ناول: سجیلا (قسط نمبر 34)

ناول: سجیلا (قسط نمبر 34)

تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)

پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز

رات کے اس پہر، صفیہ کے اس چھوٹے سے کمرے میں فضا کسی قدر بوجھل ضرور تھی مگر اب اس میں خوف کے بجائے ایک عجیب سا اطمینان اور سچائی کی روشنی اتر آئی تھی۔ شاہ زیب سجیلا کے بستر کے پاس کرسی کھینچ کر بیٹھا تھا اور انتہائی محبت، شفقت اور پختہ یقین کے ساتھ اسے دلاسہ دے رہا تھا۔ اس کے لہجے میں وہ تمام خلوص امڈ آیا تھا جو برسوں کی بے اعتباری کے بعد کسی اپنے کے لیے دل سے نکلتا ہے۔

"سجیلا!... اب جتنا تم نے سہہ لیا، جتنی تکلیفیں اس ظالم دنیا اور اپنوں کے طعنے تم نے خاموشی سے برداشت کر لیے، اب اور نہیں۔ بس! اب یہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔" شاہ زیب نے سجیلا کے چہرے پر پڑتی ہوئی ناتواں نظروں کو دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا، اور میز پر رکھی ہوئی تمام رپورٹس اور دستاویزات کی طرف اشارہ کیا، "ان تمام رپورٹس اور کاغذات کو سنبھال کر اپنے پاس رکھو۔ یہ صرف کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہیں، یہ تمہاری بے گناہی اور پاکدامنی کے سب سے بڑے اور ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔ اب دنیا کی کوئی طاقت تمہیں جھوٹا یا گناہ گار ثابت نہیں کر  سکتی
صفیہ بھی جو کچھ ہی فاصلے پر کھڑی تھیں، آگے بڑھ آئیں اور شاہ زیب کی بات سن کر ان کے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا۔ انہوں نے محبت بھری اور فکرمند نگاہوں سے شاہ زیب کو دیکھا، پھر دھیمی اور قدرے گھبرائی ہوئی آواز میں بولیں: "شاہ زیب بیٹا!... اب بہت دیر ہو گئی ہے، تمہیں اپنے کمرے میں جانا چاہیے۔ تم جانتے ہو نا کہ تاج بی بی یعنی تمہاری والدہ کو یہاں اس حصے میں آنا بالکل پسند نہیں ہے۔ وہ تو بس اپنے شوہر پیر سائیں سے کیے ہوئے وعدے کی لاج رکھتی ہیں اور رحم کھاتی ہیں، ورنہ وہ ہمیں اس حویلی سے بہت پہلے نکال چکی ہوتیں۔ سجیلا پر اٹھنے والی انگلیوں اور معاشرے کے طعنوں کی وجہ سے حویلی کی عزت پر جو داغ لگا ہے، اس کے ڈر سے انہوں نے ہمیں اس حویلی کے آخری اور ویران حصے تک محدود کر رکھا ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ تمہارے یہاں زیادہ دیر رکنے سے کوئی نیا مسئلہ یا طوفان کھڑا ہو۔"

شاہ زیب نے صفیہ کی بات سنی تو اس کی پیشانی پر شکنیں ابھر آئیں۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا، جانے کے لیے دروازے کی طرف پلٹا ہی تھا کہ اس کے قدم رک گئے۔ اس کے اندر کا ضمیر اور سجیلا کے لیے اس کا احترام اسے اس طرح خاموشی سے جانے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ وہ کچھ دیر وہیں ٹھہر کر سوچتا رہا، پھر پلٹ کر واپس سجیلا اور صفیہ کے قریب آیا اور بڑی مضبوطی سے بولا: "خالا صفیہ!... آپ کو یا تاج بی بی کو جو بھی سوچنا ہے سوچے، لیکن میں آج یہیں کہتا ہوں کہ میں سجیلا کے ساتھ ہوں اور اس مشکل وقت میں اسے اکیلا ہرگز نہیں چھوڑوں گا۔ تاج بی بی کو کیسے منانا ہے، ان کے غصے کو کیسے ٹھنڈا کرنا ہے، یہ سب میں اچھے سے جانتا ہوں، میں انہیں خود سمجھا لوں گا۔"

اس نے سجیلا کی طرف دیکھا اور خالا صفیہ سے مخاطب ہو کر انتہائی پیار بھرے لہجے میں بولا، "اور خالا! آپ نے اپنا کالج جانا کیوں چھوڑا ہوا ہے؟ آپ تو کالج میں لیکچرر ہیں، آپ نے پڑھانا کیوں بند کر دیا ہے؟"

صفیہ نے اپنی نم پلکیں اٹھائیں اور ہلکی سی آہ بھر کر جواب دیا: "بیٹا... یہ سب ان حالات اور سجیلا کی وجہ سے ہے۔ جب یہ طوفان اٹھا اور حالات اتنے خراب ہو گئے، تو میں نے صرف سجیلا کی وجہ سے عارضی طور پر کالج جانا چھوڑ دیا تھا تاکہ اس مشکل وقت میں اس کے ساتھ رہ سکوں۔ اب جب یہ مکمل صحت یاب ہو جائے گی، تو میں اپنے اس تدریسی سفر کو پھر سے جوائن کر لوں گی، اور سجیلا بھی دوبارہ سے جا کر اپنی پڑھائی مکمل کرے گی۔"
شاہ زیب نے اطمینان کا سانس لیا اور جاتے جاتے صفیہ اور سجیلا کو تسلی دیتے ہوئے کہا: "اگر کسی بھی چیز کی ضرورت ہو، کسی بھی  معاملے میں مدد چاہیے ہو تو فوراً بتائیے گا۔ اور ہاں، تاج بی بی کی کسی بھی تلخ بات کا برا  نہیں مانیے گا۔ میں سب سنبھال لوں گا۔"

یہ کہہ کر شاہ زیب نے کمرے سے قدم باہر نکالے اور راہداری کی طرف بڑھا۔ جیسے ہی باہر کا دروازہ ہلا اور اس کے کھلنے کی ہلکی سی آواز فضا میں گونجی، حویلی کا خاص ملازم اور کارندہ جو چپکے سے دیوار کے ساتھ کان لگائے  تھا، گھبراہٹ میں تیزی سے دوسری طرف بھاگا۔ مگر اس ہلکی سی سرگوشی اور بھاگنے کی چاپ نے شاہ زیب کے اندر ایک گہرا شک پیدا کر دیا۔ اسے محسوس ہوا کہ کوئی تھا جو ان کی ساری باتیں چھپ کر سن رہا تھا۔

شاہ زیب بجلی کی سی تیزی سے اسی جانب لپکا جہاں سے آواز آئی تھی، مگر وہاں اندھیرے کے علاوہ کوئی دکھائی نہیں دیا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا، سایہ تک غائب ہو چکا تھا۔ اپنے اندر اٹھنے والے غصے کو دباتے ہوئے اس نے اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھا دیے۔

دوسری طرف تنویر کا سانس بری طرح پھولا ہوا تھا، وہ بھاگتا ہوا اپنے حصے میں آیا جہاں رازیہ اسے اتنی بری طرح ہانپتے ہوئے دیکھ کر دنگ رہ گئی اور فوراً پوچھ بیٹھی: "ارے تنویر! کیا ہوا ہے بھائی؟ تم اس طرح کیوں کانپ رہے ہو اور تمہارا یہ کیا حال ہے؟"

تنویر نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مشکل سے اپنی سانس بحال کی اور ڈرتے ہوئے بولا: "ارے رازیہ! مت پوچھو... بڑی بیگم صاحبہ کے کہنے پر میں چپکے سے صفیہ اور سجیلا کے کمرے کے باہر ان کی باتیں سننے گیا تھا تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ کیا طوفان کھڑا کرنے والے ہیں۔ میں وہیں کھڑا ان کی باتیں سن ہی رہا تھا کہ اندر سے دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور شاہ زیب بھائی باہر نکل آئے۔ مجھے لگا کہ آج تو وہ ہمیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیں گے اور میرا حشر نشر کر دیں گے۔ لیکن شکر ہے کہ میرے اندر بھی وقت پر پھرتی جاگ گئی، میں نے بجلی کی تیزی سے چھلانگ لگائی اور دوسری سائیڈ پر بنے بڑے ستون کے پیچھے چھپ گیا۔ وہاں اندھیرا تھا اس لیے وہ مجھے دیکھ نہیں سکے، ورنہ آج میری خیریت نہیں تھی۔ پیچھے انہوں نے کیا کیا مجھے نہیں معلوم، بس میں جان بچا کر بھاگ آیا ہوں۔ اب صبح سویرے اٹھ کر میں یہ تمام باتیں بڑی بیگم صاحبہ کو بتاؤں گا کہ اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے۔"

رازیہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا، "چلو خدا کا شکر ہے تم بچ گئے! لیکن اگلی بار ذرا ہوش سے کام لینا۔ اگر کوئی پوچھے بھی تو میں کہہ دوں گی کہ تم مجھے ڈھونڈنے آئے تھے یا میں اس والے حصے کی صفائی کرتی ہوں تو کوئی نہ کوئی بہانہ تو مل ہی جائے گا۔ آخر ہم بڑی بیگم کا نمک کھاتے ہیں، ان کے وفادار ہیں تو ان کے لیے اتنا تو کرنا ہی پڑے گا۔"

ادھر شاہ زیب اپنے کمرے میں واپس آ چکا تھا۔ وہ اپنے وسیع و عریض کمرے میں بے چین ہو کر اکیلے ٹہل رہا تھا اور سوچ رہا تھا حویلی میں کیا مسئلہ ہے؟ کیوں ان دونوں ماں بیٹی کے یہاں رہنے سے ہر کوئی اتنا پریشان اور خائف نظر آتا ہے؟ یہ تو بے سہارا ہیں، پھر والدہ کو ان سے اتنی چڑ کیوں ہے؟ میں جب بھی ادھر جاتا ہوں، وہ پہلے تو کچھ نہیں کہتیں مگر اب جانے کیوں ان کے تیور بدلے ہوئے ہیں۔ اس کی کوئی نہ کوئی تو وجہ ہوگی! میں خود ان سے اس بارے میں کھل کر بات کروں گا اور ہر راز کا پردہ چاک کر دوں گا۔"

دوسری طرف تاج بی بی، جو کہ پیر سائیں کی بیوی اور حویلی کی اصل مالکن تھیں، اپنے کمرے میں بیٹھی آگ بگولہ ہو رہی تھیں۔ وہ اپنے اس بنے بنائے اقتدار اور رعب کو کسی بھی صورت خطرے میں پڑتے ہوئے برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔ ان کے دل میں ایک ہی خوف اور غصہ پل رہا تھا: "یہ سب کیا تماشا لگا رکھا ہے اس صفیہ اور سجیلا نے! میں اپنے سامنے اس حویلی میں اپنے راج کو اس طرح ختم ہوتے ہوئے ہرگز نہیں دیکھ سکتی۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ سجیلا کے دل میں شاہ زیب سے شادی کرنے کے کیا کیا خواب سجے ہوئے ہیں، لیکن میرا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہونے دوں گی۔ میں اپنے ہی خاندان کے خون، اپنے بھائی کی بیٹی الماس کو اس حویلی میں بلاؤں گی، وہی اس گھر کی بہو بنے گی اور شاہ زیب کی دلہن کہلائے گی! مجھے یہ کام اب جتنی جلدی ہو سکے کر لینا چاہیے تاکہ اس سجیلا کا پتہ صاف ہو جائے۔ ان دونوں ماں بیٹی پر ترس کھا کر میں نے انہیں پناہ کیا دی، یہ تو اب اس حویلی کو اپنا گھر سمجھنے لگی ہیں اور ہمارے سر پر سوار ہو رہی ہیں۔ میں ان کو اچھی طرح سمجھا دوں گی کہ وہ اپنا بستر باندھیں اور یہاں سے دفع ہو جائیں! ویسے بھی ان کا اپنا بھی تو ایک گھر ہے، جائیں وہیں جا کر رہیں! پہلے تو سجیلا چھوٹی تھی، اس کی حفاظت کے پیشِ نظر پیر سائیں کے کہنے پر میں نے اسے یہاں پناہ دی تھی، لیکن اب میں یہ اضافی ذمہ داری اور بوجھ مزید نہیں اٹھا سکتی۔ اب ان دونوں کو اس حویلی سے جانا ہی ہوگا۔ میں خود سجیلا کو اس بات پر مجبور کر دوں گی کہ وہ شاہ زیب سے ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے۔"

تاج بی بی کے ذہن میں سجیلا کو اس حویلی اور شاہ زیب کی زندگی سے ہمیشہ کے نکالنے  کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک خطرناک اور مکارانہ ترکیبیں گردش کرنے لگی تھیں۔

ادھر صفیہ کے کمرے میں، سجیلا نے عشاء کی دوا کھائی اور کچھ سکون محسوس کرتے ہوئے بستر پر سیدھی لیٹ گئی۔ صفیہ نے کمرے کی لائٹس آف کیں اور کہتیں کہ وہ ساتھ والے دوسرے کمرے میں (یعنی سجیلا کی نانی جان) کے پاس جا رہی ہیں جو اب کافی ضعیف ہو چکی تھیں۔ اس کمرے میں موجود تینوں خواتین—صفیہ، ان کی ضعیف ماں اور سجیلا—اس وقت بالکل تنہا تھیں، ان کے سر پر اب کوئی طاقتور مردانہ سرپرستی یا سایا نہیں تھا کیونکہ پیر سائیں کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد کے حالات نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا۔

لیٹتے ہی صفیہ کے دل میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے، انہیں محسوس ہونے لگا کہ اب ان کی عزت اور سلامتی اسی میں ہے کہ وہ اس حویلی کو چھوڑ کر اپنے آبائی گھر چلی جائیں۔ ویسے بھی ان کا اپنا وہ گھر اتنے عرصے سے بند پڑا ہے، جیسے بھی ہے، ہے تو وہ اپنا ہی! صفیہ نے سوچا کہ وہ کل ہی صبح سویرے اس گھر کی صفائی ستھرائی کروائیں گی اور رنگ روغن کا کام شروع کروانے کا کہیں گی تاکہ سجیلا، ان کی بہن اور وہ خود حویلی کے اس طوفان اور سازشوں سے دور، پرسکون ماحول میں رہ سکیں۔

"اب سجیلا اپنی اس نئی زندگی میں قدم رکھے گی اور دنیا کے سامنے پورے باوقار اور با عزت طریقے سے اپنی زندگی گزارے گی..." یہی سب سوچتے سوچتے صفیہ کو کب گہری نیند آ گئی، انہیں خود بھی خبر نہ ہوئی۔

کہانی کا یہ موڑ اب ایک نئے اور سنسنی خیز خاندانی تصادم کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں ایک طرف شاہ زیب کا عزم تھا اور دوسری طرف تاج بی بی کی مکاری اور سازشوں کا جال!

(جاری ہے) ---

📝 کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026

اس ناول (یا تحریر) کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور اس کا متن، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس، فیس بک یا کسی بھی سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

🌐 رابطہ اور معلومات:

ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com

آفیشل ویب سائٹ: https://ishratdigitalcreation.com/

آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23