ناول: سجیلا (قسط نمبر 27)
ناول: سجیلا (قسط نمبر 27)
تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)
پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز
حویلی کے بڑے دیوان خانے میں اس وقت عجب سا رعب اور سکوت چھایا ہوا تھا。 پیر سائیں کے انتقال کے بعد گدی سنبھالنے والے شاہ زیب کی آمد نے چاروں طرف ایک نئی فضا قائم کر دی تھی。 شاہ زیب جو برسوں بعد باہر سے لوٹا تھا، اس کی شخصیت میں ایک ٹھہراؤ، متوازن سنجیدگی اور گہرا وقار رچا ہوا تھا。 وہ مسندِ اقتدار پربیٹھ چکا تھا، اور اردگرد گاؤں کے معززین، چوہدری اور حویلی کے پرانے کارندے ادب سے کھڑے تھے。
اسی مجمع کے درمیان جنید اپنے اندر چھپے تعصب اور غصے کو دباے آگے بڑھا۔ وہ سجیلا کی طرف سے ملنے والے انکار کو اپنی انا اور عزت کا مسئلہ بنا چکا تھا。 وہ اس تلخ حقیقت سے بالکل ناواقف تھا کہ سجیلا اس وقت کس ذہنی و جسمانی کرب اور شناخت کی جنگ سے گزر رہی ہے。 جنید نے موقع غنیمت جانتے ہوئے شاہ زیب کے سامنے ہاتھ جوڑے اور جھوٹی عاجزی کا ناٹک کرتے ہوئے بولا، "حضور! آپ کے والدِ بزرگوار کی ذات سراپا رحمت تھی، لیکن اس حویلی میں کچھ ایسے فیصلے بھی ہوئے ہیں جو روایات کے خلاف ہیں۔ صفیہ اور اس کی بیٹی سجیلا کا اس حویلی میں اس طرح رہنا اور بغیر کسی خاندانی رشتہ کے پناہ لینا ٹھیک نہیں۔ یہ لوگ معاشرے کے سکون کو خراب کر رہے ہیں، اور سجیلا کے معاملات بھی کچھ ٹھیک نہیں ہیں..."
جنید کے منہ سے سجیلا کے کردار پر انگلی اٹھنے ہی والی تھی کہ شاہ زیب کے چہرے پر پڑی شکنوں نے ماحول کا درجہ حرارت ایک دم گرادیا。 اس کی عقاب جیسی تیز نظریں جنید پر گڑ گئیں。
شاہ زیب نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے سرد اور دوٹوک لہجے میں کہا، "جنید! اپنی زبان اور اپنی حدود دونوں کو قابو میں رکھو。 بابا سائیں کے فیصلوں پر سوال اٹھانے کی جرات تم نے کیسے کی؟" شاہ زیب صرف اتنی بات پر ہی خاموش نہیں رہا، بلکہ اس نے خود خفیہ طور پر اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا فیصلہ کیا تھا。 اس نے اپنے خاص کارندوں اور ذرائع سے پتہ نکلوایا تھا کہ صفیہ اور سجیلا خاموشی سے ہسپتال کے کن چکروں میں ہیں اور ان کا کون سا نازک علاج چل رہا ہے。 جب اسے معلوم ہوا کہ وہ دونوں ماں بیٹیاں کس قدر درد، مشکلات اور معاشرے کے طعنوں کے باوجود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں، تو اس کا زاویہ ہی بدل گیا。
شاہ زیب نے مجمع کے سامنے جنید کو سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا، "بابا سائیں نے صفیہ جی کو اپنی بیٹی کہا تھا، اور اس رشتے سے وہ میری خالہ ہوئیں! ان کا احترام اس حویلی کے ہر فرد پر فرض ہے。 آج کے بعد اگر کسی نے بھی صفیہ جی یا سجیلا کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا یا ان کے کردار پر بات کی، تو اس کا حشر اس حویلی میں سب سے بدتر ہوگا۔ اور جنید! تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ ان کے آس پاس بھی نظر نہیں آنا۔"
حویلی کے ایک کونے میں خالا کوثر، جو خود بڑھاپے اور ضعف کی آخری حدوں پر تھیں اور جن کا جسم کانپتا رہتا تھا، وہ یہ سب دیکھ کر اندر سے پگھل رہی تھیں。 وہ جانتی تھیں کہ صفیہ اور سجیلا پر کیا گزر رہی ہے، اس لیے وہ دن رات بستر پر بیٹھیے ان دونوں کی سلامتی اور کامیابی کے لیے دعائیں مانگ رہی تھیں。
ادھر شاہ زیب کا دل سجیلا کے لیے ایک عجیب سی نرمی اور ہمدردی محسوس کرنے لگا تھا。 وہ سوچتا تھا کہ اتنی کم عمر اور اتنی بہادر لڑکی، جو زندگی کے اتنے کٹھن اور روح فرسا امتحانات سے اکیلی گزر رہی ہے—اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید اب تک ہمت ہار کر اپنی جان دے چکا ہوتا۔ مگر سجیلا اپنی شناخت کے اس سفر میں چٹان کی طرح ڈٹی ہوئی تھی。 اس کے دل میں سجیلا کے ان جذباتی اور پرعزم پہلوؤں کے لیے احترام پیدا ہونے لگا تھا。
شاہ زیب نے صفیہ کو بلوا کر باقاعدہ تسلی دی اور کہا، "خالہ! آپ کو اور سجیلا کو اس حویلی میں مکمل سکیورٹی اور سیفٹی حاصل رہے گی。 اب جب بھی آپ کو چیک اپ یا علاج کے لیے شہر جانا ہوگا، عام گاڑی پر نہیں جائیں گی۔ آپ کے لیے الگ سے گاڑی اور ذاتی ڈرائیور مخصوص کر دیا گیا ہے، اور ساتھ میں دو مسلح گارڈز بھی ہمہ وقت آپ کی حفاظت کے لیے موجود رہیں گے。" صفیہ کی آنکھوں میں شکرگزاری کے آنسو آ گئے، اس نے بھاری آواز میں شاہ زیب کا شکریہ ادا کیا。
اگلی صبح، جب سجیلا کا طبی معائنے اور فالو اپ چیک اپ کے لیے شہر جانے کا وقت ہوا، تو حویلی کے دروازے پر شاہ زیب کی طرف سے دی گئی مخصوص گاڑی اور ڈرائیور موجود تھا۔ ساتھ میں دو پروٹیکشن گارڈز بھی چوکس کھڑے تھے。 صفیہ کے ہمراہ جب سجیلا نے اس گاڑی کی طرف قدم بڑھایا اور پچھلی سیٹ پر بیٹھی ہی چاہتی تھی کہ اچانک وہاں جنید کی گاڑی سائیں سائیں کرتی ہوئی آ کر رکی。
جنید غصے سے بپھرا ہوا گاڑی سے باہر نکلا، اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا。 وہ لپک کر صفیہ اور سجیلا کے قریب آیا اور انتہائی بدتمیزی سے بولا، "بہت پر لگ گئے ہیں تم دونوں کو! سمجھتی کیا ہو اپنے آپ کو؟ شاہ زیب کے نام کا رعب دکھا کر بچ نکلو گی؟ سجیلا! آج تمہیں میری بات ماننی ہی ہوگی، ورنہ..."
اس کی بات ابھی منہ میں ہی تھی کہ ایک کڑک دار اور بھاری آواز نے فضا کو چیر ڈالا۔
"زبان کھینچ لوں گا اگر اگلی بار ان کے سامنے آواز بھی اونچی کی تو!"
شاہ زیب وہاں اچانک نمودار ہوا تھا۔ اس کے چہرے کا جلال دیکھ کر جنید کا رنگ فق ہو گیا。 شاہ زیب نے غصے سے کانپتے ہوئے جنید کو تنبیہ کی، "آئندہ اس حویلی کے گرد و نواث میں تمہارا سایہ بھی نظر نہیں آنا چاہیے، ورنہ جو انجام تمہارا ہوگا اس کے ذمہ دار تم خود ہو گے!"
اس کے بعد شاہ زیب نے فوراً اپنے خاص گارڈز کی طرف دیکھا اور حکم دیا، "انہیں فوراً باحفاظت شہر لے کر جاؤ۔ راستے میں ان کے ساتھ رہنا، اور ایک لمحے کے لیے بھی انہیں اکیلا یا غیر محفوظ مت چھوڑنا!"
جنید ذلت اور ناکامی کی انتہا پر پہنچ چکا تھا。 وہ تپتے ہوئے قدموں کے ساتھ اپنی گاڑی کی طرف پلٹا اور غصے میں پاگل ہو کر گاڑی کو انتہائی تیز رفتاری سے بھگا کر لے گیا。 اس کے اندر کا انتقامی جنون اور غصہ اس کی عقل پر پردہ ڈال چکا تھا。 وہ تیز رفتاری سے گاڑی دوڑا رہا تھا کہ موڑ پر سامنے سے آنے والے ٹرک سے اس کی گاڑی بے قابو ہو کر ٹکرا گئی، اور ایک ہولناک دھماکے کے ساتھ اس کا خطرناک سفر ہمیشہ کے لیے تمام ہو گیا۔
ادھر گاڑی محفوظ حصار میں شہر کی طرف روانہ ہو چکی تھی، اور حویلی کے اندھیرے کمرے میں ضعیف خالا کوثر جانماز پر بیٹھی سجیلا اور صفیہ کی سلامتی کے لیے دعاؤں میں مصروف تھیں۔
(جاری ہے)
📝 کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر:
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026۔ اس ناول "سجیلا" کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور تحریر، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس یا سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
⚠️ ڈسکلیمر (دستبرداری): یہ ناول مکمل طور پر ایک افسانوی اور تخیلاتی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے اپنے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا وفات یافتہ)، خاندان یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ ہوگا اور اس کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی سماجی گروہ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔
🌐 رابطہ اور معلومات:
ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com
آفیشل ویب سائٹ:
https://ishratdigitalcreation.com/ آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)
Comments
Post a Comment