ناول: سجیلا (قسط نمبر 33)

ناول: سجیلا (قسط نمبر 33)

تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)

پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز

کمرے کی گھمبیر خاموشی میں سجیلا کی آواز کسی گہرے کنویں سے ابھرتی ہوئی سرگوشی کی طرح محسوس ہو رہی تھی۔ اس کے ہر ایک لفظ میں برسوں کا درد، ستم رسیدہ حالات کی گرد اور وہ اَن کہی کہانیاں چھپی تھیں جنہیں سننے کے لیے شاہ زیب کا دل مدت سے بیتاب تھا۔ اس چھوٹے سے کمرے کی فضا اتنی بوجھل ہو چکی تھی کہ سانس لینا بھی محال معلوم ہوتا تھا۔ باہر رات کی سیاہی گہری ہوتی جا رہی تھی، مگر اس وقت اس کمرے کے اندر جو طوفان برپا تھا، اس کے سامنے باہر کا ہر اندھیرا ہیچ تھا۔

"آپ... آپ کیا جانیں شاہ زیب!" سجیلا کی پلکیں ایک بار پھر بھیگ گئیں، مگر اس بار ان آنسوؤں میں کوئی کمزوری یا شکست خوردگی نہیں تھی، بلکہ ایک عجیب سا عزم، تپش اور سچائی کا پرتو جھلک رہا تھا۔ "آپ کی اس عالی شان حویلی کے باہر کی دنیا اتنی پرسکون یا اصولوں پر مبنی نہیں ہے جتنی یہاں سے دکھائی دیتی ہے۔ یہاں تو رشتوں کے نام پر دھوکے اور اعتبار کے نام پر خون کے سودے کیے جاتے ہیں۔ جس سجیلا کو آپ ایک پناہ گزین، ایک احسان تلے دبی ہوئی لاچار اور بے بس لڑکی سمجھ رہے ہیں، وہ دراصل اپنے ہی اپنوں کے بچھائے ہوئے اس مکروہ جال کا شکار رہی ہے جہاں عزت کو نیلام کرنا چند لمحوں کا کھیل بنا دیا گیا تھا۔"

شاہ زیب کے سینے پر جیسے کسی نے کوئی بھاری پتھر رکھ دیا ہو۔ اس کی سانسیں اس کی پسلیوں میں اٹک کر رہ گئی تھیں۔ اس نے دھیمی، کانپتی اور بھاری آواز میں پوچھا، "کون سے اپنوں کی بات کر رہی ہو سجیلا؟ نام لو ان کا... کھل کر کہو... میرے سامنے کوئی پردہ یا راز مت رکھو، ورنہ میری یہ بے چینی میری جان لے لے گی۔"

سجیلا نے ایک لمبا، گہرا سانس لیا اور اپنے ماضی کے تاریک دریچوں کو وا کرتے ہوئے کہا، "وہ لوگ جو خون کے رشتے کہلاتے ہیں، جنہوں نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا، انہوں نے ہی میری معصومیت اور میری مجبوری کا سب سے بڑا سودا۔ مجھ پر وہ گھناؤنے الزام لگائے گئے جو میں نے خواب میں بھی نہیں سوچے تھے۔ معاشرے کی اس ظالم اور بے رحم چکی میں مجھے پیسنے کی کوشش کی گئی جہاں ایک عورت کا کردار ہی اس کی سب سے بڑی کمزوری اور سزا بنا دیا جاتا ہے۔ ہسپتال کا یہ سفر... یہ کوئی عام جسمانی بیماری کا علاج نہیں تھا شاہ زیب! یہ اس بدنما داغ کو مٹانے اور اپنے وجود کی سچی اور اٹل گواہی حاصل کرنے کی وہ طویل جنگ تھی جو مجھے اندر ہی اندر گھن کی طرح کھا رہی تھی۔ ڈاکٹروں کی رپورٹ، یہ قانونی اور طبی دستاویزات... سب اس بات کی گواہی اور تصدیق کرتے ہیں کہ میں پاک صاف تھی، پاک صاف ہوں، اور کسی کے الزام سے میرے دامن پر کوئی دھبہ نہیں لگا!"

کمرے میں موجود صفیہ نے جب یہ الفاظ سنے تو ان کے منہ سے ایک دردناک ہچکی نکل گئی۔ وہ خود کو مزید نہروک سکیں اور تیزی سے آگے بڑھیں اور سجیلا کے بستر کے پاس آ کر بیٹھ گئیں، اس کا کانپتا ہوا سرد ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ صفیہ کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو مسلسل اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ اس ماں نے اپنی بیٹی کی عزت کو بچانے کے لیے کتنی راتیں سسکیوں اور دعاؤں میں گزاری تھیں، کتنے درجنوں لوگوں کے طعنے سہے تھے اور کس طرح دنیا کی نظروں سے بچ کر اس سچ کو زندہ رکھا تھا۔

شاہ زیب اپنی جگہ سے بت بنا، پتھر کی طرح ساکت کھڑا ہو گیا تھا۔ اس کے حواس پر ایک شدید سکتہ سا طاری تھا۔ اس کے اندر غصے کا ایک ایسا بے قابو طوفان اٹھ رہا تھا جو اس پوری حویلی کی دیواریں ہلا دینے اور ہر جھوٹے انسان کو مٹی میں ملا دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس کی سرخ ہوتی ہوئی آنکھیں، پھول ہوئی رگیں اور سختی سے بھینچے ہوئے جبڑے یہ بتا رہے تھے کہ اگر اس وقت اس کا کوئی بھی اصلی گنہگار یا دشمن سامنے آ جاتا، تو وہ اسے زندہ زمین میں گاڑ دیتا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے انتہائی بے یقین اور لرزتی ہوئی نظروں سے سجیلا کے چہرے کو دیکھا، پھر اپنی نگاہیں اٹھا کر صفیہ کی طرف دیکھیں جن کے سر پر بڑھاپے اور دکھ کا پہاڑ ٹوٹا ہوا تھا۔

"اور... اور تم یہ سب اتنے دنوں تک، اتنے مہینوں تک مجھ سے چھپاتی رہیں خالا؟" شاہ زیب کی آواز میں غصے سے زیادہ ایک گلا گھونٹ دینے والا، روح کو چھلنی کر دینے والا درد تھا، "آپ اچھی طرح جانتی تھیں کہ اس حویلی میں میرا کیا مقام ہے، میری زبان اور میری بات کا کیا وزن ہے... پھر بھی آپ نے اس معصوم بیٹی کو اکیلے اس درندوں کے طوفان سے لڑنے کے لیے چھوڑ دیا؟ کیا آپ کو مجھ پر ذرا بھر بھی اعتماد نہیں تھا کہ میں اس کا محافظ بن سکتا تھا؟"

صفیہ نے شرمندگی اور بے بسی سے اپنا سر جھکا لیا اور سسکیاں لیتے ہوئے بولیں، "نہیں شاہ زیب! بات اعتماد کی ذرا بھر بھی نہیں تھی... بات اس خاندان کی ناک، اس کی عزتِ نفس اور سجیلا کی اس نازک آبرو کی تھی جسے بازار میں اچھالنے کے لیے ہر طرف دشمن تاک لگائے بیٹھے تھے۔ ہم اکیلے تھے، بے سہارا تھے، ہمارے پاس اس وقت کوئی ثبوت نہیں تھا... اگر ہم اس وقت شور مچاتے، تو یہ ظالم معاشرہ اور ہمارے اپنے رشتہ دار سجیلا کا زندہ رہنا محال کر دیتے، اس پر انگلیاں اٹھاتے اور ہمیں معاشرے میں کہیں کا نہ چھوڑتے۔ ہمیں پہلے ٹھوس ثبوت چاہیے تھے، وہ قانونی، سائنسی اور طبی دستاویزات جن پر کوئی کافر بھی انگلی نہ اٹھا سکے اور عدالت یا سماج میں ہمیں جھوٹا ثابت نہ کیا جا سکے۔ اور آج... اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وہ سچائی اس پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے، اور کسی کے پاس کوئی جواز نہیں بچا۔"

شاہ زیب نے ندامت اور صدمے سے اپنی دونوں ہتھیلیوں میں اپنا چہرہ یکسر چھپا لیا۔ اس کا دل بری طرح مچل رہا تھا، اس کا ضمیر اسے ملامت کر رہا تھا۔ اسے ماضی کے وہ تمام مناظر ایک ایک کر کے یاد آ رہے تھے جب اس نے پہلی بار سجیلا کو دیکھا تھا، جب اس کی آنکھوں میں جو خوف اور ڈرا ہوا پن تھا، وہ دراصل اسی ظالم سوسائٹی اور بے اعتبار اپنوں کا خوف تھا جس نے اسے جرم کے بغیر مجرم بنا کر پیش کرنے کی مذموم کوشش کی تھی۔ اس نے ایک سرد، لمبی اور گہری آہ بھری، پھر اپنے پیروں پر زور دیتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور سجیلا کے بالکل قریب آ کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔ اس کی آواز اب مدہم مگر ایک فولادی ارادے اور عزم کی حامل تھی، ایسی آواز جس میں پتھر پگھل جائیں:

"سجیلا! تم نے اپنی یہ جنگ اکیلے لڑی، بغیر کسی ڈھال کے لڑی، اور تم نے اسے جیت کر دکھایا۔ تم نے ثابت کر دیا کہ عورت صرف مظلوم نہیں ہوتی، وہ اپنی پاکدامنی کی جنگ خود لڑنا جانتی ہے۔ لیکن اب... اب اس حویلی کی چہاردیواری میں رہتے ہوئے تمہاری طرف یا تمہاری عزت کی طرف اٹھنے والی ہر میلی اور ناپاک آنکھ کو میں خود اپنے ہاتھوں سے نکال باہر کروں گا۔ جس جس نے تمہیں اس جہنم جیسے کرب میں مبتلا کیا ہے، میں ان کے گھروں تک پہنچ کر ایک ایک چیز کا حساب لوں گا۔ یہ اس حویلی کے وارث، شاہ زیب کا تم سے وعدہ ہے۔"

سجیلا نے انتہائی بے یقین، حیرت زدہ اور بھیگی ہوئی نم آنکھوں سے شاہ زیب کے پختہ چہرے کو دیکھا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے سالوں کے کٹھن اندھیرے، خوف اور سناٹے کے بعد اچانک آسمان سے سورج کی کوئی روشن کرن اس کے ویران دل کے انگن میں اتر آئی ہو۔ اس کے لرزتے ہوئے لب ہلکی سے ہلے، مگر گلے میں خوشی اور توقیر کے آنسوؤں کی وجہ سے الفاظ پھنس کر رہ گئے، اور وہ کچھ نہ کہہ سکی۔

باہر وسیع و عریض کوریڈور میں رات کی تاریکی کی چادر گہری ہوتی جا رہی تھی، مگر اس چھوٹے سے کمرے کے اندر اب ایک نئی، روشن صبح کا باقاعدہ آغاز ہو رہا تھا۔ لیکن کیا اس حویلی کی طاقتور بڑی بیگم اور خاندان کے باقی افراد اس تلخ سچائی کو اتنی آسانی سے قبول کر لیں گے؟ کیا شاہ زیب کا یہ خطرناک اور اکھڑ عزم اس پورے خاندان میں ایک بہت بڑے سیاسی اور خاندانی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگا؟ کیا سجیلا کا یہ سچ اس کے لیے نئی راہیں کھولے گا یا پرانی دشمنیاں مزید بھڑک اٹھیں گی؟

وقت کے پردے کے پیچھے ان تمامے سوالوں کے خوفناک جوابات چھپے ہوئے تھے، اور کہانی اب ایک ایسے انتہائی نازک اور سنسنی خیز موڑ پر آ چکی تھی جہاں سے پیچھے ہٹنے یا واپسی کا اب کوئی بھی راستہ باقی نہیں بچا تھا... آنے والے دن حویلی کے باسیوں کے لیے فیصلے کی گھڑی لے کر آنے والے تھے۔

(جاری ہے) ---

📝 کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026

اس ناول (یا تحریر) کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور اس کا متن، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس، فیس بک یا کسی بھی سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

🌐 رابطہ اور معلومات:

ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com

آفیشل ویب سائٹ: https://ishratdigitalcreation.com/

آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23