ناول: سجیلا (قسط نمبر 31)
ناول: سجیلا (قسط نمبر 31) تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)
پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز
لان کے کھلے آسمان کے نیچے اکیلی کھڑی سجیلا کا سانس اندر کا اندر ہی گھٹ کر رہ گیا تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اگر شاہ زیب کو اس کے ماضی کی حقیقت کا پتہ چل گیا، تو اس کا اگلا ردعمل کیا ہوگا؟ وہ ان ہی الجھنوں میں گھری تھی کہ اتنے میں اندر سے بڑی بیگم کا بلاوا آ گیا۔ شاہ زیب نے معذرت کرتے ہوئے سجیلا سے کہا کہ وہ اس ادھوری بات پر بعد میں تفصیلی گفتگو کرے گا اور تیزی سے اندر کی طرف لپک گیا۔
اندر پہنچ کر جب شاہ زیب نے اپنی ماں سے ملاقات کی، تو بڑی بیگم نے سنجیدہ اور متبرک لہجے میں کہا، "بیٹا! منشی جی آئے ہیں اور ساتھ کچھ زمیندار بھی ہیں جو پانی کے مسئلے پر بہت پریشان ہیں۔ تم ان سے ملو اور فوراً زمینوں کی طرف جاؤ تاکہ اس مسئلے کا کوئی پرامن حل نکل سکے۔ اور میری ایک نصیحت یاد رکھنا، غصے میں کوئی غلط الفاظ یا غلط قدم مت اٹھانا۔ تمہارے بابا سائیں ہر معاملے کو بڑی دانشمندی اور سکون سے نبٹاتے تھے۔ جاؤ، میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔"
ماں کی بات پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے شاہ زیب نے اپنے کمرے میں آ کر لباس تبدیل کیا اور سیدھا بیٹھک کا رخ کیا، جہاں وہ لوگ اور زمیندار اس کے منتظر بیٹھے تھے۔ تمام فریقین کی شکایات اور روداد سننے کے بعد شاہ زیب نے انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے ہوئے نہایت متوازن اور منصفانہ فیصلہ سنایا تاکہ کسی بھی فریق کی حق تلفی نہ ہو اور ہر ایک کو اس کے حصے کا پانی مل سکے۔ ان تمام امور کو سلجھاتے اور کسانوں کے مسائل حل کرتے کرتے دن ڈھل گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے رات ہونے کو آگئی۔
ہسپتال کے ویٹنگ ایریا میں اس وقت صفیہ اکیلی بیٹھی رب کے حضور گڑگڑا رہی تھی، جبکہ اندر سجیلا کو آپریشن تھیٹر لے جایا جا چکا تھا۔ دو گھنٹے کا یہ طویل انتظار صفیہ کے لیے صدیوں کا سفر بن چکا تھا۔ وہ مسلسل دعاؤں اور تسبیح میں مصروف تھی کہ اچانک اس کے قریب کسی کی قدموں کی چاپ اور موجودگی کا احساس ہوا۔ صفیہ نے چونک کر اپنی آنکھیں کھولیں اور جیسے ہی سامنے دیکھا، تو اس کے منہ سے بے ساختہ ایک چیخ نکل گئی اور وہ اٹھ کھڑی ہوئی، "رحمت...! رحمت خان!"
سامنے کھڑا شخص کوئی اور نہیں بلکہ رحمت خان تھا، جو اب ماضی کا تگڑا انسان نہیں بلکہ صرف ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بن چکا تھا، جس کے چہرے پر پچھتاوے اور ندامت کی گہری لکیریں صاف جھلک رہی تھیں۔ وہ کانپتی ہوئی اور لڑکھڑاتی آواز میں بولا، "شکر ہے صفیہ... تم نے مجھے پہچان تو لیا... کیسی ہے میری بیٹی؟ سجیلا کہاں ہے؟"
'بیٹی' کا لفظ سن کر صفیہ کا ضبط کا بند ٹوٹ گیا اور وہ غصے اور حقارت سے پھٹ پڑی، "کون سی بیٹی؟! تمہارا ہم سے رشتہ کب کا ختم ہو چکا ہے رحمت خان! جس بیٹی کو تم ایک روز رات کے اندھیرے میں ہمیشہ کے لیے ختم کرنے یا گھر سے دھکے دینے نکلے تھے، آج تمہیں اچانک اس کی یاد کیوں آ گئی؟ یہاں سے چلے جاؤ ورنہ میں پورا ہسپتال سر پر اٹھا لوں گی! میں سجیلا پر تمہارا سایہ بھی برداشت نہیں کروں گی! سجیلا صرف میری بیٹی ہے، تمہاری کچھ نہیں لگتی!"
رحمت خان کی آنکھوں سے شرمندگی کے آنسو چھلک کر اس کے گالوں پر بہہ نکلے۔ وہ ہاتھ جوڑ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، "مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی تھی صفیہ... میں نے انا کی آگ میں جل کر اپنی محبت اور اپنے ہی گھر کو اپنے ہاتھوں برباد کر لیا۔ اس دن تم سچی تھی اور میں اندھا اور غلط تھا! مجھے اور کچھ نہیں چاہیے، بس ایک بار میری جان چھوٹنے سے پہلے مجھے میری سجیلا سے معافی مانگنے دو..."
"یہاں سے دفع ہو جاؤ! اگر تم ایک منٹ بھی یہاں اور رکے تو میں پولیس کو بلا لوں گی! بڑی مشکل سے تو تمہاری جیل کی سزا اور عذاب ختم ہوا ہے، اب ہمارے جینے کا سکون مت اجاڑو!" صفیہ के سخت تیور اور قانونی کارروائی کے ڈر سے رحمت خان کانپتا ہوا وہاں سے پچھلے قدموں واپس بھاگ گیا۔ صفیہ نے ایک لمبا اور گہرا سانس لیا، اپنے آپ کو سنبھالا اور دوبارہ دل کو قوی کر کے سجیلا کی زندگی اور صحت کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگنے لگی۔
بالآخر دو گھنٹے کے طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد آپریشن تھیٹر کے دروازے کھلے اور لیڈی ڈاکٹر باہر تشریف لائیں۔ ڈاکٹر کے چہرے پر ایک پرسکون اور اطمینان بخش مسکراہٹ تھی جسے دیکھ کر صفیہ کی جان میں جان آئی۔ ڈاکٹر نے صفیہ کے قریب آ کر اسے مبارکباد دی اور کہا، "مبارک ہو صفیہ! یہ میری میڈیکل لائف کے سب سے پیچیدہ اور حساس کیسز میں سے ایک تھا، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ہماری محنت رنگ لائی اور ہم اس سرجری میں سو فیصد کامیاب رہے ہیں۔ ویسے تکنیکی طور پر سجیلا میں کوئی بہت بڑا پیدائشی یا جینیاتی نقص نہیں تھا، قدرت نے اسے شروع سے لڑکی ہی بنایا تھا، بس ہارمونل بگاڑ اور کچھ اندرونی پیچیدگیاں حائل تھیں۔ اب اللہ کے فضل اور اس کامیاب سرجری کے بعد وہ مکمل طور پر ایک نارمل لڑکی بن چکی ہے! بس اب اس کی کچھ روز تک باقاعدہ میڈیکیشن اور ادویات جاری رکھنی ہوں گی۔ سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ وہ مستقبل میں ایک عام عورت کی طرح ماں بھی بن سکتی ہے اور اس کی شادی کا راستہ بھی اب بالکل صاف اور روشن ہے۔ بس اب اسے کسی بھی قسم کے جسمانی یا ذہنی دباؤ (shock) سے بچانا ہوگا، اسے مکمل آرام کی ضرورت ہے اور اس کی خوراک کا خاص خیال رکھنا ہوگا تاکہ اس کے ہارمونز کا توازن برقرار رہے۔ ہم اسے تھوڑی ہی دیر میں وارڈ کے پرائیویٹ روم میں شفٹ کر رہے ہیں۔ آج رات وہ یہیں ہماری مکمل ابزرویشن میں رہے گی اور کل صبح ہم اسے باقاعدہ ڈسچارج کر دیں گے۔"
ڈاکٹر کی یہ مبارک بات سن کر صفیہ کی آنکھوں سے خوشی اور شکر کے آنسو بے قابو ہو کر بہہ نکلے۔ اس نے وہیں ہسپتال کے کوریڈور میں سجدے میں سر رکھ کر اپنے رب کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔
ادھر ہسپتال کے پرسکون کمرے میں آہستہ آہستہ سجیلا کو ہوش آرہا تھا۔ اس کی پلکیں کپکپائیں اور اس نے مدھم اور لڑکھڑاتی آواز میں ماں کو پکارنا شروع کیا۔ کمرے میں موجود ڈیوٹی نرس نے فوراً جا کر صفیہ کو بلایا جو باہر ہی دعاؤں میں مصروف تھی۔ صفیہ بھاگتی ہوئی اندر آئی اور سجیلا کے بستر کے پاس جھک گئی۔ سجیلا نے اپنی بوجھل آنکھیں نیم وا کیں اور مدھم لہجے میں کہا، "ماں... آپ یہیں تھیں نا میرے پاس؟"
صفیہ نے اس کا ماتھا اور ہاتھ محبت سے چومتے ہوئے لرزتے لہجے میں کہا، "ہاں میری جان! میری بچی، میں بالکل یہیں پاس ہی تمہارے موجود ہوں۔ کہیں نہیں گئی تھی۔"
سجیلا کے چہرے پر ہلکی سی کسک بھری مسکراہٹ ابھری، اس نے بمشکل بولتے ہوئے کہا، "ماں... مجھے محسوس ہو رہا ہے جیسے میرے جسم کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے... اگرچہ جسم میں سرجری کی وجہ سے تکلیف اور درد کا احساس تو ہے، یہ بازو پر ڈرپس بھی لگی ہوئی ہیں... لیکن میرا دل... میرا اندر کا وجود اب بہت پرسکون اور ہلکا محسوس ہو رہا ہے..."
صفیہ نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے محبت سے تسلی دی، "ابھی مزید بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے، چپ چاپ آنکھیں بند کر کے آرام کرو میری بچی! کل صبح ہم اپنے گھر واپس چل جائیں گے۔ اب تم اندر باہر سے مکمل طور پر تندرست ہو چکی ہو، اللہ نے ہماری زندگی کے اس تاریک دور اور طویل آزمائش کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا ہے۔ اب ہماری زندگی میں صرف خوشیوں کے دن آئیں گے، بس اب تم نے کسی بھی بات کی کوئی ٹینشن نہیں لینی!"
یہ سن کر سجیلا کے چہرے پر ایک طویل عرصے بعد انتہائی مطمئن اور پرسکون مسکراہٹ پھیلی اور اس نے سکون سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ صفیہ نے وہیں بیڈ کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ کر اپنی پیاری بیٹی کے سرہانے بیٹھ کر رات کی تنہائی میں پہرا دیا اور رب کے احسانات کو یاد کرتی رہی۔
آگل کیا ہوگا؟ کیا سجیلا کی یہ نئی زندگی اور خوشیاں اتنی ہی آسان ہوں گی؟ اور جب شاہ زیب کو سجیلا کے ماضی اور اس کی اس سرجری کی اصل حقیقت کا پتہ چلے گا، تو اس کا ردعمل کیا ہوگا؟ یہ سب جاننے اور پڑھنے کے لیے جڑے رہیے ناول "سجیلا" کے ساتھ...
(جاری ہے) ---
📝 کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026
اس ناول (یا تحریر) کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور اس کا متن، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس، فیس بک یا کسی بھی سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
🌐 رابطہ اور معلومات:
ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com
آفیشل ویب سائٹ:
https://ishratdigitalcreation.com/ آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)
Comments
Post a Comment