ناول: سجیلا (قسط نمبر 35)

 ناول: سجیلا (قسط نمبر 35)

تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)

پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز

صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی حویلی کے بڑے صحن میں چہل پہل شروع ہو چکی تھی، مگر اس ظاہری سکون کے پیچھے سازشوں کا ایک طوفان منہ کھولے کھڑا تھا۔ رات کی تاریکی میں جو بیج تنویر اور تاج بی بی کے درمیان بویا گیا تھا، وہ اب صبح ہوتے ہی پھل دینے کے لیے تیار تھا۔ تنویر رات کے خوف کو پیچھے چھوڑ کر صبح سویرے ہی سیدھا بڑی بیگم یعنی تاج بی بی کے خاص محل نما کمرے کے باہر دستک دے رہا تھا۔

"آ جاؤ اندر!" تاج بی بی کی رعب دار اور بھاری آواز سن کر تنویر نے دروازہ کھولا اور لرزتے ہوئے قدموں اندر داخل ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ بڑی بیگم کا غصہ کیسا ہے، خصوصاً جب معاملہ صفیہ اور سجیلا کی طرف داری کا ہو۔

تاج بی بی اپنے تخت پوش پر بیٹھی تھیں، ہاتھ میں چاندی کے برتن سے چائے کا کپ تھامے ہوئے انہوں نے سرد نگاہوں سے تنویر کو دیکھا اور بولیں: "ہاں بھئی تنویر! رات کو جو کام تمہیں سونپا تھا، اس کا کیا بنا؟ کان لگا کر کیا سنا تم نے ان دونوں ماں بیٹی کے کمرے کے باہر؟ کوئی نئی کھچڑی پک رہی ہے یا پھر وہ شہزادہ شاہ زیب ان کی حمایت میں میرے خلاف کوئی نیا محاذ سجانے کی تیاری کر رہا ہے؟ بتاؤ جلدی، ایک ایک بات صاف صاف ہونی چاہئے۔"

تنویر نے دونوں ہاتھ باندھ کر سر جھکایا اور کانپتی آواز میں بولا: "بڑی بیگم صاحبہ! آپ کا شکریہ کہ آپ نے مجھ پر بھروسہ کیا، ورنہ جو کچھ میں نے رات کو سنا، خدا کی قسم میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ شاہ زیب بھائی نے تو حد ہی کر دی ہے! وہ صفیہ کے کمرے میں بیٹھے تھے اور سجیلا کو یقین دلارہے تھے کہ وہ اس کے ساتھ ہیں اور اس دنیا کی کوئی طاقت اسے غلط ثابت نہیں کر سکتی۔ وہ یہاں تک کہہ رہے تھے کہ تاج بی بی کو جو سوچنا ہے سوچے، وہ کسی کی پرواہ نہیں کریں گے۔
و شاہ زیب بھائی نے مجھے پکڑنے کی کوشش بھی کی، میں تو بڑی مشکل سے اپنی جان بچا کر بھاگا ہوں!"

یہ سنتے ہی تاج بی بی کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، انہوں نے چائے کا کپ اتنی زور سے میز پر رکھا کہ اس کی چھلکیاں باہر آ گئیں۔ ان کی آنکھوں میں آگ بھڑک اٹھی: "اتنی جرات! میرا اپنا خون، میرا اپنا بیٹا شاہ زیب ایک غیر لڑکی اور اس کی ماں کی خاطر میری ہی حویلی میں مجھے آنکھیں دکھا رہا ہے؟ بس! اب بہت ہو گیا! میں اس گھر میں یہ تماشا اور برداشت نہیں کر سکتی۔"

تنویر نے موقع غنیمت جانتے ہوئے مزید تیل چھڑکتے ہوئے کہا: "بیگم صاحبہ! اب آپ کو ہی کوئی سخت قدم اٹھانا پڑے گا، ورنہ یہ لوگ تو سر پر چڑھ جائیں گے۔"

"تم جا سکتے ہو یہاں سے!" تاج بی بی نے سخت لہجے میں تنویر کو حکم دیا اور جیسے ہی وہ باہر نکلا، انہوں نے فوراً اپنی خاص ملازمہ کو آواز دی اور حکم دیا کہ ان کے بھائی کی بیٹی الماس کو فوراً فون کیا جائے اور اسے کہا جائے کہ وہ جتنا جلدی ہو سکے اس حویلی میں پہنچے۔ تاج بی بی کے دماغ میں اب ایک ہی ہدف تھا—سجیلا کو اس حویلی سے ہمیشہ کے لیے نکال باہر کرنا اور شاہ زیب کی شادی الماس سے طے کر کے تمام قصہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا۔

دوسری طرف، صفیہ کی آنکھ کھلی تو صبح کی ہلکی روشنی ان کے کمرے کی کھڑکی سے اندر آ رہی تھی۔ رات کے وہ وسوسے اور ڈر اب بھی ان کے ذہن پر سوار تھے۔ انہوں نے بستر سے اٹھ کر سجیلا کو دیکھا جو پرسکون نیند سو رہی تھی، اس کے چہرے پر اب پچھلی رات کے وہ درد اور گھبراہٹ کے آثار کم ہو چکے تھے جو ڈاکٹر اور رپورٹس کے آنے سے پہلے تھے۔ صفیہ نے دل میں عزم کیا کہ اب مزید اس حویلی کی ذلت اور طعنے برداشت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ انہیں اپنے آبائی گھر واپس جانا ہی ہوگا۔

صفیہ نے فوراً اٹھ کر اپنے پرانے صندوق کو کھنگالا جس میں ان کے آبائی گھر کی چابیاں رکھی تھیں۔ انہوں نے سوچا کہ آج ہی وہ کسی معتمد مزدور یا کاریگر کو لے کر اپنے اس پرانے محلے والے گھر جائیں گے، جہاں کافی عرصے سے تالا لگا ہوا ہے، تاکہ وہاں صفائی اور مرمت کا کام شروع کروایا جا سکے۔ ناشتے سے فارغ ہو کر صفیہ نے سجیلا سے کہا: "بیٹا! میں ذرا باہر جا رہی ہوں، محلے کے اس پرانے گھر کی طرف تاکہ دیکھ آؤں کہ وہاں کیا صورتحال ہے، تم بالکل پریشان نہ ہونا، میں جلدی واپس آ جاؤں گی اور اپنی نانی جان کا خیال رکھنا۔"

سجیلا نے مدہم سی مسکان کے ساتھ سر ہلا دیا، حالانکہ اس کے اندر بھی ایک انجا سا خوف تھا کہ اس حویلی کے لوگ انہیں سکون سے کب جینے دیں گے۔

جب صفیہ حویلی کے مرکزی دروازے سے باہر نکل رہی تھیں، تو راہداری کے موڑ پر ہی ان کی مڈبھیڑ تاج بی بی سے ہو گئی۔ تاج بی بی کے چہرے پر ایک ایسی مکروہ اور زہریلی مسکان تھی جو طوفان سے پہلے کی خاموشی جیسی ہوتی ہے۔

صفیہ کو دیکھتے ہی تاج بی بی نے طنزیہ انداز میں اپنے زیورات کو درست کرتے ہوئے کہا: "واہ صفیہ بی بی! بڑی صبح صبح تیاری ہو گئی ہے باہر جانے کی؟ لگتا ہے حویلی کی ہوا اب راس نہیں آ رہی یا پھر یہاں جو تم نے اور تمہاری بیٹی نے تماشا لگا رکھا ہے، اس کے بعد اب یہاں رہنے کی شرم باقی نہیں رہی؟"

صفیہ کا دل چاہا کہ وہ خاموش رہیں، مگر ان کی بھی ایک غیرت تھی، انہوں نے سنبھل کر جواب دیا: "تاج بی بی! ہم نے یہاں کوئی تماشا نہیں لگایا، اور نہ ہی کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے۔ اللہ جانتا ہے ہماری سچائی کیا ہے۔ رہی بات یہاں رہنے کی، تو آپ فکر نہ کریں، ہم خود ہی اس حویلی سے جانے کا سوچ رہے ہیں اور بہت جلد آپ کو ہماری شکل بھی یہاں نظر نہیں آئے گی۔"

تاج بی بی ہنس پڑیں، ایک ایسی تلخ ہنسی جس میں حقارت بھری ہوئی تھی: "واہ! بڑی جلدی عقل آ گئی تمہیں! چلو اچھا ہے، جتنی جلدی بستر باندھ لو گی، اتنا ہی اس حویلی کے مکینوں کے حق میں بہتر ہوگا۔ یاد رکھو، یہ حویلی پیر سائیں کی ہے اور یہاں میرے فیصلوں کے خلاف کوئی بات نہیں چل سکتی۔ تمہاری بیٹی کے خواب کبھی پورے نہیں ہوں گے، بہتر ہے اسے بھی سمجھا دو کہ اپنی اوقات میں رہے۔"

صفیہ کی آنکھوں میں غصے اور بے بسی کے آنسو تیر گئے، مگر انہوں نے خود پر ضبط کرتے ہوئے بغیر کچھ کہے وہاں سے قدم آگے بڑھا دیے۔ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اب اس حویلی میں ایک منٹ بھی گزارنا ان کی اور سجیلا کی عزت کے لیے خطرے سے خالی نہیں ہے۔

صفیہ جب حویلی سے نکل کر گاؤں کی طرف گئیں، تو راستے میں ان کے پرانے پڑوسی اور گاؤں کے معتبر آدمی مختار بھائی سے ان کی ملاقات ہو گئی۔ مختار بھائی نے جب صفیہ کو اس حالت میں دیکھا تو فوراً آگے بڑھے اور پرخلوص لہجے میں بولے: "ارے صفیہ بہن! آپ اس وقت ادھر اس حالت میں؟ خیریت تو ہے؟"

صفیہ کی نم آنکھیں دیکھ کر مختار بھائی نے انہیں تسلی دی اور اپنے گھر لے گئے۔ ان کی بیگم نے صفیہ کو بڑے پیار سے بٹھایا اور چائے پانی پوچھا۔ صفیہ نے روتے ہوئے مختار بھائی کو ساری بات بتائی اور کہا: "مختار بھائی! اگر آپ کی اجازت ہو اور کوئی بندہ مل جائے جو ہمارے پرانے گھر کی صفائی اور مرمت کروا دے، تاکہ ہم واپس اپنے گھر میں آ سکیں۔"

مختار بھائی کی بیوی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "بہن! اپنا گھر اپنا ہی ہوتا ہے، اپنے گھر کا سکون حویلیوں میں کہاں ملتا ہے! تم آنے کی تیاری کرو، میں آج ہی سارا کام کروا دیتا ہوں۔"

صفیہ نے اپنے گھر کی چابیاں مختار بھائی کو پکڑا دیں اور کہا: "کام جلدی ہو جائے تو مہربانی ہو گی۔ سجیلا جوان ہو گئی ہے، حویلی میں بہت لڑکے ہیں اور پھر پیر سائیں کی بیگم کو اب ہمارا وہاں رہنا پسند نہیں ہے۔ جب سے شاہ زیب صاحب آئے ہیں، تاج بی بی زیادہ تنگ کرنے لگی ہیں۔ ایک وقت تھا جب پیر سائیں ہمیں اپنی حویلی لے کے گئے تھے، جب تک وہ زندہ رہے ہمارے سر پر ایک شجر جسا سایہ تھا۔"

مختار بھائی نے آگے بڑھ کر صفیہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور پیار سے بولے: "بہن ہو میری، صرف کہا نہیں سمجھا بھی ہے! اور پھر گاؤں کی بچیوں کو کالج میں پڑھایا ہے، سب کی عزت کرتے ہیں، سب جانتے ہیں کہ تاج بی بی کے مزاج بڑے سائیں سے مختلف ہیں۔ فکر نہ کرو، میں 2-3 روز میں سارا گھر صحیح کروا دیتا ہوں۔ چائے پیو، میں کام دیکھتا ہوں، ابھی سے لگ جاتا ہوں گھر میں جو کمی بیشی ہے۔"

صفیہ نے اپنے پرس سے پیسے نکال کر مختار بھائی کو دینے چاہیں، جس پر انہوں نے ہاتھ پیچھے کر لیا اور کہا: "ارے بہن! یہ کیا کرتی ہو؟ پیسے ابھی اپنے پاس رکھو، جب ضرورت ہوئی تو لے لوں گا، ابھی میں خود سارا انتظام کر رہا ہوں!" یہ کہہ کر مختار بھائی نکل گئے۔

صفیہ اپنی پڑوسن سے باتیں کرتے وقت اتنا کھو گئیں کہ وقت کا پتہ ہی نہیں چلا، اور پھر وہ وہاں سے اٹھ کر واپس حویلی آ گئیں۔ حویلی آ کر انہوں نے سجیلا کو ساری بات تفصیل سے بتائی اور کہا: "بیٹا! ہم نے 3 دن بعد یہاں سے چلے جانا ہے۔ ہم کپڑوں کے سوا کچھ نہیں لائے تھے، اس لیے جو کتا بیں رکھنی ہیں بتا دو، میں رکھ دوں گی کیونکہ میں نے اب کالج بھی جوائن کرنا ہے تاکہ گھر کا خرچہ بھی چلتا رہے۔ اب حویلی کے ٹکڑوں پر تو ساری زندگی نہیں پالنا!"

       جب  سجیلانے شاہ زیب کا ذکر کیا تو صفیہ نے صاف کہہ دیا: "بیٹا!  تاج بی بی  ، وہ بھی نہیں چاہتی کہ ہم یہاں رکیں اور شاہ زیب کے خواب اپنی آنکھوں میں مت ساجاؤ، تاج بی بی یہ کبھی ہونے نہیں دیں گی! میں نہیں چاہتی کہ میری اور تمہاری عزت پر کوئی بات آئے، اس لیے حویلی سے نکل کر اپنے گھر لے کے جا رہی ہوں۔"

ادھر شاہ زیب جب اپنے کمرے سے باہر آیا اور اسے معلوم ہوا کہ صفیہ خالہ گھر پر نہیں ہیں اور تاج بی بی نے صبح صبح ان کے ساتھ بدتمیزی کی ہے، تو اس کا خون کھول اٹھا۔ وہ سیدھا اپنی والدہ تاج بی بی کے کمرے کی طرف بڑھا۔ دروازہ بغیر کھٹکھٹائے کھلا تو تاج بی بی چونک کر اٹھ بیٹھیں۔

"یہ آپ نے کیا کیا ہے امی جان؟" شاہ زیب کی آواز میں غصہ اور شکوہ صاف جھلک رہا تھا، "کیوں آپ صفیہ خالہ اور سجیلا پر اس طرح ظلم کر رہی ہیں؟ انہوں نے آپ کا کیا بگڑا ہے؟ وہ پہلے ہی اتنی تکلیف میں ہیں، اور آپ ہیں کہ انہیں اس گھر سے دھکے دینے پر تلی ہوئی ہیں!"

تاج بی بی نے اپنے غصے کو قابو میں کرتے ہوئے کہا: "شاہ زیب! تم اپنی حد میں رہو اور مجھ سے اونچی آواز میں بات مت کرو۔ تم بھول رہے ہو کہ اس حویلی کی مالکن میں ہوں اور جو گھر کی عزت کو داغدار کرے، اسے اس حویلی میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ اور سن لو! میں نے الماس کو بلا لیا ہے، وہ آ رہی ہے اور بہت جلد تمہاری شادی اسی سے ہو گی! اس سجیلا کا نام بھی اب اس حویلی میں نہیں آنا چاہیے۔"

شاہ زیب نے حیرت اور شدید غصے سے اپنی والدہ کو دیکھا: "شادی؟ الماس سے؟ امی! آپ یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں؟ میں نے اپنی زندگی کا فیصلہ کر لیا ہے اور میں سجیلا کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دوں گا!"

یہ کہہ کر شاہ زیب وہاں سے غصے میں بپھرا ہوا باہر نکل آیا، جبکہ پیچھے تاج بی بی کا غصہ اور نفرت مزید بھڑک اٹھی تھی۔ کہانی اب ایک ایسے موڑ پر آ چکی تھی جہاں خاندانی وقار، انا اور محبت کی جنگ کھل کر سامنے آ چکی تھی، اور آنے والے لمحے کسی بڑے دھماکے کی خبر دے رہے تھے۔

(جاری ہے) ---

📝 کاپی رائٹس اور ڈسکلیمر جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 اس ناول (یا تحریر) کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار اور اس کا متن، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں کاپی کرنا، دوسری ویب سائٹس، فیس بک یا کسی بھی سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کرنا، یا آڈیو/ویڈیو کی شکل میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ 

🌐 رابطہ اور معلومات: ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com

 آفیشل ویب سائٹ: https://ishratdigitalcreation.com/ 

آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23