سفرِ وفا قسط نمبر 04

 

سفرِ وفا

قسط نمبر 04

تحریر: ذوق عیشا (عشرت خانم)

ذوق ڈیجیٹل ناولز — اے پروجیکٹ آف عشرت ڈیجیٹل کری ایشن

شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور لاہور کی سڑکوں پر ٹریفک کا شور بڑھتا جا رہا تھا۔ عدیل کی اس مختصر سی پیشکش اور علیشہ کے پروقار انداز میں انکار کے بعد وہاں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی تھی۔ علیشہ نے اپنی نظریں جھکا لیں اور ہاتھ میں پکڑے ڈیزائنز کے فولڈر کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس کے اندر ایک عجیب سی کشمکش تھی؛ ایک طرف تو اس اجنبی کی آنکھوں میں موجود خلوص اور احترام تھا، اور دوسری طرف اس کی اپنی غیرت اور خودداری تھی جو اسے کسی بھی غیر مرد سے بلاوجہ کی طویل بات چیت یا مدد قبول کرنے سے منع کرتی تھی۔

عدیل نے اس کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے خود کو مزید الجھن سے بچانے کے لیے نرم لیکن دھیمے لہجے میں کہا: "معذرت خواہ ہوں اگر میری بات سے آپ کو ناگوار گزرا ہو۔ میرا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ اس بھیڑ بھاڑ میں پریشان لگ رہی تھیں... اپنا خیال رکھیے گا۔"

یہ کہہ کر عدیل نے پلٹ کر اپنی گاڑی کا رخ کیا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس کا دل ایک عجیب سی بھاری پن کا شکار تھا۔ اس نے گاڑی آگے بڑھائی، مگر اس کے دل کا ایک کونہ بار بار اسی مقام پر اٹکا ہوا تھا۔ دوسری طرف، خوش قسمتی سے اسی لمحے ایک خالی رکشہ وہاں آ کر رکا، اور علیشہ بغیر ایک لمحہ ضائع کیے اس میں بیٹھ گئی اور رکشہ منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔

گھر پہنچنے پر علیشہ کا دل ابھی تک دھڑک رہا تھا۔ اس نے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی تاکہ اماں اور بھائی کے سامنے اس کے چہرے کی پریشانی عیاں نہ ہو۔ اس نے اپنے ڈیزائن کے خاکے میز پر رکھے، ہاتھ منہ دھویا اور باورچی خانے میں اماں کا ہاتھ بٹانے چلی گئی۔ مگر رات بھر اس کی آنکھوں کے سامنے عدیل کا وہی احترام سے جھکا ہوا سر اور فکر مند چہرہ گھومتا رہا۔ کیا کوئی اجنبی اتنا پرخلوص بھی ہو سکتا ہے؟ اس نے سوچا۔

ادھر بختیاار ہاؤس میں رات کا کھانا کھایا جا رہا تھا۔ بختیاار صاحب اپنے کاروباری معاملات پر بات کر رہے تھے: "عدیل! کل تم نے شوروم کا وزٹ کیسا پایا؟ خریداروں کے آنے سے پہلے تمام انتظامات مکمل ہونے چاہئیں۔"

عدیل نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے سر اٹھایا اور دھیمے لہجے میں بولا: "جی بابا! میں نے سب کچھ خود چیک کر لیا ہے۔ ڈسپلے اور فنشنگ بالکل پرفیکٹ ہے، آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔"

ثُریّا بیگم نے بیٹے کی طرف دیکھا اور پیار سے بولیں: "بیٹا! تم پچھلے دو دن سے کچھ زیادہ ہی تھکے تھکے لگ رہے ہو۔ کارخانے کے کام کا زیادہ دباؤ مت لو، اپنی صحت کا بھی خیال رکھو۔"

عدیل نے ہلکی سی مسکان کے ساتھ ماں کو تسلی دی، مگر وہ جانتا تھا کہ اس کی بے چینی کی وجہ کارخانے کا کام نہیں بلکہ وہ انجان چہرہ تھا جو اب اس کی سوچوں پر قبضہ کر چکا تھا۔

اگلے چند دن اسی تذبذب اور روزمرہ کے کاموں میں گزر گئے۔ عدیل اپنے کام میں جتا رہا، مگر اس کا دل بار بار اسی مارکیٹ کے چکر کاٹنے پر مجبور کرتا۔ دوسری طرف علیشہ بھی اپنے بوتیک کے پروجیکٹس اور بھائی کی پڑھائی میں مصروف تھی، لیکن اس کے دل میں بھی اس اتفاقی ملاقات کی یاد کہیں نہ کہیں نقش ہو چکی تھی۔

ایک دوپہر، جب سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، علیشہ کو ایک اہم کلائنٹ کے پاس اپنے ڈیزائنز کے سیمپلز لے کر ماڈل ٹاؤن کے ایک پوش علاقے میں جانا تھا۔ وہ ایک آٹو رکشے میں سوار ہو کر مقررہ پتے کی طرف جا رہی تھی کہ راستے میں اچانک سڑک پر ٹریفک جام ہو گئی۔ سڑک کے دونوں طرف گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی تھیں اور گرمی کی شدت سے برا حال تھا۔

علیشہ نے گھڑی کی طرف دیکھا، وقت تیزی سے گزر رہا تھا اور اگر وہ وقت پر نہ پہنچی تو اس کا مہینوں کی محنت سے تیار کردہ آرڈر ہاتھ سے نکل سکتا تھا۔ وہ پریشانی کے عالم میں رکشے سے نیچے اتری تاکہ دیکھ سکے کہ آگے کیا مسئلہ ہے۔ اتنے میں اچانک ایک تیز رفتار موٹر سائیکل والے نے سائیڈ سے گزرتے ہوئے اس کے ہاتھ میں پکڑا فولڈر جھپٹنے کی کوشش کی، جس سے اس کے کچھ کاغذات ہوا میں اڑ کر بکھر گئے اور وہ خود توازن کھو بیٹھی۔

"سنبھل کر!" ایک جانی پہچانی اور جاندار آواز فضا میں گونجی۔

اس سے پہلے کہ علیشہ زمین پر گرتی، کسی نے مضبوطی سے اس کا بازو تھام کر اسے گرنے سے بچا لیا۔ علیشہ نے گھبرا کر نظریں اٹھائیں تو اس کا دل ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بھول گیا—سامنے عدیل کھڑا تھا!

عدیل، جو اپنی گاڑی میں اسی طرف سے گزر رہا تھا اور ٹریفک جام میں پھنسا ہوا تھا، نے فوراََ علیشہ کو مشکل میں دیکھ کر گاڑی سائیڈ پر لگائی اور دوڑتا ہوا وہاں پہنچ گیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں گہری تشویش اور غصہ تھا—غصہ اس لاپرواہی پر اور تشویش علیشہ کی سلامتی پر۔

"آپ... آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟" علیشہ نے اپنے حواس بحال کرتے ہوئے کانپتی آواز میں پوچھا، اور فوراً پیچھے ہٹ کر اپنے بکھرے ہوئے کاغذات سمیٹنے لگی۔

عدیل نے جھک کر اس کے ساتھ ہی کاغذات اٹھانے شروع کیے، ایک ایک کاغذ کو سنبھال کر اس کے ہاتھ میں دیا اور بولا: "یہ وقت یہ پوچھنے کا نہیں ہے کہ میں کہاں ہوں، بلکہ یہ دیکھنے کا ہے کہ آپ کتنی مشکل میں ہیں۔ آپ اکیلی اس طرح شہر میں کیوں گھومتی ہیں؟ یہاں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں!"

علیشہ نے کاغذات اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے خودداری اور ذرا سا شکوہ لیے لہجے میں کہا: "شکریہ آپ نے میری مدد کی، لیکن میری زندگی کے فیصلے اور مشکلات میری اپنی ہیں، مجھے کسی کی ہمدردی یا طعنے کی ضرورت نہیں ہے۔"

عدیل اس کے منہ سے نکلے ہوئے ان الفاظ کو سن کر دنگ رہ گیا، مگر اس کے دل میں اس لڑکی کی غیرت اور خودداری کے لیے عزت اور زیادہ بڑھ گئی۔ اس نے نرمی سے کہا: "میرا مقصد آپ کو دل آزاری دینا ہرگز نہیں تھا، علیشہ...!"

عدیل کے منہ سے اپنا نام سن کر علیشہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس نے حیرت سے پوچھا: "آپ... آپ میرا نام کیسے جانتے ہیں؟"

عدیل کے چہرے پر ایک ہلکی سی شرمیلی مسکان آئی، اس نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا: "نام انسان کو صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ اس کے کردار کے وقار سے بھی یاد رہ جاتا ہے... خیر، آپ جہاں بھی جا رہی ہیں، کیا میں آپ کو بحفاظت آپ کی منزل تک چھوڑ دوں؟ راستے میں خطرہ ہو سکتا ہے۔"

علیشہ نے ایک لمحے کے لیے عدیل کی آنکھوں میں دیکھا، وہاں کوئی بناوٹ یا فریب نہیں تھا، صرف ایک سچا احساس اور تحفظ کا جذبہ تھا۔ کیا یہ سفر اب دو انجان راستوں سے نکل کر ایک مشترکہ منزل کی طرف بڑھ رہا تھا؟ کیا علیشہ اس بار عدیل کی پیشکش قبول کرے گی؟

جڑے رہیے "سفرِ وفا" سے!

کاپی رائٹ اور دستبرداری (Disclaimer)

کاپی رائٹ © 2026 ذوق عیشا (عشرت خانم۔ تمام حقوق محفوظ ہیں۔)

اس ناول ("سفرِ وفا") کا تمام تر مواد، کردار، کہانی، اور لفظی ترتیب "ذوق ڈیجیٹل ناولز" اور "عشرت ڈیجیٹل کریشن" کی ملکیت ہیں۔ اس کا کوئی بھی حصہ کسی بھی صورت میں (تحریری، ریکارڈ شدہ، یا ڈیجیٹل شکل میں) مصنفہ (ذوق عیشا) کی اجازت کے بغیر نقل کرنا، کسی دوسرے پلیٹ فارم پر شائع کرنا، یا اس میں ردوبدل کرنا قانونی جرم سمجھا جائے گا۔

دستبرداری (Disclaimer): یہ ایک خیالی (فکشنل) کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، واقعات، اور پس منظر خالص تخلیق اور تخیل پر مبنی ہیں۔ اگر کسی بھی شخص، زندہ یا مردہ، یا کسی حقیقی واقعے سے اس کی کوئی بھی مماثلت ملتی ہے، تو یہ صرف ایک اتفاق ہوگا۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23