سفرِ وفا قسط نمبر 01 تحریر: ذوق عیشا (عشرت خانم)

 

سفرِ وفا

قسط نمبر 01

تحریر: ذوق عیشا (عشرت خانم)

ذوق ڈیجیٹل ناولز — اے پروجیکٹ آف عشرت ڈیجیٹل کری ایشن

"عدیل بیٹا! بات سنو۔"

"جی بابا!"

عدیل نے لیپ ٹاپ کی فائلز بند کیں اور بابا کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گیا۔

"آج زمینوں کی طرف میں نے جانا ہے، تم کارخانے کے چکر لگا لینا۔ آج نیا مال آئے گا، منشی سے مل کر حساب بھی دیکھ لینا! میں یہ کام تمہیں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ تم ہر کام میں سنجیدگی دکھاتے ہو، مجھے تمہاری صلاحیتوں پر بھروسہ ہے۔ میرے بعد تم نے ہی سب کچھ سنبھالنا ہے۔"

عدیل نے اپنے بابا کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور بولا: "آپ کا سایہ میرے سر پر سلامت رہے!"

عدیل نے فائلز بیگ میں رکھیں اور کُبرد میں محفوظ کر دیں۔ جب وہ اپنی ماں کو دیکھنے کچن میں آیا، تو وہ بابا کے لیے کھانا پیک کر رہی تھیں۔ثُریّا بیگم نے عدیل کو دیکھ کر پیار بھرے لہجے میں کہا: "بیٹا! آج کارخانے جانا ہو گا، میں سن چکی ہوں۔ کہو تو کھانا ساتھ دیتی جاؤں؟"

جس پر عدیل نے مسکراتے ہوئے کہا: "نہیں ماں جی! گھر آ کر آپ کے ساتھ ہی کھانا کھاؤں گا۔ ابھی تو صرف آپ سے سلام دعا لینے اندر آیا ہوں۔"

ماں نے پیار کیا، سر پر ہاتھ رکھا اور دعا دی: "جاؤ، خیر نال جاؤ، جگ جگ جیو! اپنا خیال رکھنا۔"

ماں نے پیار کیا، سر پر ہاتھ رکھا اور دعا دی: "جاؤ، خیر نال جاؤ، جگ جگ جیو! اپنا خیال رکھنا۔"

"جی ماں! آپ بھی اپنا خیال رکھیے گا۔"

ثُریّا بیگم  کھانا لا کر میز پر رکھ چکی تھیں، اتنے میں بختیاار صاحب صوفے پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر بختیاار صاحب کے ہاتھ سے اخبار سائیڈ پر رکھا تاکہ وہ پوری طرح متوجہ ہوں، پھر بولیں:"جی جناب، کہیے!"

"کہنا یہی ہے کہ آپ زمینوں سے آج رات کتنی دیر تک آ جائیں گے؟"

جس پر انہوں نے کہا: "دیکھیے کتنا کام ہے، وہاں جا کر پتا لگے گا، میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔"

"ڈرائیور نے گاڑی تیار کر لی ہے، ساتھ پانی اور یہ کھانا رکھوا دیتی ہوں۔ مجھے وہاں پہنچ کر فون کرنا، خیر سے جائیے۔ عدیل کو یاد دلا دینا کہ آج ربیعہ کے گھر بھی ہو کر آئے، بہن کے سسرال والوں کے لیے پھل بھی لے کر جائے۔ میکے سے بھائی جائے تو بیٹی کی عزت بنتی ہے۔"

"جی چوہدری صاحب! میں یاد دلا دوں گی۔"

ثُریّا بیگم نے ناشتے کا بچا ہوا سامان اٹھا کر باورچی خانے میں رکھا اور کام والی کا انتظار کرنے لگیں۔ اتنے میں کام والی کی آواز آئی: "سلام!"

سلام کے بعد پوچھا: "آج پھر آنے میں دیر ہو گئی، کیا بتاؤں بیگم جی! میرے گھر والوں نے شور مچا دیا تھا، بس جی، مسئلے ہی اتنے ہیں ہمارے۔"

"خیر، وہ تو کبھی ختم ہونے والے نہیں، میرا کام ختم کرو، گھر بھی پھیلا ہوا ہے۔"
"جی میں کرتی ہوں۔ وہ جی، چوہدری صاحب بھی صبح جلدی نکل گئے ہیں، سب خیر ہے نا؟"
"سب خیر ہے! پہلے میرے لیے ایک کپ چائے بنا کر لاؤ، میں ذرا ربیعہ کو فون کرتی ہوں۔ سنو! اپنے لیے بھی بنا لینا۔ پھر برتن دھو کر عدیل کے کپڑے بھی دھونے ہیں، انہیں مایا بھی لگانی ہے اور استری بھی کرنے ہیں۔"

ادھر عدیل نے کارخانے میں قدم رکھا تو سامنے ہی منشی نظر آ گیا۔

"اوہ خیر! آج تو بڑے نصیب کی بات ہے جو جناب عدیل صاحب آئے ہیں۔ اوئے چھوٹے! ایک چائے منگوا جلدی سے صاحب کے لیے، اور مزے کی لانا۔ خیریت تو ہے، آج چوہدری صاحب نہیں آئے؟"

"وہ زمینوں پر گئے ہیں۔ آج نیا مال آنا تھا جی۔"

"عدیل صاحب! میں بھی صبح جلدی اسی لیے آ گیا تھا کہ یہ مال اتر کر گودام میں رکھوا سکوں۔ میں نے آپ کو آتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔"

بختیاار چوہدری صاحب کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ یہ خاندان برسوں سے پنجاب کے شہر لاہور میں آباد تھا۔ زمینوں سے آنے والے چاول کی فصل سے ان کا کام چل رہا تھا، ساتھ ہی ان کا لکڑی کا کام بھی تھا۔ چنیوٹ سے لکڑی آتی تھی، کچا فرنیچر تیار ہوتا تھا اور پھر اس کی پالش کر کے نمائش گاہ (شوروم) کو سپلائی کر دیا جاتا تھا۔

باقی دونوں بھائی نمائش گاہ کو دیکھتے تھے اور عدیل ابھی تعلیمی مدارج طے کر کے فارغ ہوا تھا تو وہ اپنے والد صاحب کے ساتھ کارخانہ دیکھنے آ جاتا، حساب کتاب چیک کرتا۔ دونوں بہنوں کی شادی کے فرض سے وہ پہلے ہی فارغ ہو چکے تھے۔ عدیل بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا، باقی دونوں بہنیں چھوٹی تھیں۔

بختیاار صاحب کو اپنے سب بچوں میں سے عدیل سے ایک خاص لگاؤ تھا، تبھی وہ عدیل کو ساتھ رکھتے اور اسے ساری باتیں سمجھاتے۔ کہاں سے کیا لینا ہے، کس کو کیا دینا ہے—سارے معاملات کو عدیل بہت غور سے سنتا اور بہت اچھے طریقے سے انہیں نبھانے کی کوشش بھی کرتا۔ جب کہ باقی بڑے دونوں بھائی عدیل کے مقابلے میں اتنے ذمہ دار نہیں تھے۔ کام وہ بھی دیکھتے تھے لیکن ان سے حساب کے لیے بار بار کہنا پڑتا تھا، جب کہ عدیل سے جب بھی پوچھتے تو وہ سارا حساب سامنے لا کر رکھ دیتا، جس پر بختیاار صاحب کا دل اس کی احساسِ ذمہ داری پر خوش ہو جاتا۔

عدیل اپنی بہن ربیعہ کے گھر جانے کے لیے پھل لینے رکا تو اسے یاد آیا کہ بچوں کے لیے کچھ چاکلیٹس بھی لیتا چلے۔ وہ دکان کی طرف بڑھا ہی تھا کہ تیزی سے آتی ہوئی علیشہ عدیل سے ٹکرا گئی۔ عدیل نے اسے گرنے سے روکا جس پر وہ معذرت کرتی ہوئی تیزی سے آگے بڑھی اور اپنی چیزیں اٹھا کر گاڑی کی طرف چل دی۔

اس کی ایک جھلک نے عدیل کو دیوانہ سا کر دیا! عدیل کوئی دل پھینک انسان نہیں تھا، لیکن آخر ایسا کیا تھا علیشہ میں جو ایک ہی جھلک میں اسے اپنا گرویدہ بنا گئی؟

کیا عدیل اپنی خاندانی ذمہ داریوں کو اچھے سے نبھا پائے گا؟ کیا اسے اس ایک نظر کی محبت دوبارہ مل پائے گی؟

جڑے رہیے "سفرِ وفا" سے!

کاپی رائٹ اور دستبرداری (Disclaimer)

کاپی رائٹ © 2026 ذوق عیشا (عشرت خانم۔ تمام حقوق محفوظ ہیں۔)

اس ناول ("سفرِ وفا") کا تمام تر مواد، کردار، کہانی، اور لفظی ترتیب "ذوق ڈیجیٹل ناولز" اور "عشرت ڈیجیٹل کریشن" کی ملکیت ہیں۔ اس کا کوئی بھی حصہ کسی بھی صورت میں (تحریری، ریکارڈ شدہ، یا ڈیجیٹل شکل میں) مصنفہ (ذوق عیشا) کی اجازت کے بغیر نقل کرنا، کسی دوسرے پلیٹ فارم پر شائع کرنا، یا اس میں ردوبدل کرنا قانونی جرم سمجھ جائے گا۔

دستبرداری (Disclaimer): یہ ایک خیالی (فکشنل) کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، واقعات، اور پس منظر خالص تخلیق اور تخیل پر مبنی ہیں۔ اگر کسی بھی شخص، زندہ یا مردہ، یا کسی حقیقی واقعے سے اس کی کوئی بھی مماثلت ملتی ہے، تو یہ صرف ایک اتفاق ہوگا۔ اس کا مقصد کسی کی دلآزاری یا کسی ذاتی کردار پر تنقید کرنا ہرگز نہیں ہے۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23