان پر بھی ایک ہی بات تھی کہ حق ہمیشہ غالب آتا ہے اور فریب کی عمر بہت چھوٹی ہوتی ہے۔ لوگوں نے صفیہ اور خدیجہ کی جرات اور بیداری کی کھل کر تعریف کی، جنہوں نے بروقت حویلی اور اسکول کے نظم و نسق کو ایک بڑے حادثے سے بچا لیا تھا۔

مگر اس تمام ماجرے کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن موڑ وہ تھا جب مائی ہاجرہ کے لیے گاؤں میں رہنا ناممکن ہو چکا تھا۔ اس کے اپنے ہی گھر میں، اس کی ناکامی اور سرِعام رسوائی نے اس کا جینا دوبر کر دیا تھا۔ گاؤں کے چوہدری اور پنچایت کی سخت ترین تنبیہ کے بعد اب اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا کہ وہ اس بستی کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے کہیں اور چلی جائے۔

دوپہر ڈھلنے کے قریب جب سورج مغرب کی طرف جھک رہا تھا، گاؤں کے کچے راستے پر ایک بیل گاڑی رکھی ہوئی تھی جس پر مائی ہاجرہ کا تھوڑا بہت سامان لدا ہوا تھا۔ اس کا چھوٹا بیٹا جو شرم سے کسی سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا، بیل گاڑی کی مہار تھامے کھڑا تھا، جبکہ اس کی بہو بھی اپنے سر پر چادر تانے چپ چاپ سر جھکائے گاڑی کے پاس کھڑی تھی۔ مائی ہاجرہ، جس کے چہرے پر غصے، حسد اور شکست کے ملے جلے تاثرات تھے، آخری بار اس حویلی اور اسکول کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں انتقام کی چنگاری ابھی تک سلگ رہی تھی، مگر اب وہ بے بس تھی۔ تنبیہ اور لوگوں کی پھٹکار کے سائے میں اسے اپنا بوریا بستر گول کر کے ساتھ والے دور دراز گاؤں کی طرف کوچ کرنا پڑ رہا تھا۔ جہاں اس کا کوئی جاننے والا نہیں تھا، اور جہاں اسے نئے سرے سے اپنی اس ٹوٹی ہوئی ناک اور جھوٹی عزت کو چھپاتے ہوئے زندگی کے دن گزارنے تھے۔

جب گاڑی گاؤں کی حدیں عبور کر کے دھول اڑاتی ہوئی دور نکل گئی، تو گاؤں کے لوگوں نے جیسے ایک طویل اور گہری سانس لی۔ فضا سے وہ زہریلا پن اور گھٹن ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی تھی جو ہاجرہ کے دم قدم سے اسکول اور حویلی پر چھائی رہتی تھی۔

مگر وقت اپنی رفتار سے بہتا رہتا ہے، اور کسی کے جانے یا آنے سے زندگی کے دائرے نہیں رُکتے۔ دن گزرتے گئے، مہینے پرکھتے گئے، اور اسکول کے بند دروازوں سے نکل کر اب زندگی نے ایک نیا موڑ لیا۔ سجیلا، جو کل تک ایک چھوٹی سی معصوم بچی دکھائی دیتی تھی، اب آہستہ آہستہ بڑی ہو رہی تھی۔ اس کی عمر اب ہائی اسکول میں قدم رکھنے کے لیے بالکل تیار تھی۔ اس کے قد و قامت میں تبدیلی آ رہی تھی، اس کے طور طریقے اور سمجھ بوجھ میں نکھار آ رہا تھا، مگر اس کے ساتھ ہی وہ پیدائشی طبی مسئلہ جو بچپن سے اس کے ساتھ جڑا ہوا تھا، وہیں کا وہیں تھا—اور وہ تھا اس کی آواز کا بھاری پن۔

سجیلا جب بھی بولتی، تو اس کی آواز میں ایک ایسا مردانہ یا بھاری پن محسوس ہوتا تھا جو عام لڑکیوں کی نازک اور مدہم آوازوں سے بالکل مختلف تھا۔ جیسے جیسے وہ ہائی اسکول کی کلاسوں میں پہنچی، اس کی یہ آواز اس کے لیے ایک ذہنی عذاب بنتی چلی گئی۔ نوعمری کے اس دور میں جہاں لڑکیاں اپنی ظاہری اور اندرونی شخصیت کو لے کر بہت حساس ہوتی ہیں، وہیں اسکول کی دوسری لڑکیاں اکثر سجیلا کی اس آواز کا مذاق اڑاتیں اور پیٹھ پیچھے کگھس پھس کرتی ہوئی کہتیں، "دیکھو ذرا، ہے تو یہ لڑکی، پر اس کی آواز کتنی بھاری اور لڑکوں جیسی ہے! عجیب سی لگتی ہے..."

یہ دبی دبی ہنسیاں، طعنے اور چہ مگوئیاں سجیلا کے دل کو اندر سے چیر کر رکھ دیتی تھیں۔ اس کی جو شخصیت کبھی ایک مسکراتی اور نڈر بچی کی ہوا کرتی تھی، وہ اب دبنے لگی تھی۔ وہ کلاس میں بولنے سے کترانے لگی تھی، اس کا اعتماد ٹوٹ رہا تھا، اور وہ اکثر تنہائی میں بیٹھ کر خاموشی سے آنسو بہاتی کہ آخر اس کا قصور کیا ہے؟ کیوں قدرت نے اسے ایسی آواز دی جس کی وجہ سے اسے ہر جگہ عجیب نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے؟

سجیلا کی یہ گرتی ہوئی شخصیت، اس کا گہرا ہوتا ہوا احساسِ کمتری اور اس کی پریشانی صفیہ سے چھپی ہوئی نہیں تھی۔ صفیہ جانتی تھی کہ نوعمری کا یہ موڑ بہت نازک ہوتا ہے، اور اگر اس معاملے پر بروقت توجہ نہ دی گئی، تو یہ احساسِ کمتری اس کی پوری زندگی، اس کے مستقبل اور اس کے خوابوں کو نگل جائے گا۔ صفیہ کا دل اپنی اس بچی کے لیے تڑپ اٹھتا تھا، اور وہ ہر صورت میں اس اندھیرے سے سجیلا کو باہر نکالنا چاہتی تھی۔

صفیہ نے اس مسئلے کا پکا اور علمی حل تلاش کرنے کے لیے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔ اس نے شہر کی ایک جانی پہچانی اور نہایت تجربہ کار فیمیل ڈاکٹر (لیڈی ڈاکٹر) سے خفیہ طور پر رابطہ کیا، جو اس قسم کے ہارمونل اور پیدائشی پیچیدہ مسائل کو سمجھنے میں ماہر تھیں۔ ایک دن صفیہ چھٹی لے کر سجیلا کا ہاتھ تھامے اس شہر کے کلینک پہنچی۔ سجیلا کے دل میں خوف اور شرمندگی کی ایک لہر دوڑ رہی تھی، کیونکہ اسے لگتا تھا کہ شاید اس کا یہ مرض دنیا کے سامنے ایک تماشا بن چکا ہے۔

مگر کلینک کے اندر جب وہ ڈاکٹر صاحبہ کے سامنے بیٹھیں، تو ڈاکٹر نے کسی جج یا عام طبیب کی طرح نہیں، بلکہ ایک شفیق ماں کی طرح ان کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے سجیلا کے کندھے پر محبت سے ہاتھ رکھا، اس کا ڈرا ہوا چہرہ دیکھا اور بڑی نرمی سے اسے تسلی دی۔ سجیلا کے پیدائشی طبی مسئلے کو گہرائی سے سمجھنے کے بعد ڈاکٹر نے کچھ ضروری میڈیکل ٹیسٹ کروائے اور صفیہ کو اکیلے میں بلا کر تمام حقیقت سے آگاہ کیا۔

ڈاکٹر صاحبہ نے صفیہ کو سمجھاتے ہوئے کہا، "دیکਖیں صفیہ بی بی! یہ مسئلہ سو فیصد لاعلاج نہیں ہے، لیکن یہ ایک قدرتی اور پیدائشی ہارمونل تبدیلی کا نتیجہ ہے جو وقت کے ساتھ جسمانی نشوونما میں رونما ہوتی ہے۔ اس کا اثر آواز کے وائرل کارڈز پر پڑتا ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس جسمانی مسئلے سے زیادہ خطرناک وہ نفسیاتی دباؤ ہے جو اس بچی کے اندر گھر کر رہا ہے۔ اگر اسے وقت پر شعور نہ دیا گیا اور اس حقیقت کے ساتھ جینا نہ سکھایا گیا، تو یہ احساسِ کمتری اس کی جان یا اس کی ذہنی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اسے یہ سمجھانا ہوگا کہ جسم کی ہر کمی انسان کا عیب نہیں ہوتی، بلکہ اصل انسان اس کا ظرف اور اس کا علم ہوتا ہے۔"

جب صفیہ اور سجیلا واپس ڈاکٹر کے کیبن میں آئیں، تو ڈاکٹر صاحبہ نے سجیلا کو مخاطب کرتے ہوئے وہ سنہری باتیں کہیں جو اس کی زندگی کا رخ بدلنے والی تھیں۔ ڈاکٹر نے محبت بھرے اور پرعزم لہجے میں کہا:

"بیٹی سجیلا! خدا نے اس دنیا میں ہر انسان کو کسی نہ کسی انفرادیت اور امتحان کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ آواز جیسی بھی ہو، انسان کی اصل شناخت اس کے اچھے اخلاق، اس کی علم دوستی اور اس کے کردار سے ہوتی ہے۔ یہ دنیا ہے، لوگوں کا کام بولنا اور تنقید کرنا ہے، لیکن تمہیں لوگوں کی باتوں سے نہیں بلکہ اپنے عزم سے اپنی پہچان بنانی ہے۔ اس تلخ حقیقت کو قبول کرو کہ تمہاری آواز دوسروں سے مختلف ہے، لیکن اس حقیقت کے ساتھ جینا سیکھو! اپنی اس کمزوری کو اپنی طاقت بناؤ، خود کو علم کے زیور سے آراستہ کرو، اور معاشرے میں ایک با شعور اور مضبوط عورت بن کر دکھاؤ!"

ڈاکٹر کی کہی گئی ان گہری اور اثر انگیز باتوں نے سجیلا کے دل و دماغ پر جادو سا اثر کیا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کی بند آنکھوں پر سے خوف کی پٹی ہٹا دی ہو۔ جب وہ کلینک سے باہر نکلیں، تو سجیلا کے قدموں میں ایک الگ ہی مضبوطی اور ٹھہراؤ تھا۔ اس کی جھکی ہوئی کمر اب سیدھی ہو چکی تھی، اور اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جگہ ایک نیا عزم چمک رہا تھا۔

راستے میں آتے ہوئے صفیہ نے سجیلا کا ہاتھ اور زیادہ مضبوطی سے تھام لیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، "دیکھ لیا سجیلا؟ دنیا کیا کہتی ہے، کون کیا مذاق اڑاتا ہے، اس سے ذرا برابر بھی فرق نہیں پڑتا۔ تم میری بیٹی ہو، اور علم وہ سب سے بڑی ڈھال ہے جو انسان کی ہر کمزوری کو چھپا لیتی ہے اور اسے بلندیوں پر پہنچا دیتی ہے۔ تمہیں اس حقیقت کے ساتھ جینا بھی ہے اور اس پر فتح بھی پالی ہے!"

اس دن کے بعد سے اسکول اور حویلی کے ماحول میں سجیلا کا ایک نیا روپ دیکھنے کو ملا۔ اس کے اندر جیسے ایک نئی روح پھونک دی گئی تھی۔ جب کوئی لڑکی اس کی بھاری آواز پر پھبتیاں کسنے کی کوشش کرتی، تو وہ اب روتی نہیں تھی، بلکہ ایک پختہ مسکان کے ساتھ نظریں اٹھا کر اپنا کام کرتی تھی۔ اس نے لوگوں کے طعوں کو یکسر نظر انداز کرنا شروع کر دیا اور اپنی پوری توجہ پڑھائی، کتابوں، اچھے اخلاق اور اپنے خوابوں پر مرکوز کر دی۔

حویلی کے اس پرسکون اور روشن ماحول میں اب وہ ایک بار پھر سر اٹھا کر، پوری شان کے ساتھ چلنے لگی تھی۔ وہ جان چکی تھی کہ زندگی کی اس کشمکش میں ہار مان لینا آسان ہوتا ہے، لیکن حقیقت کا سامنا کرتے ہوئے اپنے لیے ایک باوقار مقام بنانا ہی اصل کامیابی ہے۔ طوفان تھم چکا تھا، اور سجیلا کی زلفِ حیات پر اب علم و شعور کا نیا سویرا طلوع ہو رہا تھا۔

(جاری ہے)

کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر 📝 جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026

اس ناول "سجیلا" کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور تحریر، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس یا سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

⚠️ ڈسکلیمر (دستبرداری): یہ ناول مکمل طور پر ایک افسانوی اور تخیلاتی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے اپنے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا وفات یافتہ)، خاندان یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ ہوگا اور اس کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی سماجی گروہ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔

🌐 رابطہ اور معلومات: * ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com

  • آفیشل ویب سائٹ: www.ishratdigitalcreation.com

  • آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)


Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23