ناول: سجیلا (قسط نمبر 32)
ناول: سجیلا (قسط نمبر 32)
تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)
پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز
صبح کی ہلکی اور سنہری دھوپ جب ہسپتال کے پرائیویٹ روم کی کھڑکی سے اندر جھانکنے لگی، تو نرس نے آ کر سجیلا کی ڈرپس ختم کیں اور اس کی طبیعت کا جائزہ لیا۔ سب کچھ بالکل ٹھیک اور تسلی بخش تھا۔ ڈاکٹر کے آنے اور فائنل چیک اپ کے بعد سجیلا کو ہسپتال سے ڈسچارج کرنے کی باقاعدہ اجازت مل چکی تھی۔ صفیہ کے دل سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر چکا تھا؛ وہ جانتی تھی کہ یہ صرف ایک جسمانی شفا کا سفر نہیں تھا، بلکہ اس کی بیٹی کی عزت، اس کی اصل شناخت اور اس کی طویل جنگ کی شاندار فتح تھی۔
ڈسچارج کے تمام کاغذی مراحل طے کرنے کے بعد صفیہ نے ایک آرام دہ گاڑی کا بندوبست کیا اور سجیلا کو لے کر حویلی کی طرف روانہ ہو گئی۔ راستے بھر سجیلا خاموش بیٹھی کھڑکی سے باہر بدلتے ہوئے مناظر کو دیکھتی رہی۔ اس کے اندر ایک عجیب سا سکون اور ہلکا پن تھا، جیسے سالوں کی کوئی غلاظت اور زنجیریں اب ٹوٹ چکی ہوں۔ جب گاڑی حویلی کے دروازے پر رکی، تو صفیہ نے نہایت احتیاط اور محبت سے سجیلا کا ہاتھ تھام کر اسے سہارا دیا اور اندر کمرے میں لے جا کر بستر پر آرام سے لٹا دیا۔ صفیہ نے اسے نرم کمبل اوڑھایا اور ہدایت دی کہ وہ بالکل بھی اٹھے نہ، کیونکہ ڈاکٹر نے مکمل آرام کا کہا ہے۔
ادھر حویلی کی دوسری جانب، شاہ زیب جب صبح صبح اپنے کمرے سے باہر نکلا، تو اس کا ذہن کل رات والے وسوسوں اور ادھوری باتوں میں ہی الجھا ہوا تھا۔ اسے معلوم ہو چکا تھا کہ صفیہ بیی اور سجیلا کل شہر ہسپتال گئی ہوئی تھیں۔ اس کے دل میں بے چین سی کسک اٹھ رہی تھی کہ آخر ایسی کون سی بات ہے جو سجیلا اس سے چھپا رہی ہے؟ وہ ناشتے کی میز پر بیٹھا ہی تھا کہ اتنے میں ایک ملازم نے آ کر اطلاع دی کہ بڑی بیگم صاحبہ نے اسے طلب کیا ہے۔ شاہ زیب فوراً اپنی ماں کے کمرے کی طرف بڑھا۔
بڑی بیگم اپنے پلستر پر تکیے ٹیکے بیٹھی تھیں، ان کے چہرے پر سنجیدگی کے ساتھ ساتھ ایک گہرا مدبرانہ تاثر تھا۔ شاہ زیب نے سلام کر کے ان کے سامنے رکھی کرسی پر نشست سنبھالی۔ بڑی بیگم نے ایک گہرا سانس لیا اور نپے تولے لہجے میں بولیں، "شاہ زیب! میں دیکھ رہی ہوں کہ پچھلے کچھ دنوں سے تمہارا دھیان زمینوں اور کام کے امور سے ہٹ کر حویلی کے اندرونی معاملات اور بالخصوص سجیلا کی طرف زیادہ الجھ گیا ہے۔ بیٹا! ایک سردار اور حویلی کے وارث کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں جذبات کو نہیں بلکہ عقل اور حالات کو سامنے رکھے۔ سجیلا اس گھر کی دہلیز پر ایک خاص پس منظر کے ساتھ آئی ہے، اور اگر تمہارے دل میں اس کے لیے کوئی نرم گوشہ یا الجھن ہے، تو تمہیں ہوش سے کام لینا ہوگا۔"
ماں کی بات سن کر شاہ زیب کے ماتھے پر ہلکی سی شکن ابھری۔ اس نے قدرے تلخ لیکن احترام بھرے لہجے میں کہا، "ماں سائیں! آپ جانتی ہیں کہ میں نے کبھی خاندانی وقار کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ لیکن سجیلا کے معاملے میں ایک عجب سا اسرار ہے جو مجھے اندر سے کھا رہا ہے۔ کل جب وہ لان میں مجھ سے کچھ کہنا چاہتی تھی، تو اس کی آنکھوں میں جو خوف اور سچائی کی تڑپ میں نے دیکھی تھی، وہ مجھے بے چین کر رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کے ماضی سے جڑا کوئی ایسا راز ہے جو ہم سب کے سامنے آنا چاہتی ہے۔"
بڑی بیگم نے اپنی چھڑی زمین پر ہلکی سی ٹیکتے ہوئے کہا، "راز ہر انسان کے سینے میں ہوتے ہیں شاہ زیب! لیکن ہر راز کو وقت سے پہلے کھولنا تباہی کو دعوت دینا ہوتا ہے۔ اگر وہ خود کچھ کہنا چاہتی ہے، تو اسے وقت دو۔ زبردستی کھودنے سے زمین پر صرف گرد اڑتی ہے، سچائی ہاتھ نہیں آتی۔ پہلے اپنے حویلی کے انتظامات پر دھیان دو، زمینوں کے پانی کا مسئلہ حل ہو گیا ہے، اب کسانوں کے ساتھ اگلی فصل کی بوائی کا معاملہ طے کرنا ہے۔" بڑی بیگم کی دانشمندی بھری باتوں نے وقتی طور پر شاہ زیب کی زبان بند کر دی، مگر اس کا دل پھر بھی مطمئن نہیں ہوا۔
شام کے سائے جب حویلی کے بلند و بالا در و دیوار پر پھیلنے لگے، تو شاہ زیب سے رہا نہ گیا۔ وہ اپنے کمرے سے نکلا اور سیدھا اس حصے کی طرف بڑھ گیا جہاں صفیہ اور سجیلا رہتی تھیں۔ اس کے دل کی دھڑکنیں کچھ تیز تھیں، قدموں میں ایک انوکھی سی بے قراری تھی۔ جب وہ صفیہ کے کمرے کے قریب پہنچا، تو دروازہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا۔ اندر کا منظر دیکھ کر اس کے قدم وہیں دنگ رہ گئے۔
کمرے کے نیم تاریک اور پرسکون ماحول میں سجیلا پلنگ پر تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی، اور صفیہ اس کے لیے کوئی گرم سوپ پیالی میں ڈال رہی تھی۔ سرجری کے بعد سجیلا کے چہرے پر اگرچہ ہلکی سی نقاہت اور پیلاہٹ ضرور تھی، لیکن اس کے خد و خال میں ایک عجب سا نکھار، روپ اور ابدی سکون جھلک رہا تھا، جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ اس کی آنکھوں کی وہ پرانی گھبراہٹ اور ڈر اب غائب ہو چکا تھا، اور ان کی جگہ ایک پُرعزم اور پرسکون روشنی نے لے لی تھی۔
شاہ زیب کو دروازے پر کھڑے دیکھ کر صفیہ چونک گئی۔ اس کے ہاتھ سے پیالی کی ٹرے ذرا سی ہل گئی، اور اس کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے خطرے کی لکیریں دوڑ گئیں۔ صفیہ نے فوراً سنبھل کر دروازے کی طرف قدم بڑھائے اور شاہ زیب کو باہر کوریڈور میں کھینچ لاتی ہوئی دھیمی لیکن سخت آواز میں بولی، "آپ یہاں کیا کر رہے ہیں شاہ زیب صاحب؟ اور اس طرح بغیر اجازت اندر آنے کی کیا تک تھی؟"
شاہ زیب کی نگاہیں صفیہ کے کندھے کے پیچھے کمرے میں موجود سجیلا پر جمی ہوئی تھیں، جو اب نظریں جھکا چکی تھی۔ شاہ زیب نے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے کہا، "مجھ سے رہا نہیں گیا صفیہ خالا! میں صرف یہ دیکھنے آیا تھا کہ سجیلا کی طبیعت کیسی ہے؟ کل سے میں سن رہا ہوں کہ وہ ہسپتال گئی تھی، اور جب سے میں نے اسے لان میں دیکھا تھا، وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتی تھی... آخر ماجرا کیا ہے؟ آپ دونوں مجھ سے کیا چھپا رہی ہیں؟"
صفیہ کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اب وہ حقیقت زیادہ دیر تک چھپا نہیں پائے گی، لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ سجیلا کی یہ نازک صحت اس اچانک ذہنی دھکے کو برداشت نہ کر سکے۔ صفیہ نے اپنی آواز کو سختی سے قابو میں رکھتے ہوئے کہا، "کچھ نہیں چھپا رہی شاہ زیب! سجیلا کی طبیعت ناساز تھی، اس کا ایک اندرونی طبی مسئلہ تھا جس کا علاج ہسپتال میں ہونا ضروری تھا، سو ہم چلی گئیں۔ اب وہ بالکل ٹھیک ہے اور اسے آرام کی ضرورت ہے۔ مہربانی کر کے آپ یہاں سے چلے جائیں، میں اسے کسی بھی قسم کی ذہنی الجھن میں نہیں ڈالنا چاہتی۔"
"نہیں خالا! اب مزید پردہ پوشی نہیں چلے گی۔" شاہ زیب کی آواز میں ایک ایسا دبدبہ اور اصرار تھا جسے ٹالنا ناممکن تھا۔ اسی لمحے کمرے کے اندر سے سجیلا کی مدھم، نپی تولی لیکن لرزتی ہوئی آواز ابھری، "اسے اندر آنے دیجیے، ماں...!"
صفیہ نے حیرت سے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ سجیلا نے بستر پر بیٹھتے ہوئے اپنے آپ کو سنبھالا تھا، اس کے چہرے پر اب کوئی خوف نہیں تھا، بلکہ ایک بے پناہ حوصلہ اور سچ کا سامنا کرنے کی جرات صاف جھلک رہی تھی۔ سجیلا نے اپنی نمدار آنکھیں اٹھا کر باہر کھڑے شاہ زیب کی طرف دیکھا اور دھیمے لہجے میں بولی، "جو سچ آپ جاننا چاہتے ہیں شاہ زیب... آج وہ وقت آ گیا ہے کہ آپ خود اپنے کانوں سے سن لیں۔"
شاہ زیب صفیہ کو ایک طرف ہٹاتا ہوا تیزی سے اندر داخل ہوا اور سجیلا کے بستر کے سامنے رکھی کرسی پر آ بیٹھا۔ اس کا دل کسی انونی ہونی کے ڈر سے مچل رہا تھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر ٹکائے اور گہری نظروں سے سجیلا کو دیکھتے ہوئے کہا، "بولو سجیلا... میں سن رہا ہوں۔ ایسی کون سی حقیقت ہے جو تم اور خالا مجھ سے اس طرح چھپا رہے تھے؟"
سجیلا نے ایک لمبا اور گہرا سانس لیا، اپنے اندر کی تمام گھٹن کو باہر نکالا، اور کانپتے ہوئے لیکن مضبوط لہجے میں کہا، "شاہ زیب... آپ آج تک مجھے اس سجیلا کے روپ میں جانتے رہے ہیں جو ایک بے بس، مظلوم اور زمانے کی ستائی ہوئی لڑکی تھی، جس کی شناخت پر معاشرے نے سوالیہ نشان لگا رکھے تھے۔ لیکن آپ یہ نہیں جانتے کہ یہ صرف ایک روپ تھا جو حالات نے مجھ پر مسلط کر رکھا تھا... اصل حقیقت یہ ہے کہ..." سجیلا کی آواز میں ہلکا سا لرزہ طاری ہوا، اس نے ہمت جمع کی اور آگے بولی، "...میرے وجود کی یہ کہانی اس کرب سے شروع ہوتی ہے جہاں انسان کو خدا نہیں بلکہ اس کے اپنے اپنوں نے شک کی سولی پر چڑھا دیا تھا۔"
باہر کمرے کے دروازے پر کھڑی صفیہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ بھینچ لیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ کمرے کا ماحول اس وقت اتنا بوجھل اور سنسنی خیز ہو چکا تھا کہ ایک سوئی گرنے کی آواز بھی سنائی دے سکتی تھی۔ شاہ زیب کی سانسیں رک سی گئی تھیں، اس کے حواس اس آنے والے انکشاف کے لیے پوری طرح تیار ہو چکے تھے۔
کیا ہوگا جب شاہ زیب پر سجیلا کے ماضی کی وہ بھیانک حقیقت عیاں ہوگی جس کے لیے اس نے اتنی بڑی سرجری اور طویل آزمائش جھیلی تھی؟ کیا اس انکشاف کے بعد حویلی کی دیواریں سلامت رہ پائیں گی یا محبت کا یہ سفر کسی نئے طوفان کی زد میں آ جائے گا؟ یہ سب جاننے اور پڑھنے کے لیے جڑے رہیے ناول "سجیلا" کے ساتھ...
(جاری ہے) ---
📝 کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026
اس ناول (یا تحریر) کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور اس کا متن، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس، فیس بک یا کسی بھی سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
🌐 رابطہ اور معلومات:
ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com
آفیشل ویب سائٹ:
آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)
Comments
Post a Comment