سجیلا - آخری قسط(Last Episode)40

سجیلا - آخری قسط

ذوق ڈیجیٹل ناولز

تحریر: ذوقِ عشاء / عشرت خانم

ناصر اندر آتا ہے، کاغذات لے کر اور تاج بیبی اسے دیکھ کر کہتی ہیں، "ناصر، تم اس حد تک گر سکتے ہو!" ناصر مسکراتے ہوئے بولا، "زیادہ باتیں نہیں، سیدھی طرح ان کاغذات پر سائن کرو اگر اپنی زندگی چاہتی ہو تو۔"

تاج بیبی نے غصے سے دیکھا اور کہا، "میں سائن نہیں کروں گی اور ویسے بھی میرے سائن کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سب کچھ کا وارث شہزیب ہے اور شہزیب کو میرے حویلی سے گمشدہ ہونے کا پتہ لگ گیا ہو گا، ابھی آتا ہی ہوگا۔ وہ تمہاری ایسی حالت کرے گا کہ تمہاری نسلیں یاد رکھیں گی۔"

ناصر نے تاج بیبی کی ٹھوڑی کو پکڑا اور کہا، "میں تمہارے بڑھاپے کا لحاظ کر رہا ہوں ورنہ میں نے تم سے سارے بدلے لینے تھے جو تمہارے شوہر نے میرے ساتھ کیے تھے۔ میں تم لوگوں کو خالی ہاتھ کر دوں گا۔"

اتنے میں دروازہ کھلا اور پولیس اندر آگئی۔ انسپکٹر حمید نے آواز لگائی، "ہلنا مت  ورنہ گولی چلانی پڑے گی۔" ایک سپاہی نے آگے بڑھ کر تاج بیبی کو کھولا اور اپنے ساتھ لے گیا۔ باقی سپاہی باہر آئے اور ناصر کو لے کر اسے باہر لے آئے۔ ساتھ ہی باقی لوگوں کو وین میں بٹھایا اور ایک سپاہی سے کہا کہ "تم اپنے ساتھ تاج بیبی کو ان کی گاڑی میں لے کر جاؤ اور باحفاظت عزت کے ساتھ حویلی پہنچاؤ، میں ان کو لے کر تھانے پہنچتا ہوں۔"

تاج بیبی کو گاڑی میں بٹھایا گیا اور سپاہی نے انہیں ایک پانی کی بوتل دی جسے وہ ایک سانس میں پی گئیں۔ صبح کے بعد کچھ کھایا پیا بھی نہیں تھا، ان کی حالت غیر ہونے لگی تھی۔ انہوں نے گاڑی کی سیٹ پر سر رکھا اور وہ نیم بیہوشی کے عالم میں چلی گئیں۔

یاور کے فون کی بیل بجی، اس نے فون اٹھایا اور کہا، "گڈ ورک حمید! مجھے تم پر بھروسہ تھا اسی لیے تمہیں بھیجا تھا۔ اچھے طریقے سے کام کیا اور  شہزیب کی ماں کو بازیاب کروایا۔"

یاور نے فون رکھتے ہی شہزیب کو بتایا، "مبارک ہو! آپ کی والدہ سہی سلامت ہیں، نیم بیہوشی کی حالت میں ہیں، وہ انہیں اسپتال لے کر جا رہے ہیں، ہمیں بھی وہیں چلنا چاہیے۔" شہزیب اٹھا اور یاور کے ساتھ نکل گیا تاکہ ان کے پہنچنے سے پہلے وہ اسپتال میں ہوں۔

سجیلا جائے نماز پر بیٹھ کر دعا کر رہی تھی کہ شہزیب کی پریشانی دور ہو جائے۔ اسے خیال آیا کہ میں خیریت پوچھوں کہ بیبی  , ابھی وہ فون ملانے ہی والی تھی کہ شہزیب کی کال آگئی۔ سجیلا نے فورا پوچھا کہ بیبی مل گئی؟

جس پر شہزیب نے کہا، "اللہ کا شکر ہے کہ وہ مل گئی ہیں اور ابھی انہیں لے کر آ رہے ہیں۔ وہ بیہوش ہو گئی تھیں، باقی کوئی تکلیف نہیں ہوئی، سب خیریت ہے۔"

سجیلا نے اچھا کہہ کر فون رکھ دیا اور ماں کو بتانے ان کے کمرے کی طرف آگئی۔ جیسے ہی گاڑی اسپتال کے احاطے میں رکی تو تاج بیبی کو اسٹریچر میں ڈال کر اندر لے آئے اور چیک اپ کے لیے اندر لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد انہیں ہوش آگیا اور وہ شہزیب کو پکارنے لگیں۔

شہزیب نے اندر آکر ماں کا ہاتھ پکڑا، انہیں پیار کیا اور کہا، "شکر ہے آپ خیریت سے ہیں۔ میں نے کتنا سمجھایا تھا کہ آپ ان لوگوں سے دور رہیں، آپ نے اپنی جان خطرے میں ڈالی، کیوں ایک بار مجھے کہہ کر نہیں گئیں؟ شکر ہے کہ آپ کی جگہ ٹریس ہو گئی ورنہ میں آپ کو ڈھونڈ نہیں پاتا۔"

تاج بیبی بولیں، "بیٹا مجھے معاف کر دو، میں غصے کی رو میں پہچان نہیں کر سکی۔ تم سہی کہتے تھے، تمہارے بابا کا فیصلہ بھی سہی تھا۔ میں اپنے بھائی کی محبت میں اندھی ہو گئی تھی، اسے رشتوں کی پرواہ تھی نہ انسانیت کی، ویسے ہی اس کی اولاد بھی نکلی۔ شکر ہے اللہ نے میری وقت پر آنکھ کھول دی۔ میں سمجھ گئی ہوں کہ میرے بیٹے کی خوشی کس میں ہے، میں کوئی زبردستی نہیں کروں گی، جہاں دل کرے، جسے دل کرے شادی کرنا، میں خود جاؤں گی اسے تمہارے لیے مانگنے۔"

شہزیب نے بتایا کہ "میں نے سجیلا سے نکاح کر لیا ہے آپ کی مرضی کے بغیر کیونکہ میں اسے کھونا نہیں چاہتا تھا۔"

تاج بیبی نے کہا، "سہی کیا بیٹا، میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔ مجھے گھر لے چلو تاکہ میں سجیلا کو رخصت کروا لوں۔"

شہزیب نے کہا، "آپ ابھی گھر چل کر آرام کریں، کل ہم جا کر لے آئیں گے۔"

جس پر تاج بیبی بولیں، "نہیں، سہی سے بارات لے کر جاؤں گی، تم اپنے دوستوں کو بلانا، میں پورے علاقے کو دعوت پر بلاؤں گی، شاندار سا ولیمہ ہو گا۔ میرے بیٹے کی خوشی میں میری خوشی ہے۔"

گھر آنے کے بعد تاج بیبی اپنے کمرے میں پیر سائیں کی تصویر سے بات کرنے لگیں، "مجھے معاف کر دیں پیر سائیں! میں نے آپ کی بات کے خلاف کیا اور ایک بار دھوکہ کھایا۔ شکر ہے میرا شہزیب سمجھ دار ہے، اس نے مجھے مزید گمراہ ہونے سے بچا لیا۔" پیر سائیں کی تصویر سے باتیں کرتی ہوئی تاج بیبی نیند کی وادیوں میں اتر گئیں۔

صبح تاج بیبی کی تیاری عروج پر تھی۔ سب کو ہدایات دے رہی تھیں کہ وہ سجیلا کے استقبال کے لیے ہر چیز بہت اچھے سے کریں اور کسی بھی چیز کی کمی نہ ہو۔ شہزیب کے کمرے کو اس کے دوست سجا رہے تھے۔ صفیہ کی طرف پیغام پہنچا دیا تھا کہ ہم رخصتی کے لیے آج شام ان کے گھر آئیں گے اور رخصت کروا کے لائیں گے۔ رات کا کھانا حویلی کے لان میں ہی سب کھائیں گے، سب علاقہ والوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

سجیلا کے لیے سوٹ اور زیورات تاج بیبی نے ڈرائیور کے ہاتھ بھجوائے تھے، ساتھ ہی باقی گھر والوں کے لیے بھی سوٹ اور تحائف تھے۔ صفیہ کے گھر بھی رونق لگی ہوئی تھی، صفیہ نے اپنے پڑوسیوں کو بلایا ہوا تھا، مختار بھائی نے گھر کو سجوا دیا تھا اور مہمانوں کے لیے کرسیوں کے انتظام کروا دیے تھے۔ سب شام کا انتظار کر رہے تھے۔ سجیلا کے ہاتھ میں مہندی لگائی جا رہی تھی، اس پر سرخ رنگ بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔

شام ہونے آئی اور ساتھ ہی صفیہ کے دروازے پر لوگوں کی آمد ہوئی اور آواز اندر آنے لگی، "بارات آگئی ہے، چلو سب استقبال کرتے ہیں۔" سجیلا کے پاس بس نانی رہ گئی تھیں جو اسے اس کی آنے والی نئی زندگی کی دعا دے رہی تھی۔ سجیلا پر خوب رعب آیا تھا، بہت عزت کے ساتھ باراتیوں کو بٹھایا گیا اور ان کی شربت سے تواضع کی گئی، ساتھ ہی مٹھائی بھی تقسیم کی گئی۔

 رسم اور پھر دعا کے بعد رخصتی کے لیے تاج بیبی اندر آئیں اور سجیلا کے اوپر چادر ڈالی گئی اور اسے ساتھ لے کر صفیہ اور تاج بیبی باہر آئیں۔ سجیلا ماں کے گلے لگی اور صفیہ نے تاج بیبی سے کہا، "میرا کل سرمایہ ہے، میں اسے آپ کو سونپ رہی ہوں، اس کا خیال کیجیے گا، کوئی غلطی ہو تو معاف کر دیجییگا۔"

جس پر تاج بیبی نے کہا، "معافی تو مجھے آپ سے مانگنی ہے، میں نے آپ کو وہ حویلی سے جانے کو کہا جبکہ میرے شوہر نے آپ کو وہاں پناہ دی تھی۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ واپس اپنے حصے میں آباد ہو جائیں۔"

جس پر صفیہ نے کہا، "بیٹی کے سسرال میں ماں نہیں رہتی، یہ وہیں آباد رہے، خوش رہے۔ میں یہاں خالہ کے ساتھ رہوں گی اور اپنے کالج کے فرائض انجام دوں گی۔"

سجیلا کو گاڑی میں بٹھا دیا گیا اور ساتھ ہی شہزیب کو بھی بٹھایا گیا۔ دوسری گاڑی میں تاج بیبی بیٹھ گئیں اور یہ قافلہ حویلی کی طرف مڑ گیا جہاں سارے مہمان دولہا دلہن کے لیے استقبال کے منتظر تھے۔

شہزیب نے حویلی پہنچ کر گاڑی سے اتر کر سجیلا کا ہاتھ پکڑ کر اتارا اور سب کی طرف سے پھول نچھاور ہونے لگے اور سجیلا کو اس کے کمرے میں بٹھا دیا گیا۔ سجیلا نے کمرے کو دیکھا، ہر چیز کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ شہزیب نے سجیلا سے کیا ہوا وعدہ نبھایا اور اپنی عزت بنا کر اپنی زندگی میں شامل کیا۔

شہزیب کو اندر جاتے ہوئے دیکھ کر تاج بیبی نے روک لیا کہ "نہیں جا سکتے، پہلے اندر جانے کے لیے آپ کو یہ لے کر جانا ہوگا۔"

شہزیب نے کھول کر دیکھا تو اس کی دادی کے خوبصورت کنگن تھے جو اس کی ماں نے اسے دیے کہ "اب اس پر سجیلا کا حق ہے۔ میں نے بہت حکومت کر لی، اب اس حویلی کی ذمہ داری اور سارے معاملات سجیلا دیکھے گی اور باہر کے کام تم دیکھو گے، اب میں عبادت کروں گی۔"

شہزیب نے ماں کو گلے لگایا اور اندر آگیا۔ سجیلا کو سامنے دیکھ کر شہزیب نے کہا، "یہ میں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔"

جس پر سجیلا نے کہا، "ایک وعدہ اور بھی ہے جو آپ نے پورا کرنا ہے۔"

شہزیب نے پوچھا، "وہ کون سا؟"

سجیلا نے کہا، "میری پڑھائی پوری ہونے کی شرط پہ ہی ماں راضی ہوئی تھی۔"

جس پر شہزیب نے کہا، "وہ تو آپ ضرور پڑھیں گی تاکہ ہمارے گاؤں کا مستقبل کی مالکن ایک تعلیم یافتہ ہو اور سب کی قسمت بدلی جا سکے۔"

سجیلا نے شہزیب کا ہاتھ تھاما اور کہا، "ہم اپنے اس گاؤں کو ایک پڑھا لکھا گاؤں بنا کر دیں گے، ہر گھر کی لڑکی تعلیم حاصل کرے گی۔"

مشکلات کو پار کرتے ہوئے سجیلا اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے آگے کئی منصوبے بنانے لگی۔

یوں ایک نئی سجیلا کا وجود سامنے آیا جو کہ ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہو چکی تھی۔

آپ سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں کہ سجیلا کے اس سفر میں آپ نے میرا خوب ساتھ دیا۔ ذوق ڈیجیٹل ناولز کا یہ سفر جاری رہے گا، ایک نئے ناول کے ساتھ پھر ملیں گے، تب تک اپنا خیال رکھیے گا۔
عشرت خانم کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔

کوپی رائٹس اور ڈس کلیمر (Copyright & Disclaimer):

  • جملہ حقوق محفوظ ہیں: اس ناول (سجیلا) کا تمام مشمولہ، کہانی، کردار اور جملہ حقوق مصنفہ عشرت خانم (ذوقِ عشاء) اور ذوق ڈیجیٹل ناولز کے پاس محفوظ ہیں۔ پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر کا کوئی بھی حصہ نقل کرنا، کسی دوسرے پلیٹ فارم پر شایع کرنا یا اس کی نقل تیار کرنا قانوناً جرم ہے اور اس پر کاپی رائٹس ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

  • اعلانِ لاتعلقی (Disclaimer): اس ناول کے تمام کردار، نام اور واقعات مکمل طور پر خیالی اور فرضی ہیں۔ اگر اس کہانی کے کسی بھی کردار یا واقعے کی مطابقت کسی بھی زندہ یا مردہ شخص یا حقیقی واقعے سے پاتیک یا مشابہت پٹتی ہے، تو اسے محض ایک اتفاقیہ حسنِ اتفاق سمجھا جائے گا۔ اس سے کسی بھی شخص یا واقعے کی توہین مقصود نہیں ہے۔

رابطہ کرنے کے لیے (Contact Us):

اگر آپ کو اس ناول سے متعلق کوئی رائے دینی ہو یا کسی قسم کا رابطہ کرنا ہو، تو آپ ہمیں درج ذیل ای میل ایڈریس پر رابطہ کر سکتے ہیں:
ای میل: ishratdigitalcreation@gmail.com 

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23