ناول: سجیلا (قسط نمبر 29)

 

ناول: سجیلا (قسط نمبر 29)

تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)

پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز

خط کے الفاظ سجیلا کی نگاہوں کے سامنے کسی زہرّیلے دھوئیں کی طرح پھیل چکے تھے۔ اس نے ایک ایک لفظ کو دل کی دھڑکنیں تھام کر پڑھا تھا، اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کا وجود ایک انجنے خوف کی لپیٹ میں آ رہا تھا۔ کمرے کے سنّاٹے میں اس کی اپنی سانسوں کی آواز بھی اسے گونجتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ مگر جیسے ہی اس نے خط کے آخری جملے پر نظر ڈالی، اس کے اندر چھپا ہوا بزدلانہ ڈر یکدم ایک پختہ عزم میں بدل گیا۔ اس نے گہری سانس لی، خود کو سنبھالا اور سوچنے لگی کہ آخر وہ کون ہے جو اس کے ماضی کی کہانی سے اس طرح پردہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے؟ یہ کون ہے جو اس کی زندگی میں طوفان برپا کرنا چاہتا ہے؟

سجیلا کے ذہین اور سلجھے ہوئے دماغ نے فوری طور پر یہ حقیقت بھانپ لی کہ اس نامعلوم خط کا مقصد صرف اور صرف اسے ذہنی طور پر توڑنا اور حویلی کے ماحول میں بدگمانی کے بیج بونا ہے۔ اس نے دل ہی دل میں تہیہ کر لیا کہ وہ اس چھپے ہوئے دشمن کا پتا خود لگائے گی، مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ تھی کہ وہ ہرگز نہیں چاہتی تھی کہ یہ گھٹیا تماشا یا اس خط کی خبر کسی بھی طرح شاہ زیب تک پہنچے۔ وہ شاہ زیب کی نگاہوں میں اپنے لیے اور اپنی محبت کے لیے جو احترام دیکھتی تھی، اسے کسی بھی قیمت پر دھندلا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ بخوبی جانتی تھی کہ شاہ زیب اس وقت حویلی کے تمام معاملات، دشمنوں کی چالوں اور باہر کے حالات کو سنبھالنے میں کتنا مصروف ہے، ایسے میں اس بے بنیاد اور مشکوک خط کا ذکر کر کے وہ اسے مزید الجھن میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔

اس نے عزم مصمم کے ساتھ وہ سرخ گلاب زمین سے اٹھایا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے پاس پڑے ڈسٹ بن میں پھینک دیا۔ اس کے بعد اس نے وہ خط اپنے ہاتھ میں لیا، اپنے بکھرے ہوئے حواس کو یکجا کیا، اور اپنے کمرے سے نکل کر سیدھا اپنی ماں صفیہ کے کمرے کی طرف چل دی۔ حویلی کے طویل اور سنسان راہداریوں کو عبور کرتے ہوئے اس کے قدموں میں ایک عزم کی لہر دوڑ رہی تھی۔

جب وہ صفیہ کے کمرے میں داخل ہوئی، تو وہاں کا منظر انتہائی پُرسکون اور دل کو چھونے والا تھا۔ صفیہ زمین پر بیٹھی ہوئی تھیں اور ان کے سامنے صفیہ کی بزرگ نانی جان (یا گھر کی بزرگ خاتون) بیٹھی تھیں جن کے پینوں کی مالیش صفیہ اپنے ہاتھوں سے کر رہی تھیں۔ کمرے میں ہلکی سی دھیمی روشنی تھی اور ماحول میں ایک مانوس سا سکون بسا ہوا تھا۔ صفیہ نے جب دروازے پر سجیلا کی آہٹ سنی اور اس کے چہرے کی پریشانی اور زرد رنگ کو دیکھا، تو وہ سمجھ گئیں کہ بیٹی کسی شدید فکری دباؤ میں ہے۔ صفیہ نے فوراً اپنی جگہ چھوڑی، نانی جان کے پاس کام ختم کر کے، اپنے ہاتھ صاف کیے اور لپک کر بیٹی کے قریب آئیں۔

انہوں نے شفقت بھرے انداز میں سجیلا کے شانوں پر ہاتھ رکھا اور نرمی سے بولیں، "بیٹی! ذرا خاموش رہو، نانی جان ابھی آرام کر رہی ہیں۔ تم یہاں اس طرح گھبرائی ہوئی کیوں آئی ہو؟ اور بتاؤ، کیا بات ہے، تم کیوں رو رہی ہو؟ تمہاری آنکھوں میں یہ آنسو کس بات کے ہیں؟"

سجیلا سے اب مزید خاموش نہیں رہا گیا۔ اس نے وہ مروڑا ہوا خط آگے بڑھایا اور کانپتی ہوئی انگلیوں سے صفیہ کے ہاتھ میں تھما دیا۔ صفیہ نے ایک لمحے کے لیے حیرت اور شدید پریشانی سے اس خط کو دیکھا۔ ان کا دل بھی اس ناگہانی خط کو دیکھ کر دھک سے رہ گیا، کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ماضی کے راز کتنے بھیانک اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔ مگر اگلے ہی لمحے صفیہ کو یہ خیال آیا کہ اس وقت سجیلا کا میڈیکل علاج اپنے انتہائی نازک اور حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ڈاکٹرز نے اسے بار بار تاکید کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے ذہنی تناؤ، ڈپریشن یا پریشانی سے دور رہے، تاکہ وہ جلد از جلد ایک نارمل، پرسکون اور خوشگوار زندگی کی طرف لوٹ سکے۔

صفیہ نے صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سجیلا کا ہاتھ پکڑا اور اسے کمرے کے ایک گوشے میں ایک سائیڈ پر لے گئیں۔ انہوں نے بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور انتہائی محبت اور پختگی سے سمجھاتے ہوئے کہا، "میری جان! گھبراؤ مت۔ جو بھی یہ سب کر رہا ہے، وہ صرف ہمیں ذہنی طور پر کمزور اور پریشان کرنا چاہتا ہے۔ تمہیں اس دنیا کے ہتھکنڈوں سے ٹوٹنا نہیں ہے، بلکہ ہمت سے مقابلہ کرنا ہے۔ یہ صرف اور صرف ہمارے خلاف بدگمانی پھیلانے کی ایک گھٹیا سازش ہے، جس کے پیچھے یقیناً حویلی کا کوئی دشمن ہاتھ دھو کر پیچھے پڑا ہے۔ تم اپنے دل کو چھوٹا مت کرو، تمہاری عزت، تمہارا کردار اور تمہاری شرافت پر کوئی آنچ نہیں آ سکتی، یہ مکمل طور پر محفوظ رہے گی۔"
ماں کے ان حوصلہ افزا الفاظ کو سن کر بھی سجیلا کے دل کا بوجھ ہلکا نہیں ہوا تھا۔ اس کے ذہن میں خوف کے وہ سائے اب بھی ناچ رہے تھے جو معاشرے اور حویلی کے اصولوں سے جڑے تھے۔ اس نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے لرزتے لہجے میں جواب دیا، "ماں! آپ یہ سب کتنی آسانی سے کہہ رہی ہیں،"، لیکن کیا آپ بھول گئی ہیں کہ شاہ زیب کا خاندان اس علاقے میں کیا حیثیت رکھتا ہے؟ شاہ زیب ہمارے لیے کتنی عزت اور احترام سے پیش آتا ہے، اور پیر سائیں کی بیگم صاحبہ ہمیں اپنی فکری اور خاندانی فیملی کا حصہ سمجھتی ہیں۔ لیکن... اگر اس نامعلوم خط کی باتیں جھوٹی سچی ہو کر کسی نے ان کے کان بھر دیے، یا خدانخواستہ یہ زہر ان تک پہنچ گیا، تو وہ ہمیں اس حویلی اور اس عزت سے باہر نکال دیں گے۔ پھر ہم کہاں جائیں گے؟ ہمارا اس دنیا میں کون ٹھکانہ ہوگا؟"

صفیہ نے سجیلا کی اس بے بسی اور خوف کو محسوس کیا، تو ان کی آنکھوں میں ماضی کے ان گنت تلخ تجربات کی پرچھائیاں تیر گئیں۔ انہوں نے مضبوط لہجے میں بیٹی کو تسلی دیتے ہوئے کہا، "سجیلا! میری بچی، تم یہ کیوں بھول جاتی ہو کہ ماضی میں ہم نے اس زندگی میں کیا کیا نہیں دیکھا؟ ایسے طوفان اور الزامات تو کئی بار زندگی میں آ چکے ہیں، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ عزت اور ذلت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک اوپر والا نہ چاہے، دنیا کی کوئی طاقت، کوئی دشمن، اور کوئی سازشی انسان تمہاری عزت کا تماشا نہیں بنا سکتا۔ انسان کی نیت صاف ہو تو رب راستے خود ہی کھول دیتا ہے۔"

صفیہ نے تھوڑا سا توقف کیا، سجیلا کے چہرے پر محبت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے مزید کہا، "تم ذرا یاد کرو کہ جب جنید اس حویلی میں آیا تھا اور زبردستی ہمارے لیے رشتے کی باتیں کرنے لگا تھا، تو اس کے اندر کتنا گھٹیا پن اور خود غرضی بھری ہوئی تھی۔ وہ تو شکر ہے کہ اللہ نے اپنی قدرت دکھائی اور اس کا انجام سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اب جبکہ وہ اس دنیا سے جا چکا ہے، تو تمہیں اپنے دل کو مضبوط کرنا چاہیے۔ صبر سے کام لو، کیونکہ جلد بازی یا گھبراہٹ دشمن کی سب سے بڑی جیت ہوتی ہے۔"

یہ کہہ کر صفیہ نے سجیلا کے ہاتھ سے وہ خط خود لیا، اسے ایک نظر پڑھا، اور پھر بغیر کسی خوف کے اس خط کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے قریب ہی رکھے ڈسٹ بن میں پھینک دیا۔ انہوں نے سجیلا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیار سے کہا، "اب تم جاؤ، اپنے کمرے میں جاکر سکون سے آرام کرو، اور وقت پر اپنی دوا لے لینا، ذرا بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آج رات میں ادھر ہی نانی جان کے پاس نیچے والے کمرے میں ہی آرام کر لوں گی، تم بے فکر ہو کر سو جاؤ۔"

دوسری طرف، حویلی کے دوسرے حصے میں شاہ زیب اپنی ذات اور اپنے ماضی کے دریچوں میں گم تھا۔ جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا، اسے اچھی طرح یاد تھا کہ اس کے والد نے اسے اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے پہلے شہر کے بہترین کالج بھیجا تھا، اور پھر وہاں سے مزید اعلیٰ ڈگری دلانے کے لیے سمندر پار (باہر) یونیورسٹی روانہ کر دیا تھا۔ کئی سال باہر گزارنے اور وہاں سے قانون و بزنس کی اعلیٰ ڈگری حاصل کرنے کے بعد جب وہ واپس اپنے آبائی گاؤں اور خاندانی حویلی میں لوٹا تھا، تو حالات بالکل بدل چکے تھے۔

گاؤں اور حویلی میں قدم رکھتے ہی اس نے تمام کاروباری، خاندانی اور انتظامی معاملات کا بہت باریک بینی اور باقاعدہ جائزہ لینا شروع کر دیا تھا۔ اس کے پاس اس کے مرحوم بابا کے وہ پرانے، وفادار اور تجربہ کار ملازمین اور معتمدین کا بھرپور ساتھ تھا، جو آنکھیں بند کر کے اس کے ایک اشارے پر اپنی جان نچھاور کرنے کو تیار رہتے تھے۔ ان تمام بھاری ذمہ داریوں، دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور حویلی کے وقار کو بحال کرنے کی تگ و دو کے درمیان، اس کے دل کے کسی نہ کسی نہاں خانے میں ایک اور بہت ہی حسین اور دلی خواہش نے جنم لے لیا تھا، جو اب دن بہ دن ایک درخت کی طرح بڑھتی چلی جا رہی تھی۔

وہ خواہش اور کوئی نہیں، بلکہ سجیلا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنا نام دینے کی تھی—اسے اپنی شریکِ حیات بنانے کی تھی۔ شاہ زیب کی والدہ محترمہ کئی بار پیار سے اس کے سامنے یہ بات دہرا چکی تھیں کہ بیٹا! اب دیر مت کرو، میں نے اپنے گھر میں اپنے بیٹے کی دلہن کو بیاہ کر لانا ہے، اب تو اپنے گھر کو آباد کرو۔ اس پر شاہ زیب ہمیشہ مسکرا کر یہی کہتا تھا کہ امی! مجھے تھوڑا سا وقت اور دیں، ابھی میں حویلی کے تمام ادھورے معاملات اور دشمنوں کی چالوں کو پوری طرح سمجھ رہا ہوں، جیسے ہی حالات مکمل طور پر قابو میں آ جائیں گے، میں خود آپ کی یہ خواہش پوری کر دوں گا۔

مگر حقیقت یہ تھی کہ جب بھی حویلی کے صحن میں یا راہداریوں میں چلتے پھرتے اچانک سجیلا سے اس کا سامنا ہو جاتا، تو اس کا دل بے اختیار اور شدت سے سجیلا کی طرف لپکنے لگتا تھا۔ وہ اپنے جذبات پر قابو پانے کے لیے بے حد احترام سے اپنی نگاہیں جھکا لیتا اور ایک سائیڈ پر ہو کر خاموشی سے آگے گزر جاتا۔ ان دونوں کی خاموش نگاہوں اور دل کی دھڑکنوں کے درمیان ایک بالکل نئی، خوبصورت اور پاکیزہ کہانی کا آغاز ہو چکا تھا—ایک ایسی کہانی جس کے ہر ورق پر صرف اور صرف خلوص اور سچے احساسات کی مہر ثبت تھی۔

(جاری ہے)

📝 کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر:

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026۔ اس ناول "سجیلا" کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور تحریر، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس یا سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

⚠️ ڈسکلیمر (دستبرداری):

یہ ناول مکمل طور پر ایک افسانوی اور تخیلاتی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے اپنے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا وفات یافتہ)، خاندان یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ ہوگا اور اس کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی سماجی گروہ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔

🌐 رابطہ اور معلومات:

  • ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com

  • آفیشل ویب سائٹ: https://ishratdigitalcreation.com/

  • آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23