سفرِ وفا قسط نمبر 02

 

سفرِ وفا

قسط نمبر 02

تحریر: ذوق عیشا (عشرت خانم)

ذوق ڈیجیٹل ناولز — 

اے پروجیکٹ آف عشرت ڈیجیٹل کری ایشن

عدیل اپنی جگہ پتھر کا بنا سا کھڑا تھا، اس کے قدم جیسے وہیں زمین میں گڑ گئے تھے۔ علیشہ کی وہ ایک لمحے کی جھلک، اس کی وہ معصوم سی گھبراہٹ اور جلدی میں آگے بڑھ جانے کا انداز اس کے دل و دماغ پر نقش ہو چکا تھا۔ وہ کافی دیر تک اسی دکان کے باہر کھڑا رہا، جہاں چند لمحوں پہلے وہ حادثاتی ملاقات ہوئی تھی۔ اس نے پھل اور بچوں کے لیے چاکلیٹس کا لفافہ پکڑا اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا، مگر کار ڈرائیو کرتے ہوئے بھی اس کا دھیان اسی انجان چہرے کی طرف بھٹک رہا تھا۔

جب وہ اپنی بہن ربیعہ کے گھر پہنچا، تو بچوں نے ماموں کو دیکھ کر شور مچا دیا اور چاکلیٹس کا سن کر خوشی سے اچھل پڑے۔ ربیعہ بھائی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی، چائے اور ناشتے کا اہتمام کیا گیا۔ باتوں ہی باتوں میں ربیعہ بولی: "بھائی! آپ آج کچھ کھوئے کھوئے سے لگ رہے ہیں، طبیعت تو ٹھیک ہے؟ گھر میں سب خیریت تو ہے نا؟"

عدیل نے خود کو سنبھالتے ہوئے ہلکی سی مسکان کے ساتھ کہا: "سب خیریت ہے ربیعہ! بس کارخانے کا کام اور راستے کی تھکن ہے، اور کچھ نہیں۔" مگر وہ جانتا تھا کہ تھکن جسمانی نہیں بلکہ دل کے اندر ایک نیا طوفان مچ چکا ہے۔ کچھ دیر بہن اور بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد عدیل واپس گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔

دوسری طرف، علیشہ گھر پہنچی تو اس کا دل بھی کسی انجان سحر میں مبتلا تھا۔ وہ شیشے کے سامنے کھڑی ہو کر خود کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ آخر وہ اس اجنبی نوجوان کی نظروں سے اتنی لرز کیوں گئی تھی؟ علیشہ ایک خوددار، سلجھی ہوئی اور پڑھی لکی لڑکی تھی، جو اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی کے ساتھ لاہور ہی میں رہتی تھی۔ اس کے والد کے انتقال کے بعد سے گھر کی ساری ذمہ داریوں کا بوجھ ان کے چھوٹے سے خاندان پر آ پڑا تھا، اور وہ اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ ایک بوتیک پر ڈیزائننگ کے چھوٹے موٹے پروجیکٹس پر بھی کام کرتی تھی۔ آج بھی وہ اسی سلسلے میں بازار گئی تھی جہاں عدیل سے ٹکراؤ ہو گیا تھا۔

شام ڈھل چکی تھی اور لاہور کا موسم خوشگوار ہو رہا تھا۔ بختیاار چوہدری زمینوں اور کارخانے کے چکر سے واپس آ چکے تھے، اور ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر دن بھر کے حسابات کا جائزہ لے رہے تھے۔ عدیل بھی ہاتھ منہ دھو کر بابا کے پاس آ بیٹھا۔

بختیاار صاحب نے فائل بند کرتے ہوئے اطمینان سے کہا: "عدیل بیٹا! تم نے آج کارخانے کا حساب بہت اچھے طریقے سے سنبھالا، منشی بتا رہا تھا کہ نیا مال وقت پر گودام میں شفٹ ہو گیا ہے۔ مجھے فخر ہے تم پر۔"

عدیل کے چہرے پر ہلکی سی مسکان آئی، اس نے سر جھکا کر کہا: "یہ سب آپ ہی کی سکھائی ہوئی تربیت کا نتیجہ ہے بابا! میں تو بس آپ کے نقشِ قدم پر چل رہا ہوں۔"

رات کے کھانے پر ثُریّا بیگم نے سب کو کھانا سرو کیا۔ دسترخوان پر سب موجود تھے، مگر عدیل کی خاموشی ماں کی تیز نظروں سے چھپ نہ سکی۔ کھانا کھانے کے بعد جب عدیل اپنے کمرے میں آیا اور لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھنے لگا، تو اس کے ذہن میں بار بار وہی بازار کا منظر گھومنے لگا—وہ ٹکراؤ، وہ معذرت کرتی ہوئی مدہم آواز، اور وہ آنکھیں جو دل میں اتر گئی تھیں۔

کیا عدیل اور علیشہ کا یہ اتفاقی ملاپ کسی خوبصورت رشتے کی ابتدا بنے گا؟ یا یہ محبت کا سفر کسی کٹھن امتحان سے گزرے گا؟

جڑے رہیے "سفرِ وفا" سے!

کاپی رائٹ اور دستبرداری (Disclaimer)

کاپی رائٹ © 2026 ذوق عیشا (عشرت خانم۔ تمام حقوق محفوظ ہیں۔)

اس ناول ("سفرِ وفا") کا تمام تر مواد، کردار، کہانی، اور لفظی ترتیب "ذوق ڈیجیٹل ناولز" اور "عشرت ڈیجیٹل کریشن" کی ملکیت ہیں۔ اس کا کوئی بھی حصہ کسی بھی صورت میں (تحریری، ریکارڈ شدہ، یا ڈیجیٹل شکل میں) مصنفہ (ذوق عیشا) کی اجازت کے بغیر نقل کرنا، کسی دوسرے پلیٹ فارم پر شائع کرنا، یا اس میں ردوبدل کرنا قانونی جرم سمجھا جائے گا۔

دستبرداری (Disclaimer): یہ ایک خیالی (فکشنل) کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، واقعات، اور پس منظر خالص تخلیق اور تخیل پر مبنی ہیں۔ اگر کسی بھی شخص، زندہ یا مردہ، یا کسی حقیقی واقعے سے اس کی کوئی بھی مماثلت ملتی ہے، تو یہ صرف ایک اتفاق ہوگا۔ اس کا مقصد کسی کی دلآزاری یا کسی ذاتی کردار پر تنقید کرنا ہرگز نہیں ہے۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23