ناول: سجیلا (قسط نمبر 28)
ناول: سجیلا (قسط نمبر 28)
تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)
پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز
جنید کی گاڑی کے خوفناک حادثے اور دھماکے کی گونج نے دور دور تک سناٹے کو چیر دیا تھا۔ اس اچانک ہونے والے حادثے کی خبر جب آگ کی طرح حویلی اور آس پاس کے علاقوں میں پھیلی، تو کہرام مچ گیا۔ حویلی کے دروازے پر کھڑے گارڈز اور ملازمین سکتے کے عالم میں ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ جنید کا اس طرح اچانک انجام کو پہنچنا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ حویلی کے بڑے دیوان خانے میں جب یہ خبر پہنچی، تو سناٹا مزید گہرا ہو گیا۔
شاہ زیب جب اس خبر سے آگاہ ہوا، تو اس کے چہرے پر ایک اداسی اور فکری لکیریں ابھر آئیں۔ وہ جانتا تھا کہ جنید اپنی ضد اور غصے کی وجہ سے خود اپنے انجام تک پہنچا ہے، لیکن اس کے باوجود ایک انسان کی اس طرح ہولناک موت نے ماحول کو بوجھل کر دیا تھا۔ چونکہ وہ جائے حادثہ شاہ زیب کا اپنا علاقہ یا دائرہ اختیار نہیں تھا، اس کے باوجود شاہ زیب نے انسانی ہمدردی اور اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر تمام معاملات اپنے ذمے لے لیے۔ اس نے اپنے خاص کارندوں کو روانہ کیا، جائے حادثہ سے ملبہ اور گاڑی ہٹوائی، اور جنید کی لاش کو احترام کے ساتھ ایمبولینس میں رکھوا کر اس کے آبائی گاؤں روانہ کرنے کا تمام انتظام خود اپنے ہاتھوں سے کروایا۔ اس نے اس گاؤں میں تعزیت کا پیغام بھیجوایا جہاں جنید کی تدفین ہونی تھی، اور تدفین سے متعلق تمام ضروری سامان بھی ایک قابلِ اعتماد شخص کے سپرد کر کے ایمبولینس کے ساتھ ہی روانہ کر دیا تاکہ سوگوار خاندان کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ شاہ زیب کے اس شاندار اور انسان دوست اقدام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ دشمن کے ساتھ بھی شرافت اور اصولوں کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔
ادھر سجیلا اور صفیہ جب شہر کے اسپتال پہنچیں، تو حادثے کی خبر ان تک بھی پہنچ چکی تھی۔ اسپتال کے سفید اور خاموش کوریڈور میں بیٹھی سجیلا کے دل میں ایک عجب سا خوف اور عجیب سی کشمکش تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ انسانی غصہ اور انا انسان کو کتنی تباہی کے دہانے پر لے جاتی ہے۔ جنید، جو لمحہ بھر پہلے تک بدتمیزی اور دھمکیوں پر اتر آیا تھا، اب اس دنیا میں نہیں تھا۔ سجیلا نے گہرا سانس لیا اور اپنے طبی معائنے کی طرف دھیان دیا۔ اس کا علاج اب اپنے آخری اور انتہائی حساس مرحلے میں تھا، جہاں ڈاکٹرز اسے مسلسل ذہنی دباؤ اور تناؤ سے دور رہنے کی تاکید کر رہے تھے۔
صفیہ نے اپنی بیٹی کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اور گلوگیر آواز میں بولیں، "بیٹی! اللہ نے ہمیں ہر شر اور فتنے سے بچا لیا ہے۔ دیکھو، سچائی اور خلوص کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔ شاہ زیب بیٹا ہمارے لیے رحمت بن کر سامنے آیا ہے، ورنہ اس ظالم کا سامنا کرنا ہمارے لیے اکیلے ناممکن تھا۔" سجیلا نے ماں کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور ہلکا سا مسکرانے کی کوشش کی، مگر اس کے دل کی گہرائیوں میں ایک انجنا سا سوال اب بھی مچل رہا تھا—کیا حویلی کے اندر سب کچھ واقعی اتنی آسانی سے بدل جائے گا؟ یا جنید کی موت کے بعد کوئی نیا طوفان جنم لینے والا ہے؟
دوسری طرف، حویلی کے ایک تاریک کونے میں خالا کوثر ابھی تک جانماز پر بیٹھی تسبیح پھیر رہی تھیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ وہ عمر کے اس حصے میں حویلی کے پرانے اور نئے تمام رنگ دیکھ چکی تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ جنید کی موت کے بعد اس کے گھر والے اور حویلی کے وہ پرانے افراد جو جنید کی پشت پناہی کرتے تھے، اس حادثے کا الزام بلاواسطہ یا بالواسطہ شاہ زیب اور صفیہ کے خاندان پر عائد کرنے کی کوشش کریں گے۔ خالا کوثر کا دل کسی ان ہونی کے ڈر سے کانپ رہا تھا۔ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی، "یا اللہ! اس حویلی کو مزید کسی خون خرابے اور نفرت کی آگ سے بچا لے۔"
اور ان کا یہ خدشہ بہت جلد سچ ثابت ہونے لگا۔ جنید کے انتقال کی خبر جب اس کے قریبی دوستوں اور حویلی کے کچھ مفاد پرست کارندوں تک پہنچی، تو انہوں نے اس حادثے کو محض اتفاق ماننے سے انکار کر دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ شاہ زیب کی طرف سے دی گئی سخت دھمکی اور پروٹیکشن کے بعد یہ سب کچھ اتنی آسانی سے نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اندر ہی اندر ایک خطرناک سازش کا جال بننا شروع کر دیا تاکہ سجیلا اور صفیہ کے خلاف کوئی نیا محاذ کھڑا کیا جا سکے।
اگلے دو دن تک حویلی کا ماحول شدید تناؤ کا شکار رہا۔ شاہ زیب خود اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دشمن اب کھلے عام تو سامنے نہیں آئیں گے، لیکن سایہ بن کر کوئی نہ کوئی چال ضرور چلیں گے۔ اس نے حویلی کی سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا اور صفیہ و سجیلا کی آمد و رفت کے راستوں پر اپنے سب سے قابل اعتماد افراد کو تعینات کر دیا۔
شہر سے چیک اپ کے بعد جب سجیلا واپس حویلی پہنچی، تو اس کے چہرے پر اب پہلے جیسی تھکن کے بجائے ایک عزم اور پختگی دکھائی دے رہی تھی۔ وہ جان چکی تھی کہ زندگی نے اسے جو امتحان دیے ہیں، وہ اسے کمزور کرنے کے لیے نہیں بلکہ اندر سے چٹان کی طرح مضبوط کرنے کے لیے تھے۔ اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی وہ باہر حویلی کے صحن کو دیکھ رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر حویلی کے بیرونی دروازے پر کھڑے ایک نامعلوم شخص پر پڑی، جو بڑی مشکوک نظروں سے صفیہ کے کمرے کی طرف دیکھ رہا تھا اور ہاتھ میں کوئی کاغذ یا لفافہ دبائے ہوئے تھا۔
سجیلا کا دل ایک لمحے کے لیے اچھل کر حلق میں آ گیا۔ اس نے فوری طور پر آگے بڑھ کر دروازہ کھولنا چاہا، مگر جیسے ہی وہ دروازے تک پہنچی، باہر وہ شخص اندھیرے میں غائب ہو چکا تھا، اور زمین پر ایک گہرا سرخ گلاب اور اس کے ساتھ بندھا ہوا ایک چھوٹا سا پر اسرار خط پڑا ہوا تھا!
سجیلا نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے وہ خط اٹھایا۔ جب اس نے لفافہ کھول کر اندر دیکھا، تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی! اس خط کے اندر جو تحریر تھی، وہ اس کے ماضی کے سب سے بڑے اور چھپا ہوا راز سے جڑی ہوئی تھی—ایک ایسا سچ جو حویلی کی پرانی دیواروں کے پیچھے کہیں دفن تھا، اور جسے پڑھتے ہی سجیلا کی دنیا ایک بار پھر الٹنے والی تھی۔
خط پر لکھا تھا:
"سجیلا! تم سمجھتی ہو کہ تم نے اپنی شناخت کی جنگ جیت لی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ تمہاری اصلیت کا جو راز تمہاری ماں نے چھپا رکھا ہے، وہ اب کھلنے والا ہے۔ شاہ زیب جسے اپنا محسن سمجھ رہا ہے، وہی تمہارے خاندان کی بربادی کا اصل سبب ہے۔ اگلی بار যখন تم سچ جانو گی، تو حویلی کا ہر رشتہ ریزہ ریزہ ہو جائے گا..."
سجیلا کے ہاتھ سے وہ خط چھوٹ کر نیچے گر گیا۔ اس کا سانس رکنے لگا۔ کیا یہ خط کسی سازش کا حصہ تھا؟ یا حویلی کے اندر اب بھی کوئی ایسا دشمن موجود تھا جو جنید سے بھی زیادہ خطرناک تھا؟ اور کیا شاہ زیب اس نئے طوفان سے سجیلا کو بچا پائے گا؟
(جاری ہے)
📝 کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر: جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026۔ اس ناول "سجیلا" کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور تحریر، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس یا سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
⚠️ ڈسکلیمر (دستبرداری): یہ ناول مکمل طور پر ایک افسانوی اور تخیلاتی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے اپنے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا وفات یافتہ)، خاندان یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ ہوگا اور اس کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی سماجی گروہ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔
🌐 رابطہ اور معلومات: * ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com
آفیشل ویب سائٹ:
https://ishratdigitalcreation.com/ آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)
Comments
Post a Comment