ناول: سجیلا (قسط نمبر 30)


ناول: سجیلا (قسط نمبر 30) 

تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) 

پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز

رات کے اسپوت اور گہرے سنّاٹے میں حویلی کا پورا ماحول کسی خوفناک آسیب کی طرح خاموش تھا۔ کمرے کے مدھم اجالے میں سجیلا گہری نیند میں سو رہی تھی، مگر اس کا چہرہ کسی شدید ذہنی کشمکش اور بے چینی کی غمازی کر رہا تھا۔ خواب کی دنیا میں اس کا دل کسی ان جانے خوف سے کانپ رہا تھا کہ اچانک فضا میں ایک گونجتی ہوئی، سرد اور طنزیہ آواز ابھری، جو سیدھا اس کے دل پر اثر انداز ہو رہی تھی: "کب تک بچو گے آخر؟ جس دن شائروز کو تمہارے ماضی کا پتہ لگا، وہ تمہیں اپنے دل سے بھی نکال باہر کرے گا اور ساتھ ہی اس حویلی کے دروازے بھی تم پر ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے!"

سجیلا اس خوفناک تصور سے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ اس کا پورا جسم پسینے میں ڈوبا ہوا تھا اور سانسیں سینے میں اٹک گئی تھیں۔ اس نے ڈرتے ہوئے ہانپتے ہوئے کہا، "نہیں... نہیں! ایسے نہیں ہو سکتا، یہ سچ نہیں ہو سکتا!"

اس کی آنکھیں خوف کے مارے کھلی کی کھلی رہ چکی تھیں۔ اس نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا، مگر کمرے میں اس کے سوا کوئی نہیں تھا۔ کچی نیت اور کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے پاس رکھے جگ سے گلاس میں پانی انڈھیلا اور پیا، تب کہیں جا کر اس کے سینے کی آگ اور سانسیں کچھ بحال ہوئیں۔ اس نے پاس ہی رکھی گھڑی پر نظر ڈالی تو صبح کے چار بج رہے تھے۔ فجر کی اذان میں ابھی تھوڑا ہی وقت باقی تھا، مگر اب اس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور ہو چکی تھی۔ وہ بستر سے اٹھی، اپنے بکھرے حواس کو سمیٹا، اور وضو کرنے کے لیے باتھ روم کی طرف چلی گئی۔

وضو سے فراغت کے بعد اس نے مصلّیٰ بچھا دیا اور جیسے ہی سجدے میں سر رکھا، اس کے اندر کا سارا ضبط ٹوٹ گیا۔ اس کی سسکیاں ہچکیوں میں بدل گئیں اور آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا۔ وہ رب کے حضور گڑگڑا کر دعا مانگنے لگی۔ کافی دیر تک رونے اور دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعد جب اس نے سجدے سے سر اٹھایا اور اپنے آنسو پونچھے، تو باہر سے فجر کی دھیمی اور پرسکون آواز میں اذان کی صدائیں گونجنے لگی تھیں۔ اذان کے ختم ہونے کے بعد بھی وہ کافی دیر تک توبہ اور دعاؤں میں مصروف رہی۔

نماز سے فارغ ہو کر تازہ ہوا کے جھونکے اور دل کی گھٹن کو مٹانے کے لیے وہ حویلی کے کشادہ لان کی طرف چلی آئی۔ لان میں ٹہلتے ہوئے اچانک اس کی نگاح شاہ زیب کے کمرے کی کھڑکی پر پڑی۔ وہاں کا پردہ ہلکا سا ہٹا ہوا تھا اور اندر تیز روشنی جل رہی تھی۔ سجیلا کافی دیر تک اس روشن کھڑکی کو ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہی، اس کے دل میں ایک انجان سا خوف پھر سے انگڑائی لینے لگا۔ اتنے میں اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کے بالکل پیچھے کوئی کھڑا ہے۔ اس نے خوف سے کانپتے ہوئے جیسے ہی مڑ کر پیچھے دیکھا، تو سامنے خود شاہ زیب کو کھڑا پایا۔

شاہ زیب ایک لمحے کے لیے ہلکا سا پیچھے ہوا اور سجیلا کے چہرے پر پڑنے والی پریشانی کی تہوں کو بھانپتے ہوئے نرم مگر فکرمند لہجے میں بولا، "سجیلا بی بی! آپ اتنی صبح صبح یہاں لان میں؟ اور سب خیریت تو ہے نا؟ خالہ ٹھیک ہیں؟"

سجیلا ابھی کچھ بولنے کے قابل بھی نہیں ہو پائی تھی کہ شاہ زیب نے اس کے چہرے کے آثار دیکھ کر فوراً اگلا سوال داغ دیا، "کیا بات ہے؟ آپ کی حالت دیکھ کر لگتا ہے آپ ساری رات سوئی نہیں ہیں... یہ آنکھیں اتنی سوجھی ہوئی کیوں ہیں؟ ایک منٹ... ذرا میرے ساتھ اس بینچ پر بیٹھ کر بتائیں، کیا ہوا ہے؟ آپ روئی ہیں؟ کیا کسی نے کچھ کہا ہے?"

شاہ زیب کو اپنے لیے اس قدر بے پناہ فکرمند اور پریشان دیکھ کر سجیلا کے اندر احساسِ جُرم نے زور پکڑ لیا۔ اس کے دل نے گواہی دی کہ اگر واقعی ایک دن شائروز کو اس کے ماضی کی سچائی کا پتہ چل گیا، تو کیا واقعی وہ اس کی زندگی سے ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گا؟ کیا وہ اس سچے پیار اور حویلی کی اس توجہ اور عزت کا جو وہ اب عادی ہو چکی ہے، کھو بیٹھے گی؟ یہ سوچتے ہی سجیلا کی آنکھوں سے دوبارہ بے اختیار آنسو چھلک پڑے۔

شاہ زیب نے تذبذب اور بے قراری کے عالم میں آگے بڑھ کر اپنی جیب سے صاف رومال نکالا اور انتہائی شفقت سے سجیلا کے آنسو خود صاف کرتے ہوئے کہا، "مجھے بتائیں آخر بات کیا ہے جو آپ کو اس طرح اندر سے کھائے جا رہی ہے؟ کیا کوئی ایسا مسئلہ ہے جو آپ مجھ سے ڈسکس کر سکتی ہیں؟ اگر مجھ پر اعتبار نہیں تو اپنی ماں جی سے کہیے، لیکن یوں اندر ہی اندر گھٹ کر رونے سے آپ اپنی طبیعت اور زیادہ خراب کر لیں گی!"

سجیلا کو لگا کہ اب چھپانے کا وقت ختم ہو چکا ہے اور جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ اس نے اپنی تمام تر ہمت کو مجمع کیا، اپنے کانپتے ہونٹوں کو ہلایا اور بمشکل بولنے ہی والی تھی کہ اس نے دبی آواز میں کہا، "شاہ زیب... مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کہی..."

مگر اس کی بات ابھی شائروز کے کانوں تک پوری طرح پہنچی بھی نہیں تھی کہ حویلی کا ایک ملازم دوڑتا ہوا وہاں آ پہنچا اور ہانپتے ہوئے بولا، "سائیں! بڑی گڑبڑ ہو گئی ہے۔ زمینوں کی طرف پانی کا شدید مسئلہ بن گیا ہے۔ ساتھ والے گاؤں کے زمیندار نے زبردستی ہمارا پانی روک کر اپنی طرف موڑ لیا ہے، جس سے ہماری ساری کھڑی فصلیں خراب ہو رہی ہیں۔ کسان اور باقی لوگ لان کے باہر آپ ہی کا انتظار کر رہے ہیں!"

شاہ زیب جو سجیلا کے منہ سے نکلنے والے ہر ایک لفظ پر پوری توجہ دینے کی تیاری کر رہا تھا، ملازم کی اس اچانک خبر پر ایک لمحے کے لیے ششدر رہ گیا۔ اس کا دھیان فوراً زمینوں کے اس سنگین مسئلے کی طرف الجھ گیا، مگر ساتھ ہی اس کے ذہن میں سجیلا کے ادھورے الفاظ اور اس کا روتا ہوا چہرہ بھی گردش کرنے لگا کہ وہ کون سی اصلیت کی بات کرنے والی تھی؟

اس سے پہلے کہ شاہ زیب سجیلا سے اس کی بات کی گہرائی تک پہنچتا، حویلی کے اندر سے ایک اور ملازمہ دوڑتی ہوئی آئی اور بولی، "سائیں! بڑی بیگم صاحبہ نے آپ کو فوراً اندر بلایا ہے، وہ کسی اہم معاملے پر آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں۔"

یہ سن کر شاہ زیب نے شدید مجبوری کے عالم میں سجیلا کی طرف دیکھا اور معذرت خواہانہ لہجے میں بولا، "سجیلا! معذرت چاہتا ہوں، لگتا ہے مجھے فوراً اندر جانا ہوگا اور پھر زمینوں کی طرف نکلنا پڑے گا۔ آپ پلیز اپنا خیال رکھیں، ہم اس ادھوری بات کو جلد ہی تفصیل سے ڈسکس کریں گے!" یہ کہہ کر وہ تیزی سے اندر کی طرف لپک گیا۔

لان کے کھلے آسمان کے نیچے اکیلی کھڑی سجیلا کا سانس اندر کا اندر ہی گھٹ کر رہ گیا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اگر شاہ زیب کو اس کے ماضی کی حقیقت کا پتہ چل گیا، تو اس کا اگلا ردعمل کیا ہوگا؟ کیا وہ سجیلا کو ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی سے دور کر دے گا، یا پھر اس مشکل گھڑی میں اس کا ساتھ نبھائے گا؟

سجیلا کی محبت کا مستقبل اب کڑے امتحانات کے دہانے پر کھڑا تھا، جہاں ہر آنے والا لمحہ ایک نئے طوفان کی نوید سنا رہا تھا۔ آخر کیا ہونے والا ہے سجیلا کی تقدیر میں؟ یہ جاننے کے لیے پڑھتے رہیے ناول "سجیلا"، جبکہ دوسری طرف شاہ زیب کا ماں جی سے ملنا اور فوراً بگڑتے ہوئے حالات کی وجہ سے زمینوں کی طرف روانہ ہونا اب کہانی کو ایک بالکل ہی نئے اور سنسنی خیز موڑ پر لے جانے والا تھا...

(جاری ہے)

📝 کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026

اس ناول (یا تحریر) کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور اس کا متن، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس، فیس بک یا کسی بھی سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

⚠️ ڈسکلیمر (دستبرداری):

یہ تحریر مکمل طور پر ایک افسانوی اور تخیلاتی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے اپنے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا وفات یافتہ)، خاندان یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ ہوگا، اور اس کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی سماجی گروہ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔

🌐 رابطہ اور معلومات:

  • ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com

  • آفیشل ویب سائٹ: https://ishratdigitalcreation.com/

  • آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23