سفرِ وفا قسط نمبر 06


سفرِ وفا

قسط نمبر 06

تحریر: ذوق عیشا (عشرت خانم)

ذوق ڈیجیٹل ناولز — اے پروجیکٹ آف عشرت ڈیجیٹل کری ایشن

فیکٹری کے خام مال کے تعطل اور نئے شوروم کے لیے فرنیچر کی تیاری کے معاملات نے عدیل کو پہلے ہی الجھن میں ڈال رکھا تھا۔ مینیجر کو تمام آرڈرز جلد از جلد مکمل کرنے اور فرنیچر کی فائنل فنشنگ پر خصوصی توجہ دینے کی سخت ہدایت دینے کے بعد، وہ اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ اچانک اس کا فون بج اٹھا۔ اسکرین پر اس کی چھوٹی بہن ربیعہ کا نام جگمگا رہا تھا۔

عدیل نے کال رسیو کی تو دوسری طرف سے ربیعہ کی پرجوش آواز ابھری:

"بھائی! آپ اس وقت کہاں ہیں؟ آپ کو ایک زبردست بات بتانی ہے۔ آج میری ایک دوست نے مجھے کچھ ایسے شاندار ڈیزائنر ڈریسز دکھائے کہ میرا دل وہیں اٹک گیا۔ اس نے بتایا کہ وہ کسی بہت بڑے اور مہنگے برانڈ کے نہیں ہیں، بلکہ ماڈل ٹاؤن کی ایک چھوٹی سی مگر انتہائی نفاست سے چلنے والی بوتیک سے بنوائے گئے ہیں۔ اس لڑکی کے ڈیزائنز واقعی اتنے یونیک اور لاجواب ہیں کہ کیا کہوں! اس نے جو ڈریس خود پہنا ہوا تھا، اس کا کلر کمبینیشن اور ہر ایک سلیکشن اتنی کمال کی تھی کہ بس دیکھتے ہی بنتی تھی۔ اب آپ کو مجھے وہاں لے کر جانا ہوگا، امّی بھی کافی دنوں سے کہہ رہی تھیں کہ نئے کپڑے بنوانے ہیں۔ آپ تو ویسے بھی باہر ہوتے ہیں، کیا بھائی اتنا سا کام نہیں کر سکتا؟"

عدیل کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکان بکھر گئی۔ وہ اپنی بہن کی فرمائشوں سے بخوبی واقف تھا، مگر اس بار جب اس نے سنا کہ وہ بوتیک ماڈل ٹاؤن میں ہی واقع ہے، تو اس کے دل میں ایک انوکھا ہیجان سا برپا ہو گیا۔ اسے پچھلے دنوں والا وہ خوبصورت منظر یاد آ گیا جب اس نے اسی علاقے میں "الیشہ ڈیزائن اسٹوڈیو" دیکھا تھا۔

"ٹھیک ہے ربیعہ! تم زیادہ جذباتی مت ہو۔ میں تمہیں پک کر لوں گا، تم مجھے لوکیشن واٹس ایپ کر دینا۔" عدیل نے نرمی سے کہا اور فون بند کر دیا۔

تھوڑی ہی دیر بعد عدیل کے فون پر ربیعہ کی بھیجی ہوئی لوکیشن کا میسج آ گیا۔ اس نے فون دیکھا تو وہ حیرت سے مسکرا اٹھا—یہ وہی جانی پہچانی لوکیشن تھی جو بالکل اسی بوتیک کی طرف اشارہ کر رہی تھی جہاں اس نے چند دن پہلے علیشہ کو دیکھا تھا۔ عدیل نے اپنا ضروری دفتری کام سمیٹتا ہوا ایک گہرا سانس لیا اور گاڑی کی چابی اٹھا کر نکل کھڑا ہوا۔

دوسری طرف ربیعہ کو ساتھ لے کر جب وہ ماڈل ٹاؤن کی اس مخصوص مارکیٹ میں پہنچے، تو عدیل نے گاڑی ایک مناسب جگہ پر روکی۔ ربیعہ نے مسکراتے ہوئے کہا: "بھائی! آپ بھی ساتھ چلیں نا، ورنہ امّی کے لیے صحیح سائز اور کلر چننے میں میری مدد کون کرے گا؟ ویسے بھی وہاں اتنے پیارے ڈریسز ہیں کہ آپ دیکھیں گے تو دنگ رہ جائیں گے۔"

عدیل نے دل کی دھڑکنوں کو قابو میں رکھتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا اور بولا: "اچھا چلو، میں بھی ساتھ چلتا ہوں تا کہ کوئی گڑبڑ نہ ہو۔"

دونوں بہن بھائی جب اس چھوٹے سے مگر انتہائی خوبصورت اور قرینے سے سجے ہوئے بوتیک کے اندر داخل ہوئے، تو اندر کا ماحول بہت خوشگوار تھا۔ دیواروں پر خوبصورت ملبوسات آویزاں تھے اور کاؤنٹر کے پاس کچھ خواتین خریداری میں مصروف تھیں۔ اتنے میں ایک سیلز گرل یا کاریگر لڑکی تیزی سے ان کی طرف بڑھی اور مسکرا کر بولی:

"السلام علیکم سر! فرمائیے، میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں؟ کوئی نیا آرٹیکل دکھاؤں؟"

عدیل جو اندر داخل ہوتے ہی اپنی ہی سوچوں میں گم ہو چکا تھا، اس لڑکی کی آواز پر چونکا۔ وہ کچھ بولنے ہی والا تھا کہ اتنے میں اندرونی حصے سے ربیعہ کی آواز گونجی:

"بھائی! آپ ادھر آئیں، ذرا یہ والا کلر کمبینیشن تو چیک کریں! شکر ہے آپ ٹائم پر آ گئے، اب جلدی سے بتائیں کہ ان میں سے کون سا سوٹ لوں؟"

عدیل نے نظریں اٹھا کر سامنے کی طرف دیکھا، جہاں ربیعہ کھڑی تھی۔ بالکل اسی لمحے، کاؤنٹر کے دوسری طرف رکھی فائلیں سمیٹتی ہوئی علیشہ نے بھی سر اٹھایا۔

جیسے ہی علیشہ کی نظر عدیل پر پڑی، اس کے ہاتھ رک گئے اور سانس جیسے گلے میں اٹک گئی۔ اس کے چہرے کا رنگ ایک لمحے کے لیے بدلا، اور وہ کچھ بول نہ سکی۔ دوسری طرف عدیل بھی دنگ رہ گیا؛ اس کی نگاہیں علیشہ کے چہرے پر ٹک گئیں اور وقت جیسے وہیں تھم گیا۔ وہ دونوں کچھ دیر کے لیے خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے۔

ربیعہ جو اپنے بھائی کو کسی اور ہی دنیا میں گم دیکھ رہی تھی، اس کے بازو کو ہلکا سا جھنجھوڑا اور بولی: "بھائی! کیا دیکھ رہے ہیں؟ آپ کہاں کھو گئے؟ میں پوچھ رہی ہوں کہ ان میں سے کون سا سوٹ لوں؟"

ربیعہ کی آواز سے عدیل کا دھیان ٹوٹا۔ اس نے سنبھل کر فوراً ادھر دیکھا اور نظریں پھیرتے ہوئے دو انتہائی خوبصورت سوٹ کی طرف اشارہ کیا: "یہ... یہ والا لے لو، یہ بہت خوبصورت لگ رہا ہے اور اس کا کلر بھی زبردست ہے۔"

علیشہ نے جب یہ دیکھا تو اس کے لبوں پر ایک ہلکی، دلکش اور شرمیلی مسکان بکھر گئی، جس نے عدیل کے دل میں کہیں گہرائی میں ہمیشہ کے لیے گھر کر لیا۔ علیشہ نے خود کو سنبھالا اور پیشہ ورانہ شائستگی کے ساتھ کاؤنٹر کی طرف دیکھا۔

ربیعہ نے مسکراتے ہوئے سوٹ پسند کیا اور بل پے کرنے کے لیے آگے بڑھی۔ بل ادائیگی کے بعد جب وہ سوٹ کے شاپنگ بیگز اٹھانے لگی تو ربیعہ نے کہا: "چلیے بھائی! اب گھر چلتے ہیں، ویسے آپ کی طبیعت تو ٹھیک لگ رہی ہے نا؟ آپ اتنے خاموش کیوں ہیں؟"

عدیل کے منہ سے بے اختیار نکل گیا: "ہاں... بالکل ٹھیک ہوں۔" اس نے علیشہ کی طرف دیکھا جس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں، اور دھیمی آواز میں بولا: "نائس ٹو سی یو

علیشہ نے پلکیں اٹھا کر ہلکا سا دیکھا اور نرمی سے جواب دیا: "مائی پلژر 

اس کے بعد علیشہ نے فوراََ خود کو دوبارہ کاؤنٹر کے کاموں میں مصروف کر لیا اور اپنی ورکر کو اگلے آرڈرز کے حوالے سے کچھ ہدایات دینے لگیں۔ عدیل اپنی بہن کے ساتھ باہر کی طرف روانہ ہو گیا، مگر اس کا دل اور اس کے خیالات وہیں اس چھوٹے سے بوتیک میں، علیشہ کی مسکان کے پاس ہی رہ گئے تھے۔

کیا یہ اتفاقی ملاقاتیں اب ان کے دلوں کے فاصلے ہمیشہ کے لیے مٹا دیں گی؟ اور کیا عدیل اپنے شوروم کے افتتاح سے پہلے ان تمام کاروباری اور ذاتی الجھنوں کو سلجھا پائے گا؟

جڑے رہیے "سفرِ وفا" سے!

Copyright & Disclaimer

Copyright © 2026 Zoaq Isha (Ishrat Khanum. All rights reserved.)

اس ناول ("سفرِ وفا") کا تمام تر مواد، کردار، کہانی، اور لفظی ترتیب "ذوق ڈیجیٹل ناولز" اور "عشرت ڈیجیٹل کریشن" کی ملکیت ہیں۔ اس کا کوئی بھی حصہ کسی بھی صورت میں (تحریری، ریکارڈ شدہ، یا ڈیجیٹل شکل میں) مصنفہ (ذوق عیشا) کی اجازت کے بغیر نقل کرنا، کسی دوسرے پلیٹ فارم پر شائع کرنا، یا اس میں ردوبدل کرنا قانونی جرم سمجھا جائے گا۔

دستبرداری (Disclaimer): یہ ایک خیالی (فکشنل) کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار، واقعات، اور پس منظر خالص تخلیق اور تخیل پر مبنی ہیں۔ اگر کسی بھی شخص، زندہ یا مردہ، یا کسی حقیقی واقعے سے اس کی کوئی بھی مماثلت ملتی ہے، تو یہ صرف ایک اتفاق ہوگا۔

Email Address: Ishratdigitalcreation@gmail.com

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23