ناول: سجیلا سیکنڈ لاسٹ قسط (قسط نمبر 39)

 

ناول: سجیلا  سیکنڈ لاسٹ قسط (قسط نمبر 39)

تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم)

پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز

شاہ زیب گھر سے نکل کر سیدھا مختار صاحب کی دکان پر پہنچا۔ اسے اس طرح اکیلا اور گارڈز کے بغیر دیکھ کر مختار بھائی کو شدید حیرت ہوئی کہ پورے علاقے کا سردار اس طرح اچانک ان کی دکان پر آ گیا ہے۔ انہوں نے سلام کے بعد پوچھا: "سائیں! آپ کا یوں اچانک آنا... سب خیریت تو ہے؟"

شاہ زیب نے گہری سانس لیتے ہوئے انہیں سارا ماجرا بتا دیا کہ کس طرح الماس اور اس کے گھر والے ان کی ماں تاج بی بی کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اسے بتایا کہ ان کی بدنیتی صرف حویلی، جائیداد اور پیسوں پر قبضہ کرنے کی ہے۔ شاہ زیب نے کرب بھرے لہجے میں کہا: "میں ان لالچی لوگوں سے خود بھی بچنا چاہتا ہوں اور اپنی ماں کو بھی بچانا چاہتا ہوں۔ اس سب کے ساتھ، میں اپنی زندگی میں سجیلا کو ہمیشہ کے لیے شامل کرنا چاہتا ہوں، اور اس معاملے میں مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ آپ سجیلا کی ماں کو اپنی بہن مانتے ہیں، اور اس وقت ان دونوں کو میرے ساتھ کی سخت ضرورت ہے۔ سجیلا کو ایک ایسا تحفظ چاہیے کہ کوئی بھی کل کلاں اس پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ ماضی میں جو بھی ہوا، میں آگے بڑھ کر سجیلا کا پوری زندگی ساتھ دینا چاہتا ہوں۔ اماں سائیں کا غصہ بھی ٹھنڈا ہو جائے گا جب ایک بار میرا اور سجیلا کا نکاح ہو جائے گا۔"

نکاح کا سنتے ہی مختار بھائی ایک دم پریشان ہو گئے اور ہاتھ جوڑ کر بولے: "شاہ زیب سائیں! آپ کے اور ہم لوگوں کے درمیان بہت فرق ہے، ہم نہ تو آپ کی برادری کے ہیں اور نہ ہی ویسی حیثیت رکھتے ہیں۔"

شاہ زیب نے مختار صاحب کی بات کاٹتے ہوئے پرعزم لہجے میں کہا: "میں ان فرسودہ باتوں کو نہیں مان، اور نہ ہی بابا سائیں ایسی تفریق کے قائل تھے۔ لیکن شاہ زیب سائیں! بیگم صاحبہ یعنی آپ کی اماں سائیں تو ان چیزوں کو مانتی ہیں، اگر سجیلا وہاں گئی تو وہ غیر محفوظ ہو گی۔" شاہ زیب نے فوراً وضاحت دی: "میں نکاح کی بات ابھی اماں سائیں کو نہیں بتاؤں گا۔ میں سجیلا کو پڑھانا چاہتا ہوں، اور اس وقت اماں سائیں کے گرد جو خوشامدی لوگ جمع ہیں، میں ان کا حساب کرنا چاہتا ہوں تاکہ ان کی آنکھیں کھل سکیں اور انہیں اپنے پرائے کا فرق واضح نظر آ سکے۔"

مختار صاحب گہری سوچ میں پڑ گئے اور کچھ وقت مانگا، جس پر شاہ زیب نے عزم سے کہا: "اب وقت بالکل نہیں ہے! جو کرنا ہے آج اور ابھی کرنا ہے، آپ میرے ساتھ چلیں، مولوی صاحب کو بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں تاکہ مجھے ایک طرف سے اطمینان حاصل ہو سکے اور میں اپنے اصل دشمنوں سے اچھے طریقے سے نبت سکوں۔"

صفیہ نے پہلے تو اس اچانک رشتے اور حالات کی وجہ سے صاف انکار کر دیا، لیکن جب مختار صاحب نے سجیلا کے روشن مستقبل اور اس کی عزت و تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے حالات کی سنگین سچائی سمجھائی، تو صفیہ کو ان کی بات بالکل درست لگی۔ انہوں نے اپنی بیوی کو بلایا اور سجیلا کو دولہن کی طرح تیار کرنے میں مدد کا کہا، جبکہ خود صفیہ کچھ معتبر
عزیز لوگوں کو بلانے چلی گئیں تاکہ نکاح کے لیے گواہوں کا بہترین بندوبست ہو سکے۔

شاہ زیب کے لائے ہوئے قیمتی جوڑے اور دلکش جیولری سے سجیلا کو تیار کیا گیا، اور بالآخر اسی شام، بقیدِ بیس لاکھ روپے حق مہر کے ساتھ، سجیلا کا نکاح شاہ زیب کے ساتھ پڑھا دیا گیا

دوسری طرف، جب الماس نے دیکھا کہ شاہ زیب کسی بھی طرح اس کے قابو میں نہیں آ رہا اور شام ڈھلنے کو ہے، تو اس نے اپنے گھناؤنے منصوبے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ سیدھا تاج بی بی کے پاس گئی اور مکارانہ لہجے میں بولی: "آپ میرے ساتھ ذرا باہر چلیں، میں نے آپ کو ایک ضروری چیز دکھانی ہے۔" تاج بی بی، جو الماس اور اس کے بھائی پر انندھا بھروسا کرتی تھیں، اس کے فریب میں آ گئیں۔ جب تاج بی بی نے جانے کے لیے ڈرائیور کو بلانا چاہا، تو الماس نے فوراً بہانہ بنایا: "ارے چھوڑیں ڈرائیور کو! آج گاڑی میں خود چلاؤں گی، آپ میرے ساتھ چلیں۔" وہ تاج بی بی کو لے کر گاؤں سے دور ایک سنسان ویرانے کی طرف نکل گئی، جہاں اس کا باپ نیسر، بھائی تنویر اور ان کے غنڈے پہلے ہی سے منتظر تھے۔

ویرانے میں پہنچ کر جیسے ہی تاج بی بی گاڑی سے باہر نکلیں، پیچھے سے کسی نے اچانک ان کے منہ پر کیمیکل میں ڈالا ہوا کپڑا رکھ دیا، اور وہ پل بھر میں ہوش و حواس کھو بیٹھییں۔ الماس نے تنویر کو آواز دی: "جی بی بی صاحبہ! اندر لے کر جاؤ اور اپنی بی بی سائیں کا خاص خیال رکھنا۔

اندر جا کر الماس نے اپنے باپ ناصر اور بھائی سے پوچھا: "سب ٹھیک ہے نا؟ پھوپھی کو کوئی ہوش تو نہیں آیا؟ اور شاہ زیب کو اس جگہ کی خبر تو نہیں ہوئی؟" ناصر نے مسکراتے ہوئے کہا: "فکر مت کرو، ہم نے پکا بندوبست کیا ہے۔" الماس نے اپنی ہوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "بابا! میں نے تو جان بوجھ کر ڈرائیور کو روکا تھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ اب آپ جلدی سے وہ تمام کاغذات تیار کروائیں اور جائیداد میرے اور بھائی کے نام کروا دیں۔ وہ شہر والا شاندار ولا بھی اب میرا ہوگا، اور یہ حویلی جس پر وہ بوڑھی اتراتی پھرتی ہے، اس پر بھی اب میرا قبضہ ہو گا۔ زمینیں بھائی کے نام کر دیں۔ میں شاہ زیب کو بتا دینا چاہتی ہوں کہ گھمنڈ اور غرور کا محور کیسے ٹوٹتا ہے۔ اس نے مجھے ٹھکرا کر جو ذلت دی ہے، اب میں اس کی ماں اور اسے اس گھر سے بے دخل کر کے لوں گی۔" ناصر بلند آواز میں ہنس پڑا: "بالکل، تم بالکل اپنے باپ پر گئی ہو!"

حویلی سے تاج بی بی کو غائب ہوئے کافی وقت بیت چکا تھا اور رات گہری ہو رہی تھی۔ جب حویلی کے ملازمین نے گھبرا کر شاہ زیب کو فون کیا کہ تاج بی بی کافی دیر پہلے الماس کے ساتھ نکلی تھیں اور اب تک نہیں لوٹیں، تو شاہ زیب کا دل بیٹھ گیا۔ وہ وہیں مہمانوں کو رخصت کرتے کرتے ایک دم اچھل پڑا۔ مختار صاحب نے پاس آ کر پوچھا کہ خیریت تو ہے؟ شاہ زیب نے غصے اور بے بسی سے کہا: "وہی ہوا جس کا ڈر تھا... الماس اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکی ہے! مجھے فوراً جا کر دیکھنا ہوگا کہ وہ میری ماں کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔"

وہ دوڑتا ہوا اندر سجیلا کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ تھام کر بولا: "میں اماں سائیں کو تلاش کر کے رخصت کے لیے لے کر آؤں گا، مجھے ان کی شدید فکر ہو رہی ہے۔ تم اپنا خیال رکھنا

ادھر ویرانے کے ایک تاریک کمرے میں جب تاج بی بی کو ہوش آیا، تو انہوں نے خود کو ایک مضبوط کرسی سے بندھا ہوا پایا۔ ان کے ہاتھ اور پاؤں مضبوط رسیوں سے جکڑے ہوئے تھے اور منہ پر پٹی بندھی تھی۔ انہوں نے کسی طرح زور لگا کر منہ سے آواز نکالی: "کون ہے یہاں؟ مجھے یہاں کون لایا ہے؟ کیوں باندھا ہے مجھے؟"

ایک خرانٹ اور بدصورت غنڈہ آگے بڑھ کر ہنسا اور بولا: "چپ کر کے بیٹھ جا بڑھیا! زیادہ شور مچایا تو گولی مار دوں گا، تیری عمر کا لحاظ ہے ورنہ تجھ سے حساب کتاب اور سخت ہوتا۔"

تاج بی بی نے غصے سے کانپتے ہوئے پوچھا: "تم کون ہو اور الماس کہاں ہے؟" سامنے سے قہقہہ گونجا: "الماس تجھے یہیں چھوڑ کر گئی ہے، اور تیرے اپنے بھائی نے تجھ یہاں قید کیا ہے! ابھی آتے ہوں گے وہ

اتنے میں دروازہ کھلا اور ناصر اندر داخل ہوا۔ اسے دیکھ کر تاج بی بی کی آنکھیں حیرت اور صدمے سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں: "ناصر! یہ سب تم نے کروایا ہے؟ تم... تم اتنے گر سکتے ہو؟! اور وہ الماس، جسے میں نے ہمیشہ اپنی سگی بیٹی سے بڑھ کر چاہا، اس نے مجھے اتنا بڑا دھوکا دیا؟! شاہ زیب ٹھیک کہتا تھا... تم سب لالچی اور مکار ہو!"

ناصر نے آگے بڑھ کر طنزیہ انداز میں کہا: "اب یہ رونا دھونا بند کرو! اگر اپنے اس عزیز بیٹے کی زندگی چاہتی ہو، تو خاموشی سے ان کاغذات پر سائن کر دو!"

..."تاج بی بی نے حقارت سے منہ پھیرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا: 'میں مر جاؤں گی، پر اس مکر و فریب کے کاغذات پر
کبھی سائن نہیں کروں گی!'"

ناصر کے چہرے کا رنگ بدلا، وہ قریب آیا اور دھمکی آمیز لہجے میں بولا: "اپنے کان کھول کر سن لو بوڑھی! سائن تو ہم تمہیں سے کروا کر ہی رہیں گے... اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ سیدھے طریقے سے کرتی ہو یا ہمت ہار کر زبردستی کروانی پڑے!"

کیا شاہ زیب اپنی ماں کو ان بھیڑیوں کے چنگل سے زندہ بچا پائے گا؟ کیا الماس کا یہ مکر و فریب ہمیشہ کے لیے بے نقاب ہو گا؟ جاننے کے لیے انتظار کیجیے ناول "سجیلا" کی آخری، سنسنی خیز اور فیصلہ کن قسط کا!

۔

جملہ حقوق اور ڈس کلیمر

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026

اس ناول کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار، مکالمے اور اس کا متن، مکمل طور پر مصنفہ ذوقِ عیشا (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کاپی کرنا، ری پوسٹ کرنا، شیئر کرنا یا کسی بھی آڈیو/ویڈیو فارمیٹ میں تبدیل کرنا قانونی طور پر سختی سے ممنوع ہے۔

ڈس کلیمر:

یہ کہانی مکمل طور پر ایک خیالی داستان ہے۔ اس ناول کے تمام کردار، مقامات اور حوادث مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ اگر اس میں کسی بھی شخص (زندہ یا مردہ) یا کسی حقیقی واقعے سے کوئی مماثلت پائی جائے تو وہ محض ایک اتفاق ہوگی، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

🌐 رابطہ اور معلومات:

  • ای میل ایڈریس: ishratdigitalcreation@gmail.com

  • آفیشل ویب سائٹ: ishratdigitalcreation.com

  • آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز (Zoaq Digital Novels)



۔


Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23