Posts

ناول: سجیلا (قسط نمبر 15)

Image
ناول: سجیلا (قسط نمبر 15)   عنوان: انصاف کی دہلیز اور مامتا کی جیت تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) خالا کوثر کے گھر کے صحن میں آج ایک عجیب سا سکون تھا، وہ گھبراہٹ اور خوف جو پچھلی کئی راتوں سے دیواروں سے چمٹا ہوا تھا، اب ہوا کے جھونکوں کے ساتھ رخصت ہو چکا تھا۔ صفیہ نے آج کئی مہینوں بعد اطمینان کی نیند لی تھی۔ جب وہ صبح بیدار ہوئی تو سورج کی پہلی کرنیں کھڑکی سے چھن کر فرش پر ایک سنہری جال بن رہی تھیں۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کی زندگی کا سیاہ باب اب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔ رحمت خان کی گرفتاری نے اسے وہ ذہنی تحفظ فراہم کر دیا تھا جس کی وہ برسوں سے تمنا کر رہی تھی۔ شہر کی سیشن عدالت میں آج گہما گہمی عروج پر تھی۔ وکیل شاہد الٰہی نے بڑی مہارت سے کیس تیار کیا تھا۔ کمرہ عدالت میں جب رحمت خان کو لایا گیا، تو اس کے چہرے پر وہ پرانا تکبر نام کو بھی نہ تھا۔ زنجیروں کی جھنکار اس کے ہر قدم کے ساتھ اس کی ذلت کا اعلان کر رہی تھی۔ کٹہرے میں کھڑے ہو کر اس نے ایک بار صفیہ کی طرف دیکھا، جو دور ایک بنچ پر خالا کوثر کے ساتھ بیٹھی تھی۔ صفیہ کا سر آج جھکا ہوا نہیں تھا، بلکہ اس کی آنکھوں میں ایک خاموش وقار...

ناول: سجیلا قسط نمبر: 14

Image
ناول: سجیلا قسط نمبر: 14 سچ کا سورج اور اندھیرے کا زوال تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) خالا کوثر کے گھر کا دروازہ جیسے ہی کھلا، باہر کھڑے پیر سائیں کے مریدوں کی آوازوں نے رات کے سکون کو درہم برہم کر دیا۔ "خالا جی! کوئی دیوار پھلانگ کر آپ کے گھر کے اندر آیا ہے، ہمیں تلاشی لینی ہے، آپ لوگوں کی جان کو خطرہ ہے!" مرید کے ان الفاظ نے خالا کوثر کے دل کو دہلا کر رکھ دیا۔ ان کا ہاتھ دروازے کی چوکھٹ پر کانپنے لگا، لیکن وہ ایک بہادر اور سمجھدار خاتون تھیں۔ انہوں نے فوراً خود کو سنبھالا اور مریدوں کو اندر آنے کا راستہ دیا۔ "آ جاؤ بیٹا! تلاشی لو، گھر میں اس وقت کوئی مرد نہیں ہے۔" مرید لالٹینوں اور لاٹھیوں کے ساتھ صحن میں داخل ہوئے۔ صحن کی مٹیالی زمین پر ابھی ابھی جمنے والی اوس پر بوٹوں کے کھردرے نشانات بالکل واضح تھے، جو سیدھے صحن کے کونے میں بنے ہوئے پرانے لکڑی کے اسٹور روم کی طرف جا رہے تھے۔ مریدوں نے ایک دوسرے کو اشارہ کیا اور دبے قدموں اس اندھیرے کونے کی طرف بڑھنے لگے جہاں لکڑی کے بوسیدہ تختے اور کباڑ جمع تھا۔ رحمت خان، جو خود کو منڈی کا بے تاج بادشاہ سمجھتا تھا، اس وقت اس چھو...

ناول: سجیلا (قسط نمبر 13)

Image
  ناول: سجیلا قسط نمبر: 13 طوفان کی آہٹ اور آخری معرکہ تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) وادی کی طرف جانے والا راستہ ہمیشہ سے پرسکون اور خوبصورت رہا تھا، لیکن اس رات رحمت خان کے لیے یہ راستہ جہنم کے کسی تاریک دالان جیسا لگ رہا تھا۔ اس کی کار کی ہیڈ لائٹس پہاڑی راستے کے اندھیرے کو چیر رہی تھیں، بالکل اسی طرح جیسے اس کے ذہن میں اٹھنے والے انتقام کے خیالات اس کے رہے سہے سکون کو برباد کر رہے تھے۔ اس کے برابر والی سیٹ پر ایک سیاہ رنگ کا پستول رکھا تھا، جس کی دھاتی چمک پر جب بھی گاڑی کے ڈیش بورڈ کی مدہم روشنی پڑتی، رحمت خان کی انگلیوں میں ایک عجیب سی لرزش پیدا ہو جاتی۔ وہ بار بار اسٹیئرنگ پر اپنے ہاتھ مضبوط کرتا، لیکن اس کے اندر کا خوف اور اعصابی تناؤ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ وہ بالکل تنہا ہو چکا تھا۔ منڈی کی بادشاہت، وہ اثر و رسوخ، وہ دوست جو اس کے ایک اشارے پر صفیہ کی زندگی اجیرن کرنے کے لیے تیار رہتے تھے، آج ان سب نے اپنے فون بند کر لیے تھے۔ ہر ایک نے اسے ایک گرتا ہوا درخت سمجھ کر اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ لیکن رحمت خان کی انا، اس کا تکبر، اب بھی اسے یہ تسلیم کرنے کی اجازت ن...

ناول: سجیلا قسط نمبر: 12

Image
  ناول: سجیلا قسط نمبر: 12 سازش کا بومرنگ اور صفیہ کا استقلال تحریر: ذوقِ عیشا (عشرت خانم) رحمت خان کو ملنے والا وہ نامعلوم خط دراصل اس کی اعصابی شکست کا نقطہ آغاز تھا۔ وہ خط جس نے اس کے ہاتھوں میں لرزش پیدا کر دی تھی، کسی قانونی ادارے کی طرف سے نہیں، بلکہ منڈی کے ہی ایک ایسے پرانے ملازم کی طرف سے تھا جو برسوں سے رحمت خان کی بدمعاشیوں اور حساب میں ہیرا پھیری کا گواہ تھا۔ رحمت خان، جو خود کو بہت ہوشیار سمجھتا تھا، یہ بھول گیا تھا کہ جو شخص دوسروں کے لیے گڑھے کھودتا ہے، ایک نہ ایک دن خود بھی اسی کا شکار ہوتا ہے۔ اس رات اس کی نیندیں اڑ گئیں۔ وہ کمرے میں کبھی ادھر ٹہلتا تو کبھی کھڑکی کے پاس جا کر باہر اندھیرے میں گھورتا۔ اسے ہر سایہ وکیل شاہد الٰہی یا پولیس کا مخبر لگتا تھا۔ اس کا خوف اس کی مکاری سے کہیں زیادہ بڑھ گیا تھا، لیکن اس خوف کے سائے میں اس نے ایک اور خطرناک فیصلہ کر لیا—وہ اب صفیہ پر حملہ نہیں کرے گا، بلکہ وہ اسے معاشرتی طور پر زندہ درگور کر دے گا۔ دوسری طرف، صفیہ کی زندگی میں ایک عجیب سی تبدیلی آ رہی تھی۔ گاؤں کے لوگوں کی طرف سے ہونے والی کردار کشی اور سرگوشیاں اب آہستہ آہست...

ناول: سجیلا قسط نمبر: 11

Image
ناول: سجیلا قسط نمبر: 11    انتقام کی آگ اور سازشوں کا جال تحریر: ذوقِ عشاء (عشرت خانم) منڈی کا شور و غل، ٹرکوں کے ہارن، مزدوروں کی چیخ و پکار، آڑھتیوں کی بلند آوازیں اور بوریوں کے گرنے کی دھمک اب رحمت خان کو اپنی کامیابی کا گیت معلوم ہوتی تھی۔ لیکن اس کے دل کے کسی تاریک گوشے میں صفیہ کے خلاف نفرت کی آگ اس شدت سے بھڑک رہی تھی کہ اسے اپنی ہی آڑھت کی ہوا گرم محسوس ہونے لگی تھی۔ حاجی سلیمان کی وہ نصیحت، جو انہوں نے بڑے تحمل سے کی تھی، رحمت خان کے لیے نصیحت نہیں، بلکہ اس کی مردانہ انا پر ایک اور کاری ضرب تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے براہِ راست صفیہ یا پیر سائیں کے مریدوں سے ٹکر لی، تو وہ نہ صرف اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے گا بلکہ قانونی شکنجے میں آ کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی جا سکتا ہے۔ اسے اب ایک ایسی چال چلنی تھی جس میں وہ خود پردے کے پیچھے محفوظ رہے اور صفیہ کی زندگی اس کے لیے جہنم بن جائے۔ وہ ہر لمحہ سوچتا کہ کس طرح وہ اس عورت کو اپنی مرضی پر جھکانے پر مجبور کرے۔ دوسری طرف، وادی کی پرسکون فضا میں صفیہ اپنی آٹھ ماہ کی بیٹی سجیلا کو گود میں اٹھائے پیر سائیں کے آستانے سے ...

ناول: سجیلا قسط نمبر: 10

Image
  ناول:  سجیلا قسط نمبر: 10 تحریر: ذوقِ عشاء (عشرت خانم) عنوان: عدالت کا نوٹس اور منڈی کا سچ پہاڑی وادی کی پرسکون فضا سے دور، شہر کی غلہ منڈی میں زندگی کی رفتار ہمیشہ کی طرح تیز، شور شرابے سے بھرپور اور گرد آلود تھی۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں انسانی جذبات اور احساسات کے بجائے صرف نفع اور نقصان کے سودے ہوتے تھے۔ پیر سائیں ذوالفقار کے آستانے سے نکل کر، شہر کے نامور وکیل شاہد الٰہی اسی منڈی کی حدود میں داخل ہوئے تھے۔ ان کے پاس صفیہ کے دستخط اور انگوٹھے کے نشانات والے خلع کے قانونی کاغذات کی ایک کاپی موجود تھی، جو رحمت خان کے ظلم کے خاتمے کا پہلا باقاعدہ اعلان تھی۔ شاہد الٰہی اپنے پیشے کے پکے اور اصول پسند انسان تھے۔ وہ منڈی کی تنگ اور مصروف گلیوں میں گاڑی سے اتر کر پیدل ہی آگے بڑھے۔ ہر طرف مزدور بوریاں اٹھائے ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے، اور آڑھتی اپنی گدیوں پر بیٹھے حساب کتاب میں مصروف تھے۔ شاہد الٰہی نے ایک دکان کے باہر کھڑے بوڑھے مزدور کو روکا اور سنجیدگی سے پوچھا، "بھائی! یہاں رحمت خان نام کا کوئی آدمی کام کرتا ہے؟ مجھے اس سے ملنا ہے۔" مزدور نے اپنے کندھے پر لدی بوری کو درست کیا، ش...

ناول: سجیلا (قسط نمبر9

Image
   قسط نمبر: 9  تحریر: ذوقِ عشاء (عشرت خانم) تحفظ کا سائبان اور نئی اڑان پہاڑی وادی کی صبح ہمیشہ ہی خوبصورت ہوتی تھی، لیکن آج کی صبح خالہ کوثر کے کچے صحن میں امید کی ایک ایسی چمک لے کر اتری تھی جس کی تپش صفیہ کے مرجھائے ہوئے وجود کو نئی زندگی بخش رہی تھی۔ پرندوں کی چہچہاہٹ کے ساتھ ہی کچن سے اٹھنے والا دھوئیں کا ہلکا سا بادل اور چائے کی خوشبو اس بات کا اعلان تھی کہ زندگی ٹھہرتی نہیں ہے، وہ اپنے راستے خود بنا لیتی ہے۔ "صفیہ آپا! جلدی کیجیے، اسکول کا وقت ہوا چاہتا ہے اور آپ ہیں کہ ابھی تک چادر کی تہیں درست کر رہی ہیں،" خدیجہ نے صحن میں داخل ہوتے ہوئے چہک کر کہا۔ اس کے ہاتھ میں ایک صاف ستھرا، ہلکے نیلے رنگ کا سوتی دوپٹہ اور صفیہ کا پرانا بستہ تھا جسے اس نے رات بھر بیٹھ کر صاف کیا تھا۔ صفیہ نے آئینے میں اپنے چہرے کو دیکھا۔ آنکھوں کے نیچے خوف کے جو سیاہ حلقے رحمت خان کی بربریت نے چھوڑے تھے، آج وہ عزم کی سرخی کے نیچے چھپ چکے تھے۔ اس نے خدیجہ کی طرف دیکھا اور ایک دھیمی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر مچل گئی۔ "خدیجہ، دل اندر سے بری طرح دھڑک رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے میں کسی بہت بڑے ا...