ناول: سجیلا (قسط نمبر 26)
ناول: سجیلا (قسط نمبر 26)
تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)
پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز
ہسپتال سے واپسی کے بعد حویلی کا ماحول ایک عجیب سی پرسکون سنجیدگی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اگلا پورا ہفتہ صفیہ اور سجیلا کے لیے کسی امتحان گاہ کی طرح گزرا۔ ڈاکٹر شازیہ کے بتائے ہوئے تمام پیچیدہ ٹیسٹس (کروموسومل مائیکرو ایرے، جینیاتی اسکینز اور ہارمونل پروفائلنگ) کے لیے انہیں ایک بار پھر شہر جانا پڑا۔ ہسپتال کی وہ سفید روشنیاں، بار بار سوئیوں کا چبھنا اور مشینوں کی سنسناہٹ سجیلا کے اعصاب کو جھنجھوڑ رہی تھی، مگر اس بار اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں بلکہ ایک انجانی ضد تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس درد کے پیچھے زندگی کی ایک نئی صبح منتظر ہے۔ صفیہ سائے کی طرح ہر لمحہ اس کے ساتھ موجود رہی، کبھی اس کا ہاتھ تھامتی تو کبھی اس کے ماتھے پر محبت سے ہاتھ پھیرتی۔
آخرکار وہ دن آ ہی گیا جب تمام رپورٹس ڈاکٹر شازیہ کی میز پر رکھی تھیں۔ ڈاکٹر شازیہ نے رپورٹس کا گہرائی سے مطالعہ کیا، ان کے چہرے پر سنجیدگی کے ساتھ ساتھ اطمینان کے آثار بھی نمایاں تھے۔ انہوں نے گہرا سانس لے کر صفیہ اور سجیلا کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا، "صفیہ! تمہاری بیٹی کی ہمت نے آج آدھی جنگ جیت لی ہے۔ رپورٹس اتنی حوصلہ افزا ہیں جتنی ہم نے توقع کی تھی۔ اب ہم سرجری کے پہلے مرحلے کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔"
یہ سننا تھا کہ سجیلا کے دل پر رکھا ہوا دباؤ جیسے برف کی طرح پگھل گیا۔ اس نے ایک طویل اور گہری سانس لی۔ ڈاکٹر شازیہ نے آگے کے تمام مراحل، احتیاطی تدابیر اور سرجری کے دوران درکار وقت کی تفصیلات سمجھائیں۔ صفیہ نے ڈاکٹر کے کہے ہوئے ہر لفظ کو گرہ باندھ لیا، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ لڑائی اب صرف میڈیکل کی نہیں، بلکہ ان کی بقا اور عزت کی بھی تھی۔
ادھر حویلی کی فضا میں ایک الگ ہی ہلچل تھی۔ حویلی کے جس حصے میں پیر سائیں نے صفیہ، خالا کوثر اور سجیلا کو رہنے کے لیے جگہ دی تھی، وہ بات گاؤں کے لوگوں اور خاص طور پر خدیجہ کے سسرال والوں کے لیے ایک بڑی پہیلی بنی ہوئی تھی۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ایک عام سی بیوہ اور اس کی بیٹی کا پیر سائیں جیسے بااثر اور روحانی پیشوا سے کیا تعلق ہے کہ وہ ان پر اتنی عنایت کرتے ہیں؟ لوگوں کی چہ مگوئیاں بڑھتی جا رہی تھیں۔
اسی دوران گاؤں میں ایک اور بڑی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔ پیر سائیں کے انتقال کے بعد، اب گدی نشینی کا وقت آن پہنچا تھا۔ پیر سائیں کے اکلوتے بیٹے، شاہ زیب، جو برسوں سے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کر رہے تھے، وطن واپس آ رہے تھے۔ پوری حویلی کو نئے سرے سے سجایا جا رہا تھا۔ ہر طرف رنگ و روغن، پھولوں کی مہک اور چہل پہل تھی۔ پیر سائیں کی بیگم، جو اپنے بیٹے کی واپسی کے لیے برسوں سے تڑپ رہی تھیں، خوشی سے نہال تھیں۔ گاؤں کے لیے یہ کوئی عام خبر نہیں تھی، کیونکہ اب گاؤں کی قسمت کے فیصلے شاہ زیب کے ہاتھ میں آنے والے تھے۔ لوگ یہ سوچ کر سہم بھی رہے تھے اور پر امید بھی کہ بیرونِ ملک سے تعلیم یافتہ شاہ زیب کا طرزِ حکومت کیسا ہوگا؟
خدیجہ، جو صفیہ کی دوست تھی، ان سب باتوں سے بہت پریشان تھی۔ وہ صفیہ کے پاس آئی اور بولی، "صفیہ! گاؤں میں تو عجیب سی ہوا چل رہی ہے۔ ہر کوئی شاہ زیب کے آنے کی باتیں کر رہا ہے، لیکن دوسری طرف تمہارے مخالفین اس بات کا فائدہ اٹھا کر یہ کہہ رہے ہیں کہ جب نیا گدی نشین آئے گا تو وہ پیر سائیں کی پرانی عنایات اور احسانات کو ختم کر دے گا، اور پھر تمہارا کیا بنے گا؟ اور یہ جنید... یہ تو اب کھلے عام دھمکیاں دے رہا ہے کہ وہ شاہ زیب کے دربار میں تمہاری شکایت کرے گا۔"
صفیہ نے ٹھنڈے لہجے میں جواب دیا، "خدیجہ! جو اللہ نے دیا ہے، وہ وہی چھین سکتا ہے۔ پیر سائیں نے جو جگہ ہمیں دی تھی، وہ اللہ کی رضا سے تھی۔ اگر شاہ زیب صاحب کو یہ بات ناگوار گزری تو ہم خود ہی یہاں سے چلے جائیں گے۔ عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے، انسان کے نہیں۔"
سرجری سے ایک رات قبل صفیہ نے سجیلا کو اپنے پاس بٹھایا۔ کمرے میں مدہم روشنی جل رہی تھی۔ صفیہ نے اپنے ہاتھ سے سجیلا کے بال سنوارتے ہوئے کہا، "میری جان! کل کا دن تمہاری زندگی کا سب سے بڑا دن ہے۔ تکلیف ہوگی، گھبراہٹ بھی ہوگی، مگر یاد رکھنا کہ تمہاری ماں ہر لمحہ تمہارے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم نے زمانے کی پرواہ کیے بغیر اپنے لیے جینے کا جو فیصلہ کیا ہے، اب پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔"
سجیلا نے اپنی ماں کے سینے سے لگ کر ہچکیاں لیتے ہوئے کہا، "اماں! مجھے اب درد سے ڈر نہیں لگتا، بس ڈر اس بات کا ہے کہ کیا سچ مچ میرے نصیب کی یہ کالی گھٹا چھٹ جائے گی؟ کیا لوگ مجھے قبول کریں گے؟"
صفیہ نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں اٹھایا اور پُرعزم لہجے میں بولی، "لوگوں کی پرواہ چھوڑ دو سجیلا! جو انسان اپنے آپ کو قبول کر لے، دنیا کو اسے جھک کر تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے۔ کل تم ایک نئی زندگی کی طرف پہلا قدم رکھو گی!"
اگلی صبح ہسپتال کے آپریشن تھیٹر کے باہر کا انتظار صفیہ کی زندگی کا سب سے طویل ترین وقت تھا۔ ایک طرف بیٹی کی سلامتی کی دعا اور دوسری طرف معاشرے کے طعنے اور جنید کی طرف سے آنے والے ممکنہ طوفان کی آہٹ—صہیہ اکیلی ان سب کے درمیان چٹان بن کر کھڑی تھی۔ جب آپریشن تھیٹر کے دروازے پر لگی سرخ بتی بجھی اور ڈاکٹر شازیہ تھکے ہوئے مگر مسکراتے چہرے کے ساتھ باہر آئیں، تو صفیہ کا دل زور سے دھڑک اٹھا۔
ڈاکٹر شازیہ نے صفیہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، "صفیہ، پہلا مرحلہ کامیاب رہا۔ لیکن اب اسے مکمل آرام اور خاص نگہداشت کی ضرورت ہے۔"
صفیہ نے شکر کے سجدے میں سر جھکا دیا۔ ابھی وہ ہسپتال سے فارغ ہو کر حویلی پہنچنے ہی والے تھے کہ انہیں خبر ملی کہ گاؤں کے داخلی راستے پر شاہ زیب کا قافلہ پہنچ چکا ہے۔ حویلی کے باہر ایک ہجوم تھا، نعرے لگ رہے تھے، اور شاہ زیب، جو ایک سفید گاڑی سے اترا، اپنی شخصیت سے متاثر کن لگ رہا تھا۔ مگر صفیہ کی نظریں اس کے چہرے پر نہیں، بلکہ ان خدشات پر تھیں جو سجیلا کے مستقبل کے بارے میں اس کے دل میں پیدا ہو رہے تھے۔
کیا شاہ زیب کا آنا سجیلا کے لیے رحمت ثابت ہوگا یا زحمت؟ کیا وہ ان غیبی عنایات کو جاری رکھے گا جو پیر سائیں نے ان پر کی تھیں؟ اور جنید کا وہ خطرناک منصوبہ، جو وہ حویلی کے نئے وارث کے سامنے پیش کرنے والا تھا، کیا وہ صفیہ اور سجیلا کی دنیا اجاڑ دے گا؟
زندگی کا پہیہ اب ایک نئے موڑ پر کھڑا تھا۔ قسمت کے فیصلے اب شاہ زیب کے ہاتھ میں تھے۔ سجیلا، جو ابھی بسترِ علالت پر تھی، اسے خبر بھی نہیں تھی کہ اس کی زندگی کا ایک نیا اور شاید سب سے مشکل امتحان دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
جاننے کے لیے دیکھتے رہیے—سجیلا!
(جاری ہے)
کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر 📝
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 اس ناول "سجیلا" کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور تحریر، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس یا سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
⚠️ ڈسکلیمر (دستبرداری): یہ ناول مکمل طور پر ایک افسانوی اور تخیلاتی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے اپنے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا وفات یافتہ)، خاندان یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ ہوگا اور اس کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی سماجی گروہ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔
🌐 رابطہ اور معلومات:
ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com
آفیشل ویب سائٹ:
https://ishratdigitalcreation.com/ آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)
Comments
Post a Comment