ناول: سجیلا (قسط نمبر 25)
ناول: سجیلا (قسط نمبر 25)
تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)
پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز
رات کتنی ہی طویل اور تاریک کیوں نہ ہو، سحر کی کرنیں بالآخر اندھیرے کا سینہ چاک کر ہی دیتی ہیں۔ حویلی میں گزرنے والی وہ رات صفیہ اور سجیلا کے لیے کسی کڑی آزمائش اور قیامت سے کم نہ تھی۔ سجیلا کے کمرے سے آنے والی سسکیوں نے صفیہ کے دل کو چھلنی کر دیا تھا۔ وہ رات بھر اپنے بستر پر کروٹیں بدلتی رہی، اس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ ایک ماں کے لیے اس سے بڑی اذیت اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کی اولاد کسی ایسے دکھ میں مبتلا ہو جس کا بظاہر کوئی مرہم نہ ہو۔ سجیلا کے وہ الفاظ صفیہ کے کانوں میں بار بار گونج رہے تھے: "ہم اس راستے پر جانا ہی نہیں چاہتے جہاں جھوٹ کی بنیاد پر کسی کی زندگی جڑی ہو۔"
صبح کی پہلی اذان کی صدا فضا میں گونجی تو صفیہ نے وضو کیا اور جائے نماز پر کھڑی ہو گئی۔ آج اس کے سجدوں میں ایک عجیب سی تڑپ تھی۔ اس نے گڑگڑا کر اپنے رب سے سجیلا کے نصیب اور اس کی خوشیوں کی بھیک مانگی۔ جب وہ مصلے سے اٹھی تو اس کی آنکھوں میں رات والی بے بسی نہیں تھی، بلکہ ایک چٹان جیسا عزم تھا۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ تقدیر کے اس فیصلے کے آگے یوں چپ چاپ ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ وہ آخری سانس تک اپنی بچی کے لیے لڑے گی۔
ابھی سورج کی کرنیں حویلی کے آنگن میں پوری طرح پھیلی بھی نہیں تھیں کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ صفیہ نے دروازہ کھولا تو سامنے خدیجہ کھڑی تھی۔ خدیجہ، جو خالا کوثر کی اپنی بیٹی، صفیہ کی جگری دوست اور بہن جیسی، اور سجیلا کی خالہ لگتی تھی، اس وقت شدید پریشانی اور ندامت کے عالم میں تھی۔ کل والے واقعے کے بعد اس کے سسرال والے مہمان بن کر آئے تھے، اور اسی سلسلے میں زیتون آپا کے بیٹے جنید کی طرف سے یہ بات چلی تھی۔
اندر آتے ہی خدیجہ کا گلا بھر آیا۔ اس نے صفیہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور آبدیدہ ہو کر بولی، "صفیہ! میں کیا بتاؤں، جب سے میرے سسرال والے اور وہ مہمان گئے ہیں، مجھ سے سکون سے بیٹھا نہیں جا رہا۔ میں نے تو اپنی طرف سے پوری کوشش کی تھی، ہر ممکنہ دلیل دی تھی کہ وہ لوگ اس رشتے پر اصرار نہ کریں، لیکن... لیکن وہ زیتون آپا کا بیٹا جنید ہے کہ باز ہی نہیں آ رہا! وہ اس بات پر بضد ہے اور مجھ سے بار بار پوچھ رہا ہے کہ آخر سجیلا کو ایسی کون سی بیماری یا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے وہ شادی سے صاف انکار کر رہی ہے؟"
خدیجہ کی یہ باتیں سن کر صفیہ کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو چھلک آئے، جنہیں اس نے بڑی مشکل سے سجیلا کی نظروں سے بچانے کی کوشش کی۔ صفیہ نے بھاری آواز میں خدیجہ کو گلے لگایا اور کہا، "خدیجہ میری بہن! تم خود پریشان نہ ہو، تم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی۔ جہاں تک جنید اور ان کے گھر والوں کا تعلق ہے... تو میں تمہیں بتاتی چلوں کہ میں نے شہر کے ایک نامور اور ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کر لیا ہے اور ہم سجیلا کے علاج کے سلسلے میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن ابھی اس بارے میں کچھ بھی حتمی کہنا قبل از وقت ہے۔ تم ان سے کہنا کہ وہ فی الحال اس بات کو یہیں روک دیں اور کچھ عرصے بعد اس موضوع پر بات کریں۔ اور ویسے بھی... ابھی تو سجیلا کی پڑھائی بھی ادھوری ہے، اور میں کسی بھی قیمت پر اس کے روشن مستقبل اور اس کے خوابوں کو ادھورا نہیں ٹوٹنے دوں گی!"
خدیجہ نے صفیہ کے اس عزم کو محسوس کیا تو اس کے دل کو کچھ ڈھارس بندھی۔ کچھ دیر صفیہ کے پاس بیٹھنے اور سجیلا کی خیریت دریافت کرنے کے بعد خدیجہ اپنے گھر روانہ ہو گئی۔
خدیجہ کے جانے کے بعد، صفیہ نے مزید تاخیر کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اس نے اسی وقت اسی ماہرِ جینیات اور گائناکالوجسٹ، ڈاکٹر شازیہ سے رابطہ کیا، جنہوں نے بچپن میں سجیلا کے پیچیدہ کیس کو دیکھا تھا۔ ڈاکٹر شازیہ صفیہ کی آواز سن کر فوراً پہچان گئیں اور معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے انہیں اسی دن دوپہر کا وقت دے دیا۔
صفیہ نے سجیلا کے کمرے کا دروازہ کھولا۔ سجیلا اب بھی اسی حالت میں بستر پر بیٹھی تھی، اس کی آنکھیں رو رو کر متورم ہو چکی تھیں۔ صفیہ نے آگے بڑھ کر اس کا ماتھا چوما اور نہایت ملائمت مگر مضبوط لہجے میں کہا، "اٹھو میری بچی! تیار ہو جاؤ، ہم شہر جا رہے ہیں۔ یہ آنسو اب تمہارا مقدر نہیں ہو سکتے۔" سجیلا نے حیرت اور ناسمجھی سے صفیہ کو دیکھا، مگر صفیہ کی آنکھوں میں موجود عزمِ مصمم نے اسے مزید سوال کرنے کی اجازت نہ دی۔
کچھ ہی دیر بعد وہ دونوں شہر کے سب سے بڑے اور جدید ترین ہسپتال کے ویٹنگ روم میں بیٹھی تھیں۔ ہسپتال کا ماحول، وہ دوائیں ملی مخصوص بو، اور مشینوں کی آوازیں سجیلا کے دل میں ایک انجانا سا خوف پیدا کر رہی تھیں۔ وہ بار بار اپنے ہاتھ مسل رہی تھی۔ صفیہ نے اس کا ٹھنڈا پڑتا ہاتھ اپنے گرم ہاتھوں میں لیا اور اسے تسلی بخش مسکراہٹ دی۔
ڈاکٹر شازیہ کے کیبن کا دروازہ کھلا اور نرس نے انہیں اندر بلایا۔ ڈاکٹر شازیہ ایک شفیق اور تجربہ کار خاتون تھیں۔ انہوں نے سجیلا کو دیکھا تو ایک لمحے کے لیے حیران رہ گئیں۔ وہ کمزور اور سہمی ہوئی بچی اب ایک بے حد حسین اور سجیلی لڑکی بن چکی تھی، مگر اس کی آنکھوں کی اداسی سب کچھ بیان کر رہی تھی۔
صفیہ نے گزشتہ روز پیش آنے والا سارا واقعہ اور سجیلا کے رشتے کی بات تفصیل سے ڈاکٹر شازیہ کے سامنے رکھ دی۔ ڈاکٹر نے گہرا سانس لیا اور سجیلا کی طرف ہمدردی سے دیکھتے ہوئے کہا، "صفیہ! تم نے مجھ سے رابطہ کر کے بالکل ٹھیک کیا۔ جو باتیں آج سے دس پندرہ سال پہلے ناممکن سمجھی جاتی تھیں، آج کی جدید میڈیکل سائنس نے ان پر قابو پا لیا ہے۔"
ڈاکٹر شازیہ نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے تفصیل سے سمجھانا شروع کیا: "سجیلا کا کیس عام نہیں ہے، لیکن یہ لاعلاج بھی نہیں رہا۔ میڈیکل سائنس اور بائیو جینیٹکس نے اب اتنی ترقی کر لی ہے کہ جدید 'ری کنسٹرکٹیو سرجری'اور 'ایڈوانسڈ ہارمونل ریپلیسمنٹ تھراپی' کی مدد سے ہم سجیلا کی جسمانی اور حیاتیاتی ساخت کو اس کی اصل شناخت یعنی ایک عورت کے روپ میں بہت حد تک مکمل کر سکتے ہیں۔ ہم نے پہلے بھی اس کے ہارمونز پر کام کیا تھا جس کا نتیجہ آپ اس کی خوبصورتی اور نسوانیت کی صورت میں دیکھ رہی ہیں۔ اب ہمیں اگلا اور حتمی قدم اٹھانا ہے۔"
یہ سنتے ہی صفیہ کی آنکھوں میں امید کی ایک روشن چمک ابھر آئی، جب کہ سجیلا کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ ڈاکٹر نے مزید کہا، "لیکن... یہ راستہ آسان نہیں ہوگا۔ ہمیں پہلے کچھ بہت تفصیلی اور جدید ٹیسٹس کرنے ہوں گے جن میں کروموسومل مائیکرو ایرے، جینیاتی اسکینز اور ہارمونل پروفائلنگ شامل ہیں۔ اس کے بعد سرجری کے کئی مراحل ہوں گے۔ یہ ایک طویل، تکلیف دہ اور صبر آزما عمل ہوگا جس میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔ کیا تم دونوں اس کڑی آزمائش کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو؟"
کمرے میں ایک لمحے کے لیے گہری خاموشی چھا گئی۔ سجیلا کا دل کسی پنچھی کی طرح پھڑپھڑا رہا تھا۔ اس نے ڈرتے ڈرتے صفیہ کی طرف دیکھا اور پھر بھرائی ہوئی آواز میں ڈاکٹر سے پوچھا، "ڈاکٹر آنٹی... کیا اس سب کے بعد، اس ساری تکلیف سے گزرنے کے بعد... کیا میں واقعی ایک عام لڑکی کی طرح بن سکوں گی؟ کیا میرا یہ ادھورا پن کبھی مٹ سکے گا؟ کیا کوئی مجھے اپنائے گا؟"
سجیلا کی اس معصومانہ اور درد بھری بات پر ڈاکٹر شازیہ کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔ اس سے پہلے کہ ڈاکٹر کچھ کہتیں، صفیہ نے آگے بڑھ کر سجیلا کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ "تم ادھوری نہیں ہو میری جان!" صفیہ کی آواز میں ایک ماں کی ممتا اور شیرنی جیسی گرج تھی۔ "تم میری مکمل اور سب سے پیاری بیٹی ہوں۔ ہم یہ علاج اس لیے نہیں کروا رہے کہ ہمیں زمانے کو کچھ ثابت کرنا ہے، بلکہ اس لیے کروا رہے ہیں تاکہ تم اپنے اندر کی اس الجھن اور تکلیف سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو سکو۔ جب تک میری رگوں میں خون دوڑ رہا ہے، میں تمہیں تنہا نہیں چھوڑوں گی۔ ہم یہ جنگ مل کر لڑیں گے، اور جیتیں گے!"
ڈاکٹر شازیہ نے صفیہ کے اس حوصلے کو داد طلب نگاہوں سے دیکھا۔ اسی وقت ڈاکٹر نے سجیلا کے تمام ضروری ٹیسٹس لکھ کر دیے اور ہسپتال کے لیبارٹری عملے کو ہدایات جاری کر دیں۔ دوپہر سے لے کر شام تک سجیلا کے مختلف ٹیسٹ اور اسکینز ہوتے رہے۔ ہر سوئی کے چبھنے پر صفیہ کا دل دکھتا، لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ عارضی تکلیف اس کی بیٹی کے مستقل سکون کا واحد راستہ تھی۔
شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے جب وہ دونوں ہسپتال سے فارغ ہوئیں۔ ڈاکٹر شازیہ نے تمام رپورٹس آنے کے بعد اگلے ہفتے سرجری کے پہلے مرحلے کی حتمی تاریخ دینے کا وعدہ کیا تھا۔
گاڑی میں واپسی کا سفر انتہائی خاموش مگر ایک انجانے سکون سے بھرا ہوا تھا۔ سجیلا گاڑی کی کھڑکی سے باہر تیزی سے پیچھے کی طرف بھاگتے ہوئے درختوں اور عمارتوں کو دیکھ رہی تھی۔ آج اسے یہ بھاگتے مناظر اچھے لگ رہے تھے۔ اس کے دل میں برسوں سے جمی برف پگھلنے لگی تھی۔ اسے لگ رہا تھا جیسے اندھیری سرنگ کے اختتام پر روشنی کی ایک کرن بالآخر نمودار ہو چکی تھی۔
جب وہ حویلی واپس پہنچیں تو رات کا اندھیرا چھا چکا تھا، مگر آج حویلی کی فضا میں وہ کل والی مایوسی نہیں تھی۔ خالا کوثر اپنے کمرے میں تسبیح پڑھ رہی تھیں اور ان کی دعاؤں کا محور بھی صفیہ اور سجیلا ہی تھیں۔ حویلی کے در و دیوار آج خاموش ضرور تھے، مگر وہ جیسے ایک نئی امید، ایک نئے آغاز اور آنے والے ایک بہت بڑے امتحان کے لیے خود کو تیار کر رہے تھے۔
سجیلا نے اپنے کمرے کے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو دیکھا۔ اس نے اپنے لمبے سیاہ بالوں کو ہاتھ لگایا، اپنی خوبصورت آنکھوں میں جھانکا اور پہلی بار اس کے لبوں پر ایک حقیقی، پرامید مسکراہٹ ابھری۔ اسے اپنا آپ آج اجنبی نہیں لگ رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ آنے والے دن بہت کٹھن ہوں گے، سرجری کے مراحل تکلیف دہ ہوں گے، لیکن وہ اب ڈرنے والی نہیں تھی۔ اس کی ماں کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھا، اور جدید سائنس کی صورت میں قدرت نے اس کے لیے ایک راستہ کھول دیا تھا۔
کیا سجیلا اس تکلیف دہ مرحلے کو برداشت کر پائے گی؟ کیا جنید کی ہٹ دھرمی اور گاؤں والے اس راز کے سامنے کوئی نیا طوفان کھڑا کریں گے؟ اور کیا واقعی زندگی سجیلا کی جھولی میں وہ تمام خوشیاں ڈال دے گی جن کی وہ حقدار تھی؟
ان تمام سوالوں کے جواب اور حویلی کے دروازے پر دستک دیتی ہوئی نئی مشکلات کا حال جاننے کے لیے دیکھتے رہیے—سجیلا!
(جاری ہے)
کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر 📝 جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 اس ناول "سجیلا" کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور تحریر، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس یا سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
⚠️ ڈسکلیمر (دستبرداری): یہ ناول مکمل طور پر ایک افسانوی اور تخیلاتی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے اپنے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا وفات یافتہ)، خاندان یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ ہوگا اور اس مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی سماجی گروہ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔
🌐 رابطہ اور معلومات:
ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com
آفیشل ویب سائٹ:
www.ishratdigitalcreation.com آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)
Comments
Post a Comment