سفرِ وفا قسط نمبر 05
سفرِ وفا
قسط نمبر 05
تحریر: ذوق عیشا (عشرت خانم)
ذوق ڈیجیٹل ناولز — اے پروجیکٹ آف عشرت ڈیجیٹل کری ایشن
سڑک پر ہلکی سی گرد اور گاڑیوں کے ہارن کا شور ایک عجیب سا ماحول پیدا کر رہا تھا، مگر اس ہنگامہ خیز فضا میں بھی عدیل اور علیشہ کے درمیان کا سکوت بہت گہرا اور معنی خیز تھا۔ عدیل کی پیشکش پر علیشہ کے دل میں ایک لمحے کے لیے ہچکچاہٹ کی لہر دوڑی۔ اس کی خودداری اسے کسی بھی اجنبی کی مدد لینے سے روک رہی تھی، مگر ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل تھی کہ اس وقت ماڈل ٹاؤن کے اس مصروف اور دباؤ والے راستے پر اکیلے آگے بڑھنا اور اپنے اہم ڈیزائنز کے فولڈر کو خطرے میں ڈالنا ایک بہت بڑی حماقت ہوتی۔
اس نے ایک گہرا سانس لیا، اپنی نظریں اٹھا کر عدیل کے پرخلوص چہرے پر ڈالی جہاں تشویش کے ساتھ ساتھ احترام کی لکیریں صاف محسوس ہو رہی تھیں۔ حالات کی مجبوری اور عدیل کی آواز میں موجود سچائی نے اس کی ضد کو نرم کر دیا۔
"ٹھیک ہے..." علیشہ نے دھیمی لیکن مضبوط آواز میں کہا، "اگر آپ واقعی مدد کرنا چاہتے ہیں، تو میں انکار نہیں کروں گی، کیونکہ میرا وقت پر وہاں پہنچنا بہت ضروری ہے۔ لیکن... شکریہ کے علاوہ میں آپ کو اس زحمت کا کوئی اور صلہ نہیں دے سکتی۔"
عدیل کے چہرے پر ایک اطمینان بخش اور دل کو چھو لینے والی مسکان پھیل گئی۔ اس نے فوری طور پر اپنی گاڑی کا دروازہ کھولا اور بولا: "آپ کو کسی صلے کی ضرورت نہیں ہے، علیشہ! بس آپ کے محفوظ طریقے سے منزل پر پہنچ جانا میرے لیے کافی ہے۔ آئیے، بیٹھیں۔"
علیشہ احتیاط کے ساتھ گاڑی کی پچھلی نشست کے قریب ہی موجود سیٹ پر بیٹھ گئی۔ گاڑی کے اندر کی خنکی اور باہر کی گرمی کا تضاد اس کے حواس کو کچھ پرسکون کر گیا۔ عدیل نے انتہائی دھیمی رفتار اور احتیاط کے ساتھ گاڑی کو ٹریفک کے اس حصار سے نکالا۔ راستے بھر دونوں کے درمیان خاموشی رہی، مگر یہ وہ خاموشی تھی جو الفاظ سے زیادہ بہت کچھ کہہ رہی تھی۔ عدیل بار بار عقب بین آئینے (پیچھے دیکھنے والے آئینے) سے علیشہ کے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لے رہا تھا، جبکہ علیشہ گاڑی سے باہر گزرتے ہوئے مناظر میں گم تھی، مگر اس کے دل میں اس انجان شخص کی سوچ بار بار دستک دے رہی تھی۔کچھ ہی دیر میں گاڑی ماڈل ٹاؤن کے اس پوش علاقے میں واقع کلائنٹ کے دفتر کے باہر جا روکی۔ علیشہ نے فوراََ اپنا فولڈر سنبھالا، دروازہ کھولتے ہوئے عدیل کی طرف دیکھا اور تشکر بھرے لہجے میں بولی: "آپ کا بہت بہت شکریہ، عدیل صاحب! اگر آپ بروقت مدد نہ کرتے تو شاید میرا آج کا یہ اہم ترین پروجیکٹ ضائع ہو جاتا۔"
عدیل نے ہلکا سا سر ہلاتے ہوئے کہا: "شکریہ کی کوئی بات نہیں ہے، علیشہ! اپنا خیال رکھیے گا، اور ہاں... شہر میں سفر کرتے وقت ذرا احتیاط سے رہا کریں۔ اللہ حافظ!"
علیشہ نے ہلکا سا سر اثبات میں ہلایا اور تیزی سے دفتر کے اندر چلی گئی۔ عدیل وہیں گاڑی میں بیٹھا تب تک اس کی طرف دیکھتا رہا جب تک وہ عمارت کے اندر اوجھل نہیں ہو گئی۔ اس کے دل میں ایک انوکھا سکون اتر آیا تھا، ایک ایسا احساس جو اس نے طویل عرصے سے محسوس نہیں کیا تھا۔
ادھر دفتر کے اندر، علیشہ نے اپنے ڈیزائن کے سیمپلز کلائنٹ کے سامنے پیش کیے۔ اس کی محنت، نفاست اور جدید ترین آئیڈیاز دیکھ کر کلائنٹ دنگ رہ گیا۔ نہ صرف اس کا آرڈر منظور ہو گیا بلکہ کلائنٹ نے اگلے بڑے پروجیکٹ کے لیے بھی ایڈوانس بکنگ کر لی۔ علیشہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا؛ اس کی مہینوں کی تھکن اور محنت رنگ لے آئی تھی۔ کام مکمل کرنے کے بعد جب وہ واپس گھر پہنچی تو اس کے چہرے کی چمک اور مسکان نے اماں اور بھائی کو بھی خوش کر دیا۔
دوسری طرف، بختیاار ہاؤس کا ماحول بالکل مختلف تھا۔ رات کا وقت تھا اور ڈرائنگ روم میں بختیاار صاحب اور ان کے کاروباری شراکت دار کچھ اہم دستاویزات پر دستخط کر رہے تھے۔ عدیل بھی وہیں موجود تھا، مگر اس کا دھیان کہیں اور ہی بھٹک رہا تھا۔
بختیاار صاحب نے عدیل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: "عدیل! کل صبح تمہیں فیکٹری کے نئے شپمنٹ کے حوالے سے خود جا کر معائنہ کرنا ہوگا۔ یہ ڈیل ہمارے بزنس کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے، اس میں ذرا برابر بھی غفلت نہیں ہونی چاہیے۔"
عدیل نے ہوش میں آتے ہوئے فوری طور پر جواب دیا: "جی بابا! آپ بالکل فکر نہ کریں، میں صبح سب سے پہلے فیکٹری جاؤں گا اور تمام معاملات خود اپنے سامنے نپٹاؤں گا۔"
کھانا کھانے کے بعد جب سب اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے چلے گئے، تو عدیل اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ باہر چاند کی مدہم روشنی میں لاہور کا آسمان بہت خوبصورت لگ رہا تھا، مگر عدیل کے ذہن میں صرف ایک ہی چہرہ گھوم رہا تھا—علیشہ کا خوددار چہرہ، اس کی آنکھوں میں موجود شکوہ اور غیرت۔ اسے محسوس ہوا کہ زندگی میں پہلی بار اس کا دل کسی کاروباری فائدے یا نقصان کے علاوہ بھی کسی انسان کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوا ہے۔
اگلی صبح، عدیل فیکٹری کے کاموں میں مصروف رہا، مگر دوپہر کے وقت اس کے فون پر ایک ایسی خبر آئی جس نے اس کے معمولات میں ہلچل مچا دی۔ فیکٹری کے پرانے مینیجر نے آ کر بتایا کہ جس کورئیر سروس کے ذریعے انہیں خام مال ملنا تھا، ان کی ہڑتال کی وجہ سے سامان وقت پر نہیں پہنچ پائے گا اور اگلی کھیپ آنے میں کم از کم چار دن کی تاخیر ہو سکتی ہے۔
عدیل ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سوچ میں پڑ گیا؛ اگر چار دن کی تاخیر ہوئی تو شو روم کے افتتاح اور خریداروں کے سامنے بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے، اور بابا کا غصہ اس کے علاوہ تھا۔ اس نے فوری طور پر متبادل ذرائع تلاش کرنا شروع کیے۔ فون پر رابطے کیے، مگر کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل رہا تھا۔
اسی تذبذب کے عالم میں اسے یاد آیا کہ ماڈل ٹاؤن والی مارکیٹ کے قریب ایک پرانا اور قابلِ بھروسہ مینوفیکچرر موجود ہے جو اس نوعیت کا خام مال فراہم کر سکتا ہے۔ بغیر ایک لمحہ ضائع کیے عدیل نے اپنی گاڑی نکالی اور اس مخصوص مارکیٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب وہ اس مارکیٹ میں پہنچا اور مطلوبہ دکان کے پاس اپنی گاڑی روکی، تو اتفاق سے اس کی نظر سامنے والی سڑک پر پڑی۔ وہاں ایک خوبصورت سا بوتیک تھا جس کے شیشے کے دروازے پر "الیشہ ڈیزائن اسٹوڈیو" کا بورڈ آویزاں تھا۔ عدیل کا دل ایک زور دار دھماکے کے ساتھ دھڑکا—یہ وہی علیشہ کا علاقہ تھا!
اس نے گاڑی سے اتر کر دکان کے اندر جھانکنے کی کوشش کی تو دیکھا کہ اندر علیشہ انتہائی انہماک سے اپنے کاریگروں کو کچھ ہدایات دے رہی ہے اور میز پر رنگ برنگے کپڑے اور ڈیزائنز کے اسکیچز پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کی آنکھوں میں اپنے کام کے لیے ایک سچی لگن اور چمک تھی۔ عدیل کو بے اختیار اس لڑکی کی محنت اور خودداری پر اور زیادہ فخر محسوس ہوا۔ وہ وہیں فٹ پاتھ پر کچھ دیر کے لیے رک گیا، یہ سوچے بغیر کہ اسے اپنا کاروباری کام بھی نپٹانا ہے۔
کیا عدیل کا اس طرح علیشہ کے بوتیک کے سامنے آ جانا محض ایک اتفاق تھا، یا تقدیر انہیں بار بار ایک ہی ڈور سے باندھ رہی تھی؟ اور کیا اس بار علیشہ اس سے نظریں ملا پائے گی؟
جڑے رہیے "سفرِ وفا" سے!
کاپی رائٹ اور دستبرداری (Disclaimer)
کاپی رائٹ © 2026 ذوق عیشا (عشرت خانم۔ تمام حقوق محفوظ ہیں۔)
اس ناول ("سفرِ وفا") کا تمام تر مواد، کردار، کہانی، اور لفظی ترتیب "ذوق ڈیجیٹل ناولز" اور "عشرت ڈیجیٹل کریشن" کی ملکیت ہیں۔ اس کا کوئی بھی حصہ کسی بھی صورت میں (تحریری، ریکارڈ شدہ، یا ڈیجیٹل شکل میں) مصنفہ (ذوق عیشا) کی اجازت کے بغیر نقل کرنا، کسی دوسرے پلیٹ فارم پر شائع کرنا، یا اس میں ردوبدل کرنا قانونی جرم سمجھا جائے گا۔
دستبرداری (Disclaimer): یہ ایک خیالی (فکشنل) کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، واقعات، اور پس منظر خالص تخلیق اور تخیل پر مبنی ہیں۔ اگر کسی بھی شخص، زندہ یا مردہ، یا کسی حقیقی واقعے سے اس کی کوئی بھی مماثلت ملتی ہے، تو یہ صرف ایک اتفاق ہوگا۔
Email Adress : Ishratdigitalcreation@gmail.com

Comments
Post a Comment