ناول: سجیلا (قسط نمبر 24)
وقت کو جیسے پر لگ گئے تھے؛ مہ و سال اتنی تیزی سے آگے بڑھے کہ حویلی کے در و دیوار پر بچپن کے جو نقش تھے، اب ان پر جوانی اور پختگی کی روشن کرنیں سج چکی تھیں۔ صفیہ، جو کبھی ایک بے بس اور ڈری ہوئی خاتون کی طرح حویلی کی دہلیز پر آئی تھی، اب اپنی انتھک محنت، لگن اور تعلیم کی بدولت اسی علاقے کے کالج میں لیکچرر بن چکی تھی۔ پیر سائیں نے گاؤں کی تعلیمی ترقی میں صفیہ کا ساتھ دیتے ہوئے ہائی اسکول کے ساتھ ہی ایک شاندار عمارت بنوا دی تھی، جسے باقاعدہ ویمن کالج کا درجہ دے کر حکومت سے منظور بھی کروایا گیا تھا۔ اس تاریخی قدم کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ گاؤں اور آس پاس کی غریب و نادار بچیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسرے دور دراز شہروں یا گاؤں کا رخ نہ کرنا پڑے، اور وہ اپنے ہی گھر کے احاطے میں محفوظ ماحول کے اندر علم کی روشنی حاصل کر سکیں۔
کالج کے اندر سجیلا کی زہانت، اس کی علمی صلاحیت اور اس کا نکھرا ہوا اندازِ گفتگو دیکھ کر تمام اساتذہ انگشت بدنداں تھے۔ وہ ہر امتحان میں نمایاں نمبروں سے پاس ہوتی تھی۔ صفیہ نے خود کو اسی کالج میں پڑھانے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ سجیلا کی پڑھائی پر بھی قریبی نظر رکھ سکے اور اس کی ہر قدم پر راہنمائی کر سکے۔
مگر تقدیر کے کھیل بھی عجیب ہوتے ہیں۔ زندگی جب انسان کو ایک طمینان بخشتی ہے، تو وہیں کوئی نہ کوئی نیا امتحان بھی دروازے پر دستک دے دیتا ہے۔ کہانی کا یہ موڑ اس وقت آیا جب خدیجہ کی شادی کو کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ ان کے سسرال سے کچھ معزز لوگ خالا کوثر کی عیادت اور صفیہ کی خیریت دریافت کرنے حویلی آئے۔ ان مہمانوں میں ایک معزز خاتون اور ان کے کچھ قریبی عزیز شامل تھے۔ جب وہ حویلی کے آراسته دیوان خانے میں بیٹھے تھے، تو مہمانوں کی خاطرداری کے لیے سجیلا خود چائے کی ٹرالی لے کر وہاں آئی۔ اس کا نفاست سے پیش آنے کا انداز، اس کا باوقار سلیقہ اور اس کی مسکراہٹ اتنی دلکش تھی کہ مہمان دنگ رہ گئے۔
اس بھیانک سچائی کو صفیہ سجیلا سے کیسے چھپاتی، اور دنیا کے سامنے اس حقیقت کا پردہ کیسے فاش ہونے دیتی؟ صفیہ کی خاموشی اور اس کی پیشانی پر پڑنے والے بل دیکھ کر مہمان خاتون نے اضطراب سے انکار کی وجہ پوچھی۔ اس سے پہلے کہ صفیہ کوئی سنبھلا ہوا جواب دیتی، سجیلا، جو وہاں پاس ہی کھڑی تھی، نے خود آگے بڑھ کر نہایت متانت اور سادگی سے کہا: "انٹی! معذرت چاہتی ہوں... میری ماں (صفیہ) نے آپ کو انکار اس لیے کیا کیونکہ میں نامکمل ہوں۔ ہم اپنی اس چھوٹی سی اور پرسکون دنیا میں بہت خوش ہیں، اور ہم اس راستے پر جانا ہی نہیں چاہتے جہاں جھوٹ کی بنیاد پر کسی کی زندگی جڑی ہو۔"
سجیلا کی اس جرات مندانہ مگر دل چیر دینے والی بات پر مہمان دنگ رہ گئے۔ لڑکے کی والدہ نے تعجب سے کہا، "بیٹی! آج کی اس ترقی یافتہ دنیا میں کون سا ایسا مرض ہے جس کا علاج ممکن نہ ہو؟ سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے، ہر کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے!"
مہمان خاتون اور ان کے ساتھ آئے لوگ اس دوٹوک جواب پر حیران تو ہوئے، لیکن سجیلا کے انداز نے ان کے دل میں ایک انوکھا احترام بھی پیدا کر دیا۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ مہمان لڑکا اس قدر سجیلا کے حسن اور سادگی پر فدا ہو چکا تھا کہ اس کا اصرار بڑھتا ہی چلا گیا۔ وہ بضد تھا کہ وہ شادی کرے گا تو صرف سجیلا سے ہی کرے گا۔ اس مسلسل اصرار اور اس جذباتی کشمکش سے تنگ آ کر سجیلا مزید وہاں نہ رک سکی۔ اس کا دل بھر آیا تھا، اور آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔ وہ تیزی سے وہاں سے اٹھی، اپنے کمرے میں گئی اور اندر سے دروازہ مقفل کر کے اکیلی بیٹھ گئی۔ وہ تب تک باہر نہیں نکلی جب تک وہ مہمان حویلی سے رخصت نہیں ہو گئے۔
اپنے کمرے کے بستر پر اکیلی بیٹھی سجیلا پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ اس کے دل میں ایک طوفان برپا تھا، اور وہ خود سے ہی سوال کر رہی تھی:
“یا اللہ! میری کیا خطا تھی؟ کیا بن جاتا اگر میں بھی دوسری لڑکیوں کی طرح ایک مکمل عورت ہوتی؟ کیا مجھے بھی اس دنیا میں ایک عام انسان کی طرح جینے، محبت پانے اور بسنے کا حق حاصل نہیں ہے؟ کیوں میرے مقدر میں ادھورا پن لکھ دیا گیا ہے؟”
دوسری طرف، جب مہمان چلے گئے، تو صفیہ نے سجیلا کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے کوئی جواب نہ ملنے پر صفیہ کا دل بیٹھنے لگا۔ اس نے ہلکی سی آواز دی، "سجیلا... میری بچی! دروازہ کھولو۔" جب دروازہ کھلا اور صفیہ نے سجیلا کی سوجی ہوئی، سرخ آنکھیں اور آنسوؤں سے تر چہرہ دیکھا، تو وہ سمجھ گئی کہ سجیلا اندر سے کتنی ٹوٹ چکی ہے۔ صفیہ کا دل چاہا کہ وہ اپنی بچی کو سینے سے لگا کر جی بھر کے روئے، لیکن اس نے خود کو سنبھالا۔ وہ جانتی تھی کہ اس وقت اگر وہ کمزور پڑ گئی، تو سجیلا کا بچا ہوا حوصلہ بھی دم توڑ جائے گا۔ صفیہ اپنے آپ کو مضبوط دکھانا چاہتی تھی تاکہ سجیلا کو ایک آخری امید کا سہارا دے سکے۔
اسی لمحے صفیہ کے ذہن میں ایک چنگاری سی چمکی۔ اس نے دل ہی دل میں تہیہ کیا کہ وہ ہار نہیں مانے گی۔ وہ ایک بار پھر اسی ماہر اور نامور فیمیل ڈاکٹر سے رابطہ کرے گی جس نے پہلے سجیلا کو سنبھالا تھا۔ کیا جدید میڈیکل سائنس، جینیاتی سرجری یا ہارمونل سائنس میں واقعی کوئی ایسا راستہ موجود ہے جو سجیلا کو ایک مکمل زندگی عطا کر سکے؟ کیا ڈاکٹر اس لاعلاج معلوم ہونے والے مسئلے کا کوئی حتمی حل نکال پائے گی؟ کیا سجیلا کبھی ایک عام عورت کی طرح زندگی گزار سکے گی، یا پھر قدرت کا یہ راز ہمیشہ کے لیے حویلی کی چار دیواری میں دفن ہو کر رہ جائے گا؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ—کیا صفیہ کی برسوں کی یہ انتھک محنت، دعائیں اور قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، یا اسے اپنی اس بے لوث محبت کا بہترین صلہ نصیب ہوگا؟
ان تمام سوالوں کے جواب اور حویلی کے دروازے پر دستک دیتی ہوئی نئی مشکلات کا حال جاننے کے لیے دیکھتے رہیے—سجیلا!
(جاری ہے)
کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر 📝 جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026
اس ناول "سجیلا" کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور تحریر، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس یا سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
⚠️ ڈسکلیمر (دستبرداری): یہ ناول مکمل طور پر ایک افسانوی اور تخیلاتی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے اپنے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا وفات یافتہ)، خاندان یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ ہوگا اور اس مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی سماجی گروہ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔
🌐 رابطہ اور معلومات: * ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com
آفیشل ویب سائٹ:
www.ishratdigitalcreation.com آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)
Comments
Post a Comment