سفرِ وفا قسط نمبر 03


سفرِ وفا

قسط نمبر 03

تحریر: ذوق عیشا (عشرت خانم)

ذوق ڈیجیٹل ناولز — اے پروجیکٹ آف عشرت ڈیجیٹل کری ایشن

اگلی صبح سورج کی کرنیں لاہور کے افق پر نمودار ہوئیں تو شہر اپنے روایتی شور شرابے اور گہما گہمی میں بیدار ہو چکا تھا۔ بختیاار ہاؤس میں بھی صبح کا آغاز معمول کے مطابق ہو چکا تھا، مگر عدیل کے دل و دماغ پر پچھلے دن کا وہ مختصر سا واقعہ کسی نقش کی طرح ثبت تھا۔ رات بھر وہ ٹھیک سے سو نہیں پایا تھا؛ کبھی بختیاار صاحب کی کہی ہوئی باتیں اس کے ذہن میں گھومتیں اور کبھی اچانک وہ بازار کا منظر، علیشہ کی وہ سہمتی ہوئی نگاہیں اور اس کی معصوم سی معذرت اس کے سامنے آ جاتی۔

ناشتے کی میز پر سب حسبِ معمول موجود تھے۔ بختیاار صاحب اخبار کے ورق الٹ رہے تھے اور ساتھ ہی چائے کی سُبکی لے رہے تھے، جبکہ ثُریّا بیگم اپنے دونوں بیٹوں اور شوہر کو ناشتہ سرو کرنے میں مصروف تھیں۔

بختیاار صاحب نے اخبار سے سر اٹھا کر عدیل کی طرف دیکھا جو اپنے کپ میں چائے ہلانے میں گم تھا، اور بولے: "عدیل بیٹا! آج تم نے نمائش گاہ (شوروم) کا چکر لگانا ہے۔ وہاں نئے ڈیزائن کا جو فرنیچر پہنچا ہے، اس کی ڈسپلے اور فنشنگ کا جائزہ لے لو، کیونکہ اس ہفتے کچھ اہم خریداروں نے چکر لگاناہے۔ میں چاہتا ہوں کہ کام میں ذرا برابر بھی کوتاہی نہ ہو۔"

عدیل نے چونک کر سر اٹھایا اور فوراً سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا: "جی بابا! میں دوپہر تک شوروم پہنچ جاؤں گا اور تمام ڈسپلے کو خود چیک کر لوں گا۔ آپ بالکل فکر نہ کریں۔"

ناشتے سے فارغ ہو کر عدیل نے اپنے ضروری کاغذات سنبھالے اور کارخانے کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے میں کار ڈرائیو کرتے ہوئے اس کا دل ایک عجب کشمکش میں مبتلا تھا۔ وہ خود کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ ایک اجنبی لڑکی کے لیے ایسی بے چینی اس کی فطرت کے خلاف ہے، مگر دل تھا کہ مانتا ہی نہیں تھا۔ کیا واقعی یہ صرف ایک اتفاقی ملاقات تھی یا تقدیر کا کوئی اور ہی ارادہ تھا؟
دوسری طرف، علیشہ کے لیے بھی یہ صبح پچھلے دنوں جیسی نہیں تھی۔ وہ اپنے چھوٹے بھائی کے لیے ناشتہ تیار کر رہی تھی اور ساتھ ہی اس کی یونیورسٹی جانے کی تیاریوں میں مدد کر رہی تھی۔ علیشہ کی والدہ جو کہ  عرصے سے علیل رہتی تھیں، صوفے پر تکیہ لگائے بیٹھی تھیں اور بیٹی کو صبح سویرے اتنی محنت کرتے دیکھ کر ان کا دل بھر آیا۔

علیشہ نے ماں کی طرف محبت بھری نظر ڈالی، ان کے پاس آ کر بیٹھی اور ان کا ماتھا چومتے ہوئے بولی: "اماں! آپ پریشان کیوں ہوتی ہیں؟ میں ہوں نا سب سنبھالنے کے لیے۔ آپ بس اپنی صحت کا خیال رکھا کریں۔"

ماں نے محبت سے علیشہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا: "بیٹی! تیری ان تھک محنت دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ کاپیوں اور کتابوں کے اس بوجھ اور بوتیک کے ان تھکے دینے والے کاموں نے تجھے آرام کا ایک لمحہ بھی نہیں دیا۔ کاش تیرے بابا آج زندہ ہوتے تو تجھے اس طرح در بدر نہ ہونا پڑتا۔"

علیشہ نے مسکرا کر ماں کے آنسو صاف کیے اور مضبوط لہجے میں کہا: "اماں! بابا کی تربیت ہی ایسی تھی کہ ہم مشکل وقت میں گھبرانا نہیں بلکہ اس کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔ آپ حوصلہ رکھیں، سب اچھا ہو گا میرا بھائی بھی پڑھ لکھ کر ہمارے سارے دکھ بانٹ لے گا۔"

دوپہر کے وقت علیشہ اپنے کچھ تیار شدہ ڈیزائن کے نمونے اور فائلز لے کر اسی مارکیٹ کے قریب ایک معروف بوتیک پر جا رہی تھی جہاں اسے آرڈر کے سلسلے میں ملنا تھا۔ سڑک پر چلتے ہوئے اچانک اس کے قدم رک گئے جب اسے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی اسے دور سے دیکھ رہا ہو۔ اس نے نظریں اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا مگر بھیڑ بھاڑ میں اسے کچھ نظر نہ آیا۔ اس نے دل کو تسلی دی اور اپنی منزل کی طرف بڑھ گئی۔

ادھر عدیل جب شوروم پہنچا تو وہاں کا مینیجر اس کے استقبال کے لیے موجود تھا۔ عدیل نے ایک ایک چیز باریکی سے دیکھی، چنیوٹ سے آئے ہوئے لکڑی کے نئے صوفہ سیٹس، ان کی نفیس پالش اور فنشنگ کا معائنہ کیا اور کچھ ضروری ہدایات دیں۔ کام کے دوران بھی اس کی توجہ بار بار اس خیال کی طرف چلی جاتی تھی کہ آیا وہ لڑکی دوبارہ کبھی اس راستے پر ملے گی یا نہیں۔

شام ڈھلتے ہی عدیل کا دل بے چین ہونے لگا۔ اس نے شوروم کا تمام کام سمیٹا، منشی کو ضروری ہدایات دیں اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ واپسی پر اس کا دل جانے کیوں اسی بازار کے راستے کی طرف مچل گیا جہاں کل ان کا ٹکراؤ ہوا تھا۔ اس نے گاڑی کی رفتار دھیمی کر دی اور سڑک کے دونوں طرف نظریں دوڑانے لگا۔

اور پھر... اچانک بھیڑ کے درمیان وہی جانے پہچانے نقوش نظر آئے! علیشہ اسی دکان کے باہر کھڑی کسی رکشے یا سواری کا انتظار کر رہی تھی، ہاتھ میں ڈیزائنز کا فولڈر پکڑے وہ کچھ پریشان سی لگ رہی تھی۔

عدیل نے بغیر ایک لمحہ ضائع کیے اپنی گاڑی سڑک کے کنارے روکی، دروازہ کھولا اور تیز قدموں سے چلتا ہوا اس کی طرف بڑھ گیا۔ جب وہ علیشہ کے قریب پہنچا تو اس کی سانسیں رکی ہوئی تھیں۔

علیشہ نے جب اپنے سامنے اسی اجنبی نوجوان کو کھڑے دیکھا تو اس کی پلکیں اٹھ گئیں اور چہرہ حیرت اور ہلکی سی گھبراہٹ سے کھل اٹھا۔

عدیل نے خود کو سنبھالا اور قدرے جھجھکتے ہوئے کہا: "معاف کیجیے گا... کل بھی آپ سے میری وجہ سے زحمت ہوئی تھی، اور آج بھی میں نے آپ کو اس طرح پریشان دیکھا تو رہا نہ گیا۔ کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں؟"

علیشہ نے خود کو سنبھالتے ہوئے ایک خوددار اور نپی تُلی آواز میں کہا: "شکریہ! مجھے کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے، میں بس اپنی سواری کا انتظار کر رہی ہوں۔"

عدیل کے دل میں اس کے لہजे کی خودداری اور وقار دیکھ کر احترام اور بڑھ گیا۔ کیا یہ مختصر سی گفتگو ان دونوں کی زندگی میں کوئی نیا موڑ لائے گی؟ کیا علیشہ اس اجنبی کی نیت اور احترام کو سمجھ پائے گی؟

جڑے رہیے "سفرِ وفا" سے!

کاپی رائٹ اور دستبرداری (Disclaimer)

کاپی رائٹ © 2026 ذوق عیشا (عشرت خانم۔ تمام حقوق محفوظ ہیں۔)

اس ناول ("سفرِ وفا") کا تمام تر مواد، کردار، کہانی، اور لفظی ترتیب "ذوق ڈیجیٹل ناولز" اور "عشرت ڈیجیٹل کریشن" کی ملکیت ہیں۔ اس کا کوئی بھی حصہ کسی بھی صورت میں (تحریری، ریکارڈ شدہ، یا ڈیجیٹل شکل میں) مصنفہ (ذوق عیشا) کی اجازت کے بغیر نقل کرنا، کسی دوسرے پلیٹ فارم پر شائع کرنا، یا اس میں ردوبدل کرنا قانونی جرم سمجھا جائے گا۔

دستبرداری (Disclaimer): یہ ایک خیالی (فکشنل) کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، واقعات، اور پس منظر خالص تخلیق اور تخیل پر مبنی ہیں۔ اگر کسی بھی شخص، زندہ یا مردہ، یا کسی حقیقی واقعے سے اس کی کوئی بھی مماثلت ملتی ہے، تو یہ صرف ایک اتفاق ہوگا. 

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23